میاں محمد بخش: ایک حقیقت شناس شاعر

میاں محمد بخش رحمتہ کی تصنیف ً سیف الملوک ً کو پنجابی ادب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ آپ کی دوسری تصانیف کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے لیکن جو شہرت سیف الملوک کے حصے میں آئی وہ دوسری کتب کے حصے میں نہیں آئی۔ آپ ایک بلند پایہ اور صاحب طرز پنجابی شاعر…

Read more

وزیروں کی بے احتیاطیاں: طاقت، سازشوں اور بدعنوانیوں کی اندرونی کہانیاں۔ دوسرا حصہ

ایک سرمئی ہفتہ کے دن حکومتی سرگرمیوں سے دور دس سال سے حکمران کنزرویٹو جماعت کا وزیر دفاع ”جون پروفیومو“ اپنی ایکٹریس بیوی ”ویلری ہوبسن“ کے ساتھ لندن سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع بکنگھم شائر کاؤنٹی کے قصبہ کلائیویڈن میں ہفتہ وار چھٹی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کلائیویڈن برطانیہ کے ایک بڑے نواب خاندان ”آسٹر“ کی خاندانی سیٹ تھی۔ پروفیومو کا دوست لارڈ آسٹر اکثر یہاں بہت بڑی بڑی دعوتیں کرتا رہتا تھا۔ امراء۔ روساء۔ شہزادیاں۔ گورنمنٹ کے بڑے بڑے افسر ان دعوتوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔

Read more

وزیروں کی بے احتیاطیاں: طاقت، سازشوں اور بدعنوانیوں کی اندرونی کہانیاں

آج کل سوشل میڈیہ پر پاکستان کی ٹک ٹاک گرلز حریم شاہ اور صندل خٹک کے بہت چرچے ہیں۔ یوٹیوب پر ان دونوں کی موجودہ حکومتی وزرا کے ساتھ متنازعہ ویڈیوز اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔ جن میں وہ ان حساس ترین مقامات پر دندناتی پھرتی نظر آتی ہیں جہاں عام آدمی جانے کا تصور…

Read more

ٹریفک کنٹرول آج کی دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ

موٹر کاریں پچھلی صدی کے آغاز میں ہی چلنی شروع ہو گئی تھیں۔ اس سے قبل زیادہ تر آمدورفت گھوڑے اور دوسرے جانوروں کی مدد سے چلنے والی گاڑیوں سے ہوتی تھی۔ پھر انجن کی دریافت کے بعد پہلے ریل گاڑی اور پھر موٹر گاڑیاں وجود میں آئیں۔ دو پہیوں۔ تین پہیوں اور پھر چار…

Read more

برطانوی تعلیمی نظام کی چند باتیں

پاپا جان۔ صبح نور کے سکول میں ایک ورکشاپ ہے۔ آپ نو بجے پلیز اٹینڈ کر لیں گے۔ میں نے ایک ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔ بیٹے نے شام کھانے کی میز پر کہا۔ میں چلا جاؤں گاآپ فکر نہیں کرو، میں نے جواب دیا۔ صبح وقت مقررہ سے چند منٹ پہلے میں تیار ہو…

Read more

میرے میرپور شہر میں زلزلے کی قدرتی آفت

بچپن میں ہم بڑے بوڑھوں سے سنتے تھے کہ ہماری زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ تھک کر زمین کو اپنے دوسرے سینگ پر اٹھاتا ہے تو زلزلہ آتا ہے لیکن جب بڑے ہو کر سائنس پڑھی تو زلزلوں کا راز آشکارہ ہوا۔ جس کے مطابق زمیں…

Read more

ہالی ووڈ سٹار راک ہڈسن کی زندگی کے چند خفیہ پہلو

راک ہڈسن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہالی ووڈ کا ایک کامیاب ترین فلم سٹار تھا۔ وہ ایک وجہیہ، خوبصورت، ہینڈسم اور لاکھوں دلوں میں بسنے والا فلمی ہیرو تھا۔ پچاس کی دہائی میں اس کی فلموں نے ہالی ووڈ اور امریکن باکس آفس پر دھوم مچا رکھی تھی۔ چار دفعہ اس نے گولڈن…

Read more

جان سے عزیز بیٹیوں کے دکھ

بیٹی ہوئی ہے۔ ہسپتال سے فون پر اطلاع ملی۔ میں نے فون بند کیا اور آفس کے میسنجر کو بلایا اور اور اسے پیسے دے کر دو ڈبے مٹھائی لانے کو کہا۔ ایک ڈبہ اپنے آفس میں تقسیم کی اور ایک ڈبہ ہسپتال کے لئے رکھ لی۔ مٹھائی کھانے پر کولیگ نے پو چھا ”کیاخوشی ہے؟“ میں نے کہا کہ ”بیٹی پیداہوئی ہے۔“ ”پہلی پہلی بیٹی ہے؟“ ”نہیں دوسری ہے“ میں نے جواب دیا تو اس نے مجھے حیرت سے دیکھا۔ مٹھائی لے کر میں ہسپتال پہنچا۔ کمرے میں دو تین رشتے دار خواتین موجود تھیں اور کمرے کا ماحول کچھ سنجیدہ سالگ رہا تھا۔

Read more

پاکستانی ٹیلنٹ کیوں بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے؟

بھٹو صاحب ایک وژنری لیڈر تھے۔ 1976 میں ان کی ہدایت پر لیبر منسٹری کے زیر اہتمام ایک ڈیپارٹمنٹ ”نیشنل ٹیلنٹ پول“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی مقصد پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی مرد و خواتین کا ڈیٹا اکٹھا کرنا تھا۔ اس لسٹ میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنسدان اور اقتصادی ماہر شامل تھے۔ راقم کو ایک سال اس ڈیپارٹمنٹ کے ابتدائی دنوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔

اس وقت کے اس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کی بریفنگ کے مطابق بھٹو صاحب کا وژن یہ تھا کہ بیرون ملک اچھی یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دیگر ریسرچ کا کام کرنے والے ڈاکٹروں، پروفیسروں اور سائنسدانوں اور اقتصادی ماہرین کو پاکستان بلایا جائے تا کہ وہ یہاں کی یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور ریسرچ لیبارٹریوں کو یورپ امریکہ اور برطانیہ کے اداروں کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے میں مدد کریں۔

Read more

سیاسی دباؤ۔ انتظامی اور پولیس افسران کی تعیناتی اور میرٹ

1991 ء میں ٹریفک پو لیس پنجاب نے گاڑیوں کے کالے شیشوں کے خلاف ایک مہم چلا رکھی تھی۔ پنجاب اسمبلی چیمبر کے سامنے ایک اے ایس آئی نے مسلم لیگ کے دو ایم پی ایز کی گاڑیوں کو روک کر ان پر سے کالے شیشے اتارے، کیونکہ وہ غیر قانونی تھے۔ انہوں نے ایک ادنی ٰ پولیس اہلکار کے ہاتھوں اس عمل کو اپنی بے عزتی تصور کیا۔ اسمبلی کا سیشن جاری تھا۔ دونوں ایم پی اے جذبات اور غصے کی حالت میں ایوان میں داخل ہوئے اور اپنی توہین پر بلند آواز میں احتجاج کیا۔

Read more