”میرے پاس تم ہو“ : خاتونِ خانہ اور ورکنگ لیڈی کے بارے میں غلط فہمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیل الرّحمٰن قمر کے کے حال ہی میں آنے والے ڈرامہ سیرئیل ”میرے پاس تم ہو“ کے بارے میں بہت سی چہ مگوئیاں ہورہی ہیں لیکن جس بات سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف پہنچی ہے وہ خاتونِ خانہ اور ورکنگ لیڈی کے بارے میں کھینچا گیا ایسا نقشہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر یہ نظریہ پدرسری نظام کا عکاس ضرور ہے۔

سب سے پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ جاب کرنے والی عورتوں کا کردار خراب ہوتا ہے اور وہ بڑی آسانی سے اردگرد کے مردوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتی ہیں یا پھر کم از کم عورت کارڈ کا استعمال ورکنگ پلیس پر اس طرح کرتی ہیں کہ ان کو نوکری حتّیٰ کہ پروموشن کے لئے بھی کسی طرح کی قابلیت دکھانا درکار نہیں ہوتی وہ شارٹ کٹ لے کر بڑی آسانی سے مرد کو مات دے جاتی ہیں جب کہ مرد بیچارے کو وہی مقام حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔

ایسی غلط فہمی صرف عورت کے بارے میں رکھی جاتی ہے جب کہ تصویر کا دوسرا رخ کیا ہے یہ کوئی نہیں دیکھتا۔ دوسری کہانی کیا ہے۔ کیا مرد بھی عورت کا استعمال کرتا ہے یا صرف عورت ایسا کرتی ہے؟ کیا مرد ترقی کے راستے پر چڑھنے کے لئے کسی قسم کے شارٹ کٹ کا استعمال نہیں کرتا۔ اور جب عورت مرد کا استعمال کرتی ہے تو اس لمحے کیا مرد صرفعورت کے ہاتھوں استعمال ہورہا ہوتا ہے؟ کیاوہ بھی عورت کا استعمال کر نہیں رہا ہوتا؟

ڈرامے میں بھی یہی کہانی ہے۔ مہوش کو نوکری ملنے اور ترقّی کی وجہ یہی دکھائی گئی ہے کہ اس کا باس اس کی قربت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسا آپ نے بہت بار سُنا ہوگا کسی بھی مرد کے منہ سے یا کسی بھی عورت کے لئے کسی عورت ہی کے منہ سے ”میں جانتی ہوں تم بیڈروم کے راستے سے اسمبلی میں آئی ہو۔ “ ایسا فردوس عاشق اعوان نے کشمالہ طارق سے ایک ٹاک شو میں کہا۔

اگلا سوال یہ کہ کیا عورتیں عورت کارڈ کا استعمال بالکل نہیں کرتیں۔ ایسا کہنا بھی درست نہیں۔ لیکن یہ نظریہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں بہت مستحکم ہے اور اس لئے عورت کی نوکری کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یا تو تمام بری عورتیں جاب کرتی ہیں یا پھر تمام جاب کرنے والی عورتیں خراب کردار کی مالک ہوتی ہیں۔ جب کہ یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ ویسا ہی کھڑا ہے کہ عورت کاکردار کس کی وجہ سے خراب ہوتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے خراب ہوتا ہے اس مرد کا اپنا کردار کیسے خراب ہونے سے بچ جاتا ہے؟

اس بنیادی پہلو سے اور بہت سے پہلو جڑے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بات صرف کردار کی نہیں۔ مرد عورت کوحیا کا لبادہ اوڑھا کر سچا نہ سہی جھوٹا محافظ بن کر عورت کو کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے اور اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ چادر اور چار دیواری ہی تمہاری جنت ہے اور تمہیں کیا چاہیے۔ اس ڈرامہ سیرئیل میں بھی ایسا نقشہ پیش کیا گیا ہے کہ عورت اپنے گھر کی جنت چھوڑ کر باہر قدم رکھتی ہے۔ مرد کو یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ عورت اگر خود مختار ہوگئی تو وہ گھر کے خرچ کے عِوض اپنی مرضی اس پر کیسے مسلط کرے گا۔ کہیں عورت خود مختار ہو کر اپنی ذات کی پہچان کا سفر نہ طے کرنے لگے۔ اگر ایسا ہوگیا تو وہ اپنے اوپر کئیے جانے والے ظلم اور استحصال کے خلاف آواز نہ بلند کرنے لگے اور کہیں بغاوت پر نہ اُتر آئے۔ ایسے محرکات کو پسِ پشت ڈال کر شرم و حیا کی آڑ میں عورت پر حد بندیاں ڈالی جاتی ہیں۔

ایک اور غلط فہمی جو ہمارے معاشرے میں جاب کرنے والی خاتون کے بارے میں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ ایسی عورت کے بارے میں یہ سمجھا جاتاہے کہ وہ یا تو لالچی ہے یا پھر گھریلو ذمّہ داریوں سے بھاگ رہی ہے۔ مرد کا کام کمانا اور عورت کا کام برتن مانجنا ہے۔ اگر کبھی پیغمبرﷺ کی مثال انہیں دے دی جائے کہ وہ گھر کے سب کام کرتے تھے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو پیغمبر تھے ہم عام آدمی ہیں ان کی برابری کیسے کریں۔ جہاں تک بات گھر کی ذمّہ داریوں سے بھاگنے کی ہے تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جاب کرنے والی خواتین گھریلوخواتین سے زیادہ چُست ہوتی ہیں وہ دوہری ذمّہ داری نبھاتی ہیں۔ اپنی شخصیت کا خیال بھی رکھتی ہیں۔ خُود کو صاف ستھرا گھریلو عورتوں سے زیادہ رکھتی ہیں۔ جبکہ لوگوں نے یہ تصّور قائم کر رکھاہے کہ وہ ملازمت کرکے آوارہ کتّوں کی طرح گھوم رہی ہیں اور عیش لوُٹ رہی ہیں۔

جہاں تک بات عورت کی نوکری کرنے کی وجہ کی ہے تو اس کو لالچی دکھانا جیسا کہ آپ نے دیکھامہوش بہت لالچی ہے۔ نیکلس کو دیکھ کر اس کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ اور اس کی نوکری کرنے کی وجہ بھی اس کا لالچ دکھایا گیاہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بہت سی خواتین مالی مسائل کی وجہ سے نوکری کرتی ہیں۔ وہ علم سیکھنا اور سکھانا چاہتی ہیں۔ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتی ہیں۔ وہ گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے بچنا چاہتی ہیں۔ وہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنی ذات میں خوُد اعتمادی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

دوسری طرف گھریلو عورتوں کو ایسادکھایا گیا ہے کہ وہ جنت میں رہتی ہیں۔ سارا دن گھر میں آرام کرتی ہیں۔ جنت جیسا گھر محبت کرنے والا شوہر چھوڑ کر وہ پیسے اور ناجائز تعلق کے لئے گھر سے باہر قدم رکھتی ہیں۔ جب کہ گھریلو ناچاقی اور تشدد جیسے واقعات ہمیں آئے دن سننے کو ملتے ہیں۔ اور عورتیں سب اس لئے برداشت کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہوتا۔ گھریلو سیاست بھی ایک گھناٶنی چیز ہے۔ گھریلو عورتوں کی زندگی کا محور ان کا شوہر بھائی باپ یا بیٹا ہوتا ہے۔

اس لئے اپنے اپنے رشتے کا بھرم قائم رکھنے کے لئے متعلقہ عورت چاہے وہ بہن ہو یا بیٹی بیوی ہو یا ماں مرد پر اپنا اپنا حق جتاتی ہے۔ ایسی گھریلو سیاست میں مرد درمیان میں پِس جاتا ہے۔ اگر ان عورتوں کے پاس کوئی ہنر ہو تو وہ اس کو کام میں لا کر نہ صرف اپنی سوچ کے محور کو منتشر کر سکتی ہیں بلکہ مرد کو بھی کچھ سپیس مل جاتی ہے۔ اگر عورت کی ملازمت کو بُرا نہ سمجھا جائے تو وہ مرد کا مالی بوجھ بانٹ سکتی ہے۔ دونوں برابری کے راستے پر چلیں تو مردبھی خوش و خرم زندگی گزار سکتا ہے کیونکہ پدرسری نظام کا شکار صرف عورت ہی نہیں مرد بھی ہوتا ہے۔ اور فیمینزم کا مقصد مرد کے خلاف آواز اٹھانا نہیں بلکہ پدر سری نظام کے خلاف آواز اٹھاناہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *