آٹے اور چینی کا بحران یا پلان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیزکا شمار گندم پیدا کرنیوالے آٹھ بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً سالانہ 25 ملین ٹن گندم پیدا ہوتی ہے۔ جس میں سے 19 ملین ٹن صوبہ پنجاب میں پیدا ہوتی ہے۔ جو ملک کی مجموعی پیداوار کا 75 فیصدحصہ بنتاہے اور پاکستان کی سالانہ ضرورت بھی 25 ملین ٹن ہے۔ اس کے باوجود بھی حالیہ دنوں میں آٹے کی قمیتوں میں اچانک بڑا اضافہ سامنے آیا جس کی وجہ سے آٹے کا مصنوعی بحران پیدا ہوگیا۔ صوبہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواور بلوچستان میں لوگ متاثر ہوئے لیکن ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی منافع خوروں کی چاندی، دکان داروں نے منہ مانگی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی۔

20 کلو آٹے کا تھیلا 805 سے بڑھ کر 1050 روپے تک پہنچ گیا جب کہ دکانوں پر کھلا آٹا 60 روپے فی کلو ٖفروخت ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ چکیوں پرآٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ مجموعی طور پرپندرہ دنوں میں دیسی آٹا 20 روپے فی کلو تک بڑھ چکا ہے۔ اس حوالے سے آٹا چکی مالکان ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ہے کہ غلہ منڈیوں میں گندم 2250 روپے فی چالیس کلو تک فروخت ہورہی ہے۔ فلورملز کے ساتھ ہمارا بھی کوٹہ مقررکیا جائے فلورملز کو 1375 روپے میں فی چالیس کلو گندم فراہم کی جاتی ہے۔ اگر ہمیں بھی اسی ریٹ پر گندم دی جائے تو ہم بھی سستا آٹا فروخت کریں گے جب کہ آٹا چکی مالکان اوپن مارکیٹ سے گندم مہنگے داموں خرید کر سستے نرخوں پر آٹا فروخت نہیں کر سکتے۔

فلور ملز گندم سے آٹا، میدہ، فائن، سوجی، اور چوکر نکال لیتی ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس چکی مالکان اسی گندم سے غذائیت سے بھرپور دیسی آٹا فروخت کر رہے ہیں۔ گندم اور بجلی کی قیمتوں میں مستحکم لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہمیں حکومت نے ہراساں کرنے کی کوشش کی تو ہم مکمل شٹر داؤن ہڑتال کریں گے

ابھی یہ بات حل نہیں ہوئی تھی کہ متحدہ نان، روٹی ایسوسی ایشن بھی میدان میں آگئی اور اس نے آٹاچکی مالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے حکومت کو پانچ دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات بھی نہ مانے گے تو روٹی کی قیمت 10 روپے جب کہ نان کی قیمت 15 روپے کرنیکا علان کر دیا اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فائن میدے کی قیمت 3700 روپے سے بڑھ کر 4700 ہوچکی ہے۔ جب کہ شہروں میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب پرانی قیمتوں پر نان، روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا اگر حکومت آٹے کی قلت دور کرنے اور فائن میدے کی قیمتوں میں کمی کرنے میں ناکام رہی تو ہم از خود روٹی، نان کی قیمت میں اضافہ کردیں گے اوراگر ہمیں بھی ہراساں یا دبانے کی کوشش کی گئی تو ہم ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

جب کہ دوسری طرف پنجاب فلورملز ایسوسی ایشن کی طرف سے بلندوبانگ دعوے کیے جارہے ہے کہ آٹے کی کسی جگہ پر کوئی قلت نہیں اور اسی صورتحال پیدا کرنیوالوں کے خلاف حکومت کارروائی عمل میں لائے اور نہ ہی آٹے کی قیمتوں میں کوئی اضافہ ہوا ہے۔ آٹا اب بھی 40 روپے 25 پیسے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔ اور 20 کلو کے آٹے کے تھیلا کی قیمت بدستور 805 روپے قائم ہے۔ مہنگے آٹے کی خبریں آٹا چکی مالکان کی طرف سے گردش کر رہی ہیں۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے نہیں اور ساتھ یہ بھی کہہ ڈالا کہ پنجاب میں آٹے کا بحران مصنوعی ہے۔ اور اس کے پیچھے صوبائی وزیر ہے جس کا اپنا میدے کا کاروبار ہے۔

حکومت اس بات کا بھی نوٹس لے تاہم دیگر صوبوں میں گندم کے مسائل ہیں۔ سندھ میں خراب موسم کے باعث گندم کی ترسیل کا مسئلہ ہے۔

کے پی کے میں پنجاب سے گندم لے جانے پر پابندی ہے۔ جبکہ بلوچستان نے گندم خریدی ہی نہیں اس ساری صورتحال پر قابوپانے کے لیے وزیر اعظم نے 3 ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی اور درآمدگی گندم کے نرخوں میں کمی کرنے کے لیے اس پر واجب ڈیوٹی میں 60 فیصد چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سیکرٹری خوراک کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں صورتحال معمول پر آجائے گی۔ سماجی حلقوں کی طرف سے اس بات کابھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حکومت گندم اور آٹے کی افغانستان سمگلنگ کا سد باب نہیں کرتی تو یہ بحران آئندہ چند مہینوں میں مزید شدت اختیار کرجائے گا۔

دوسری طرف یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آٹے کے بحران کی وجہ گندم کی قلت نہیں بلکہ فلورملز مالکان کی طرف سے ملنے والے کوٹہ کو مارکیٹ میں فروخت کرنا ہے۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق 19 کے قریب ایسی فلورملز کا انکشاف ہوا ہے۔ جو گندم کا کوٹہ لے کر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرتی تھی جس پر حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 376 ملوں کو 9 کروڑروپے جرمانے، 15 کے لائسنس معطل، 180 فلور ملز کے آٹے کا کوٹہ روک دیا گیا 4 آفسران کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جو فرائض میں غفلت برتنے اور بے ضبطگیوں میں ملوث تھے جس میں ڈسٹرکٹ فوڈکنٹرولر سیالکوٹ نصراللہ خان ندیم اور ڈسٹرکٹ کنٹرولر گوجرانوالہ روحیل بٹ معطل اور ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ خوراک فیصل آباد کامران اور ڈسٹرکٹ فود کنٹرولروہاڑی صغیر احمدکو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدارکی ہدایت پر مختلف شہروں میں آٹے کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے 126 کے قریب سیل پوائنٹ قائم کیے گئے ہیں۔ جو حکومتی ریٹ کے مطابق آٹے کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے۔

آٹے والی چکی کی میں گندم تو پس نہیں رہی البتہ مہنگائی کی چکی میں عوام ضرور پس رہے ہیں۔ ایک توحکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔ دو وقت کی روٹی بھی غریب کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے، اور اوپر سے حکومتی نا اہل وزاء مختلف بیان دے رہے ہیں۔ جو کہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ جس طرح شیخ رشید کا بیان قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ نومبر اور دسمبر میں لوگ روٹیاں زیادہ کھاتے ہیں۔ اس وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ عوام روٹی کو ترس رہے ہیں۔ کراچی سے خیبر تک آٹے کی شدید قلت ہے۔ اور اگر ملتا بھی ہے۔ تو مہنگے داموں جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

ایک وزیراعلی نے تو عوام کو اس بات کا مشورہ ہی دے ڈالاکے عوام دو روٹی کی بجائے ایک روٹی کھائیں تو آٹے کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کیا یہ عوام کی بے بسی کا مذاق اڑانے اور ان کی تذلیل کرنے کے مترادف نہیں۔ اور کیا یہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں۔ پہلے یہ تنقید اپوزیشن کیا کرتی تھی پھر اس کے حکومتی اتحادیوں کی چیخیں نکلی اور اب حکمراں جماعت کی اپنی ہی صف سے بغاوت کی سدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

اس ساری صورت حال سے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا نظام اور ادارے تباہ ہورہے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن اس زرعی ملک میں بھی آٹے کی قلت عروج پر ہے۔ بات یہاں پر ختم ہو جاتی تو اچھا تھا۔ لیکن آگے چینی کا بحران پیدا ہونے والا ہے۔ کیونکہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ پہلے آٹا مہنگا پھر چینی مہنگی اب بھی تاریخ دہرانے کی تمام تر نشانیوں کے آثار مکمل واضح ہے۔ یعنی چینی 54 روپے سے 85 روپے تک پہنچ گئی شوگر مافیا کی پہلے ہی چاندی ہے۔

لیکن پھر بھی اس ساری صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر کمائی کرنے اور غریب عوام جن کے منہ سے پہلے ہی روٹی کالقمہ چھین لیا گیا ہے۔ ان کو مزیدمہنگائی کی آگ میں جھلسانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

جنرل پرویزمشرف کے دور میں بھی گندم اور چینی کا بحران آیا تو جہانگیرترین، زبیدہ جلال، چوہدری پرویز الہی، شیخ رشید عمر ایوب غلام سرور، شفقت محمود، طارق بشر چیمہ، فروغ نسیم، مخدوم خسرو بختاور، فواد چوہدری، خالد مقبول صدیقی، اعجاز شاہ، اعظم خان سواتی، میاں محمد سومرو، پیر انوارالحق قادری اورصاحبزادہ محبوب سلطان، جیسے لوگ جنرل پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ تھے اور ابھی یہی شرفاء موجودہ حکمراں جماعت کا حصہ ہیں۔

وزیر اعظم کو ان امور پر خصوصی توجہ دینا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف ملے ورنہ حکومت کی جانب بحران پر قابو پانے اورمعاشی استحکام کی جتنی باتیں کی گئی اور کی جارہی ہے۔ وہ سب عوام کو دھوکہ دینے اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حسنین فاروق کمیانہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *