ٹوئٹر سرکار کی خاموشی اور حلیف صفوں سے اٹھتا دھؤاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بدلتے، بگڑتے، پریشان حال اور جمہوری طور سے مفلوک ’ نئے پاکستان ‘ میں صرف مریم نواز کا ٹوئٹر ہی خاموش نہیں ہے بلکہ ٹوئٹر والی سرکار کا ہینڈل بھی محو استراحت ہے یا طویل رخصت کی تیاری پر ہے۔ اس دوران حکمران پارٹی اور حلیف صفوں سے مسلسل اختلاف کا دھؤاں اٹھنے کی خبریں عام ہورہی ہیں۔ سوال ہے کہ کیا ڈیووس میں عمران خان کی ’پر شور‘ سرگرمیاں داخلی سیاست میں فائر فائیٹنگ کا حصہ تھی یا وزیر اعظم اور حکمران جماعت کے چئیرمین کو ملک اور پارٹی میں رونما ہونے والی سیاسی رد و بدل کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ۔

لندن میں موجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت نہ صرف پراسرار خاموشی سے ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کررہی ہے بلکہ درپردہ ہدایات یا پیش قدمی کے ذریعے پہلے پنجاب اور پھر مرکز میں تحریک انصاف کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ’مصالحانہ‘ پیش رفت کی خبریں انہی تیاریوں کا پیش لفظ ہیں۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو سیاست کا وسیم اکرم قرار دیتے ہوئے پنجاب کی حکومت ایک ناتجربہ کار اور کمزور سیاست دان کے حوالے کی تھی کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ براہ راست صوبے کے معاملات کو اپنی دسترس میں رکھ سکیں گے۔ اب خبر ہے کہ عثمان بزدار سیاست میں ویسی دھوم تو نہیں مچا سکے جو وسیم اکرم نے کرکٹ کے میدان میں برپا کی تھی لیکن جنوبی پنجاب کے ساتھی ارکان اسمبلی کی سسکیوں میں اب ان کی آہیں بھی شامل ہوچکی ہیں۔

جنوبی پنجاب کے ارکان پنجاب اسمبلی کا ایک مسئلہ تو دیگر پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف کا یہ گمراہ کن وعدہ تھا کہ وہ کامیابی کی صورت میں جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبہ بنادے گی۔ اب عمران خان سے تو کوئی نہیں پوچھتا لیکن ووٹروں کو یہ بتاکر تحریک انصاف کی کشتی میں سوار ہونے والے ارکان ، کہ وہ جنوبی پنجاب کے عوام کی سیاسی کامیابی اور علیحدہ صوبے کے قیام کے عظیم مقصد سے اس پارٹی میں شامل ہوئے تھے ، اب دو طرفہ مشکل کا شکار ہیں۔ ایک تو جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کے معاملہ پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تو دوسری طرف عثمان بزدار کی مفلوج اور بے اختیار وزارت اعلیٰ کی وجہ سے ا س علاقے سے تعلق رکھنے والے سارے سیاسی عناصر سر پکڑے ہوئے ہیں۔

 رہی سہی کسر عمران خان کے اس حکم نے پوری کردی جس کے تحت صوبے کی بیوروکریسی کو طاقت ور بنا دیا گیا ہے۔ اب پنجاب کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس وزیر اعلیٰ کو جوابدہ ہونے کی بجائے براہ راست وزیر اعظم ہاؤس کو رپورٹ کرنے کے پابند ہیں۔ اس طرح عمران خان نے کمزور وزیر اعلیٰ کی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈالنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ لیکن ایک تو مرکز میں خود عمران خان کی کارکردگی بھی نعرے بازی کے علاوہ صرف نااہلی سے ہی عبارت ہے تو وہ صوبے کے معاملات میں کیا بہتری لا سکیں گے۔ دوسرے وزیر اعلیٰ خواہ کاٹھ کا ہی بنا ہو لیکن کرسی پر بیٹھ کر اگر کسی تھانیدار اور پٹواری کا تبادلہ کرنے کا حکم بھی نہ دے سکتا ہو تو اس کا دل بھی دھڑکنے لگتا ہے۔ فیض الحسن چوہان تو پورے جوش سے اپنے وزیر اعلیٰ کو ہر طرح بااختیار ثابت کرنے پر مصر ہیں لیکن ارکان اسمبلی کی بے چینی کے علاوہ گورنر چوہدری محمد سرور کے ٹیلی ویژن انٹرویو داخلی کشمکش کا پول کھول رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو پٹواریوں کی جماعت کا طعنہ دینے والے عمران خان کو اب پٹواری سیاست کی اہمیت اور قوت کا اندازہ ہو رہا ہے لیکن اس وقت بیشتر پتے ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ تیز چلتی سیاسی ہواؤں میں وہ دونوں ہاتھوں کی اوٹ سے پنجاب میں اقتدار کے بجھتے چراغ کی ٹمٹماتی لو کو بچانے کی اپنی سی کوشش ضرور کررہے ہیں۔

عمران خان اصول اور میرٹ کی بات کرتے ہوئے سیاست چمکاتے رہے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے لئے انہوں نے اصولوں کو تبدیل کیا اور میرٹ کا جنازہ نکالا۔ انہیں لگتا تھا کہ وہ مقتدر حلقوں کی سرپرستی میں جب سیاسی مخالفین کی پوری طرح کردار کشی کرلیں گے تو ان کے اقتدار کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔ اب یہ چیلنج خود ان کی اپنی صفوں سے سر اٹھا نے لگاہے۔ کبھی جہانگیر ترین کے ذریعے مسلم لیگ (ق) کی تشفی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی کراچی میں ایم کیوایم کو حوصلہ دیا جاتا ہے۔ تاہم عمران خان کے سیاسی خوابوں کا محل تاش کے پتوں سے بنا گھر ثابت ہورہا ہے۔ ایک پتے کو سنبھالتے ہیں تو دوسرا جگہ سے سرک جاتا ہے۔ ایسے میں دباؤ کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے والے بھی شیر بن رہے ہیں۔ اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ عثمان بزدار جیسا ’بے ضرر اور وفادار‘ بھی یہ سمجھنے لگا ہے کہ ان کا عہدہ عمران خان کا مرہون منت نہیں بلکہ عمران خان ان کی وجہ سے وزارت عظمی پر فائز ہیں۔ وہ بھی جاننے لگے ہیں کہ پنجاب میں سیاسی تبدیلی عمران خان کے اقتدار کے لئے براہ راست خطرہ ثابت ہوگی۔ اس لئے اب عثمان بزدار بھی تھانے دار وں اور پٹواریوں کے تبادلوں کا ’اختیار‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ عمران خان اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ عمران خان سیاسیات کے ماہر پروفیسر کی طرح مغربی جمہوریتوں کے معیار، اقدار اور فوائد پر لیکچر دیا کرتے تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی ہوتا ہے ، انہیں انتظامی امور میں مداخلت کا حق نہیں ملتا۔ اسی بنیاد پر میرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کرپشن سے پاک معاشرے کی تعمیر کا خواب دکھاتے تھے ۔ اب تحریک انصاف اور حلیف جماعتوں کے ارکان پوچھتے ہیں کہ وہ اگر اپنے ووٹروں کی خواہش کے مطابق ضلع اور تحصیل کی بنیاد پر تبادلے بھی نہیں کروا سکتے اور اگر انہیں اپنے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے وسائل ہی نہیں مل سکتے تو وہ اگلے انتخاب میں کس منہ سے ووٹ مانگیں گے۔ عمران خان ان مطالبوں کے جواب میں ارکان اسمبلی کو وسائل فراہم کرنے یا وزارتوں کا لالچ تو دے سکتے ہیں لیکن قانون سازی کا مشورہ نہیں دیتے کیوں کہ حکومت سنبھالنے کے بعد آرڈی ننسوں کے ذریعے کام چلانے کا گر ان کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ اس طرح سیاسی دشمنوں کے منہ بھی نہیں لگنا پڑتا اور کام بھی چلتا رہتا ہے۔

اس کے باوجود ڈیووس کے میلہ میں کرپشن کا معاملہ بھی عمران خان کا مرغوب موضوع رہا۔ کچھ لوگوں نے حیرت سے یہ ضرور پوچھا کہ سیاسی و تجارتی لیڈروں کے اس اجتماع میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی اپیل کرتے ہوئے اگر وزیر اعظم ہی اپنے معاشرے کو کرپٹ قرار دے گا تو سرمایہ دار کس برتے پر سرمایہ لے کر ایسے ملک میں آئے گا۔ کرپشن سے عمران خان کی ’ہتھ جوڑی‘ کا کچھ قصہ اسی دوران ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بیان کردیا جس نے رپورٹ کیا ہے کہ 2019 کے دوران عمران خان کے زیر انتظام پاکستان 2018 کے مقابلے میں زیادہ بدعنوان ہوگیا تھا۔ عالمی ادارے کی اس رپورٹ میں اگرچہ عالمی سطح پر بدعنوانی کے فروغ کی بنیاد پر دلائل دیے گئے ہیں لیکن وزیر اعظم کی مشیر فردوس عاشق اعوان نے زبان و بیان کی پوری قوت سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ساکھ کو ہی چیلنج کردیا ۔ انہوں نے عالمی سطح پر سماجی و سیاسی رجحانات کا جائزہ لینے والے اس ادارے کو شریفوں کا حاشیہ بردار قرار دے کر عمران خان کے نئے پاکستان کو بدعنوانی سے پاک ثابت کیا۔ بس اب سننے والے یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ڈیووس میں عمران خان کا مؤقف درست تھا یا فردوس عاشق اعوان کے پر جوش بیان کو جائز سمجھا جائے۔

امریکہ سے مراسم، ٹرمپ سے دوستی، افغانستان میں امن ، بھارتی فسطائیت اور کشمیریوں کے حق خوداختیاری کے حوالے سےدنیا کی بے حسی جیسے ’قابل فروخت‘ اجزائے ترکیبی سے تیار بیان کو عمران خان نے ڈیووس کے مختلف فورمز پر دہرانے کے علاوہ علاوہ سی این بی سی کے ایک انٹرویو میں بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ پاکستان میں عمران خان کے دوستوں اور پرستاروں کو البتہ وزیر اعظم کے خیالات سے زیادہ انٹرویو کرنے والی صحافی کے مختصرلباس نے لبھایا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز میں ایک یہ بھی رہا کہ یہ خاتون صحافی دراصل ان کے 65 سالہ محبوب لیڈر کو ’رجھانے‘ کی کوشش کررہی تھی۔ ہیڈلے گیمبل نے البتہ ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان کی عمر ایسی نہیں ہے کہ وہ ان میں دلچسپی لیتیں۔

حیرت ہے کہ عمران خان اپنے پلے بوائے امیج کو مٹا کر صوفی بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کے مداح اب بھی انہیں ’لیڈی کلر‘ کے طور پر دیکھ کر خوش ہونا چاہتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کے اونٹ نے جب بھی کروٹ بدلی تو جس طرح نیب کے ہاتھوں شریفوں اور زرداریوں کی مالی بداعمالیوں کے نت نئے قصے مارکیٹ کئے گئے ، عمران خان کی وہی کہانیاں سامنے آئیں گی جنہیں بظاہر کرتا شلوار پہنا دیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1393 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *