ڈیجیٹل پاکستان کا کریڈٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن ہوتے ہیں محترمہ تانیہ ادریس کی گوگل کو چھوڑ کر پاکستان آنے کی خبر ملتی ہے۔ مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل پاکستان میں بدلنا ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل بھی ہو گا اور وہ بھی اس پاکستانی کے ہاتھوں جو ایک اچھی ملازمت اور پر آسائش زندگی ترک کر کے محض اپنے ملک کے لیے یہاں آئی ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی اور لوگوں میں بھی یہ جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ملائشیا میں ایسا ہو سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں؟ اپنے آنے کی خبر اور مقاصد انہوں نے لوگوں سے کچھا کھچ بھرے ایک ایسے ہا ل میں بیان کیے جہاں وزیرِ اعظم صا حب بھی تشریف فرما تھے۔ دوسری بہت سی باتوں کے علاوہ وہ ایک اچھی نوکری چھوڑ کر پاکستان آنے کا کریڈٹ اس ہال میں بیٹھے جناب جہانگیر ترین کو دینا نہ بھولیں۔ گویا ملک، عوام اور عمران خان پرجہانگیر ترین صاحب کے بہت سے احسانات میں ایک اور احسان کا اضافہ۔

ہم سب پاکستان کے ”مزید“ ڈیجیٹل ہونے کا انتظار کریں گے کیونکہ پاکستان ان کی آمد سے بہت پہلے کافی سارا ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ شوکت صاحب کی جیب میں معمول سے کچھ زیادہ پیسے تھے، سفر پر جانا تھا، بس میں جیب وغیرہ کٹنے کا خوف تھا۔ انہوں نے یہ پیسے اپنے موبائل اکاؤنٹ میں جمع کروائے اور بے فکر ہو کر اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ سفر کے دوران ہی ان کو یاد آیا کہ بجلی کا بل بھی جمع کروانا ہے اور آج اس کی آخری تاریخ ہے۔

انہوں نے بیگ میں موجود بل نکالا اور موبائل اکاؤنٹ میں جمع کروائے گئے پیسوں میں سے بس میں بیٹھے بیٹھے بل جمع کروا دیا۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ اب گیس، بجلی، پانی اور ٹیلی فون وغیرہ کے بل جمع کروانے کے لیے بینکوں کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ ڈیجیٹل پاکستان کی بدولت آپ کو اپنے موبائل اکاؤنٹ، موبائل شاپس، ذاتی بینک اکاؤنٹس کی ایپس، اے ٹی ایم مشین، نادرا ای سہولت، ڈاک خانہ کے ذریعے بھی بل جمع کروانے کی سہولت ہے۔

آپ کو بل کی آخری تاریخ والے دن رات کو گیارہ بج کرتیس منٹ پر بھی یاد آ جائے کہ بل جمع کروانا ہے اور آپ کے پاس ڈیجیٹل ادائیگی والی سہولیات مہیا ہوں تو آخری وقت یعنی بارہ بجے سے پہلے پہلے بل ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک دن سفر کے دوران ہی شوکت صاحب کے ایک جاننے والے کو پیسوں کی اچانک ضرورت پڑ گئی، شوکت صاحب نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی موبائل میں موجود ڈیجیٹل سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اس دوست کو مطلوبہ رقم ٹرانسفر کر دی۔ اگر یہ سہولت موبائل میں میسر نہ ہوتی تو سڑک پر موجود کسی اے ٹی ایم مشین سے بھی یہ ”جادو“ کیا جا سکتا تھا۔

تعلیم کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل انقلاب آ چکا ہے، ورچوئل یونیورسٹی عرصہ دراز سے ڈیجیٹل طریقے سے تعلیمی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیز میں داخلوں کا طریقِ کار کافی حد تک ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ فیسوں کی ادائیگی بھی اب آپ گھر میں رضائی اور کمبل میں بیٹھ کر انٹر نیٹ بینکنگ کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ محکمہ تعلیم پنجاب کے تمام اساتذہ کے مکمل کوائف اب آن لائن ہو چکے ہیں۔ صرف ایک کلک سے کسی بھی استاد کا سارا ریکارڈ فوری چیک کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

تمام اسا تذہ کو آن لائن تبادلوں کی سہولت بھی دے دی گئی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں اساتذہ نے گھر بیٹھے اپنی پسندیدہ جگہوں پر تبادلے کروائے ہیں اور کروا رہے ہیں۔ اسی ریکارڈ کی مدد سے اب اساتذہ کو آن لائن چھٹی کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ پنجاب کے سرکاری سکولز کے اساتذہ پاکستان کے کسی کونے سے آن لائن چھٹی کی درخواست دے سکتے ہیں، خودکار سسٹم کے ذریعے وہ درخواست فوری پرنسپل کے پاس جاتی ہے اور وہ اس کو منظور یا نا منظور کر سکیں گے۔

ہاں یا ناں کی اطلاع آن لائن ہی متعلقہ استاد تک پہنچے گی۔ سنا ہے اگلے مرحلے میں اساتذہ کی سروس بک بھی آن لائن ہو جائے گی اور ریٹائرمنٹ کے وقت سب مراحل بھی آن لائن ہی ہوں گے۔ شنید یہ بھی ہے کہ پرائیویٹ سکولز کو بھی اسی طرح ڈیجیٹل نظام سے جوڑ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پنجاب کے تمام سرکاری سکولز کے طلبہ و طالبات کو بھی آن لائن کر دیا گیا ہے۔ چھٹی کلاس سے لے کر انٹر تک سائنس اور ریاضی کے نصاب کی اکثر چیزیں ایک ایپ میں جمع کر دی گئی ہیں۔ طلبہ ایک کلک پر اپنی مشکلات کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ آن لائن ٹیوشن پڑھی بھی جا رہی ہے اور پڑھائی بھی جا رہی ہے۔ قرانِ پاک پڑھنے کے لیے بھی آپ آن لائن خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ ہر قسم کے ہنر کو سیکھنے کے لیے سینکڑوں وڈیوز ہر وقت آپ کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔

پولیس کا ریکارڈ بھی تقریباً آن لائن ہو چکا ہے، پولیس خدمت سینٹر حیران کن سرعت کے ساتھ لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔ آن لائن شاپنگ کے ذریعے کون سی چیزیں ہیں جن کی خریداری نہیں ہو رہی؟ آٹا، سبزیاں، پھل، چاول، کتابیں، موبائل، کپڑے، جوتے غرض ہر وہ چیز جس کے لیے آپ بازار جاتے ہیں آپ کو آن لائن شاپنگ کے ذریعے گھر بیٹھے مل رہی ہے۔ اخبارات مختلف شہروں میں تیار ہونے کی بجائے ایک ہی شہر سے تیار ہو رہے ہیں۔

بیماریوں کے ٹیسٹ کے لیے لیب جانا پڑے گا لیکن ان کے نتائج آپ کو آن لائن گھر بیٹھے ہی مل جائیں گے جہازوں اور ریل کے ٹکٹ تو بہت پہلے کے آن لائن ہو چکے ہیں اب بس کی سیٹوں کی بکنگ بھی گھر بیٹھے ہو رہی ہے۔ اور تو اور ”پوشیدہ امراض“ کے لیے آپ لوگوں سے چھپ کر حکیموں کے دواخانوں پر جاتے ہیں، اب آرام سے آن لائن آرڈر کریں اور ادویات آپ کے گھر پہنچیں گی۔

تانیہ ادریس صاحبہ کا آنا یقیناً خوش آئند ہے، پاکستان کا ڈیجیٹل ہونا یقیناً سب کے لیے سہولتیں پیدا کرے گا۔ یہ سب کچھ لکھنے کو مقصد ہے کہ جتنا پاکستان پہلے ڈیجیٹل ہو چکا ہے وہ بھی بہت ہے اور اس کا کریڈٹ ان لوگوں کو ملنا چاہیے جن کی وجہ سے اب تک سارا کام ہوا ہے، یہ نہ ہو کہ کل کو سارا کریڈٹ تانیہ ادریس کو ہی مل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply