حقوق کی قید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقوق اخلاقی اور قانونی دونوں اعتبار سے پہچانے جانے چاہئیں اور اخلاقی اور قانونی دونوں اعتبار سے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے۔ حقوق کی ادائیگی میں اگر کمی ہوتو کچھ ہی عرصہ میں لوگ کمزور ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ بے حس ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور آخرکار یہ بے حسی لاعلمی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور لوگوں کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں رہتا۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ ان کو کیا کیا حقوق حاصل ہیں۔ یہ حالت بہت خطرناک ہوتی ہے، اگر لوگ اس حالت تک پہنچ چکے ہوں تو وہ ایک محرومی سے بھری زندگی کے اس قدر عادی ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان کے حساب سے یہی زندگی ہوتی ہے اور اس میں بہتری کے بھی ان کے اپنے معیار ہوتے ہیں جن میں ان کی محرومیوں کا بھرپور خیال رکھا گیا ہوتا ہے۔ اور اس طرح لوگ اپنا ایک مکمل طرز زندگی بنالیتے ہیں۔ اس طرح کے طرز زندگی میں لوگ اپنے لئے نئے قسم کے حقوق اور آزادی کے معیار مقرر کرلیتے ہیں اور اپنی ایک چھوٹی سی دنیا میں ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں۔

اس محروم طبقے کو بہتر زندگی دینے کے لئے بہت سے منصوبے بنائے جاتے ہیں، بہت سی کاوشیں کی جاتی ہیں پر اکثر ناکام رہتی ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو جب کوئی حقوق کے اعتبار سے بہتر طرز زندگی کے بارے میں بتاتا ہے تو شروع میں وہ طرز زندگی ان لوگوں کو اچھا بھی لگتا ہے اور وہ اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں اور کچھ حد تک اٹھاتے بھی ہیں۔ مگر، کیونکہ ہر طرز زندگی اپنے اصول اور قواعد رکھتا اور جب وہ اصول و قواعد ان لوگوں کے اپنے بنائے گئے قواعد سے متصادم ہوتے ہیں تو وہ اس بہتر طرز زندگی کو ہی برا اور غلط کہنے لگتے ہیں۔

جب تک وہ بہتر طرز زندگی لوگوں کے حقوق کی بات کرتا اس وقت تک وہ اچھا ہوتا ہے مگر جب ان حقوق کو پورا کرتے رہنے کے لئے ان کی خود ساختہ آزادی میں کچھ کمی کی جاتی ہے تو لوگ اپنی خود ساختہ آزادی کی حفاظت کی خاطر بہت سی اور زنجیریں پہنتے چلے جاتے ہیں اور خودساختہ حقوق کے حصول کی خاطر اصل حقوق سے جانتے بوجھتے اپنی مرضی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

حقوق سلب کرنے والاے ظالم اور حقوق سے محروم مظلوم کی یہ کہانی ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور چلتی رہے گی کیونکہ یہ ایک قدرتی نظام ہے اس میں منفی اورمثبت کا ایک ساتھ موجود ہونا لازمی امر ہے۔ مگر دونوں اطراف کی انتہا کے درمیان بھی بہت کچھ ہوتا ہے جس میں سب سے اچھا مقام درمیان کا ہوتا ہے جہاں دونوں اطراف کی حدود ٹکراتی ہیں اور ختم ہوجاتی ہیں اور متوازن راستہ بن جاتا ہے۔ یہ متوازن راستہ دونوں اطراف کی انتہا کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے مگر اس تک پہنچنے میں دونوں اطراف کے لوگ اکثر ناکام ہی رہتے ہیں اور بہت سی قسم کی بیڑیاں ان کو وہاں تک پہنچنے سے روکے رکھتی ہیں۔

ان بیڑیوں کو توڑنے کے لئے کسی نہ کسی بیرونی قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر وقت میسر ہوتی ہے مگر اس کو پہچاننے کی صلاحیت شاید ہرکسی میں نہیں ہوتی۔ اور اسہی وجہ سے زیادہ تر لوگ ظالم اور مظلوم دونوں اطراف کی انتہا سے دور ہونے کی کوشش میں متوازن اور اپنی بنیادی یا ابتدائی انتہا کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔ یعنی کہ ظلم اور متوازن کے درمیان بھی ایک راہ ہوتی ہے اسہی طرح مظلوم اور متوازن کے درمیان بھی ایک راہ ہوتی ہے۔

کیونکہ لوگ اپنی ابتدائی انتہا اور اصل متوازن کے درمیان زندگی گزرتے ہیں اور دونوں اطراف کے لوگ ہی اصل متوازن سے دور ہوتے ہیں اس لئے طبقاتی فاصلے موجود رہتے ہیں اور دونوں اطراف کے اعتدال پسند لوگوں کو ایک ہی سوچ کا مالک نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ دونوں ہی اپنے لاشعور میں اپنی اپنی انتہا کی بیڑیوں میں جکڑے ہوتے ہیں۔ اسہی لئے مظلوم اعتدال پسند ظالم طبقے کے اعتدال پسند کو ظالم ہی سمجھتے ہیں اور بری نظر سے دیکھتے ہیں جو ظالم طبقے کے اعتدال پسند کو اچھا نہیں لگتا۔ اسہی طرح ظالم طبقے کے اعتدال پسند مظلوم اعتدال پسند کو مظلوم ہی سمجھتے ہیں اور ترس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو مظلوم اعتدال پسند کو اچھا نہیں لگتا۔ یعنی کہ دونوں اطراف کے اعتدال پسند ایک ہی سوچ کے مالک نہیں ہوتے۔

دونوں طرف کے عتدال پسند لوگ اپنی اپنی جگہ متمعین ہوتے ہیں کہ وہ بہتر مقام پر ہیں اور بہت سوں سے بہتر ہیں۔ ایک طرف لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں تو دوسری طرف لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق جانتے ہیں اور اپنی جدوجہد سے بہت سے حقوق حاصل بھی کر چکے ہیں۔ یہ کوئی بری صورتحال نہیں ہے اور ایک بہتر معاشرے کی تصویر نظر آتی ہے۔ مگر ہر طبقے میں ہر قسم کے لوگ موجود ہوتے ہیں اچھے، برے، صابر، بے صبرے، ہر حال میں خوش، موقع پرست، مثبت سوچ کے مالک یا منفی سوچ رکھنے والے، مضبوط یا کمزور کردار کے مالک وغیرہ وغیرہ۔

یعنی جو ظلم سے متوازن کی طرف آرہے ہیں اور جو مظلوم سے متوازن کی طرف آرہے ہیں دونوں میں ہی ان ساری اقسام کے لوگ موجود ہیں۔ دونوں ہی اطراف کے لوگ مثبت اور منفی سوچ میں فرق کرنے کے بارے میں جانتے ہیں اور آدھا گلاس خالی کے مقابلے میں آدھا گلاس بھرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں مگر اس کے باوجود جس مقام پر ہیں اس سے بہتر سے بہتر مقام تک پنہچنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔

بہتری کی سوچ رکھنے والے لوگ کو ہمیشہ دوراہے کا سامنا ہوتا ہے، یا تو وہ دوسروں کا استحصال کرتے ہوئے اپنی بہتری تک پنہچنے کی کوشش کریں یا سب کو ساتھ لے کر سب کی بہتری کی کوشش کریں۔ دوسروں کے استحسال کے راستے بہتری شاید تیزی سے حاصل ہوجائے مگر اس بہتری کے فوائد حاصل کرنے میں مشکلات رہتی ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے رشوت لے کر اور لوگوں کا حق مار کر کمائے گئے پیسے سے بڑی گاڑی تو خریدلی جائے پر چلانے کے لئے سڑک پر گدھا گاڑی اور ریڑوں اور غریب پیدل چلتی عوام کو گالیاں دیتے ہوئے گاڑی چلانی پڑے۔

اس کے مقابلے میں اگر شروع ہی سے حلال طریق پر کمائے گئے پیسوں سے اپنے غریب رشتہ داروں، کسی بھی قسم کے ملازموں، اور جاننے والوں کی مدد کر تے ہوئے زندگی گزاری جائے تو شاید بہتری تھوڑی کم یا آہستہ ہو مگر سب کے ساتھ چلتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ استحصالی یا لوگوں کا خیال کرنے والی سوچ ظالم یا مظلوم دونوں ہی طرف پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا استحصال کرنے یا ان کا خیال کرنے میں ایک کام ایسا ہے جو نہ کیا جائے تو لوگوں کا استحصال ہوجاتا ہے لیکن اگر وہی کام کیا جائے تو کچھ بھی اضافی کام کیے بغیر لوگوں کا خیال رکھا جا سکتا ہے اور وہ کام ہے اپنے فرائض کی ادائیگی۔

موجودہ دور میں ہر طرف لوگوں کے مختلف قسم کے حقوق کی بات ہورہی ہے، مجموعی انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، ملازمین کے حقوق، بچوں کے حقوق، آزادی رائے کا حق، وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس بات میں ایک کمی واضح محسوس کی جاسکتی، ہر کوئی اپنے حقوق کی بات تو کر رہا ہے مگر فرائض کی بات کوئی نہیں کر رہا۔ حقوق اور فرائض کا بہت ہی گہرا رشتہ ہے۔ حقوق ادا کرنا ہمارے فرائض میں آتا ہے۔ اولاد کے حقوق ادا کرنا والدین کے فرائض کا حصہ ہے اور والدین کے حقوق ادا کرنا اولاد کا فرض ہے، بیوی کے حقوق ادا کرنا شوہر کا فرض ہے اور شوہر کے حقوق بیوی کا فرض۔

صاف ہوا میں سانس لینا ہم سب کا حق ہے اس پر ہم بڑے بڑے سیمینار کر سکتے ہیں، لیکن ماحول صاف رکھنا ہمارا فرض ہے اس کی ادائیگی کرنے کو ہم تیار نہیں۔ انصاف کا حصول ہمارا حق ہے اور سچ بولنا ہمارا فرض جس کی ادائیگی کے لئے ہم تیار نہیں۔ بیوی شوہر کے تمام حقوق ادا کرے مگر عورت کے حقوق ادا کرنے کو ہم تیار نہیں۔ ریاست عوام کے حقوق پورے کرے مگر قوانین کی خلاف ورزی نہ کرنا عوام کا فرض ہے اس کی ادائیگی کرنے کو ہم تیار نہیں۔

بہت سے حقوق کی ادائیگی کے لئے دنیا میں ابھی بھی بہت سی قانون سازی کی ضرورت ہے مگر فرائض کی ادائیگی کے قوانین تو پوری دنیا میں موجود ہیں۔ ہر کوئی اپنے اپنے حقوق کی بات تو کر رہا ہے مگر قانونن جو فرائض اس نے خود ادا کرنے ہیں جن سے بہت سے لوگوں کے حقوق وابستہ ہیں ان کی نہ وہ خود بات کرتا ہے نہ وہ جن کے حقوق مارے جا رہے ہیں۔

یہاں کوئی بھی اپنے فرائض ادا نہیں کرنا چاہتا بس اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا چاہتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے حقوق کے لئے اس لئے آواز نہیں اٹھا رہا کہ وہ حقوق اسے مل جائیں اصل میں وہ بس اپنے فرائض ادا نہ کرنے کا جواز بنا رہا ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے فرائض ادا نہیں کر رہا جس سے میرے حقوق مارے جارہے ہیں تو میں بھی اپنے فرائض ادا نہیں کرونگا چاہے اس سے کسی کے بھی حقوق مارے جائیں۔

اصل مسئلہ حقوق کی فراہمی کا نہیں فرائض کی ادائیگی کا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے حقوق کی قید میں بند ہیں اور حقوق کی قید سے صرف فرائض کی ادائیگی کے ذریعے ہی آزادی مل سکتی ہے۔ ہمیں تو بچپن سے آج تک ہمارے والدین نے یہی بتایا ہے کہ کسی کا حق نہ مارو اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے جہاں تک طاقت میں ہو تم اپنے حقوق چھوڑدو۔ بے شک دینے والا تو اللہ تعالی ہے وہی دیتا ہے۔ جب وہ دینے پر آتا ہے تو اتنا دیتا ہے کہ آپ کی جھولیوں میں وہ چیز سما نہیں سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *