ایسے ہی تو کوئی خلیل الرحمن قمر نہیں بنتا
یہ اس کے قلم کی طاقت ہے جو دیکھنے والوں کو اس کے سحر میں مبتلا اور اس کے لکھے گئے مکالموں کی مضبوط گرفت، جس پر وہ فخر کرتا ہے اس کے کرداروں کو مقبول بنادیتی ہے۔ اس کے خیالات نظریات سے لاکھ اختلاف سہی کہ یہ سب کا حق ہے لیکن محض تنقید کرنے اور الزام لگانے سے تو اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کو باآسانی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
موجودہ دور میں لکھاریوں کے دکھٹرے سن کر ان پر ترس آتا ہے کہ کس طرح ادیب پبلشرز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں کس طرح ڈرامے اور فلم لکھنے والوں کو پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے پیچھے خواریاں کرنی پڑتی ہیں، پھر بیشترمعیاری ڈرامے جو دیکھنے والوں میں اپنی مقبولیت کی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں لیکن ایسے کہ ان کا سارا کریڈٹ ان کے اداکار یا ڈائریکٹرز لے اڑتے ہیں اور لکھاری بیچارا اپنی محرومیوں کے ساتھ پردے کے پیچھے بلکے بہت پیچھے ہی ریہہ جاتا ہے۔
ایسے میں خلیل الرحمن قمر کی باحیثیت ڈرامہ نگار شہرت اور اس کا بزور قلم ڈائریکٹر اور سپر اسٹارز پر رعب اور دبدبہ دیکھ کر رائٹرز برادری کے لیے خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے۔ اگر خلیل الرحمن قمر میں کچھ خاص نہیں تو پھر کیسے وہ اپنی شرائط پر ڈرامے لکھتا ہے کیوں اس کے ڈراموں میں منتخب کیے جانے پرنامور اداکار اس کے احسان مند اور اس کے منہ سے اپنی اداکاری کی تعریف سن کر فخر محسوس کررہے ہوتے ہیں گو کہ اس مقام تک پہنچے کے پیچھے جدوجہد کی ایک طویل داستان بھی پوشیدہ ہے۔
اگر ایک لکھاری اپنے قلم پر نازاں ہے تو اس کا ثبوت عوام میں پسندیدگی کی سند لیے اس کے ایوارڈ اس کے ڈرامے ہی ہیں جن میں چاہے بوٹافرام ٹوبہ ٹیک سنگھ، ذرا یاد کر، پیارے افضل، صدقے تمھارے جس پر ایوارڈ دیتے ہوئے بقول نورالہدی شاہ صاحبہ، یوں ہی تو کوئی خلیل الرحمن قمر نہیں بنتا، اور جواب میں اس نے کہا کہ آسان نہیں ہوتا اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر چیتھڑوں سے کھلینا لیکن میں کھیلا۔
حالیہ دنوں میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بناتا میرے پاس تم ہو، جس میں اداکاری کا معیار بھی تو عروج پر نظر آیا ہے ڈائریکٹر نے ہمایوں سعیدجیسے تجربہ کارسپر اسٹار سے کچھ الگ کام کروایا لیکن بہت سے ناقدین اس ڈرامے اور خلیل الرحمن قمر کے باحیثیت ڈائریکٹر، پروڈیو سر، ایکٹر اور رائٹر پچھلے سارے اچھے خاصے کام کو پس پشت ڈال کر، ایک دو ٹکے کی لڑکی کے جملے کے تناظر میں ہی تکتے رہ گئے ہیں۔ کیا محض ایک دو ڈائیلاگز سے ہی ڈرامے اتنے ہٹ ہوجاتے ہیں کہ ان کی نمائش سینما گھروں تک پہنچ جاتی ہے۔ کیا پیارے افضل کی وجہ شہرت بھی یہی تھی جب وہ ڈرامہ اتنا ہٹ ہوا۔
اگر تو خلیل الرحمن نے آج تک اپنے کیے گئے ہر کام میں کامیابی کے لیے عورت ذات کی تذلیل کی ہے تو وہ واقعی کڑی سزا کا مستحق ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو ایک کردار پر کیوں اتنا ہنگامہ برپا ہے۔ اب کیا ہر ڈرامے کی ایک ہی کہانی ہونی چاہیے جس میں اس معاشرے کی عورت کو روتے دھوتے اور مرد کو ایک ظالم بے وفا جانور کے طور پر ہی دکھایا جائے حالانکہ عورت کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کا مرد بھی بہت سی جگہ مظلوم ہے۔ ایسے تو پھر اڈاری جیسے ڈرامے میں ایک سوتیلے باپ کواپنی بیٹی کا ریپ کرتے دکھانے کو کیا سارے سوتیلے باپوں کو گالی دی گئی ہے۔
وہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ میں مرتبے میں عورت کو مرد سے بڑا بلکہ بہت بڑا سمجھتا ہوں۔ اگر وہ اتنا ہی خبطی ہے تو کیوں اسے مختلف شوز میں بلا کر اس کے نظریات کی تشریح کروائی جارہی ہے۔ جب کے ہفتے میں نشر ہونے والے کئی اور ڈراموں یا بہت سی فلموں میں بھی عورت ذات کو بے وفا اور فساد کی جڑ دکھایا جاتا ہے لیکن وہ نقادوں کی توجہ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارا وہ روشن خیال طبقہ جو خلیل الرحمن پر ڈرامہ بیچنے کے لیے عورت کو بے وفا ثابت کرنے اور اس کی تذلیل کرنے کا ذمہ دار تو ٹھہرا دیتا ہے لیکن جب پردے پر اپنا فلمی منجن بیچنے کے لیے کہانی کے سیاق و سباق سے ہٹ کر عورت ذات کے عریاں بدن اور جسمانی خطوط کے پیچ و خم کی ہیجان انگیز رقص کے ذریعے جسمانی نمائش ہوتی ہے تو اسے ناصرف آرٹ کا نام بلکہ اس پر تنقید کرنے والوں کو اسے نہ دیکھنے کا مشورہ بھی دیتا ہے تو جن کو بھی خلیل الرحمن قمر کے ڈراموں سے اختلاف ہے وہ اسے نہ دیکھیں نظرانداز کریں ویسے بھی کیا اس کے خلاف محاز آرائی کر کے حکومت کی کارکردگی بہتر ہوجائے گی؟


