سرکاری بابو، تھپڑ، اور عزت نفس

نصرت شمشاد

\"slap\"نیوٹن نے کچھ صدیوں پہلے بتایا تھا کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ سرکاری بابو نے کچھ روز قبل صحافی کو تھپڑ رسید کرکے بتایا، کہ عزت نفس کو ٹھیس پہنچے، تو جواباً یکساں نہیں دُگنے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابل کی سٹی گم کر دینی چاہیے، اور عوام الناس کی اکثریت اپنے سرکاری بابو کے اس دلیرانہ ردعمل پر نا صرف خوش ہیں، بلکہ واشگاف الفاظ میں اس کے ردعمل کی حمایت بھی کررہے ہیں، اور ہمیں اس پر قطعی کوئی اعتراض نہیں، کہ یہ سرکاری بابو اور عوام الناس کا ذاتی معاملہ ہے!

دوسری طرف صحافی پر بھی فرد جرم عائد ہوچکی ہے، اور کیوں نہ ہو سارے عقل کے اندھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے مذکورہ ویڈیو کو ہر زاویے سے ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اس منظر میں صحافی، معصوم خاموش کھڑے سرکاری بابو پر تاک تاک کر کڑوے جملوں کے تیر پھینک رہی ہیں۔ اسے للکار رہی ہیں۔ اسے اکسارہی ہیں،اور عقل کے اندھے سماج میں، اس کو ولن ثابت کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے.

اس منظر کو حقیقت سمجھنے والوں کی عقل بمشکل ہی پس منظر کے سانحوں تک پہنچ پاتی ہے۔ اگر سرکاری بابو کا تھپڑ اس کا ردعمل تھا، تو کیا یہ ممکن نہیں کہ صحافی کا جارحانہ انداز بھی پس منظر میں پیش آنے والے سرکاری عملے کے کسی عمل کا ردعمل ہو؟ ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر ہمارے سماج میں آن ریکارڈ کو ہونا اور آف ریکارڈ کو نہ ہونا سمجھا جاتا ہے۔ چناں چہ اس بارے میں کچھ بھی کہنا، وقت اور توانائی کے زیاں کے سوا کچھ نہیں۔ اصل معاملہ جو درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ کیا واقعی عزت نفس کوئی ایسی ہی انمول چیز ہے کہ اگر کوئی اس سے چھیڑ چھاڑ کرے، تو سماجی اقدار، انسانیت، لحاظ، مروت کو دفنا کر زخم خوردہ عزت نفس کو ٹھنڈ پہچانے کے لیے، جو دل چاہے کرگزرنا چاہیے؟ کیا سرکاری بابو کی طرح یہ حق اس نازک وقت میں سپورٹ کرنے والے بے چارے عوام الناس کو بھی حاصل ہے؟

ملاحظہ کیجیے، کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کا ایک منظر۔ تین جوان بیٹوں کی اکسٹھ سالہ ماں صالحہ بی بی میں تپِ دق کے جراثیم کی تشخیص ہونے کے بعد، انھیں اسپتال کے اڈمیشن ڈپارٹمنٹ کی راہ دکھائی گئی۔ ڈیوٹی پر موجود نرس نے حقارت سے ایک گندے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے کہا، اسے وہاں پھینک دو۔ بیٹے کو بیمار ماں کے علاج کی حاجت تھی، سو خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔

یہ دوسرا منظرہے۔ پچپن سالہ ہاشم بابا، جو ذیا بیطس کے مریض ہیں۔ نادرا کے دفتر کے باہر لگی ایک طویل قطار میں کھڑے کھڑے تھک کر بیٹھ جاتے ہیں، کہ ایسے میں ایک سرکاری بابو اندھا دھند چلتے ہوئے، ان سے آ ٹکراتے ہیں۔ بزرگ ہاشم بابا لڑھک کر ایک طرف جا گرتے ہیں، اور ان کی عزت نفس کو کفن پہنانے کا سامان کیا جاتا ہے۔ کچھ دردمند جب معاملہ رفع دفع کروانے آگے بڑھتے ہیں، تو انھیں ان کی اوقات یاد دلادی جاتی ہے۔ اس کے بعد نادرا کے کارڈ کے حصول کے لیے ناچار بابا ہاشم ہانپتے کانپتے کھڑے انتظار کرتے ہیں، بیٹھنے کا یارا نہیں ہوتا۔

درج بالا واقعات اور ان سے ملتے جلتے سانحات اس سماج کے معمول کا حصہ ہیں۔ ہمارے سرکاری اداروں میں بیٹھے عوامی خدمت گار یعنی سرکاری بابو اور بیبیوں کی کارکردگی اور کرم فرمائیوں سے کون واقف نہیں۔ کسی نے انھیں ذاتی طور پر بھگتا ہو یا نہیں مگر سب جانتے ہیں، عوام الناس کی عزت نفس کا جلوس نکالنا ہمارے سرکاری بابو اور بیبیوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور یہ کھیل اتنی مہارت سے کھیلا جاتا ہے، کہ پہلے مجمعے کو پتا چلتا ہے کہ تماشا ہوا ہے، پھر مجمعے کے تاثرات دیکھ کر خود تماشائی کو پتا چلتا ہے کہ وہ تماشا بن چکا ہے۔ اس نازک وقت میں آپ کی عزت نفس لاکھ سر پٹخے مگر آپ پلٹ کر جواب نہیں دے سکتے گویا عوام الناس کی عزت نفس بھی ان طرح عوامی ہوتی ہے۔ اسے کچل دو، مسل دو، مگر جوابا سکتہ، یا فقط سناٹا! سرکاری بابو کی عزت نفس، خصوصی عزت نفس ہے۔ اس پر آنچ آئے تو زناٹے دار تمانچہ!

سچ پوچھیں تو جیسے ماں سب کی سانجھی ہوتی ہے، عزت نفس بھی سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ عزت نفس پر وار ہو تو ہر انسان کی تڑپ یکساں ہوتی ہے، مگر احساسات کو تکلیف پہنچانا چوں کہ کوئی جرم ہے، نہ قانون احساسات کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہے، اس لیے ایسے مجرموں کو سزا اپنے بل بوتے پر دینا پڑتی ہے۔ ( جیسا کہ سرکاری بابو نے کیا ہے) سرکاری بابو نے تو اپنے زور بازو کا استعمال کرتے ہوئے، اپنے مجرم کو سزا دے دی، مگر وہ بے چارے عوام جو نہ جانے کب سے ایسے سرکاری بابووں کے ہاتھوں مشق ستم بنے ہوئے ہیں، وہ اپنی عزت نفس کو زندہ دفن کرنے کے الزام میں کس کو تھپڑ ماریں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words