صحت مند گردے۔ صحت مند زندگی

گردوں کا عالمی دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر گردوں کی انسانی جسم میں اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز 2006 میں ہوا تھا۔ یہ دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا میں سینکڑوں مقامات پر گردوں کے متعلق سمینار منعقد ہوتے ہیں۔ جن میں گردوں کی بیماریوں کے متعلق آگاہی۔ بیماری سے خطرات اور گردے کے امراض کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ انسانیت کی بھلائی اور گردوں کو صحت مند رکھنے کی اہمیت پر یہ اہم دن منایا جاتا ہے۔

Read more

جدید قحبہ خانے اور ایک معصوم لڑکی

جناب شورش کاشمیری کی کتاب ”اس بازار میں“ اوائلِ جوانی میں پڑھی تھی۔ اس کے بعد ایک انگریز مصنفہ کی لاہور کے بارے میں ایک کتاب نظر سے گزری جو کہ انہوں نے لاہور کے ریڈلائٹ ایریا میں رہ کر باقاعدہ تحقیقات کے بعد لکھی۔ کافی عرصہ سے پہلے اس موضوع پر لکھنے کا شوق ہوا کہ کیوں نہ اس دشت کے بارے میں کھوج لگایا جائے۔ تقریباً دس سال پہلے اس کے لئے باقاعدہ ہوم ورک شروع کیا۔ اس دوران اندرون ملک بڑے شہروں کا سفر اور مختلف زریعوں سے مواد اکٹھا کرنا جس کے لئے بہت سارا وقت اور بہت زیادہ پیسوں کا بھی زیاں ہوا۔پھر کمپنی کے تعاون سے بہت سے بیرونی ممالک جن میں یورپ۔ مڈل ایسٹ اور فار ایسٹ کے ملکوں مین جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران تقریباً سو سے زیادہ انٹرویوز اور مختلف ملکوں کے مختلف مقامات کے حالات جاننے کا موقع حاصل ہوا۔ بہت زیادہ نوٹس اور تصاویر اکٹھی ہوئیں۔ جس کو کتابی صورت میں مرتب کرنے کا کام جاری ہے جن میں سے چند اقتباسات پیش ہیں۔

Read more

خوشونت سنگھ کے زندگی کے بارے میں بارہ اصول

خوشونت سنگھ کا شمار ایک بہترین مصنف۔ کالم نگار۔ ایڈیٹر اور سیاستدان کے طور پر ہوتا ہے۔ ہندوستان ٹائمز۔ نیشنل ہیرالڈ اور السٹریڑڈ ویکیلی آف انڈیا کے ایڈیٹر رہے۔ بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں جن میں I shall not have to Nigatingal، Train to Pakistan اور دہلی کلاسک میں شمار ہوتے ہیں۔ 95 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا آخری ناول 2010 The Sunset clubمیں دنیا کی مشہور پبلشنگ کمپنی پنگیوین بکس نے شائع کیا۔ان کی اپنی خود نوشت سوانح عمری 2002 Truth، Love and little Maliceمیں پنگیوین بکس نے ہی شائع کی تھی۔ 1980 سے لے کر 1986 تک ممبر پارلیمنٹ رہے۔ انڈیا کے سارے ہی بڑے ایوارڈ سے ان کو نوازا گیا۔ ان کو 1974 میں بھارت کے بڑے ایوارڈ۔ ”پدما بھوشن“ دیا گیا۔ جو انہوں نے ہندوستان کا سکھوں کے خلاف ایکشن میں 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر فوج کے حملہ پر حکومت کو واپس کر دیا۔ 2014 میں ان کا 99 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اپنی آخری کتاب ”میری زندگی کا سبق“ ”The lessons of my life“ میں انہوں نے اپنی خوشحال اور لمبی زندگی گزارنے کے بارہ اصول لکھے ہیں۔ جن پر عمل کر کے ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق آدمی کے جینز اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Read more

مغرب میں بیوی سے محبت کی مثالیں کم تو نہیں

کہتے ہیں بیوی سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہو سکتا۔ تجربے کی بات ہے۔ کہ زمانہ افلاس میں دوست احباب اور خونی رشتے تک ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن بیوی نکاح کے وقت بولے گئے تین الفاظ (قبول ہے ) کا مان رکھتی ہے۔ ساری عمر اس عہد کو نبھاتی ہے اور ہر حال میں مرتے دم تک مرد کا ساتھ دیتی ہے۔

اسی طرح شوہر کی حیثیت ایک سائباں کی سی ہوتی ہے۔ جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تخفظ کا احساس دیتا ہے۔ کبھی قسمت کی سختی کو اپنی تدبیر سے آسان کرتا ہے۔ اور کبھی زمانے کی بے رخی بے امتنائی پر اپنی بے لوث محبت کا یقین دلاتا ہے۔

مشرقی عورت اور مرد تو اس رشتے کو نبھاتے ہی ہیں۔ مغرب والوں کی نظر میں بھی یہ ایک مقدس رشتہ ہے۔ جس کو وہ آخری دم تک نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے سینئر کو لیگ اور ممتاز آرٹسٹ اور ادبی شخصیت ذوالقرنین جمیل عالی عرف راجو جمیل نے اپنے لندن وزٹ کا ایک واقعہ بیان کیا انہی کی زبانی پیش خدمت ہے۔

Read more

بے جی اب میں روتا نہیں ہوں

پتر اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ اس لیے علیحدہ سویا کرو بے جی نے بستر بچھاتے ہوئے مجھے کہا۔ نہیں ابھی تو میں بہت چھوٹا ہوں اور گھر میں بھی سب سے چھوٹا ہوں اس لیے میں آپ کے ساتھ ہی سوؤں گا۔ میں نے ضد کر کے کہا۔ میں جو ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور ابھی تک بے جی کے پاس سوتا تھا۔ اور روز ان سے کہانی سنتا تھا۔ اس لیے جب انہوں نے علیحدہ سونے کی بات کی تو میں رونے لگا۔ اور میرا رونا بی جی کیسے برداشت کر سکتی تھیں انہوں نے مجھے گلے لگایا اور کہا پتر ٹھیک ہے۔ رونا بند کرو جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔

بے جی ہماری بڑی والدہ تھیں۔ ان کی شادی اوائل عمری میں ہمارے والد صاحب سے ہو گئی۔ بھلے وقت تھے۔ غربت کا زمانہ تھا۔ کشمیر میں ڈوگرہ حکومت تھی۔ اور مسلمان کی حالت وگرگوں تھی۔ محنت مزدوری سے گزارہ ہو رہا تھا۔ شادی کے پندرہ سال تک جب اولاد نہیں ہوئی تو سب والد صاحب کو دوسری شادی کا کہنا شروع کر دیا۔ لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اسی طرح جب تیس سال گزر گئے تو بے جی نے خود ہی ان کے لئے رشتہ دیکھنا شروع کر دیا اور ضد کر کے خاندان میں ہی ابا جان کی دوسری شادی کرا دی۔ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا میں دوسری بیوی سے پیدا ہوئے۔ ہماری حقیقی امی کا خیال انہوں نے بہت زیادہ رکھا۔ اور ہم سب کو تو پالا ہی انہوں نے تھا۔

Read more

امراض گردہ: علامات، پیچیدگیاں اور حفاظتی تدابیر

گردے انسانی جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت اہم کام کرتے ہیں۔ خون کو صاف رکھنا ایک اہم کام ہے۔ یہ انسانی جسم میں بہت سے سیال اور کیمیائی سیال مادوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے اور خون میں سرخ خلیے بننے میں مدد دیتے ہیں۔ صحت مند گردے صحت…

Read more

میری بیٹی مجھے بہت پیاری ہے

پاپا جان کیا آپ دو دن کی چھٹی لے سکتے ہیں۔ میری بیٹی نے سوال کیا۔ کیوں کیا ضروری کام ہے۔ میں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پاپا جان میری ایک کلاس فیلو اور دوست ڈاکٹر کی شادی ہے اور میں چونکہ اتفاقاً پاکستان آئی ہوں اس لیے اس کی شادی میں شرکت…

Read more

جناب محمود ہاشمی، کشمیر اداس ہے

محمود ہاشمی اردو ادب میں ایک بڑا نام، تنقید نگار، مضمون نویس، مضف، ایڈیٹر، ڈرامہ نگار اور ایک بہترین استاد کی تمام خوبیاں آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپ کا تعلق میرپورآزاد کشمیر کے علاقہ ڈڈیال کے ایک گاؤں پوٹھہ بنگش سے تھا۔ آپ اگست 1920 ء…

Read more

مرد پورن کیوں دیکھتے ہیں؟

ایکسپریس ٹربیون کی 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان پہلے پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔ جہاں پر فحش مواد انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ دیکھا اور سرچ کیا جاتا ہے اور لوگ بلیو فلمیں دیکھنے کے بہت زیادہ شوقین ہیں۔ باقی تمام ممالک میں بھی سرفہرست مسلم ممالک ہیں…

Read more

یادرفتگان پیر مقبول احمد شاہ

آپ کا تعلق کھڑی شریف کے گاؤں بنی میں آباد ایک دیندار اور علمی گھرانے سے تھا۔ آپ کے آباؤاجداد تین صدی قبل بغداد سے ہجرت کر کے تبلیغ کی غرض سے ہندوستان تشریف لائے اور بشندور ضلع جہلم کے مقام پر قیام کیا۔ وہاں سے ان کے ایک فرزند جناب دین محمد شاہد صاحب…

Read more