فطرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسے ایک انڈے کے اندر چوزہ بنتا ہے۔ ذرا غور کریں تو کسقدر نازک اور حساس ترین زندگی ایک انڈے کے اندر جنم لے رہی ہوتی ہے۔ اس پلتی زندگی کے گرد باریک سی جھلی اور پھر اس جھلی کے اوپر انڈے کا خول۔ بظاھر دیکھا جائے تو انڈا توڑنا ہمارے لئے ایک معمولی سی بات ہے۔ مگر اگر اس کے اندر پلتی اس حساس و نازک سی جان کی طرح محسوس کرو تو۔ اس کے گرد یہ انڈے کا خول اس کے جسم و جان کی حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ ہے۔ ایک آہنی حصار۔

اور پھر کچھ ہی دیر بعد ایک ایسا وقت بھی آ جاتا ہے۔ جب یہ نازک جسم و جان ایک معصوم سا چوزہ بن جاتا ہے۔ ایک انفرادی وجود۔ جس کے لئے اب اس انڈے کے خول میں گویا اسی حفاظتی قلعہ کے حصار میں مزید رہنا اس کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ وہ پھر اندر ہی اندر سے اپنی پوری طاقت آزماتا ہے اپنے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ انہی جھلیوں سے نکلنے اور حفاظتی خول کو توڑنے کے لئے۔ اپنا وجود پانے کے لئے۔ دنیا میں آنے کے لئے۔ سانس لینے کے لئے۔ زندہ رہنے کے لئے۔

ہوبہو یہی حال ایک انسان کا بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چوزہ جسمانی طور پر انڈے کے اندر سے نکلتا ہے۔ تو انسان ذہنی طور پر اپنے گرد لپٹی ان حفاظتی جھلیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ ہر بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے والدین، گھر، خاندان اور سماج، اپنے طور، اپنی اپنی سوچ کے مطابق حفاظتی جھلیاں لپیٹنے اور حفاظتی بند باندھتے رہتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کے اس نرم و نازک مراحل میں یہ اس جان کی حفاظت کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ ہاں مگر پھر وہ وقت آنا بھی عین فطری ہے۔ کہ یہی حفاظتی بند توڑنے کی کاوشیں کرنا اور جھلیوں سے نکلنا اس کے اپنے انفرادی وجود کو پانے کا واحد تقاضا ٹھہرتا ہے۔

ہم سماجی سطح پر انسان کی زندگی کے اسی فطری موڑ کو کبھی سمجھ ہی نہیں پائے۔ تو قبول کیا خاک کریں گے؟ ۔ ہمیں لگتا ہے جو روایات و نظریات ہم اپنے بچوں کو وراثت میں دیتے ہیں وہی ان کی زندگی کا کل سرمایہ ہیں۔ جبکہ قطعی طور پر یہ ایک غیر فطری عمل ہے۔ اور ایسا ہرگز ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ سبھی سماج کے لپیٹے عقائد و روایات کے حفاظتی بند توڑنا، بوسیدہ نظریات کی جھلیوں سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا۔ در حقیقت ہر انسان کا اپنے انفرادی وجود کو پانے کا۔ کھلی فضاؤں میں سانس لینے کا۔ زندہ رہنے۔کا .. خود کو گھٹن آمیز اس ذہنی موت سے بچانے کا واحد و فطری طریق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *