در مداح فیصل واؤڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل واؤڈا کو سزاملنی ہی چاہیے تھی اس کا جرم معمولی نہیں۔ آج کے دور میں سب کے سامنے سچ بول دینا اور پھر ایک ٹی وی کے پروگرام میں سچ اس کھلے انداز میں بے دھڑک بیان کردینا۔ بلاشبہ ایسا جرم ہے جس کی معافی ممکن نہیں۔

منافقت کو بے نقاب کرنا ووٹ کو عزت دینے کے نعرے لگانے والے جب زبان سے بوٹ چاٹنا شروع کردیں پاک فوج کو خلائی مخلوق قرار دینے والے جناب نواز شریف اچانک فوجی بوٹ کو سلیوٹ کرنے اور کرانے پر تل جائیں تو اس بوٹ کی سر عام رونمائی سے اخلاقیات کا جنازہ تو نکلے گا. یہی کچھ بھائی قمر الزماں کائرہ کو بھی بھگتنا پڑا. پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے بھی مرقع اخلاق و تہذیب ہیں. حاجی اصغر کائرہ سے خاندانی مراسم کے سلسلے کبھی کا فراموش کرچکا ہوں لیکن ممریز خان صاحب کی شفقت اور عنایت نے قمرالزماں کائرہ سے تعلق کی نئی جہتیں روشناس کرادی ہیں۔ شریف خاندان کے ممدوح ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کالم نگار اور دانشور کا اصرار تھا کہ بوٹ کی ٹاک شو میں رونمائی سے تہذیب و تمدن کا جنازہ نکل گیا ہے وہ شاید قومی اثاثوں کی لوٹ مار اور گندی دولت کے غلیظ انبار سے کوئی جنازہ نہیں نکلے گا۔ اس کالم نگار کی فیصل واؤڈا سے ملاقات تو کجا سناشائی تک نہیں ہے لیکن اس نے سیاسی منافقت کا پردہ جس طرح تار تار کیا ہے اس کے کیا کہنے ویسے تو خود عمران خان بھی نام نہاد اخلاقی دباؤ برداشت نہیں کرسکے اور واؤڈا کے ٹاک شوز میں شمولیت پر پابندی عائد کردی۔

اب واؤڈا پر امریکی شہریت چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے ایک زمانہ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

زمانے کے انداز کیسے بدل گئے ہیں، اس ایک واقعہ نے ہمیں خوب سمجھایا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ زمانہ بالکل بھی نہیں بدلا۔ سچ کہنے پر پہلے بھی ایسے ہی سزا ملا کرتی تھی اور آج بھی چلن بدلا نہیں۔ صرف چہرے اور کردار ہی تو بدلے ہیں۔ پہلے بھی سچ بولنے پر لعن طعن ہوتی، برا بھلا کہاجاتا، سولی چڑھاتے، یا پھر زہر کا پیالا پینے کا عذاب جھیلنا پڑتا، آج جدید زمانہ ہے، آج زہر کے پیالے کی جگہ پیمرا کے حکم نامے نے لے لی ہے۔ آسان کام ہے، سچ کیوں بولا؟ اسے کم لیکن جس کی وجہ سے یہ سچ دنیا بھر تک پہنچا اس اینکر اور ٹی وی کو ضرور سزا دو۔

بوٹ سے شروع ہونے والی یہ کہانی اب سوشل میڈیا پر فیصل واؤڈا کے مختلف انداز میں اڑائے جانے والے تمسخر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ پیمرا نے پنجاب پولیس کے تھانیدار کی طرح اوپر کے دباؤ پر فوری کارروائی دکھائی۔ فوری دوصفحات کا ایک حکمنامہ صادر ہوا جس میں معصوم کاشف عباسی پر تمام نزلہ گرا دیاگیا۔ ’کاٹھے انگریزوں‘ نے پوری انگریزی انڈیل دی، ہر جملے اور لفظ کو اس انداز سے اینٹ کے ساتھ اینٹ کی طرح جوڑا کہ ملبہ اینکر پر گرے۔ واہ تمہارا انصاف۔ واہ۔ سچے لوگو۔ واہ۔

کہتے ہیں۔ سچ بڑا ہی کڑوا ہوتا ہے۔ جنہوں نے چکھا ہی نہیں انہیں کیا معلوم زہر کی طرح ہوتا ہے یا نیم کی طرح۔

بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں
جھوٹھ آکھاں تے کجھ بچدا اے، سچ آکھیاں بھامبڑ مچدا اے،
جی دوہاں گلاں توں جچدا اے، جچ جچ کے جہوا کہندی اے۔
منہ آئی بات نہ رہندی اے

جس پایا بھیت قلندر دا، راہ کھوجیا اپنے اندر دا،
اوہ واسی ہے سکھ مندر دا، جتھے کوئی نہ چڑھدی لیہندی اے۔
منہ آئی بات نہ رہندی اے

اے شاہ عقل توں آیا کر، سانوں ادب اداب سکھایا کر،
میں جھوٹھی نوں سمجھایا کر، جو مورکھ ماہنوں کہندی اے۔
منہ آئی بات نہ رہندی اے

یہ سارا قصہ اے آر وائے کے ٹی وی پروگرام سے شروع ہوا۔ آرمی ایکٹ کی منظوری پر یہ پروگرام تھا جس میں فیصل واؤڈا پی ٹی آئی، جاوید عباسی مسلم لیگ (ن) اور شائستہ کلام قمر زمان کائرہ پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے شریک تھے۔ فیصل واؤڈا جب بولتے ہیں۔ کفن پھاڑ کر بولتے ہیں۔ ان کا بھی کم پر گزارا نہیں۔ وہ اپنے ساتھ ایک بوٹ بھی لے آئے اور دوران ٹی وی وہ بوٹ دکھایا۔ ان کا اصل نشانہ دراصل مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی تھی۔ انہوں نے طعنہ کسا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے چوم کر، چاٹ کر اور لیٹ کر بوٹ کو عزت دی۔

جس دن سے فیصل واؤڈا نے یہ کھرا سچ بولا ہے، انہیں کوئی ’کھڑا‘ نہیں ہونے دے رہا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی بقول شخصے ان کی سرزنش کی ہے، لگائی بجھائی میں ماہر اینکر کے پروگرام میں فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ناراضگی کا اظہارکیا ہے۔ پھر خبر شائع ہوئی کہ فیصل واؤڈا کے پروگراموں میں شرکت پر پابندی عائد ہوگئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات زبان زدعام ہے، جس پر خود مسلم لیگ (ن) کے اندر ہر دوسرا لیڈر اپنی قیادت کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ خود بڑے بڑے لیگی لیڈروں نے ’میں میں‘ کے انداز میں حجتیں اور دلیلیں گھڑی ہیں۔ کوئی ایک بھانت تو کوئی دوسرے بھانت کی بولیاں ہانک رہا ہے۔ دراصل کوئی دلیل، کوئی منطق کوئی جواز ہے نہیں جو کہہ لیا جائے۔ سچ بولیں تو سچ فیصل واؤڈا نے سب کے منہ پر دے مارا ہے۔ ووٹ کی عزت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلیں۔ کئی دل جلے تو کہتے پھرتے ہیں۔ کہ ووٹ کی عزت ہر مرتبہ نیلام کرکے میاں صاحب باہر فرار ہوجاتے ہیں۔ پھر اسی عزت کی کمائی کرنے واپس آجاتے ہیں۔ ان کا جانا بھی ووٹ کی عزت کی نیلامی کا پھل اور واپسی بھی۔

شرم اگر کسی کو آنا ہوتی تو سب سے پہلے وہ ’شریف خاندان‘ تھا لیکن اس کا ثمر تو اسے ایون فیلڈ کے گھروں کی صورت مل گیا۔ وہاں رہنا پھر سے نصیب ہوگیا۔ کہاں جیل کی ’فائیوسٹار‘ قید، کہاں انتہائی مہنگی ترین گاڑیوں میں سبک رفتار آمد اور روانگی کی ہر دم بنتی وڈیو۔ دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے کے شاہانہ انداز۔ باآدب کھڑے دونوں اطراف قطار اندر قطار جی حضوری کرتے احباب۔ شرلاک ہولمز کے جاسوسی کردار کی مانند بڑے بھائی جان کے پیھچے شہبازشریف صاحب کی ڈرامائی ’اینٹری‘ اور پراسرار انداز میں ’آنیاں جانیاں‘ ، یہ چلتا پھرتا جاسوسی ناول ہے، جو عمران سیریز سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔

فیصل واؤڈا کے منہ کی کنڈی جلدی کھل جاتی ہے۔ دروازہ کھل جائے تو اندر جو نکلتا ہے، وہ باہر والوں کو برداشت نہیں ہوتا۔ فیصل واؤڈا کو لعن طعن کرنے میں مصروف فنکاروں کو توفیق نہ ہوئی کہ سچ بول نہیں سکتے تو کم ازکم سچ سن لینے کی جرات ہی دکھادیتے۔ اگر سچ سُن لینے کی جرات نہیں تو کم ازکم اس سچ کو توڑ مروڑ کر کسی اور جامے اور پاجامے میں فٹ کرنے کی حماقت کیوں کرتے رہے؟ ارے بھئی سچ پورا سچ ہوتا ہے، اس میں اپنی سہولت کا ’لُچ‘ نہیں ہوتا۔ سچ پورا نہ بولا جائے تو ہو بھی دراصل ’جھوٹ‘ ہی ہوتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ سچ نہ مسلم لیگ (ن) سُن پائی۔ یہی وجہ ہے کہ وفاشعار سینیٹر پرویز رشید نے بھی شاعری میں مرجانے کی دعا مانگ لی۔ حالانکہ ہم ان کی زندگی کی دعا مانگتے ہیں۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے جس عجلت میں میڈیا کے بدلحاظ رپورٹروں کی پھبتیاں سہتے آگے بڑھ گئے، یہ ان کے مزاج کے مطابق نہیں۔ کسی شاعر کی مترنم آوز میں سنائی جانے والی غزل کی مانند۔ وہ جب چلتے ہیں۔ تو ان کے قدم۔ خماربارہ بنکوی کے مدھر مصروں کی مانند ہوتے ہیں۔ لیکن اس روز ان کا انداز بتارہا تھا کہ سینیٹر پرویز رشید کو قیادت کی یہ سودے بازی برداشت نہیں ہوئی۔ شاید پہلی بار فیصل واؤڈا کی بات سینیٹر پرویز رشید کو دل سے بہت اچھی لگی ہوگی لیکن وہ اس کی داد دینا بھی چاہتے تو دے نہیں سکے گا۔

پہلی بار رانا ثناءاللہ کو بھی فیصل واؤڈا اچھا لگا ہوگا۔ اس نے وہ بات کس بے باکی سے سرمحفل کہہ دی جسے سب چھپا رہے تھے۔ رانا ثناءاللہ ذہین سیاسی کارکن ہے۔ وہ پینترا بدلنے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے خواجہ آصف کی طرح ”قائد کے حکم“ کی ’چائے میں لسی‘ نہیں ملائی بلکہ سیدھی بات کہی کہ ہمارے کارکن اس پر ناراض ہیں۔ ان سے بات کرنا ہوگی۔

سینیٹر رضاربانی ایک روز پہلے تک پریس کانفرنس کرکے عجیب عجیب قانونی گتھیاں بیان کررہے تھے۔ پیچیدہ آئینی طریقہ کار کی پیش گوئیاں دے رہے تھے۔ پی پی پی کی آئین اور قانون سے وابستگی کی تابناک تاریخ سمجھانے میں ’کھپ‘ رہے تھے لیکن پھر نہ ان کی آئینی وقانونی گھتیاں کہیں دکھائی دیں اور نہ ہی وہ خود ہی کہیں نظرآئے۔ ان سے تو فیصل واؤڈا اچھا نکلا کہ ٹی وی پروگرام میں جاکر اس نے بوٹ دکھادیا۔

دراصل یہ بوٹ نہیں تھا۔ یہ وہ آئینہ تھا جو فیصل واؤڈا نے پوری دنیا کے سامنے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کو دکھایا۔ اس آئینے میں اپنی صورت دیکھ کر برداشت نہیں ہوئی۔ فیصل واؤڈا نے بالکل وہی کام کردیا جو مرزا غالب نے اپنی طرح میں فرمایا تھا

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
غالب کو سچ بولنے کے اثرات کا چونکہ علم تھا، اس لئے انہوں نے اسی کلام میں شاعرانہ انداز میں نصیحت بھی کی ہے

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

موجودہ حالات میں یہ نصیحت غالب صاحب کی طرف سے فیصل واؤڈا کو ہے کہ ’سچ بولا ہے تو اس پر قائم بھی رہو واڈا‘ ورنہ تو جھوٹ بولنے والوں کو ہی ’صاحب کردار‘ ہونے کی نصیحت ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *