ہماری برہنہ بہن، اور ہمی تماشائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zeffer05\"

کچھ دِن پیش تر ایک پاکستانی اداکارہ کی وِڈیو موصول ہوئی، اس کی خلوت کا کوئی لمحہ تھا، کیوں کر کیمرے میں قید کیا گیا، یہ ہمارا درد کیوں ہے؟ کسی نے وہ وِڈیو مجھے بھیجی، مجھے خود سے شرم آ گئی۔ ڈیڑھ دو برس پہلے دو پاکستانی اداکاراؤں کی برہنہ بدن وِڈیو گردش میں رہیں، اس وقت مجھے اتنی شرم نہ آئی تھی۔ انٹرنیٹ کی دُنیا بہت پرانی نہیں ہے، لیکن یہ دُنیا جس رفتار سے ارتقا کی منازل طے کر رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے اِس دُنیا کے باسی، اِس کی اخلاقیات پہ سوال اٹھا رہے ہیں۔ دنیا بھر سے ایسی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں، کہ اس کے متاثرین نے خود کشی کر لی۔ یہاں ٹھیریے! آپ یہ تحریر پڑھنے سے پہلے چند لمحے ٹھیر جائیں، اور غور کیجیے، آپ انٹرنیٹ ورلڈ میں کب سے ہیں، اور کیسی کیسی وِڈیو، تصاویر، اور دیگر مواد، آپ کی نظر سے گزرا، جسے دیکھ کر آپ ٹھٹک گئے، شرمائے، لرز گئے، گھبرائے، خوف زدہ ہوئے، یا لطف لیا۔

جہاں آپ غور کرنے رُکے ہیں، وہیں میں یہ اعتراف کرلوں، کہ میں نہ ولی اللہ ہوں، نہ معصوم، نہ کوئی مثالی شخص، جس نے کبھی کوئی خطا نہ کی ہو۔ ہم بہت کچھ ایسا کر جاتے ہیں، جس کے عواقب پر نظر نہیں ہوتی۔

میں سب سے پہلے اُس دِن چونکا تھا، جب ایک وِڈیو وائرل ہوتی مجھ تک پہنچی؛ یہ ہندُستان کے کسی گاوں سے متعلق تھی؛ کچھ ”نیک ناموں“ نے، ایک لڑکی اور لڑکے کو ننگے بدن، فصلوں کی بیچ میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ایسے میں سیل فون کیمرے سے وہ منظر محفوظ کیا گیا، جب مکوں گھونسوں سے تواضح کرتے یہ استفسار کیا جا رہا تھا، کہ وہ دونوں اس ”فعل“ سے لذت کشید کیوں کر رہے ہیں؛ ستم یہ تھا، کہ وِڈیو بنانے والے نے ایسے میں متاثرہ لڑکی کے پوشیدہ اعضا کے وہ وہ زاویے گرفت میں لیے، جس سے اس کی ذہن میں رچی غلاظت نمایاں ہوئی، اور مجھے منت سماجت کرتی، اُس لڑکی پر ترس آیا۔ یہ احساس ہوا، کہ ان سماج سدھارکوں کو اس سے غرض نہیں تھی، کہ یہ ”عمل“ کیوں ہو رہا ہے، ”دُکھ“ اس بات کا تھا، وہ کیوں گنگا نہ نہائے؛ یا یہ کہ ”گنگا“ گاؤں میں تھی، تو وہ کیسے بے خبر رہے۔ بڑے ظالم نکلے وہ؛ اسی طرح جیسے میں وہ منظر دیکھنے کا ظلم کر بیٹھا۔ آپ مجھے کچھ بھی کہہ کر اپنی بھڑاس نکال لیں، مجھے پروا نہیں، لیکن کہنا یہ ہے، کہ میرے دل سے اُن لوگوں کے لیے آہیں نکلیں، جنھوں نےاس برہنہ لڑکی کی وِڈیو بنا کر نشر کی۔ اس وقت یہ سانحہ دُہراتے ہوئے بھی دِل میں جمے آنسو ہیں، اس سے زیادہ بھی کہا جا سکتا تھا، مگر کیا ہے، کہ میرے لفظوں کا گلا رُندھنے لگا ہے۔ وہ پہلا دن تھا، جب میں نے سوچا، کہ ایسی وِڈیو جو کسی کی نجی زندگی سے متعلق ہو، اور مفاد عامہ سے کوئی مطلب نہ رکھتی ہو، مجھے ایسی وِڈیو، تصویر، یا کسی بھی قِسم کے نجی مواد کو آگے نہیں بڑھانا؛ جو کسی کی رسوائی کا سامان کرے۔ ما سوائے اس کے کہ مفاد عامہ لیے ہو۔

\"girl-silhouette\"

جیسا کہ پہلے بیان کر چکا ہوں، میں کوئی مثالی شخص نہیں، اس لیے میری باتوں سے کہیں یہ تاثر ملے، کہ میں پارسائی کا ڈھونگ رچا رہا ہوں، تو مجھ پر چار حرف بھیجیے گا۔ انٹرنیٹ ہی پر ایسی سائٹس ہیں، جہاں ”تسکین“ کا سامان فراہم کرنے کے لیے برہنہ، نیم برہنہ مواد موجود ہیں۔ یہ محض ایک کِلک کی دُوری پر ہوتے ہیں۔ پورن اداکار کہ جن کا پیشہ یہی ہے، یہاں اُن کا ذکر نہیں ہو رہا۔ کسی فلم، کسی تحریر میں بوسہ و کنار کی بات نہیں ہو رہی۔ یہ فحاشی پھیلانے کا رونا نہیں ہے؛ یہ کسی کی نجی زندگی میں جھانکنے، اس سے لطف حاصل کرنے کا ذکر ہے۔ کسی کی کوتاہی کی، کسی کی لغزش کی، کسی کی بیماری کی سرِ بازار نمایش کی دہائی ہے۔ یہ آپ کی نجی زندگی کی بات ہو رہی ہے، اور میری نجی زندگی کا حوالہ ہے۔ قصہ ہے میری تنہائی کا، اور ماجرا آپ کی تنہائی کا۔ المیہ ہماری رسوائی کا۔ سیل فون کی اسکرین کی شکل کی یہ کھڑکیاں؛ یہ کھڑکیاں کسی کے بیڈ روم میں کھلتی ہیں، تو کسی کے غسل خانے میں۔ کسی کھڑکی سے باورچی خانے کا منظر دکھائی دیتا ہے، تو کسی روشن دان سے بستر کا منظر۔ کوئی کھڑکی کھلی رہ جائے، تو اخلاق کا تقاضا ہے، ہم ان سے مت جھانکیں۔ نگہ پڑگئی ہے، تو ہٹا لیں۔ جو دیکھ لیا، اسے آگے بیان مت کریں۔ ایک انسان کی یہی پہچان ہے، ایک انسان کا یہی مقام ہے؛ ورنہ ہر جان رکھنے والا جان ور تو ہے، انسان کیوں کہلائے!

آگے بہت کچھ ہے۔ میں ہوں؛ آپ ہیں؛ میری نسل ہے، آپ کی نسل ہے۔ میری بہنیں، میری بیٹیاں، میرے بھائی، میرے بیٹے؛ اور آپ کے پیارے؛ آپ کا کل اثاثہ؛ ہم سب کی پونجی ہے۔ ایک بار پھر ٹھہر جائیں، اور سوچیے؛ اس کیمرے کی زد پر کوئی ہمارا اپنا ہو، تو کیا ہو؟

جہاں آپ سوچنے رُکے ہیں، وہاں میں اس وِڈیو کا ذکر کرلوں، جس میں ایک برہنہ خاتون اسلام آباد کی سڑکوں پر دیوانوں کی سی حرکتیں کر رہی تھیں۔ اس وِڈیو کے عام ہونے کے بعد، آئی جی اسلام آباد نے ان الفاظ سے آغاز کرتے وضاحتی بیان جاری کیا، کہ ”اللہ تعالی نےقران کریم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حدیث میں دوسروں کے رازوں کی پردہ پوشی کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے، جو دوسروں کی پردہ پوشی کرتا ہے، میں قیامت کے دِن اُس کی پردہ پوشی کروں گا۔“

نفسیاتی عارضے شیزوفرینیا کی شکار خاتون، جب فرانس کے ویزے کے حصول کے لیے آئی تو اسے دورہ پڑ گیا، ایسے میں وہ لباس سے بے نیاز ہو کر سڑک پر پاگلوں کی سی حرکتیں کرنے لگی۔ اسے شال اوڑھا کر قریبی وومن پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا، جہاں سے اس کے گھروالے اسے لے گئے۔ آئی جی پولیس کی طرف سے یہ درخواست کی گئی ہے، کہ جن تک یہ وِڈیو پہنچی، وہ اسے تلف کردیں۔

آپ نے شیزوفرینیا کے بارے میں کچھ پڑھا ہے؟ یا سنا ہے؟ شیزوفرینیا میں مبتلا شخص کئی کرداروں میں جیتا ہے۔ افسانوی زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے، کہ جب وہ ایک کیفیت میں ہوتا ہے، تو دوسری کیفیت کو بھول جاتا ہے۔ چلیں اسے یوں سمجھیے کہ ”جن آ جاتے ہیں۔“ یہ عورت جس کی دیوانگی کا احوال بیان ہوا، اور جسے راہ چلتوں نے اپنے کیمروں میں محفوظ کیا، یہ عورت شیزوفرینیا کی مریض بتائی جاتی ہے۔ اس دوران میں نے، اور آپ نے، اس ناچار عورت کی وِڈیو بنانا شروع کر دی۔ یہی نہیں، بل کہ اس وِڈیو کو انٹرنیٹ پر نشر بھی کر دیا۔ کیا وہ آپ تھے؟ جی ہاں، وہ میں تھا؟ مجھے شبہہ ہوتا ہے، وہ میں ہی تھا! کبھی گمان ہوتا ہے، کہ نہیں وہ آپ ہی تھے! وہ آپ کی بہن تو نہ تھی؟ ہاں وہ میری بہن تھی! ایک میری، ایک تیری نہیں، وہ ہم سب کی بہن ہے۔ ہم وہ شیزوفرینک ہیں، جن پر جن آ جائے، تو اپنی ہی بہنوں کو تماشا بنا دیتے ہیں۔ مجھے یہ کہنا ہے، اے میری بہن! میں تجھ سے شرمندہ ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 279 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

3 thoughts on “ہماری برہنہ بہن، اور ہمی تماشائی

  • 26/10/2016 at 3:38 pm
    Permalink

    Main aam taur per reply naheen karta lakin yeh tehreer mery aakhon main ansoon lay aai

  • 26/10/2016 at 4:25 pm
    Permalink

    Sad, Sad… but very true.. we all are responsible… -:(

Comments are closed.