بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علامہ نیاز فتح پوری اپنی تصنیف ”تاریخ کے گمشدہ اوراق“ میں کالیگولا بادشاہ کے بارے میں لکھتے ہیں جو تخت روما پر 73 ؁ ء پر بیٹھا۔ بادشاہ کا خون آشام مزاج اسے انسانوں کے قتل پر ابھارتا رہتا تھا۔ ایک دن ان امراء اور غلاموں کو قتل کرنے کا حکم دیا جن پر سازش کا شبہ تھا۔ اہل رومامیں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اس کا ذکرکریں بس اتنا کہہ دیا کرتے تھے کہ بادشاہ اس وقت سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ ایک دن کالیگولا اپنے ایک مصاحب پر برہم ہوا اور اسے محل کی کھڑکی سے باہر پھینکوا دیا۔

بادشاہ اس کے بعد اپنے گھوڑے پر شہر کے دور ے پر نکلا۔ باشندگان روما نے یہ منظر دیکھا اور فقط اتنا کہا بادشاہ اس وقت سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ ایک ان اس نے اپنی محبوبہ سے نشہ شراب و محبت میں اپنے چار امراء کی پیٹھ پر کوڑے مارنے کو کہا، محبوبہ نے بادل نخواستہ ان امراء کی پیٹھ پر کوڑے برسائے لیکن روما کے رہنے والوں نے فقط اتنا کہا کہ بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ ایک دن اس کی دایہ جس نے بادشاہ کو گود میں کھلایا تھا اس سے ملنے آئی اور اپنی بیٹی کے لیے کسی اچھے رشتے کی سفارش کی۔

بادشاہ نے دایہ کی لڑکی کو دیکھا تو اس پر لٹو ہو گیا اور اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ لڑکی اور اس کی ماں نے زہر کھا کر جان دے دی اور جب اس کے لڑکے نے بادشاہ سے احتجاج کیا تو اسے قتل کر کے اس کی نعش سڑک پر پھینکوا دی۔ روما کے شہریوں نے نعش کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ بادشاہ اس وقت سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ ایک روز بادشاہ معبد پہنچا جہاں ایک دیوی کا مجسمہ تھا۔ معبد کے اندر اس کی نظر ایک بوڑھے پجاری پر پڑی۔

بادشاہ نے اس سے عمر پوچھی تو پجاری نے سو سال سے زیادہ بتائی۔ بادشاہ نے اپنے ایک غلام کو کہا اس بوڑھے پجاری کی گردن اڑا دو۔ بادشاہ کے بقول روما کی دیوی کے لیے یہ تکلیف دہ ہے کہ اس کی خدمت ایک ضعیف و ناکارہ شخص کے حوالے کی جائے۔ اس کی گردن اڑاتے وقت معبد میں روما کے کچھ افراد بھی تھے لیکن اس ظالمانہ عمل کو دیکھ کر انہوں نے فقط یہ کہا کہ بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ ایک روز کالیگولا دریا کی سیر کو نکلا۔

دو خوبصورت کشتیوں میں بادشاہ اپنے مصاحبوں اور غلاموں کے ساتھ دریا کی سیر کے لیے روانہ ہوا۔ دوران سیر بادشاہ کو اچانک خیال سوجھا اور اس نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسان کس طرح پانی میں ڈوبتا ہے۔ دریافت کیا اس وقت کتنے غلام دونوں کشتیوں پر موجود ہیں۔ پتا چلا تیس غلام بادشاہ اور امراء کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ حکم ہوا انہیں پانی میں پھینک دیا جائے۔ چنانچہ وہ پانی میں پھینک دیے گئے۔ اگر کوئی غلام اپنی جان بچانے کے لیے کشتی کی جانب ر خ کرتا تو اسے چپوؤں سے مار مار کر بھگا دیا جاتا۔

دریا کے کنارے روما کے لوگ کھڑے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ آپس میں کہتے تھے بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ ایک روز کشتیوں میں سجائی رقص و سرور کی محفل میں بہت سی کنیزوں کے گانے کی آوازوں میں اسے ایک آواز بہت بھائی۔ معلوم کرنے پرپتا چلا کہ مصری کنیزہے۔ بادشاہ نے اسے بلایا اور اس پر فریفتہ ہو گیا۔ اچانک بادشاہ کو بتایا گیا کہ نحوست کے سایوں سے بچنے کے لیے کشتیوں سے اتر کر ساحل پر آنا چاہیے۔ جب سب اتر گئے تو بادشاہ نے کشتیوں میں سوراخ کر کے انہیں غرقاب کرنے کا حکم دیا۔

جب کشتیاں ڈوب رہی تھی تو ایک کشتی سے مصری کنیز کے گانے کی مدھ بھری آواز ابھری۔ بادشاہ کو بتایا گیا کہ کنیز کشتی سے نہیں اتر سکی۔ جب کشتی ڈوب گئی تو آواز آنا بھی بند ہو گئی۔ کہتے ہیں اس وقت بادشاہ کی ایک آنکھوں سے آنسو ٹپکے لیکن روما کے لوگوں نے پھر بھی کہا بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے۔ سلطنت روما کے اس بادشاہ اور عوام کی کہانی ایک استعارہ ہے۔ یہ ہر ایک اس معاشرے پر صادق آتی ہے جہاں حکم ران ہو یا کوئی اور بالادست قوت اپنی ذاتی خواہش کی اسیر ہو کر کوئی کام کرتی ہے لیکن عوام بے بسی میں فقط یہی کہہ پاتے ہیں کہ بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے۔

پاکستان کی مثال ہی لے لیں۔ آزادی کے ستر برسوں سے زائد عرصے میں اس ملک، آئین، عوامی حاکمیت اور لوگوں کے حقوق کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو نہیں ڈھایا گیا لیکن ہر بار اس جرم سے نظریں چرائی گئیں۔ جب معاشرے جرائم کی پردہ پوشی اور اس سے نظریں چرانے لگیں تو پھر مطلق العنانیت کو شہ ملتی ہے۔ جب طاقت کے سامنے کوئی بند نہ باندھا جائے تو پھر وہ معاشرے کی ساری اقدار و روایات کو خس و خاشاک کو بہا کر لی جاتی ہے۔ پاکستان میں اگرچہ ایسی آوازیں بلند ہوتی رہیں جو ریاست، حکومت اور سیاسی، لسانی و مذہبی گروہوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم پر سراپا احتجاج رہیں جنہیں غداری، ملک دشمنی اور کفر کے فتوؤں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

پاکستان کے معاشرے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو تو اسے سفید کو سفید اور سیاہ کو سیاہ کہنے کی روش اپنانی ہو گی۔ فلموں اور کتابوں پر پابندی لگانے سے کسی ظلم کو خاتمہ نہیں ہو سکتا بلکہ در حقیقت ہم اس ظلم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ایک کھلا، آزادانہ اور منطقی انداز میں سوچنے والا معاشرہ ہی آگے کی جانب گامزن ہوتا ہے۔ ہم بدقسمتی سے آج بھی زمانہ قدیم میں زند ہ ہیں کہ ظالم کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے اس کے ٹل جانے کے بے ثمر خواب دیکھتے ہیں۔

خوف و جبر سے ظلم دیکھ کر خاموش رہنے سے اگر اس کا خاتمہ ہوتا تو دنیا کی تاریخ میں ایسے لوگوں کے ذکر سے نہیں جگمگاتی جو ظلم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے چاہے اس کے لیے انہیں جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ”بادشاہ سیر و تفریح میں مشغول ہے“ حال میں بھی زندہ درگو ر ہوتے ہیں تو تاریخ میں تو ان کا نام و نشان تک نہیں ملتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *