سیاسی اداکاری


اداکاری ایک فن ہے، ایسا فن جس میں کمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اہل سیاست البتہ اس شعبے کے گرو ہیں، ان کی اداکاری فطری بھی ہوتی ہے اور سدا بہار بھی، عوام البتہ تماشائی نہیں، ان کے فن کے متاثرین ہوتے ہیں۔

نہیں، یہ روش ہمارے پارٹی نما سیاسی خاندانوں اور سیاست سے دور رہنے کے باوجود سیاست پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے خاکی قبیلہ کی درفنطنیوں تک محدود نہیں، سیاسی اداکاری ایک عالمی رجحان ہے، اہل مشرق ومغرب سب اس کا شکار ہیں۔

خوف اس کھیل کا بنیادی عنصر ہے، نفرت کا ہالہ جس پر تعمیر کیا جاتا ہے اور پھر سیاسی ادکار خود کو مسیحا کے طور پیش کرتا ہے۔ مغرب میں حالیہ تعصب کی لہر کی بنیاد بھی محض خوف پر ہے، اپنی شناخت اور امتیاز کھو دینے کا خوف، ہمارے ہاں البتہ ابھی تک کرپشن اور غداری مخالف قدیم بہکاوے کارگر ہیں۔

ایران، پچاس برس بیشتر جہاں امریکہ نواز شاہ کا طوطی بولتا تھا، اداکاری کا وہ بھی ماہر تھا مگر آبنوسی انقلابی اس فن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، شاہ اور اس کے نظام کا قلع قمع کرکے جنہوں نے اپنے تخت گاہ کا پورے ملک کو اسیر بنا دیا۔

انقلابیوں نے بھی خوف اور نفرت کو ہی بنیاد بنایا، امریکہ اور اسرائیل سے نفرت۔ انکل سام سے ان کے تعلقات کبھی آسودہ نہیں رہے، مفادات کے خاطر مگر دونوں اطراف کے درمیان مفاہمت ہے، اس درجے کی مفاہمت کے دونوں بالواسطہ عراق کی حکومت میں شراکت دار ہیں۔

قاسم سلیمانی ایرانی خارجہ محاذ کے اہم کھلاڑی وداخلی سیاست کے اہم اداکار تھے۔ بیت المقدس سے موسوم ان کی القدس ملیشیا نے بیت المقدس کے علاوہ قریبا ہر شہر کا رخ کیا، اور جس شہر کا بھی رخ کیا اس کو تہ تیغ کردیا، تباہ حال شہروں کے ملبے کے ساتھ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے سلیمانی کی کئی تصاویر ہیں۔ یہ امریکی یا اسرائیلی نہیں شامی اور عراقی شہر تھے، جن کے باسیوں نے سلیمانی کی موت پر مٹھائیاں بانٹی۔

ایرانی عوام بھی اب آبنوسی نظام سے بیزار ہیں۔ بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ عوام کو رام کرنے کے کے لیے اس نظام کے پاس امریکہ مخالف اور فلسطین حمایتی وہمی نعروں کے سوا کچھ نہیں، عراق اور لبنان میں بھی عوام ایرانی ملیشیاوں کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ کہنے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ سلیمانی کی قربانی خطے میں ممکنہ پستی سے حفظ ماتقدم کے لیے دی گئی، چچا ٹرمپ کو بھی ایک عدد سیاسی کامیابی کی ضرورت تھی، حالیہ سیاسی اداکاری دونوں اطراف کی جانب سے ایک دوسرے کی ضرورتوں کے احترام کا نتیجہ تھا۔

حقائق نہیں یہ محض ایک نظریہ ہے، امریکہ۔ ایران دشمنی مکمل فریب بھی نہیں، سیاسی ضرورتیں البتہ ایک حقیقت ہیں جن کے بندھن میں ہر ملک بندھا ہوا ہے، سیاسی اداکاری اس بندھن کا بھرپور توڑ ہے، بالاکوٹ اور 27 فروری ہو یا امریکہ ایران مخمصہ، اس توڑ کا استعمال ہر کوئی کرتا ہے۔

Facebook Comments HS