آٹا بحران طاقتور سیاسی افراد اور سرکاری افسران نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا کیا: عمران خان کو رپورٹ پیش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کو آٹا بحران سے متعلق رپورٹ بھجوا دی گئی۔ رپورٹ میں آٹا بحران باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ 21 صفحات پر مشتمل ہے جو سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آٹا بحران باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت لایا گیا جس میں افسران اور بعض سیاسی شخصیات ملوث ہیں، رپورٹ میں آٹا بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار بیورو کریٹس اور سیاسی شخصیات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ خوراک پر سیاسی دباؤ اور انتظامی نااہلی کی وجہ سے آٹا بحران پیدا ہوا، نومبر تک ایک ہزار 550 روپے فی من فروخت ہونے والی گندم کو ایک ہزار 950 روپے تک منصوبہ بندی سے پہنچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دو ماہ قبل مارکیٹ میں گندم وافر مقدار میں موجود تھی لیکن دسمبر2019 میں گندم مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی۔ گزشتہ ماہ لاہورکی فلور ملز کا کوٹہ 50 سے کم کرکے 45 بوری کیا گیا اور راولپنڈی کی فلور ملز کا کوٹہ 25 سے بڑھا کر 30 بوری کیا گیا۔ دسمبر میں ہی اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت ایک ہزار 950روپے فی من ہو گئی تھی۔

سیکرٹری خوراک وقاص علی محمود بھی فلور ملز کے کوٹے بڑھانے سے متعلق فیصلہ کرنے میں ناکام رہے۔ چکی مل مالکان کو صاف شدہ گندم 2 ہزار 100 روپے فی من ملنے پر چکی مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آٹا بحران پر قابو کے لیے کوئی اقدامات نہ کیے گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *