ٹریفک کنٹرول آج کی دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹر کاریں پچھلی صدی کے آغاز میں ہی چلنی شروع ہو گئی تھیں۔ اس سے قبل زیادہ تر آمدورفت گھوڑے اور دوسرے جانوروں کی مدد سے چلنے والی گاڑیوں سے ہوتی تھی۔ پھر انجن کی دریافت کے بعد پہلے ریل گاڑی اور پھر موٹر گاڑیاں وجود میں آئیں۔ دو پہیوں۔ تین پہیوں اور پھر چار پہیوں والی گاڑیاں ایجاد ہوئیں اور پٹرول اور ڈیزل سے چلنا شروع ہوئیں جس سے ذرائع آمدورفت میں تیزی آ گئی۔ مہینوں کا سفر دنوں میں اور دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ اب اس میں اتنی جدت ہو گئی ہے جس کا پچھلی صدی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پچھلے دو تین عشروں میں دنیا میں گاڑیوں کا ایک سیلاب آ گیا ہے۔ اب جانوروں کے ذریعے چلنے والی گاڑیاں متروک ہو چکی ہیں یا پھر چند ایک پسماندہ ممالک میں نظر آتی ہیں۔

ٹریفک بنیادی طور پر افراد اور گاڑیوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے۔ اس نقل وحمل کو وقت پر اور حفاظت سے چلانا ہی ٹریفک کنٹرول کہلاتا ہے۔ ٹریفک کنٹرول کا بنیادی مقصد افراد اور گاڑیوں کی نقل و حمل کو مستعدی اور حفاظت سے کنٹرول کرنا ہوتا ہے آمدورفت کے ذرائع میں اس ترقی اور تیزی کی وجہ سے اس کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی گئی۔ اس سسٹم میں سب سے اہم ذمہ داری قانون بنانا اور اس پر عمل درارمد کرانا تھا۔

۔ اس نظام میں بہت سے فریق ہیں لیکن مندرجہ زیل تین فریق کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ ۔ ۔ ٹریفک کے قوانین بنانے اور اس پر عمل درامد کروانے والے۔ افراد۔ پیدل چلنے اور گاڑیاں چلانے والے اور سڑکوں کا نظام بنانے والے۔ ان سب فریقوں میں اچھے باہمی ربط سے ہی یہ سسٹم اچھی طرح چل سکتا ہے۔ یہ سب زمینی ٹریفک کے لئے ہے۔ ہوابازی اور ریل گاڑیوں کی ٹریفک کا ایک علیحدہ نظام ہوتا ہے جو کہ زمینی ٹریفک سے بالکل مختلف ہے۔ یوں توزمینی ٹریفک میں سب کا کردار ہی بہت اہم ہوتا ہے لیکن قانون بنانے اور اس پر عمل کرانے والوں کا کردار زیادہ اہمیت کا عامل ہوتا ہے۔ ٹریفک کے نظام میں جب قانون سازی کی گئی تو اس میں یہ فیصلے کیے گئے کہ۔

﴾ سڑک پر گاڑیاں کیسے چلیں گی۔

﴾ سڑک پر گاڑی کی رفتار کیا ہو گی

﴾ گاڑیوں کے درمیان فاصلہ کتنا ہو گا۔

﴾ ٹریفک کے مختلف نشانات وضع کیے گئے تا کہ گاڑیاں چلانے والے سڑک کی صورت حال سے واقف ہوتے رہیں اور نشانات کی وجہ سے

سڑک پر آنے والے خطرات سے آگاہ ہوسکیں۔

﴾ سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے کیا حقوق ہیں۔ ان کے فرائض کیا ہیں۔ ان کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چا ہیے۔ سامنے سے آنے والی

گاڑیوں کی کیسے راستہ دینا ہے۔ ایسی ہی اور چھوٹی چھوٹی جزویات کو بھی قانون کی شکل دی گئی جس کا اطلاق پوری دنیا کے لئے تھا۔

ویسے بھی آخری صدیوں میں ساری نئی ایجادات مغرب والوں نے کی تھیں اس لئے ٹریفک کے سارے قوانین بھی مغرب کی دین ہیں۔ گاڑی چلانے والوں کے لئے بھی قانون سازی کی گئی۔ گا ڑی چلانے والوں کو کن باتوں کا پتہ ہونا چائیے۔ اوپر بیان کیے گئے نقات پر عبور رکھنے والا ہی گاڑی چلانے کا اہل ہو سکتا ہے۔ تمام قوانین کی پابندی کرنے والا ہی اچھا ڈرائیور بن سکتا ہے۔ اس سسٹم کا تیسرا نظام بھی ایک بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ گاڑیوں کے چلنے کے لئے ایک ہموارراستے کی ضرورت ہوتی ہے۔

پہیے کی ایجاد کے ساتھ ہی ہموار راستوں کا تصور بھی آیا اور ضرورت بھی محسوس ہوئی تو ہموار سڑکوں کا دور شروع ہوا۔ گاڑیوں کے لئے پکی سڑکیں بننے لگیں۔ جب ان پر گاڑیاں چلنا شروع ہوئیں تو پہلے پہل یک طرفہ سڑکیں بنیں پھر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حادثات کی وجہ سے دو رویہ سڑکیں بنیں اور اب موٹرویز کا دورہے۔ سڑکوں کا ایک مربوط نظام اب وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ جن ممالک نے جدید ٹریفک انجنیرنگ پر عملدرامد کیا ہے وہاں ٹریفک کی صورت حال کافی بہتر ہے۔

ٹریفک بنیادی طور پر افراد اور گاڑیوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے اور اس نقل وحمل کو جلدی اور حفاظت سے چلانا ہی ٹریفک کنٹرول کہلاتا ہے۔ ٹریفک کنٹرول کا بنیاوی مقصد افراد۔ چیزوں اور گاڑیوں کی نقل وحمل کو مستعدی اور حفاظت سے کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ ٹریفک پر اب تک بہت زیادہ ریسرچ کا کام ہوا ہے۔ چونکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک سے دنیا میں برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جن کو کنٹرول کرنے کے لئے مغربی دنیا میں اب تک بہت سارے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ اقدامات اٹھانے کی ایک بہت ہی اہم وجہ بڑے بڑے شہروں میں گاڑیوں کے دھویں سے پھیلتی ہوئی آلودگی اور اس کے انسانی صحت پر برے اور مضمر اثرات کو روکنا ہے۔ گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ساری دنیا میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تو اس سے نبٹنے کے لئے کافی بندوبست کیا اور اس پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان کی صورت حال۔

ٹریفک کے حوالے سے پاکستان میں صورت حال کافی تشویشنا ک ہے۔ اس وقت سارے ہی چھوٹے بڑے شہر وں میں ٹریفک جام روزمرہ کا ایک معمول بن گیا ہے۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے ٹریفک کا مسئلہ ایک عفریت بن چکا ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک کی وجہ سے حادثات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ہماری سڑکیں دن بدن خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔ ٹریفک کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ بڑے شہروں خاص کر کراچی۔ لاہور۔ حیدرآباد۔ راولپنڈی۔ کوئٹہ۔

پشاور اور گوجرانوالہ میں تو صورت حال بہت خراب ہے۔ رش کے اوقات میں دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی بڑتی تعداد عام پیدل چلنے والوں اور ڈیوٹی پر معمور ٹریفک پولیس کے لئے مضر صحت ثابت ہو رہی ہیں۔ دوسری گاڑیوں کی بھی زیادہ تعداد لوگوں میں آنکھوں اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ ان شہروں میں اس سے بھی بڑا مسئلہ ٹریفک جام کا ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد سفر کے دوران ٹریفک جام میں گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں۔ جس سے وقت کے زیاں کے ساتھ ساتھ فیول زیادہ خرچ ہونے کے علاوہ فضا میں گاڑیوں کے دھوئیں سے فضا آلودہ ہوتی ہے۔

شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پارکنگ کا بھی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ صبح سکول اور دفتری اوقات اور سہ پہر چھٹی کے اوقات میں سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ٹریفک جام کا باعث بنتے ہیں۔ ون وے کی خلاف ورزی۔ ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی۔ دوسروں کو راستہ نہ دینا۔ ایمبولینس کو راستہ نہ دینا۔ غلط پارکنگ۔ غلط اورٹیکنگ اور ٹریفک قوانین سے نابلدی ان مسائل کو جنم دیتی ہے۔

پاکستان کے ہر شہر میں ٹریفک جام اور پارکنگ کا مسئلہ بہت زیادہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے اور اگر اب بھی اس پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے ایک دو سالوں میں صورت حال بہت ہی خراب ہو جائے گی۔ اس پر قابو پانے کے لئے مضمون کے شروع میں بیان کیے گئے سسٹم کے تینوں شعبوں پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹریفک کے قوانین پر بلاتفریق عمل کرایا جانا چائیے اور عمل نہ کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ ڈرائیونگ لائسنس پالیسی پر سختی سے عمل کرایا جائے۔

گاڑیوں کی فٹنس کا ایک مربوط نظام بنایا جائے تا کہ ناکارہ اور خراب گاڑیاں سڑک پر نہ آسکیں۔ پبلک سروس کی گاڑیوں پر خصوصی توجہ دیں تا کہ حادثوں کی روک تھام ہو سکے۔ تیز رفتاری کی روک تھام کی جائے۔ سڑکوں کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ شہروں میں پارکنگ کے لئے پارکنگ پلازے بنائے جائیں۔ عوام کے لئے صاف ستھری اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ چلائی جائے تا کہ لوگ اپنی گاڑیاں کم سے کم سڑکوں پر لائیں۔ اگر جلدی ہم نے ان مسائل کا کوئی حل نہ ڈھونڈا تو وہ وقت دور نہیں جب ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کا زیادہ وقت سڑکوں پر ہی بسر ہوا کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *