”میں“ اور ”شجر حیات“ ایک مطالعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خالد فتح محمد عصر حاضر کے اہم ترین ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں ان کے اب تک 6 افسانوی مجموعے اور 8 ناول شائع ہو چکے ہیں اس کے علاوہ تراجم کے حوالے سے کافی کام کیا ہے۔ 4 ترک ناولوں اور ایک جرمن ناول کو اردو ادب کا حصہ بنا چکے ہیں زیر طبع 5 ناول ہیں ان سارے کاموں کو وہ کمال مہارت سے کرتے ہیں۔ سال میں ایک کتاب ان کی ضرور منظرعام پر آتی ہے۔ آج ہم ان کے افسانوی مجموعے ”میں“ کی تقریب پذیرائی میں موجود ہیں، جو پچھلے سال شائع ہوئی تھی تقریب قدرے تاخیر سے ہو رہی ہے مگر ہم دیر آمد درست آمد پر عمل کرتے ہوئے کتاب پر بات کرتے ہیں کیونکہ ادب ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے کتاب کا پہلا افسانہ ”خلا“ جو بہت مشکل افسانہ ہے اس کو لکھنے کے لیے خاصے مطالعے کی ضرورت ہے افسانے کی ایک ایک لائن سے پتہ لگتا ہے کہ افسانہ نگار نے اس موضوع کو بہت اسٹڈی کر کے لکھا ہے املی کا درخت ہماری تہذیب و تمدن کا حصہ ہے، افسانے میں درخت کی نفسیات پر بات ہوئی ہے افسانے کا اختتام بہت کمال کا ہے مرکزی کردار جو مرد ہے اس کی بیوی اور مادہ درخت ایک تکون کی طرح نظر آتے ہیں۔

مرکزی کردار کا مادہ درخت سے تعلق بہت پرانا ہے مادہ درخت کا کردار اس قدر حاوی ہوجاتا ہے کہ وہ اس درخت کو کاٹنے کا پروگرام بنا لیتا ہے افسانہ شروع سے آخر تک اپنی گرفت مضبوط رکھتا ہے۔ افسانہ ”دھنک“ بھی اپنے اندر خوب فقرے بازی سموئے ہے افسانہ نگار مشاہدے کی دولت سے مالا مال ہیں۔ فکشن لکھنے والے کے پاس اگر مشاہدہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ افسانہ ”مزار“ بھی اپنے اندر کئی رنگ لئے ہوئے ہے۔ مزار پر جانے والوں کے بارے میں عام تاثرہے کہ وہ وہاں دعا مانگنے جاتے ہیں مگر مزار اپنے اندر ایک پراسراریت رکھے ہوئے ہے اور اَن کہی کہانیاں لئے ہوتا ہے۔

مزار کے اندر بہرحال ایک سکون تو ہوتا ہے اور ثقافتی مرکز بھی ہوتا ہے۔ افسانہ ”بازگشت“ عسکری کرداروں کے گرد گھومتا ہے چونکہ مصنف خود بھی عسکری زندگی کا حصہ رہے ہیں اس لیے فوجیوں کی زندگی کے پوشیدہ حصے دکھاتے ہیں عام طور پر فوج کے بارے میں 2 آرا ء ہوتی ہیں ایک وہ جو ان کو مقدس گائے بنا کر پیش کرتے ہیں دوسرے وہ جو ان کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں مگر خالد فتح محمد نے اس کہانی میں فوجیوں کو عام انسانوں کی طرح برتاؤکرتے دکھایا ہے۔

افسانہ ”ہم ہیں جہاں“ عورت کے خالی پن کو بیان کرتا، ادھیڑ عمر کے عشق کا قصہ ہے، جو خطرناک ہوتا ہے۔ خالد فتح محمد نے سماج کے ایسے کرداروں پر قلم اٹھایا ہے جن پر بات نہ کرنے کو کہا جاتا ہے مگر وہ کردار پوری شدت سے اس معاشرے میں موجود ہیں۔ جیسے پونوگرافی والی تصاویر اور فلمیں دیکھنا ہمارے معاشرے کا وہ پوشیدہ رخ ہیں جس کا سامنا کرنے سے ہم کتراتے ہیں مگر یہ سب کچھ اسی معاشرے میں موجود ہے مگر ہم اس پر بات نہیں کرتے۔

جب تک معاشرے میں جبر ہے یہ سب چلتا رہے گا ایسے کرداروں کو ہم چھپاتے رہیں گے۔ خالد فتح محمد کے افسانوں کے کردار اندر سے تنہائی کاشکار ہیں۔ بظاہر خاندان کے ساتھ رہنے والے بھی ایک فکری تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ خالد فتح محمد کی ایک خوبی بہت کمال ہے کہ وہ کثرت سے مطالعہ کر تے ہیں۔ جیسے سطور بالا میں ان کے درختوں کی نفسیات کے حوالے سے تحریر کا ذکر کیا۔ ایسے ہی انہوں نے گھوڑے کی نفسیات بیان کی ہے اگر سوار نیچے گرے اسے دکھ ہوتا ہے، وہ انسان جانور کی زبان جان سکتا ہے افسانہ ”تارک میرک“ نسلوں کے فرق کو بیان کرتا ہے کیسے دادا اور پوتا اپنی سوچ کے تابع ہیں افسانہ میں بڑی باریک بینی سے دیہات کی زندگی کو بیان کیاگیا ہے۔

ٹاہلی کی لکڑی سالن کو مزے دار اور کیکر کی لکڑی سالن کو بدمزہ کرتی ہے۔ نارنجی شعلے اور صدیوں کے خوف کی کہانی ہے۔ گاؤں کی چھوٹی ذات کا بندہ پڑھ لکھ کر واپڈا کا آفسر بن جاتا ہے اور اونچی ذات کی عورت کو اپنی ملازم رکھ لیتا ہے مگر اس سے جسمانی تعلق قائم کرتے ہوے ڈرتا ہے مگر افسانے کا کمال آخری سطروں میں جنس کی طاقت کو بیان کرناہے۔ سیکس مذاہب اور ذات پات سے بالا تر ہے۔ خالد صاحب کے افسانوی مجموعے ”میں“ سماجی حقیقت نگاری کا کمال ہے۔ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے زبان دانی کا مزہ ہے۔ کرافٹ توانا ہے اردو افسانے کی شاندار تاریخ میں ایک اور قابل فخر کتاب کا اضافہ ہو گیا ہے۔

“ریاظ احمد” ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں وہ مصور ہیں، گرافک ڈیزائینگ بھی کرتے ہیں، اب تک دس ہزار سے زائد کتابوں کے سرورق بنا چکے ہیں۔ وقت ٹی وی پر پروگرام ”چہرے پر چہرہ“ اور ”مہربان کیسے کیسے“ اور ”اعتقاد“ کی میزبانی کی اور سکرپٹ رائٹر بھی رہے۔ سچ ٹی وی کے لیے خزینۂ دانش لکھا اور میزبان رہے۔ ٹی وی اور تھیٹر ڈرامے بھی لکھے اب ناول کی طرف رخ کیا ہے۔ اردو ادب میں ناول کی روایت بہت پختہ ہے۔ قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، انتظار حسین، شوکت صدیقی، شمس الرحمن فاروقی سے لے کر مرزا اطہربیگ، خالد فتح محمد تک بڑے اعلی پائے کے ناول نگارہیں۔

ابھی بیشمار نام ہیں جو اس فہرست میں شامل نہیں کر سکا، غرض کہ بہت بڑا ادب فکشن کی صورت میں اردو ادب میں ناول کی روایت میں موجود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اس ادب کا موزانہ دنیا بھر کے ادب کے ساتھ با آسانی کیا جا سکتا ہے بس شرط صرف اتنی ہے کہ ادب کے عالمی ناقدین کے سامنے یہ کام پہنچ جائے پھر میں دیکھتا ہوں کسے عالمی اعزازات اردو کے ادیب اور شاعر حاصل نہیں کرتے۔ زیر نظر ناول شجر حیات اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

ریاظ احمد جو اس ناول کے مصنف ہیں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں بطور ڈرامہ نگار ان سے ہم واقف ہیں اور فلسفے کے حوالے سے بھی ان کا کام ہمارے سامنے ہے اب ان کا نیا روپ بطور ناول نگار کے ہمارے سامنے آشکار ہوا ہے جو بہت ہی بہترین کام ہے ناول 164 صفحات کا ہے اور جاندار کہانی کے بہاؤ میں قاری بہتا چلا جاتا ہے کسی موقع پر بھی بوریت کا احساس نہی ہوتا کسی بھی تحریر کی اس سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ قاری کو اپنی گرفت میں رکھے اور اسے کسی اور کام کے قابل نہیں چھوڑے شجر حیات شروع سے آخر تک اپنی گرفت مضبوط رکھتا ہے ریاظ احمد چونکہ فلسفے کے آدمی ہیں لہٰذا ناول میں جابجا فلسفیانہ گتھیوں کو سلجھاتے نظر آتے ہیں۔

یہی بات اس ناول کو ایک بڑی ادبی تخلیق بناتی ہے ناول میں ایک جگہ جب بہزاد جو مرکزی کردار ہے وہ ایک حادثے کا شکار ہو جاتا ہے اور طبی طور پر مردہ قرار دیا جاتا ہے وہاں وہ کہتا ہے موت کے بعد کے سوالات شروع ہو جاتے ہیں وہ سوال صرف محبت اور تشدد کے بارے میں ہیں میں نے ہر چیز سے محبت کی ہے اور زندگی میں کبھی نفرت کی ہی نہیں اسی طرح انہی حالات میں جب وہ مر کر زندہ ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے اسے عیسی علیہ السلام نے زندہ کیا ہے اس کے بعد وہ پادری سے ملتا ہے جو اسے عیسی علیہ السلام کی تصویر بنانے کا کہتا ہے بہزاد جو مصور ہے حامی بھر لیتا ہے جب تصویر بن جاتی ہے تو اس پر پادری کی طرف سے یہ اعتراض سامنے آتا ہے ہے کہ یہ تصویرعیسیٰ علیہ السلام کی نہیں ہے آخر میں ایک فلسفی پرویز اس مسئلے کی گتھی کو سلجھانے میں مدد کرتا ہے درحقیقت مصور نے اپنی ہی تصویر بنائی ہوتی ہے اس ساری بحث میں ریاظ احمد نے خوب مہارت سے فلسفے کو سمویا ہے ان کا فن اپنی بلندی پر ہے مزرا اطر بیگ کے بعد اردو ناول ریاظ احمد کی صورت میں ایک فلسفی لکھاری کی آمد ہو چکی ہے ایسا نہیں ہے وہ فلسفے کی گتھی کو سلجھانے میں تحریر کو عام قاری کی سمجھ سے بالاتر بات کر جاتے ہیں ان کی فلسفیانہ سوالات عام قاری کو تھوڑے غور و فکر سے سمجھ میں آجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ ناول عام قاری اور دانشوروں دونوں کے لیے ہے۔

ریاظ احمد مصور بھی ہیں ان کے ناول کا ہیرو بہزاد بھی مصور ہے۔ ریاظ صاحب نے اس ناول میں مصوری فلسفے اور فکشن کو ملا دیا ہے یہ تینوں اصناف ان کی شخصیت کا حصہ ہیں ناول کی ہیروئن نیلوفر کرسچین ہے اور بہزاد سے محبت کرتی ہے بہزاد کس مذہب سے اس بات کو کھول کر نہیں بتایا گیا جو میرے خیال میں ناول کی خوبصورتی ہے۔ بڑا ادیب بعض اوقات قاری کو خودگتھیوں کو سلجھانے کا بھی کہہ دیتاہے ناول میں ہمیں اسباق محبت بھی پڑھائے گئے ہیں اور باکمال مکالمے لکھے ہیں۔

یہاں ریاظ احمد کے اندر کا ڈرامہ نگار کھل کر باہر آجاتا ہے اس ناول کی سب سے خوبصورت بات مکالمہ نگاری ہے جو بڑی شستہ زبان میں ہے اور قارئین کو خوب زبان دانی کا مزہ دیتی ہے مثال کے طور پہ زبان خلق نقارہ خدا نہیں ہوتی بھیڑچال ہوتی ہے خدا نقارہ نہیں بجاتا۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں، میں جانتا ہوں میرے مخالفین مجھ سے مکالمہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ مکالمہ کرنا نہیں جانتے اور میں جنگ کرنا نہیں جانتا۔ ایک اور مکالمہ چہروں پر لکھی تمام کہاینوں کا رسم الخط اور زبان ایک جیسے ہوتے ہے۔

شجر حیات ایک کامیاب ناول ہے اس کے تمام کردار مہارت سے لکھے گئے ہیں پروفیسر کا کردار سب سے جاندار ہے جو غائب ہونے کے باوجود ہر صفحے پر موجود ہے، اور بہزاد کے اندر بولتا ہے پروفیسر بہزاد کو مجبور کرتا ہے وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی تصویر بنانے اور وہ شاہکار تب ثابت ہو گی جب اپنے زمانے سے آگے کی بات ہو۔ پادری کا کردار بھی خوب ہے جو مذہبی فرائض کی ادائیگی میں اس قدر جلدی جلدی میں ہوتا ہے کہ ایک نابینا کو سڑک پار نہیں کراتا پھر اسے غلطی کا احساس ہوتا جب واپس آتا ہے تو ایک لڑکی نابینا کو سڑک پار کرا چکی ہوتی ہے بعدمیں پادری اس سے شادی کر لیتاہے ناول کے اسباق محبت ناقابل فراموش ہیں حرف آخر شجر حیات اردو ادب ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *