کیا ”می ٹو“ تحریک مردوں کے ہاتھوں عورتوں کے جنسی استحصال کے خلاف ہی ہو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سن ہے 2006ء کا کہ جب پہلی بار نیویارک کے غریب علاقے کی رہنے والی، شہری حقوق کی علمبردار ترانہ برک نے سوشل میڈیا مائی اسپیس پہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف ”می ٹو“ (یعنی میں بھی) کی آواز بلند کی۔ وہ کم عمری میں بار بار جنسی استحصال کے تجربہ سے گزری تھی۔ اس کی تحریک کا مقصد اپنی خاموشی توڑ کے جنسی استحصال سے بچاؤ اور اس سے متعلق آگہی پیدا کرنا تھا۔ تاہم اکتوبر 2017ء میں اس کی آواز فلک شگاف نعرہ بن کر ساری دنیا میں گونجنے لگی اور پھر جانے کتنی ہی دیوقامت شخصیات کے بت پاش پاش ہوئے۔ زیادتی کرنے والے ان مشہور افراد کے چہروں سے نقاب اٹھنے کے بعد لوگوں نے بے یقینی سے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں اور یہ کہنے پہ مجبور کر دیا ”تو یہ بھی؟ “

اس سلسلے میں امریکہ کی ریاست مشی گن کی تاریخ کا بدترین جنسی استحصال قابل ذکر ہے اور یہ زیادہ نہیں محض ایک ڈیڑھ سال کی بات ہے کہ جب مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے جمناسٹک ٹیم کے ڈاکٹر لیری ناصر پہ 250 سے زیادہ لڑکیوں پہ جنسی زیادتی کا الزام لگا۔ یہ می ٹو تحریک کی طاقت ہی تو تھی کہ استحصال کا شکار لڑکیوں نے جن میں عالمی سطح پہ اولمپک مقابلوں کی چیمپئنز بھی شامل تھیں، رو رو کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بیان کیا۔

اس وقت وہ کم عمر بچیاں تھیں مگر اب وہ بڑی طاقتور عورتوں میں تبدیل ہوچکی تھیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے عدالت میں گواہی دینے والی کیلا اسٹیفین تھی جس کو تربیت کے دوران ڈاکٹر لیری ناصر نے محض چھ سال کی عمر سے جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس نے لیری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”چھوٹی بچیاں ہمیشہ چھوٹی نہیں رہتیں وہ بڑھ کر طاقتور عورت بن جاتی ہیں اور تمہاری دنیا مسمار کر سکتی ہیں“۔ آج  54 سالہ لیری عمر بھر کے لئے قید میں ہے۔

جنسی زیادتی کی ایک اور داستان امریکہ کی اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسپورٹس پروگرام کے ڈاکٹر رچرڈ اس ٹریوس کے ہاتھوں انجام پائی۔ جس نے 1970ء کی دہائی سے 1990ء کی دہائی تک کے عرصے میں 177 سے زیادہ کالج/ یونیورسٹی کے نوجوان لڑکوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ گو اس ڈاکٹرکی شکایت بھی ہوئی مگر صاحبان اقتدار نے اس کو محض افواہ کے زمرے میں ڈالا۔ 1979ء تک یہ زیادتی ”کھلا راز“ ہونے کے باوجود بے توجہی کا شکار رہی اور برسوں یہ نوجوان خاموشی سے جنسی زیادتیوں کا شکارہوتے رہے۔ تاہم 1996ء میں اس ڈاکٹر کو نوکری سے برخاست کیا گیا۔

یہ واقعات تو تھے دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ میں کمزور کی طاقتور کے ہاتھوں بے بسی کے۔ جہاں اگر بروقت ان طاقتور ڈاکٹرز کے خلاف عمل کیا جاتا تو کتنے ہی طلباء اس تشدد سے بچ سکتے تھے۔ اب ذرا اپنے ملک کی طرف آتے ہیں جہاں ہر کچھ دونوں بعد ہم ریپ اور قتل کے واقعات پڑھتے اور ان پر نوحہ خوانی کرتے ہیں۔ چونکہ ہم اب بھی قبائلی دور میں بس رہے ہیں لہٰذا ہمارے تصور میں جنسی استحصال محض مرد کے ہاتھوں عورت کا ہی قابل قبول ہے۔ روایتاً مرد کی افضلیت اور طاقت کے پیش نظر پاکستان کے قانون کے مطابق زنا کا عمل صرف مردکی عورت کے ساتھ جنسی زیادتی اور زبردستی کا نتیجہ ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ کسی قسم کی زیادتی طاقت کی بنیاد پہ کنٹرول کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جو عموماً جسمانی طور پہ مرد میں تصور کی جاتی ہے۔ لیکن حال میں ایک واقعہ نے پاکستانی میڈیا میں تہلکہ مچایا ہوا ہے اور وہ ہے مشہور ایوارڈ یافتہ فلم ساز اور نامور کہانی نویس جمشید رضا محمود عرف جامی کے ساتھ میڈیا کی بالحاظ طاقت و شہرت، دیو قامت شخصیت مشہور اخبار ڈان کے سی ای اوحمید ہارون کی مبینہ جنسی زیادتی کا۔

جامی نے اکتوبر 2019ء میں اپنے ٹویٹر پر بھر پور انداز میں ”می ٹو“ تحریک کا ساتھ دیتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے ساتھ، تیرہ سال قبل ہونے والے، ایک طاقتور شخص کے ہاتھوں، جنسی استحصال کے واقعہ پہ سے پردہ اٹھاتے اور ”می ٹو“ تحریک کی دفاع کرتے ہوئے لکھا ”میں کیوں می ٹو تحریک کا حامی ہوں؟ کیونکہ میں اب اچھی طرح واقف ہوں کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ کمرے کے اندر اور پھرعدالت کے باہر اور عدالت کے اندر۔ کیونکہ میں بھی بری طرح ریپ (جنسی استحصال) کا شکار ہوا ہوں۔

میڈیا کی دنیا کی ایک قدآور شخصیت کے ہاں۔ ہاں میں اس کے مقابلے میں لمبا ہوں مگر میں منجمد ہو گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ میرے ساتھ کس طر ح ہوا؟ ”انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ کس طرح اس مرد سے قریب تھا لہٰذا بجائے کسی ردعمل کے ان کا پورا وجود ساکت ہو گیا۔ وہ برسوں چپ تھے لیکن جب می ٹو تحریک پہ حملے ہونے لگے تو انہوں نے لکھا“ وہ اپنا تجربہ بیان کرنے کے لئے تیار ہیں ”۔ گو انہوں نے اپنے تجربے کے انکشاف کو خودکشی کے مترادف قرار دیا۔

گو حمید ہارون نے جامی کے اس الزام کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوے ان کو بدنام کرنے اور ان کے اخبار کی آواز کو خاموش کرانے کی سازش قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی ہے مگر ہم اس سے بھی واقف ہیں کہ ایک مردانہ تسلط کے سماج میں یہ آسان فیصلہ نہیں کہ جنسی استحصال کے راز سے پردہ اٹھایا جائے۔ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ اس کو اگر ہم ایک طرف رکھ دیں تو بھی بطورسوشل ورکر ہمیں سماجی سوچ اور رویے کے حوالے سے کچھ حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 10 سے 20 فی صد مرد جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن پھر کیاوجہ ہے کہ وہ مدد لینا تو درکناراس زیادتی کا اظہار کرتے ہوئے بھی کتراتے ہیں۔ شرمساری کے اس رویہ کے پیچھے کچھ مفروضات اور ان کے رد میں کچھ حقائق ہیں۔ جو ملاحظہ ہوں۔

ایک عام مفروضہ کے مطابق مرد پہ کبھی جنسی حملہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کے ردعمل میں جسمانی طور پہ طاقتور ہونے کی وجہ سے وہ پرتشدد ہوکر جوابی حملہ کرسکتے ہیں۔ حا لا نکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی زیادتی طاقت اور کنٹرول کا مظہر ہے۔ چاہے تشدد کاشکار جسمانی طور پہ طاقتور ہی کیوں نہ ہو۔ یاد رہے کہ طاقت صرف جسمانی ہی نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ رتبہ، عزت، شہرت، خوف، نشہ اور زبردستی کی وجہ سے بھی چاہتے ہوئے بھی منع کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً جامی نے لکھا ”ہاں میں اس سے لمبا ضرور تھا مگر میں منجمند ہوگیا۔ مجھے نہیں معلوم یہ میرے ساتھ کس طرح ہوا“۔

ایک اور مفروضہ ہے کہ عموماً ہم جنس پرستوں کا ہی جنسی استحصال ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ درست نہیں۔ دونوں ہی جنسی فوقیت کے افراد اس زیادتی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اور اکثر صورتوں میں عورت بھی مرد کا جنسی استحصال کر سکتی ہے۔

ایک اور مفروضہ ہے کہ عموماً اجنبی اس قسم کی زیادتی کرتے ہیں حالانکہ 70 فی صد حملہ آور پہلے سے جاننے والے ہوتے ہیں۔ جامی نے لکھا ہے کہ گو اس بات کو تیرہ سال ہو گئے ہیں اور میں اپنے آپ کو کوستا ہوں کہ میں نے اس کی آنکھیں کیوں نہ نکال دیں؟ لیکن میں اس شخص کے بہت قریب تھا۔ ”انہوں نے مزید لکھا “میں نے اپنے قریبی دوستوں کو بتایا تو کسی نے میری بات کا یقین ہی نہیں کیا۔ جیسے میں مذاق کر رہا ہوں”۔

جامی اور ہارون حمید کے اس کیس میں ایک نامور اور باعزت فلمساز کا زیادتی کے اس واقعہ کے اعتراف کا رسک لینا اورمعاشرتی رویہ کا سامنا کرنا سستی شہرت حاصل کرنے سے کہیں دشوار عمل ہے۔ اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا اعتراف کرنے والے مرد اپنی مردانگی اور جنسی فوقیت پہ لوگوں کے شکوک تمسخر، تضحیک کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ وہ درد ہوتا ہے کہ جس کی شدت وہ برداشت نہیں کر پاتے۔ اس استحصال کے نتائج ڈپریشن، پی ٹی ایس ڈی، انگزائٹی، کنفیوژن، سن ہوجانا، شرمساری ندامت اور خودکشی کے جذبے ہیں۔ گو عورتوں کی طرح انہیں حامل ہونے کا خدشہ تو نہیں ہوتا مگر اندرونی چوٹوں اور انفیکشن کے خدشات ہوتے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے والے مردوں کے درد کا مداوا کس طرح ہو؟

سب سے اہم بات تو ہی ہے کہ ان کی جرات مندی کی داد دیتے ہوئے ان پر اسی طرح یقین کریں جیسے آپ عورتوں کی بات پہ کرتے ہیں۔ ان کی بات سنیں بغیر کسی مداخلت کے۔ ان کو وقت دیں اور ان کے کسی ردعمل کو اپنی ذات پہ حملہ مت تصور کریں۔ ان کی کونسلنگ کروائیں اور اس کیفیت سے متعلق سروسز مہیا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *