فلسفہ بوٹ اور ووٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں بوٹ اور ووٹ کی سیاست پر عرصہ دراز سے کشمکش جاری ہے حالانکہ اہل ووٹ اور ”اہل بوٹ“ دونوں کی منزل اقتدار ہی ہوتی ہے لیکن ستم یہ ہے کہ اہل ووٹ ”بوٹ“ سے سہولتیں ساری لیتے ہیں اور پھر برا بھلا بھی اسے ہی کہتے ہیں جبکہ اہل بوٹ کا کمال یہ ہے کہ وہ ریلیوں اور جلسوں میں ووٹ والوں کے عیبوں کا ذکر کرنے کی بجائے اچانک ایسی آفات کا بندوبست کر دیتے ہیں کہ پھر ووٹ پر نازاں سیاسی جماعتیں چیخ چیخ کر زمین آسمان کو ایک کر دیتی ہیں۔

پاکستان میں ووٹ اور بوٹ کو چولی اور دامن کا مقام حاصل ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ چولی بھی خستہ ہے اور دامن بھی داغدار نظر آتا ہے۔ بوٹ کی طاقت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی وزیر ٹاک شوز میں بوٹ کو ٹیبل پر لا کر سجا دیتے ہیں اور فی الحال بوٹ کو ناپسند کرنے والے لوگ محفل کو خدا حافظ کہہ کر چلے جاتے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی نعرہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے مگر دیگر سیاسی نعروں کی طرح یہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ طاقت کا سرچشمہ بوٹ ہے۔ جلا وطنوں کو ملک میں آنا ہو یا اسیروں کو آزادی کا پروانہ درکار پر ڈیل اہل بوٹ سے ہی ہوتی ہے جو بوٹ کی اہمیت اور طاقت کو نہیں جانتے ان کی حیثیت اس چمگاڈر جیسی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ سورج کا وجود نہیں ہے حالانکہ قدرت نے اسے سورج کے جلوؤں سے محروم رکھا ہے۔

پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ووٹ محترمہ فاطمہ جناح کے پاس تھا لیکن بوٹ بھاری ثابت ہوا تھا مگر جنرل ایوب خان نے اقتدارمیں آ کر ووٹ کی ہلکی سی طاقت کا سہارا لینے کے لئے کنونشن لیگ کو جنم دیا تھا۔ اسی طرح 1977 ء میں ووٹ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تھا لیکن بوٹ نے پھر اپنی طاقت کے بل بوتے پر سب کچھ ہی روند کر رکھ دیا تھا اور جنرل ضیاء الحق نے عوام کے ووٹ کو استعمال میں لانے کے لئے غیر جماعتی الیکشن کا سہارا لیا گویا ووٹ کی ضرورت انہیں بھی محسوس ہوئی تھی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو 1986 ء میں واپس آئیں تو ووٹوں کا سیلاب استقبال کے لئے آ گیا تھا لیکن جب الیکشن ہوئے تو پھر ان کا مینڈیٹ بوٹ کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا اور 1990 ء میں سیاستدانوں میں سرکاری فنڈز کی تقسیم کا معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ کی راہداریوں میں پڑا ہوا ہے۔

دوسری طرف میاں نواز شریف تین بار وزیر اعظم بنے اور ہر بار وہ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے بوٹ کے ساتھ لڑتے رہے اور پھر بری طرح چوٹ کھا کر گر گئے۔ میاں نواز شریف کی سیاست میرتقی میر کے اس شعر کے گرد گھومتی ہے۔

” میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے ”بوٹ“ سے دوا لیتے ہیں ”

اس میں لڑکے کی جگہ بوٹ کا استعارہ استعمال کر کے راقم نے اپنا الّو سیدھا کیا ہے۔ میاں نواز شریف جنرل پرویز مشرف سے لڑتے رہے اور پھر انہی کے ہاتھوں معزول ہو کر جیل بھی گئے اور بعدازاں انہی سے دس سالہ جلاوطنی کا معاہدہ کر کے باہر چلے گئے۔ دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو بھی وطن واپسی کے لئے اہل بوٹ سے ہی این آر او کیا۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے مسلم لیگ (ن) میں سے مسلم لیگ قائد اعظم کو تلاش کر کے اپنے ساتھ ملایا اور پیپلزپارٹی میں سے پیٹریاٹس ڈھونڈ نکالے اس طرح بوٹ اور ووٹ ایک ہی پیج پر چلے گئے۔ پاکستان کی قومی سیاست میں ووٹ اور بوٹ کی اہمیت جانچنے والوں میں مولانا فضل الرحمٰن، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) بہترین آلے شمار کیے جاتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ میاں نواز شریف اقتدار میں ہوں تو انہیں ووٹ کی طاقت کا نشہ اس قدر چڑھ جاتا ہے انہیں بوٹ کی قوت کا احساس ہی نہیں رہتا۔

البتہ اقتدار چھن جانے کے چند ماہ بعد انہیں بوٹ کی الفت اور اس کی طاقت سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ میاں نواز شریف جس بوٹ کے خلاف ”مجھے کیوں نکالا“ کی سیریل چلا کر کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے اسی بوٹ کی طلسمی جادوئی طاقت کا سہارا لے کر آج کل لندن کے مزے لوٹ رہے ہیں بلکہ اب تو وہ اہم امور پر اہل بوٹ کو سپورٹ کرنا اپنی قومی ذمہ داری بھی سمجھنے لگے ہیں۔

کچھ سیاستدان بلاوجہ یہ راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ بوٹ کو سیاست زدہ نہ کیا جائے حالانکہ ہماری سیاست عرصہ دراز سے بوٹ زدہ ہے اور ہمارا کوئی ایسا سیاستدان نہیں ہے جو اہل بوٹ کی نظر کرم کے بغیر ایوانوں کا رخ کر سکے۔ کچھ عرصہ پہلے چودھری پرویز الہٰی نے اپنے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ جنرل شجاع پاشا نے مسلم لیگ (ق) سے بندے توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کروائے تھے جبکہ میر حاصل بزنجو نے سینیٹ میں اپنی شکست کی ذمہ داری براہ راست جنرل فیض حمید پر ڈال تھی اس کے باوجود یہ کہنا کہ بوٹ کو سیاست زدہ نہ کیا جائے خود بوٹ اور سیاست کے ساتھ زیادتی ہے۔

اہل سیاست کو یہ ہنر حاصل ہے کہ اہل بوٹ سے مل کر کون کون سی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے اور اہل بوٹ کو ہر دور میں ووٹ کی ضرورت رہی ہے۔ لہذا محبت میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اس لئے فریقین کو چاہیے کہ ہر حال میں ایک دوسرے کا احترام لازمی کریں اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 74 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *