میری عمر پانچ یا چھ سال کی تھی، ہم میرپور شہر سے دور ایک دیہات میں رہتے تھے۔ اس وقت ہمارے گھر میں اردو کا ایک اخبار ”روزنامہ کوہستان“ ڈاک کے ذریعے آتا تھا۔ بڑی بہنوں، جنہوں نے گاؤں میں لڑکیوں کا سکول نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں کے سکول میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی، کے لیے اردو رسالے ”حور“ اور ”زیب النساء“ بھی ڈاک سے آتے تھے۔ گھر میں دو الماریوں میں والد محترم کی کتابیں پڑی ہوتی تھیں۔ بہنوں کو رسالے اور ابا جی کو کتابیں اور اخبار پڑھتے دیکھ کر میں نے بھی کتابوں کی ورق گردانی شروع کر دی تھی۔
70 کی دہائی کے شروع میں جب میں نے ابا جی سے اپنے لیے کوئی رسالہ لانے کی فرمائش کی تو انھوں نے مجھے سیارہ ڈائجسٹ لا کر دیا۔ تب غالباً میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ گھر میں کتابوں کی موجودگی اور پڑھنے کے رجحان نے مجھ میں بھی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کر دیا اور پھر گریجویشن مکمل ہونے تک میں نے سیکڑوں رومانی، جاسوسی اور تاریخی ناولوں کے علاوہ دوسری بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ایک وقت میں انگریزی ادب پڑھنے کا شوق چرایا تو تقریباً سب ہی مشہور مصنفین کے ناول پڑھ ڈالے۔ اب بھی میری ذاتی لائبریری میں دو ہزار سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔ زندگی میں کپڑوں کے بعد سب سے زیادہ پیسے میں نے کتابوں کی خریداری، فلمیں دیکھنے اور میوزک اکٹھا کرنے میں لگائے ہیں۔
Read more