ففتھ جنریشن وار فئیر کا فاتح سپاہی میجر جنرل آصف غفور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کو جدید تضاضوں سے مزین کرنے کا سہارا لیفینٹ جنرل عاصم باجوہ کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے بطور ڈی جی آئی ایس پی آر سوشل میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فوج اور عوام کے درمیان رابطہ کی سمت واضح کی بعد ازاں میجر جنرل آصف غفور نے اس سلسلے کو مزید جدت دی اور پاکستان کے امن کے بیانیہ کو دنیا بھر میں عام کیا۔ پاکستانی جانتے ہیں کہ وطن عزیز بیرونی دشمن کے ساتھ اندرونی خلفشار کا بھی شکار ہے۔

دشمن اس انتشار میں سوشل میڈیا کے ذریعے سبقت حاصل کرنے کا خواہشمند ہے کیونکہ اللہ کے فضل سے ہمارے فوجی جوانوں نے ملک میں تیزی سے پھیلی دہشت گردی کی کمر توڑ دی ہے۔ اگرچہ ابھی بھی چند ناخوشگوار واقعات رونما ہو تے ہیں تاہم صورتحال گذشتہ ادوار کے تناظر میں پر امن ہے۔ پاکستان میں یہ امن ستر ہزار کے قریب سویلین و آرمڈ شہادتوں کے بعد ممکن ہوا ہے۔ اس امن کو لانے میں آرمی پبلک پشاور کے وہ کلیاں بھی شامل ہیں جو کھلنے سے پہلے مرجھا گئیں۔ مادر وطن کے دفاع پر مامور سیکیورٹی ادارے ہر مکمن طور پر قیام امن کا فروغ چاہتے ہیں۔ دشمن کے ٹھکانے تباہ کرنیوالے۔ پاکستان مخالفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی انہیں منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔

ففتھ جنریشن وار فئیر کوئی آسان جنگ نہیں ہے۔ یہ دفاعی ہتھاروں سے نہیں بلکہ دماغ سے لڑی جاتی ہے۔ دشمن پہلے ہی اے پی ایس میں ہمارے بچوں کو گولیاں کا نشانہ بناچکا ہے۔ اب اس کا ہدف ہمارے نوجوان ہیں۔ جس کی واضح مثال حیدر آباد کی میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری ہے۔ جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہی دشمن کی آلہ کار بنی تھی اور لاپتہ ہوگئی تھی جسے حساس اداروں نے لاہور سے بازیاب کرایا تھا جہاں وہ خودکش دھماکہ کرنے کے لئے تیار کی جا رہی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے دشمن کے ارادوں کو بھانپ کر نوجوانوں سے زیادہ سے زیادہ ملنا شروع کیا۔ انہی دنوں آئی ایس پی آر کی جانب سے نوجوانوں سے ملاقات کے لئے سیمنارز کا انعقاد کیا گیا۔ انٹرن شپ کے پروگرامز میں تیزی لائے گئی۔ میجر جنرل آصف غفور نے مختلف یونیورسٹیز کا دورہ کرکے ملک کے مستقبل سے اعتماد کا رشتہ قائم کیا۔ انہیں ففتھ جنریشن وار فئیر کے مطابق سمجھا کر ماڈرن جنگ کے لئے تیار کیا۔ نوجوانوں سے رابطے میں رہنے کے لئے انہوں نے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ساتھ اپنا ذاتی اکاؤنٹ بھی متعارف کرایا۔

علاوہ ازاں اسنپ چیٹ پر بھی نوجوانوں کے ساتھ تعلق جوڑا۔ نوجوانوں کو ڈی جی آئی ایس پی آر اور میجر جنرل آصف غفور کی شکل میں ایسی با اثر شخصیت اور ادارہ ملا جو اپنے عوام سے پیار کرتا ہے۔ نوجوانوں اور ملک کے مفاد کو مدنظر رکھ کر ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے فروغ کے لئے بذات خود پیش پیش ہوتا ہے۔ کرکٹ اسٹیڈیم جاکر نوجوانوں میں گھل مل کر میچ سے لطف ہوتا ہے ان کے ساتھ سیلفیاں بنواتا ہے بلکہ بعض اوقات تو ان کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلتا ہے۔ ان کے اسی دوستانہ روئیہ کا پاکستان کے نوجوان ہی نہیں بلکہ بیرونی ملک کے نوعمر بھی مداح ہوگئے ہیں۔ اپنی ملنسار طبیعت کی بنا پر میجر جنرل آصف غفور متعدد بار ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈ پر نمایاں رہے ہیں۔

گذشتہ سال 26 فروری کو بھارت کو سرپرائز دینے کا عندیہ دینے والے ترجمان پاک افواج میجر جنرل نے بتادیا کہ پاکستان کی فوج نہ صرف ملک کے عوام کی جان لینے والوں کو نیست و نابود کرتی ہے بلکہ اپنے درختوں کے قاتلوں کی بھی چتا جلادیتی ہے جبکہ مہربان بھی اتنی ہے کہ دشمن ملک کے ڈرپوک ونگ کمانڈر کو عام عوام کی لاتوں اور گھونسوں سے بچاکر پروفیشنل فوج کی طرح پیش آکر میزبانی کی اعلی مثال قائم کرتی ہے جس کی عکاسی دشمن ٹی از فنٹسٹیک کہہ کر کرچکا ہے۔

بھارت کے جھوٹ کے پلندوں کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ادارے کے ساتھ مل کر ایسے بے نقاب کیا کہ 27 فروری کو میدان جنگ کا شکست خوردہ بھارت۔ سوشل میڈیا پر بھی اپنی شکست پر شرم سے دوچار ہوا اور بولنے پر مجبور ہوا۔ بھارت نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان سے بہت پیچھے ہے۔

بھارتی سائبر سیکیورٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) راجیش پنٹ نے کہا کہ بھارت کی افواج کے الگ الگ پبلسٹی ونگز ہیں۔ جہاں اپنے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں جبکہ آئی ایس پی آر موثر اندازمیں بیانیہ دیتا ہے۔ پاک افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور ہر فورس کے اقدامات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اطلاعات کی جنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات میں وزن ہوتا ہے۔ ان کی بات کو دنیا میں توجہ سے سنا جاتا ہے۔ ترجمان پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کی کشمیر پر گفتگو کو یورپ توجہ دیتا ہے۔ وہ خطے کی بات کریں تو دنیا محسوس کرتی ہے۔ بھارت کو بھی اس سمت میں دیکھنا ہوگا۔ پاکستان ہم سے بہت آگے ہے۔

یاد دلاتی چلوں کہ اس سے قبل بھارت کے سابق لیفٹیننٹ جنرل عطا حسنین نے برطانوی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے خطاب میں اعتراف کیا تھا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہمیں سکھایا کہ معلومات کی فراہمی کیا ہوتی ہے۔

ترجمان پاک افواج میجر جنرل آصف غفور نے شعبہ ابلاغ عامہ سے بھی تعلقات کو مزید بہتر کیا۔ آصف غفور وہ پہلے حاضر سروس جنرل ہیں جنھوں باقاعدہ شو اینکرز کو انٹرویوز دیے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور 15 دسمبر 2016 کو ڈی جی آئی ایس پی آر تعینات ہوئے تھے۔ ادارے کی جانب سے برئیگیڈیر کے عہدے سے ترقی کے فوری بعد انہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ جیسے انہوں نے احسن طریقے سے نبھایا اب چاہے ففتھ جنریشن وار فئیر کا معرکہ ہو یا بھارت کو سرپرائز کرنے کا میدان۔ نوجوانوں کے ذہین میں افواج پاکستان کا امیج واضح کرنا ہو یا سوشل میڈیا پر منہ بولے دانشوروں کی بولتی بند کرنا۔ میجر جنرل آصف غفور نے ہرجگہ اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ یہ ہی نہیں بلکہ دوران پریس کانفرنس تجربہ کار صحافیوں کے غیر معیاری سوالات کا سامنا بھی زیرک انداز میں کرتے رہے ہیں۔ المختصر کہ میجر جنرل آصف غفور ہر محاذ پر متحرک رہے ہیں اور وردی کا بھرم رکھتے ہوئے مادر وطن کا اقبال بلند کرتے رہے ہیں۔

گذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا تبادلہ جی او سی اوکاڑہ 40 ڈویژن کردیا گیا جس پر ففتھ جنریشن وار فئیر کے آلہ کار بہت شادیانے بجا رہے ہیں جبکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا تبادلہ یقینی تھا کیونکہ وہ ینگ جنرل ہیں ابھی انہیں مزید محنت کرکے ترقی کی منزل کی جانب گامزن ہونا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی پر نکتہ چینی کی وجہ سے تبدیل کیے گئے ہیں تو ان منہ بولے دانشوروں سے کہنا ہے کہ کوئی ایک ڈی جی آئی ایس پی آر کا نام دیکھا دیں جو تاحیات اس عہدے پر تعینات رہا ہو۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے اختیارات سے تجاویز کیا تو ان عناصر سے عرض ہے کہ فوج میں فرد واحد کی نہیں بلکہ ادارے کی پالیسی کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے جس کے تحت پریس کانفرنس کا انعقاد اور سوشل میڈیائی دانشوروں کے سامنے سمیت محکمہ کے دیگر امور کو سرانجام دیا جاتا ہے۔ اب جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور کا تبادلہ ان کے دوپٹے کے پیکو کے تحت ہوا ہے۔ ان کی عقل و دانش پر ایک منٹ کی خاموشی تو بن سکتی ہے تاہم یقین نہیں کیا جاسکتا ہے۔

کیونکہ جیسا کہ پہلے کہا اب بھی کہہ دیتی ہوں کہ یہ تبادلہ انہیں مزید ترقی سے ہمکنار کرئیگا۔ اسی تناظر میں ٹوئٹر پر اپنے تئیس سینئر تجزیہ کاروں اور دوپٹے کے پیکوں کے کاروباری کو یاد دلاتی چلوں کہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف بھی جی او سی اوکاڑہ 40 ڈویژن تعینات رہے ہیں۔ لہذا نوجوانوں کو گھبرانا نہیں ہے اور دیسی لبرلز کو شادیانے بجانے نہیں ہیں کیونکہ میجر جنرل آصف غفور کا ڈی جی آئی ایس پی آر کے تحت سفر ختم ہوا ہے تاہم وہ نائس جنلٹمین آج بھی ہیں اور کور کی کمان کے لئے جی او سی اوکاڑہ میں مزید ٹرینڈ ہونے جارہے ہیں۔ خیال رہے نئے ترجمان پاک افواج بھی آرمی سے ہی ہیں اور جنگی محاذ پر اپنے آپ کو بھرپور طور پر منوا چکے ہیں۔

سب جانتے ہیں کہ آئی ایس پی آر کو جدید کرنیوالے جنرل عاصم سلیم باجوہ ہیں۔ جنرل آصف غفور ادارے کو مزید جدت بخش چکے ہیں اب جنرل بابر اس کا افتخار کس طرح اجاگر کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائیگا مجھے تو بس یہ بتانا ہے کہ اگلا ترجمان پاک افواج بھی ایک ایسا فوجی ہے جس کا نشانہ آج تک چوکا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *