بنت حوا کو جنسی درندوں سے کیسے بچایاجائے؟

ایک سال قبل قرآن مجید پڑھنے کے لئے جانے والی دس سالہ زینب کو محلہ کے ہی ایک لڑکے نے اغوا کیا۔ جس بے جاہ میں رکھا۔ اس کو اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کر کے لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی۔ پولیس نے اپنی روایتی بے حسی اور بے پروائی…

Read more

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور اور لندن کی ایک سوسائٹی گرل

انگلستان میں ستر کی دہائی میں آیا تھا۔ جہاں میرے والد کافی عرصہ پہلے کام کے لئے آئے تھے۔ یہاں آتے ہی مجھے سکول میں داخل کرا دیا گیا جہاں سے میں نے GCSE جو کہ میٹرک کے برابر ہوتا ہے کیا۔ اس وقت آگے تعلیم حاصل کرنے کا ہماری کمیونٹی میں کچھ زیادہ شعور…

Read more

گورنمنٹ کالج میرپور کے سابق طلبا کی تنظیم اولڈ سروشنیز یونین

میرپور آزاد کشمیر کا ایک قدیمی اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت شہر ہے جسے مِنی لندن بھی کہا جاتا ہے۔ گو کہ یہ شہر آج کل زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ شہر 1640 عیسوی میں ایک حکمران میراں شاہ غازی نے آباد کیا۔ قدیمی شہر 1960 کی دہائی میں…

Read more

حضرت میاں محمد بخش: ایک آفاقی شاعر

میاں محمد بخش کی نگری کا باسی ہو نے کی و جہ سے ہم پر ایک قرض ہے کہ ان کے کلام پر تحقیق کی جائے۔ حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو…

Read more

حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی ایک سخن شناس آفاقی شاعر

میاں محمد بخش کی نگری کا با سی ہو نے کی و جہ سے ہم پر ایک قرض ہے کہ ان کے کلام پر تحقیق کی جا ہے ان پر مقالے لکھے جاہیں۔ راقم نے کچھ کوشش کی ہے جس کی پہلی قسط پیش خدمت ہے پسند آنے پر اپنی آرا سے آگاہ ضرور کریں۔

حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو مجازی روپ میں پیش کیا ہے۔ آپ کا اصل موضوع حسن وعشق اور پیار محبت ہے۔ خدا کی ذات اور صفحات کو پہچاننا۔ کارخانہ قدرت میں تدبر اور فکر کرنا۔ اپنے آپ کو پہچاننا اور خالق کائنات کی معرفت میں لگے رہنا اور طلب وجستجو سے کبھی نہ اْکتانا آپ کی شاعری کے موضوہات ہیں۔ لیکن آپ کا بنیادی نظریہ طلب۔ لوڑ اور جستجو ہے۔

Read more

صحت مند گردے۔ صحت مند زندگی

گردوں کا عالمی دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر گردوں کی انسانی جسم میں اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز 2006 میں ہوا تھا۔ یہ دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا میں سینکڑوں مقامات پر گردوں کے متعلق سمینار منعقد ہوتے ہیں۔ جن میں گردوں کی بیماریوں کے متعلق آگاہی۔ بیماری سے خطرات اور گردے کے امراض کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ انسانیت کی بھلائی اور گردوں کو صحت مند رکھنے کی اہمیت پر یہ اہم دن منایا جاتا ہے۔

Read more

جدید قحبہ خانے اور ایک معصوم لڑکی

جناب شورش کاشمیری کی کتاب ”اس بازار میں“ اوائلِ جوانی میں پڑھی تھی۔ اس کے بعد ایک انگریز مصنفہ کی لاہور کے بارے میں ایک کتاب نظر سے گزری جو کہ انہوں نے لاہور کے ریڈلائٹ ایریا میں رہ کر باقاعدہ تحقیقات کے بعد لکھی۔ کافی عرصہ سے پہلے اس موضوع پر لکھنے کا شوق ہوا کہ کیوں نہ اس دشت کے بارے میں کھوج لگایا جائے۔ تقریباً دس سال پہلے اس کے لئے باقاعدہ ہوم ورک شروع کیا۔ اس دوران اندرون ملک بڑے شہروں کا سفر اور مختلف زریعوں سے مواد اکٹھا کرنا جس کے لئے بہت سارا وقت اور بہت زیادہ پیسوں کا بھی زیاں ہوا۔پھر کمپنی کے تعاون سے بہت سے بیرونی ممالک جن میں یورپ۔ مڈل ایسٹ اور فار ایسٹ کے ملکوں مین جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران تقریباً سو سے زیادہ انٹرویوز اور مختلف ملکوں کے مختلف مقامات کے حالات جاننے کا موقع حاصل ہوا۔ بہت زیادہ نوٹس اور تصاویر اکٹھی ہوئیں۔ جس کو کتابی صورت میں مرتب کرنے کا کام جاری ہے جن میں سے چند اقتباسات پیش ہیں۔

Read more

خوشونت سنگھ کے زندگی کے بارے میں بارہ اصول

خوشونت سنگھ کا شمار ایک بہترین مصنف۔ کالم نگار۔ ایڈیٹر اور سیاستدان کے طور پر ہوتا ہے۔ ہندوستان ٹائمز۔ نیشنل ہیرالڈ اور السٹریڑڈ ویکیلی آف انڈیا کے ایڈیٹر رہے۔ بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں جن میں I shall not have to Nigatingal، Train to Pakistan اور دہلی کلاسک میں شمار ہوتے ہیں۔ 95 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا آخری ناول 2010 The Sunset clubمیں دنیا کی مشہور پبلشنگ کمپنی پنگیوین بکس نے شائع کیا۔ان کی اپنی خود نوشت سوانح عمری 2002 Truth، Love and little Maliceمیں پنگیوین بکس نے ہی شائع کی تھی۔ 1980 سے لے کر 1986 تک ممبر پارلیمنٹ رہے۔ انڈیا کے سارے ہی بڑے ایوارڈ سے ان کو نوازا گیا۔ ان کو 1974 میں بھارت کے بڑے ایوارڈ۔ ”پدما بھوشن“ دیا گیا۔ جو انہوں نے ہندوستان کا سکھوں کے خلاف ایکشن میں 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر فوج کے حملہ پر حکومت کو واپس کر دیا۔ 2014 میں ان کا 99 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اپنی آخری کتاب ”میری زندگی کا سبق“ ”The lessons of my life“ میں انہوں نے اپنی خوشحال اور لمبی زندگی گزارنے کے بارہ اصول لکھے ہیں۔ جن پر عمل کر کے ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق آدمی کے جینز اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Read more

مغرب میں بیوی سے محبت کی مثالیں کم تو نہیں

کہتے ہیں بیوی سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہو سکتا۔ تجربے کی بات ہے۔ کہ زمانہ افلاس میں دوست احباب اور خونی رشتے تک ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن بیوی نکاح کے وقت بولے گئے تین الفاظ (قبول ہے ) کا مان رکھتی ہے۔ ساری عمر اس عہد کو نبھاتی ہے اور ہر حال میں مرتے دم تک مرد کا ساتھ دیتی ہے۔

اسی طرح شوہر کی حیثیت ایک سائباں کی سی ہوتی ہے۔ جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تخفظ کا احساس دیتا ہے۔ کبھی قسمت کی سختی کو اپنی تدبیر سے آسان کرتا ہے۔ اور کبھی زمانے کی بے رخی بے امتنائی پر اپنی بے لوث محبت کا یقین دلاتا ہے۔

مشرقی عورت اور مرد تو اس رشتے کو نبھاتے ہی ہیں۔ مغرب والوں کی نظر میں بھی یہ ایک مقدس رشتہ ہے۔ جس کو وہ آخری دم تک نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے سینئر کو لیگ اور ممتاز آرٹسٹ اور ادبی شخصیت ذوالقرنین جمیل عالی عرف راجو جمیل نے اپنے لندن وزٹ کا ایک واقعہ بیان کیا انہی کی زبانی پیش خدمت ہے۔

Read more

بے جی اب میں روتا نہیں ہوں

پتر اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ اس لیے علیحدہ سویا کرو بے جی نے بستر بچھاتے ہوئے مجھے کہا۔ نہیں ابھی تو میں بہت چھوٹا ہوں اور گھر میں بھی سب سے چھوٹا ہوں اس لیے میں آپ کے ساتھ ہی سوؤں گا۔ میں نے ضد کر کے کہا۔ میں جو ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور ابھی تک بے جی کے پاس سوتا تھا۔ اور روز ان سے کہانی سنتا تھا۔ اس لیے جب انہوں نے علیحدہ سونے کی بات کی تو میں رونے لگا۔ اور میرا رونا بی جی کیسے برداشت کر سکتی تھیں انہوں نے مجھے گلے لگایا اور کہا پتر ٹھیک ہے۔ رونا بند کرو جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔

بے جی ہماری بڑی والدہ تھیں۔ ان کی شادی اوائل عمری میں ہمارے والد صاحب سے ہو گئی۔ بھلے وقت تھے۔ غربت کا زمانہ تھا۔ کشمیر میں ڈوگرہ حکومت تھی۔ اور مسلمان کی حالت وگرگوں تھی۔ محنت مزدوری سے گزارہ ہو رہا تھا۔ شادی کے پندرہ سال تک جب اولاد نہیں ہوئی تو سب والد صاحب کو دوسری شادی کا کہنا شروع کر دیا۔ لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اسی طرح جب تیس سال گزر گئے تو بے جی نے خود ہی ان کے لئے رشتہ دیکھنا شروع کر دیا اور ضد کر کے خاندان میں ہی ابا جان کی دوسری شادی کرا دی۔ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا میں دوسری بیوی سے پیدا ہوئے۔ ہماری حقیقی امی کا خیال انہوں نے بہت زیادہ رکھا۔ اور ہم سب کو تو پالا ہی انہوں نے تھا۔

Read more