ٹڈی دل کو کھا لیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوبیل انعام یافتہ ادیبہ ڈورس لیسنگ کی کہانی The Mild Attack of Locusts پڑھی تھی تو دل دہل گیا تھا۔ حشرات کے طوفان کے سامنے کسان کتنے بے بس تھے۔ ٹڈیوں نے ان کی فصلیں چٹ کر دی تھیں اور لاچار کسانوں نے اپنے تیئیں بہت چارہ کیا مگر ٹڈی دل کے حملے کو پسپا نہ کر سکے۔ اپنی محنت، کمائی اور امید کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتا دیکھتے رہے۔ نئے سرے سے زمین کا سینہ چیر کر مٹی میں امنگیں بونے کا عزم لیے شام کا کھانا جی بھر کے کھایا۔ ہمت نہیں ہاری۔ بہادری کے ساتھ نقصان کو سہہ لیا۔

مٹی سے خواب اگانے والے کسان قدرتی آفات کے سامنے سینہ سپر ضرور ہیں مگر جب آفت کو روکنا ان کے بس میں نہیں رہتا تو اپنی بے بسی پہ ہنس لیتے ہیں۔ اور پھر سے کھیتوں میں ہل چلانے لگتے ہیں۔ قدرت کے شکر گزار ہوتے ہیں کہ تباہی اور نقصان اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتا تھا۔ اپنا حوصلہ اور ہمت بڑھانے کی یہ ریت دیہاتی لوگ صدیوں سے نبھاتے آ رہے ہیں۔ تبھی تو چھوٹی بستیوں کے لوگ بڑے دل رکھتے ہیں۔

کسانوں کو یہ دھڑکا ضرور رہتا ہے کہ یہ مصیبت پھر سے نہ آ ٹپکے۔ آس امید کی کھیتی کرنا، موسموں کی طرح یک لخت بدلتے آسمان کو تکنا، کسی ان دیکھی آفت کا کھٹکا رہنا اور زور بازو سے مٹی کو سونا کرنا کسان ہی کی خو ہے۔ ہیمنگ وے کے ناول ’اولڈ مین اینڈ دا سی‘ کے بوڑھے مچھیرے کی طرح یہ گاؤں واسی بھی چٹانوں کے سے حوصلے رکھتے ہیں۔ ٹڈی دل ایسی قدرتی آفات انہیں برباد تو کر سکتی ہیں مگر شکست نہیں دے سکتیں۔

سوشل میڈیا پہ کچھ ویڈیوز دیکھیں جن میں لوگ ٹڈیوں کو اپنے کھیتوں سے بھگانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ گاگریں اور تھال پیٹ کر شور پیدا کیا جا رہا ہے۔ کوئی من چلا تھال یوں بجا رہا ہے جیسے بارات پہ ڈھول بج رہا ہو۔ اسی تھاپ پہ، اپنے کھیت میں ایک کسان موج میں رقص کر رہا ہے۔ اسی کھیت میں ٹڈیاں اس کی فصل کی ہر کونپل کا صفایا کر رہی ہیں۔ کسان کریں بھی تو اور کیا کریں؟ جب مشکل پہ قابو پانا آپ کی بساط ہی نا ہو تو اس پہ جھومر ڈالنا ہی بہتر ہے۔

ٹڈیوں نے روہی اور جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں میں دھاوا بول رکھا ہے۔ سنا ہے کہ یہ پلٹ کر بار بار آتی ہیں۔ اپنے انڈے بھی دے جاتی ہیں جو اگلی فصلوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بنے رہتے ہیں۔ حکومت کے کوئی ہنگامی اقدامات نطر نہیں آتے۔ شاید حکومت نے یہ سوچ لیا ہو کہ جب کسان خود ناچ رہے ہیں تو ہم بھی دھمال ہی ڈال لیتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے بہت سے کام دعاوں اور روحانی طاقت سے حل کیے ہیں۔ لہذا ٹڈی دل پہ سپرے کر کے خزانہ خالی کرنے کی بجائے پیروں فقیروں، عامل بابوں اور نجومیوں کے دم پھوکے زیادہ کارگر رہیں گے۔ ہماری اسمبلیوں میں اتنے پیر منتخب ہو کر آتے ہیں کہ ان کی تعداد ٹڈی دل سے کوئی دو چار ہندسے ہی کم ہو گی۔ ایک ایک پھوکا بھی ماریں تو ٹڈی دل کی ساری پھوک نکل جائے گی۔ آخر ٹڈیوں میں بھی جان ہوتی ہے۔ ان کو مار کر حکومت گناہ نہیں لینا چاہتی۔ لہذا تعویز دھاگے سے ٹڈیوں کو بارڈر پار دھکیلنا زیادہ مفید رہے گا۔ ’ٹڈی ڈپلومیسی‘ سے ہم ہمسایوں کے ناک میں دم کر سکتے ہیں۔

حکومت ایک چال اور بھی چل سکتی ہے۔ یہ مشہور کر دیا جائے کہ ٹڈیاں کھانے سے ’خوابیدہ توانائیاں‘ انگڑائی لے کر جاگ جاتی ہیں۔ ہم یوں ٹڈیوں پہ لپکیں گے کہ انہیں جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ اور پھر روہی تو کیا افریقہ تک ان کا پیچھا کریں گے۔ مگر یہ کام انجمن حقوق عاملاں و حکیماں شاید نہ ہونے دے۔

ہماری حکومت کا پختہ یقین ہے کہ ’زیادہ کھانے‘ سے بھی بندہ ختم ہو سکتا ہے۔ کئی سابقہ عہدے داران کو ’زیادہ کھانے‘ کی پاداش میں عدالتوں میں ایڑیاں رگڑتے دیکھ چکی ہے۔ اسی منطق کے پیش نظر ٹڈیوں کو کھلی چھٹی دی ہے کہ رج کے کھا لیں۔ کھا کھا کے ان کا ڈھڈھ خود ہی پٹاکہ مار جائے گا۔ ہینگ اور پھٹکڑی لگانے کی چنداں ضرورت نہیں۔

ایک حل یہ بھی ہے کہ ’ٹڈیاں مکاو، ملک بچاو‘ مہم شروع کی جائے جس میں ہر شخص پہ لازم ہو کہ وہ دو کلو ٹڈیاں کوکنگ آئل میں تل کے کیچپ لگا کر کھائے گا۔ آفت کو ضیافت بنا لیا جائے تو زندگی آسان ہو جائے گی۔ آٹے کے بحران کا مسئلہ بھی دم توڑ جائے گا۔ وزارت صحت یہ پیغام عام کر دے کہ ’خبردار، ٹڈی نوشی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ ‘

ٹڈی دل کو ٹڈیوں کی ’فوج‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے اسی نام کے احترام میں حکومت ٹڈیوں کی آزادانہ نقل و حمل اور من چاہی موج مستی پہ ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔

ٹڈیوں کی فوج بھی عجیب مخلوق ہے۔ ایسا منظم حملہ کرتی ہے کہ انسان بوکھلانے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پاتا۔ اس نے سیکھ لیا ہے کہ کسانوں کو لاچار اور بے بس کیسے کرنا ہے۔ ان کی چیخ و پکار اور شور پہ کان نہ دھرنا بھی اب ان کی فطرت بن چکا۔

کہتے ہیں کہ پچھلے سال جو ریت میں انڈے دیے تھے ان میں بچے نکل آئے ہیں اور وہی جتھے بنائے پھرتے ہیں۔ کم بخت ٹڈیاں! جس دھرتی کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اسی دھرتی کے کسانوں کی فصلیں ہڑپ لیتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 50 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *