عمران خان قومی مشکلات کو سمجھتے ہی نہیں، حل کیا خاک کریں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں ناشتے کی میز پر پاکستانیوں سے باتیں کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ملک کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس کے باوجود ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں کامیاب ہیں کیوں کہ ملک کا اقتصادی خسارہ کم ہورہا ہے۔ کسی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکی ہو۔ ڈیووس میں عمران خان کی باتیں اس مزاج کی آئینہ دار ہیں۔

بدقسمتی سے ملک کے وزیر اعظم کی باتیں کسی پرائمری اسکول کے بچوں کو خواب دکھانے کے مترادف ہیں جس میں کوئی مہمان طالب علموں کو دلچسپ کہانی سناتے ہوئے حسین و معصوم شہزادی کو پیش آنے والے مصائب و تکالیف بیان کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی نوید دیتا ہے کہ تمام تر مشکلات کے بعد شہزادہ محصور شہزادی کو بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کے بارے میں جو کہانی گزشتہ ڈیڑھ برس سے پاکستانی عوام اور عالمی اجتماعات میں بیان کررہے ہیں، اس کا شہزادہ وہ خود ہیں۔ اور جن باتوں کو وہ اپنا ’ویژن‘ قرار دیتے ہیں ، ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ملک کا وزیر اعظم بننے اور 22 کروڑ لوگوں کو درپیش معاشی، سیاسی، خارجہ و داخلی مسائل کے باوجود عمران خان کی باتوں سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ وہ ان معاملات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہ آج بھی خود کو کرکٹ کپتان کے طور پر دیکھتے ہیں اور اپنے سامعین کو اصرار سے یہ بتاتے ہیں کہ کپتان کے طور پر اگر وہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو ہرا سکتے ہیں تو وزیر اعظم کے طور پر وہ ملک کے تمام مسائل بھی حل کرسکتے ہیں۔’ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘۔ اب اپنے اس دعوے کو درست ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے کہ کامیابی کے لئے صبر و تحمل سے جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ ڈیووس میں اپنے سامعین کو وزیر اعظم نے یہی بتایا ہے کہ وہ اور مہاتیر محمد ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صبر سے کام لو اور میں کہتا ہوں کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘۔ سوال تو صرف اتنا ہے کہ جد و جہد کا نتیجہ دیکھنے کے لئے تحمل و بردباری کا مظاہرہ بنیادی صفت ہوتی ہے لیکن پاکستانی لیڈر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ جن مشکلات سے نہ گھبرانے کا مشورہ وہ دیتے ہیں، ان کے حل کے لئے پاکستانی حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں۔

 وزیر اعظم ابھی تک کرکٹ ٹیم کی کپتانی یا اپنی سیلبریٹی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے ایک ہسپتال بنانے کے لئے چندہ اکٹھا کرنے اور بائیس کروڑ آبادی کے ملک کا انتظام چلانے میں فرق معلوم نہیں کر سکے ۔ ڈیووس میں ان کی باتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عمران خان کو تھوڑا ’بڑا ‘ ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے پاس کہنے کے لئے کوئی تعمیری، مثبت اور نئی بات نہیں ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ خاموشی اختیار کریں اور ڈیووس اجتماع جیسے موقع پر عالمی ماہرین اور لیڈروں کی باتیں سن کر کچھ سیکھنے کی کوشش کیاکریں تاکہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کے لئے عقل کی یہ باتیں منصوبہ بندی کرتے ہوئے کام آسکیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کو یہ بتانے اور سکھانے کی شدید ضرورت ہے کہ وہ نابغہ عصر نہیں ہیں اور انہیں معیشت ہی نہیں انتظامی امور اور سیاسی رکھ رکھاؤ کی ابجد سے بھی شناسائی نہیں ۔ وہ اسے اپنی بہادری سمجھنے کی بجائے اگر کمزوری سمجھ سکیں تو سیکھنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر ماہرین کے اجتماع میں بھی عمران خان خود کو ہر شعبہ کا ماہر قرار دیں گے، سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور ناکامیوں کو کامیابی سمجھ کر’ گھبرانا نہیں ہے‘ کو کسی روحانی وظیفہ کے طور پر دہراتے رہیں گے تو وہ بدستور پاکستانی معیشت و سیاست کے لئے بوجھ بنے رہیں گے۔ جس سے نجات پانے کے لئے درپردہ گٹھ جوڑ ہوتا رہے گا ۔

ملک میں سیاسی عدم استحکام اور حکومت کی کارکردگی پر اعتبار کی کمی ہی اس وقت ملکی معیشت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ تاہم عمران خان اپنی ہر گفتگو کے ذریعے اس خلیج کو وسیع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جس وقت عمران خان ماضی میں کھلاڑی اور شوکت خانم ہسپتال منصوبہ کے بانی کے طور پر اپنی کامیابیوں کے قصے سناکر سامعین کو یہ بتا رہے تھے کہ سابقہ حکومتوں کی بدعنوانی کی وجہ سے ہی ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ میں جکڑا ہؤا ہے اور اب اس بدعنوان نظام کو ان کی حکومت درست کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ عین اسی وقت انٹرنیشنل ٹرانسپرنسی کا دنیا بھر کے ملکوں میں کرپشن کا نیا انڈیکس سامنے آیا ہے۔ ا س کے مطابق پاکستانی معاشرہ 2018 کے مقابلے میں 2019 میں زیادہ کرپٹ ہو گیا ۔ اسی لئے عالمی درجہ بندی میں اس کی جگہ 3 درجے کم ہوئی ہے۔ یعنی 180 ملکوں کی فہرست میں اس کا 120 واں نمبر ہے۔ گزشتہ پورا سال عمران خان جیسے دیانت دار لیڈر کی سربراہی میں تحریک انصاف نہ صرف مرکز بلکہ ملک کے تین صوبوں میں بھی برسر اقتدار رہی۔ اس لئے عالمی ادارے کی درجہ بندی کو اگر کوئی اہمیت دی جاسکتی ہے تو اس تنزلی کا جواب بھی عمران خان اور ان کے مشیروں کو ہی دینا ہوگا۔

عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ بدعنوانی ختم کئے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ تاہم اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے وہ معاشرے کی اصلاح اور نظام میں موجود کجی کا حوالہ نہیں دیتے بلکہ ان کا ٹارگٹ ان کے سیاسی مخالفین ہوتے ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ خطرہ نواز شریف کی مقبولیت سے محسوس ہوتا ہے، اس لئے شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) ان کی تنقید کا سب سے بڑا ہدف ہوتی ہے۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی باری آتی ہے۔ اگر ملک کے وزیر اعظم نے معاشرے میں پائی جانے والی معاشی اور اخلاقی بے راہروی کو دور کرنے کے بارے میں سوچا ہوتا تو وہ کبھی یہ دعویٰ نہ کرتے کہ لیڈر ایماندار ہو تو نظام خود ہی درست ہوجاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس میں رونما ہونے والے واقعات اور اب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے جائزے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کی ذاتی ایمانداری نام کی کوئی شے اگرموجود ہے بھی تو بھی اس سے ملک کو درپیش کوئی مسئلہ حل نہیں ہؤا بلکہ عوام کے معاشی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہؤا ہے۔

وزیر اعظم  نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی اور احساس پروگرام کے تحت ملک کے غریبوں میں 190 ارب روپے کی خیرات بانٹنے کا اہتمام کرنے کو حکومت کی معاشی پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ حالانکہ کوئی ملک اپنے لوگوں کو لنگر خانے اور پناہ گاہیں فراہم کرکے اقتصادی ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ عمران خان ایک طرف لوگوں پر سرمایہ کاری کو اپنے سیاسی منشور کی بنیاد قرار دیتے ہیں پھر لوگوں کو خیرات کی نوید سنا کر اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کا کوئی منصوبہ حکومت کی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ اسی لئے بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور بنیادی اشیائے صرف پر بالواسطہ ٹیکس لگا کر عام گھروں کی معیشت کو اس قدر محدود کردیا گیا ہے کہ ملک میں معاشی تحرک کم تر سطح پر پہنچ چکا ہے۔ معاشی تعطل کے خاتمہ کے لئے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار اور معاشی سرگرمی کا اہتمام ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک تو تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کی ہدایات کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز میں گراں قدر کمی کی ہے اور جو فنڈز فراہم کئے گئے ہیں وہ اس کی نااہل صوبائی حکومتوں کی وجہ سے مناسب طریقے سے صرف نہیں کئے جاسکے۔ اسی لئے اب تحریک انصاف کی حلیف جماعتوں کے علاوہ پارٹی کے اندر سے بھی بغاوت کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔

عمران خان بدستور ایچی سن کالج کے طالب علم بن کر ایوب خان کے دور کو سنہرا عہد قرار دیتے ہیں۔ ڈیووس میں بھی انہوں نے یہی بتایا کہ وہ کس قدر اچھا زمانہ تھا کہ امریکی صدر پاکستانی صدر کا استقبال کرنے کے لئے آتا تھا اور برطانیہ میں اسے شاہی پروٹوکول ملتا تھا۔ کرکٹ کھیلنے کے ساتھ اگر عمران خان نے ملک کی سیاسی تاریخ کا واجبی مطالعہ بھی کیا ہوتا تو وہ جان سکتے کہ پاکستانی سماج میں بدعنوانی کا بیج بھی ایوب خان ہی کے دور میں بویا گیا تھا۔ بدنصیبی سے عمران خان خود کو منتخب لیڈر کہتے ہیں لیکن ملک کے فوجی حکمرانوں کی تعریف میں رطب اللسان رہنے کو اپنا ’سیاسی ویژن ‘ سمجھتے ہیں۔ ڈیووس میں پاکستانیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تو میڈیا مباحث اور تبصروں سے دور رہتے ہیں اور اپنے وزیروں کو بھی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ میڈیا کی باتوں کو سننے سے پرہیز کیا کریں۔

سرکاری پہریداروں اور چنیدہ مشیروں کے جلو میں رہنے والا ایک ایسا لیڈر جو خبر اور اس پر تبصرہ سے دور بھاگتا ہو، وہ عوام کی ضروریات اور تکلیفوں سے عمران خان ہی کی طرح بے بہرہ ہوسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1420 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *