ہزار شُکر کہ مُلّا ہیں صاحبِ تصدیق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درشت چہرہ، کرخت تیور، ماتھے پہ بل، آنکھیں انگارہ، بھنچے ہونٹ، چیختی ہوئی آواز:

“مذہب پر سال کے تین سو پینسٹھ دن عمل کرنا ہے “

سوال:

” کس چیز پر؛ بنیادی مذہبی تعلیمات اور مذہب کی روح پر یا فرقہ سے تعلق رکھنےوالی ڈھیروں ڈھیر رسومات پہ”

غصے میں آگ بگولا اور الزام تراشی،

” آپ لوگ دہریہ ہیں “

امریکہ میں کچھ احباب کی محفل میں گرماگرم بحث تھی کہ بیرون ملک رہنے والوں کو اپنے بچوں کی تربیت میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟ مذہب کی طرف راغب کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے؟ مذہبی پہچان کس طرح دھندلی پڑتی ہے؟ رنگا رنگ مذہبی رسومات کا انبار بچوں کو کس قدر زچ کرتا ہے؟ مختلف فرقوں کی اپنی جداگانه سوچ جو بنیادی اسلامی تعلیمات سے دور دکھائی دیتی ہے، کس طرح بچوں کو اور بھی کنفیوز کرتی ہے؟

ہمارا خیال تھا کہ والدین کا جدید تہذیب کے مزے لوٹنا، آسائش بھری زندگی بسر کرنا اور یہ توقع رکھنا کہ نئی نسل قرون اولیٰ کے عہد میں بھی زندہ رہے، ایک ایسا تصور ہے جو صرف سرکس میں تنے ہوئے رسے پہ اپنا توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کرتب کا ہر لحظہ اپنی زندگی کا آخری لمحہ گردانتے ہوئے ایک بازی گر ہی سوچ سکتا ہے۔

بحث و مباحثے میں ایک صاحب جو اختلاف رائے کے عادی نہ تھے، بلبلا کر کچھ لوگوں کو دہریہ بنا کے محفل سے واک آؤٹ کر گئے اور ہمارے لئے بہتسے سوچ کے دریچے وا کر گئے۔ بہت سے سوال پوچھنے کو دل چاہا!

مذہبی روایات، رسومات اور اندھی عقیدت میں جکڑے ہوئے لوگوں کی فخر سے تنی گردنیں، غرور سے لبریز رویے، آ خر کیوں؟

ان صاحبان کی ہر ایک ادا، اپنے لئے فخریہ اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کےلئے استہزائیہ، آخر کیوں؟

مذہب کی بنیاد پہ خودساختہ برگزیدگی اور نیکیوں کے زعم میں تکبر کی لکیروں سے بھرے ہوئے چہرے، آخر کیوں؟

یہ یقین اور اعتماد کہ صرف اور صرف وہ ہی کائنات کے مالک کے پسندیدہ بندے ہیں، آخر کیوں؟

سوچ کے اس انداز میں جو ان کا ہمراہی نہیں ہے یا اختلاف رائے کا مجرم ہے، وہ خدا کے حضور راندہ درگاہ ٹھہر چکا، یہ خیال آخر کیوں؟

ان کے عقیدے یا ذاتی رائے سے انحراف کرنے والوں کو پھٹکارنا اور ایک عدد فتویٰ عنایت کرنا فرض منصبی، آخر کیوں؟

سوالوں کے جواب ملنا تو عبث ٹھہرا، لیکن سوچ کے کچھ در وا ہو جاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے آپ کو برگزیدہ سمجھنے والوں کا رب کائنات سے براہ راست رابطہ قائم ہو چکا، راندۂ درگاہ کی فہرست ان کی نظر سے گزر چکی، جزا اور سزا کے نظام جس کا ویسے تو قیامت کے دن کا وعدہ ہے، کا کچھ حصہ ابھی سے لاگو کرنا فرض منصبی ٹھہرا۔ مذہبی چولا اوڑھنے والوں کے خیال میں انہیں یہ حق حاصل ہے کہ ذاتی معیار سے فروتر ٹھہرنے پر جب چاہیں، جیسے چاہیں طعن وتشنیع کے تیر برسا کے معتوب ٹھہرائیں۔

اس طریق عمل سے حاصل ہونے والے فائدوں سے کسی کو انکار نہیں۔ ان جنونیوں کے ثواب کی پوٹلی تو بھاری ہوتی ہی ہے، انا کا غبارہ بھی پھول جاتا ہے۔ گاہے گاہے اس دوڑ میں ان سے پیچھے رہ جانے اور زندگی کو مذہب کی جدی پشتی رسومات کی بجائے ایک فلسفہ سمجھ کے بسر کرنے والوں کی سرزنش کے ساتھ ساتھ انہیں یہ باور کروانا کہ وہ جنت کے دروازے سے کتنی دوری پہ کھڑے ہیں، سکون آمیز خوشی عطا کرتا ہے۔

مذہب کو جتنا ان لوگوں نے اپنی جا بجا تنقید کے ذریعے نقصان پہنچایا ہے، انہیں اس کا اندازہ ہی نہیں۔ موجودہ ہزاریے کا بچہ دلیل کی دھار پہ چلنا چاہتا ہے، بھلے پاؤں زخمی ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ ایسے میں اندھی تنقید کے زہریلے تیر بات الجھا سکتے ہیں، سلجھانے کی امید نہین رکھی جا سکتی۔

ہماری صاحبزادی شہر بانو نے بہت بچپن سے اسلامی مدرسہ جانا شروع کیا۔ بہت کچھ سیکھا اور عمل کرنا شروع کیا۔ اسی دوران دوبئی میں ہونے والےبین الاقوامی لٹریری مقابلے میں اول آنے پہ مقامی اخبار کے سرورق پہ تصویرچھپی جس میں وہ سکول یونیفارم میں ہاتھ میں ٹرافی تھامے کھڑی تھی۔ اگلی ہی اسلامی کلاس میں سب بچوں کے سامنے کھڑا کر کے پوچھا گیا کہ شہربانو کی تصویرحجاب میں کیوں نہیں تھی؟ وہ سکول حجاب کے بغیر کیوں جاتی ہیں؟ کافی سرزنش کے بعد بچی سے اس بات کا عہد لیا گیا کہ آئندہ وہ اس حلیے میں سکول نہیں جائیں گی۔ تمام بچوں کے سامنے اس ڈانٹ پھٹکار سے جو حال ہوا، سو ہوا، وہ تو ایک علیحدہ کہانی ہے، لیکن شہربانو نے اس دن گھر آ کے دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ وہ اب کبھی مدرسہ نہیں جائیں گی۔

اگلا حادثہ صاحبزادے کے ساتھ ہوا۔ حیدر نے نانا کو کبھی نہیں دیکھا سو ان کےمتعلق جاننے کے شوقین ہیں۔ انہیں یہ بات بہت خوش کرتی ہے کہ ان کا میوزک کا شوق نانا پہ گیا ہے۔ نانا بھی وہ جو تہجد گزار تھے۔ مدرسے میں اپنے میوزک کے شوق پہ بات کرنے پہ ڈانٹ کے ساتھ ساتھ حیدر کی جس طرح ہنسی اڑائی گئی، اس دن حیدر کی آنکھ میں آنسوؤں کے ساتھ ساتھ بہت سے سوال بھی تھے۔ ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔

ہمارا ماننا یہ ہے کہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کی گود میں کھیلتے ذہین ومتجسس بچےکو محض سرزنش اور عذاب کے ڈر سے مذہب کی طرف راغب نہیں کیا جاسکتا۔ کاش مذہب کی تبلیغ و ترویج کرنے والے اپنی انا کے غبارے اور برتری کے زعم سے باہر نکل کے یہ بات سمجھ سکیں۔ دیکھیے اقبال اس موقع پر کیا خوب یاد آئے اور کس اچھے ڈھب سے بات کہی

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب‌ خانے میں

فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *