سبز باغ
دنیا میں حسین و سر سبز جنگلات، باغات اور پہاڑوں کا نظارہ کثرت سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر دنیا میں ایک مصنوعی باغ ایسا بھی ہے جہاں خیالات کو اس حد تک پروان چڑھایا جاتا ہے کہ باغ کے مکین خیالات کی پرستش کرتے کرتے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہ دنیا کا ایک انوکھا باغ ہے جہاں کے منتظمین، لوگوں کو پھل کے بجائے خواب و خیالات فروخت کرتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ باغ بے شمار قدرتی پھل پھول سے مالامال ہے مگر باغ کے مکینوں کا ایک بڑا حصہ اس سے یکسر محروم ہے۔
مگر خیالات کی پرستش میں اتنی شدت ہے کہ باغ کے مکین خوابوں کی دنیا کو اپنے آپ سے کبھی الگ کرنا نہیں چاہتے۔ باغ میں ایک ایسا طبقہ برسر اقتدار ہے جو خوابوں کی دنیا کا امیر ہیں، اور یہ طبقہ خوابوں کو لوگوں کے اذہان میں رائج کر کے اقتدار کی شاخ تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا طبقہ بھی لگ بھگ پہلے والے طبقے سے ملتا جھلتا ٹولہ ہے جو عرصہ دراز سے اقتدار کی شاخ میں بیٹھ کر باغ کے پھل سے لطف اندوز ہوا ہیں۔ تیسرا طبقہ یہاں کے عام مکین ہے جو ایک طویل عرصے سے خوابوں کی جنت میں رہ کر دل کو خوش رکھنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر اس طبقے کے پاس خوابوں کی چھتری تلے رہنے کے علاؤہ کوئی حل نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس ماسوائے بالا طبقات کی خوشامد کرنے کے سوا کوئی اختیار نہیں ہے۔ باغ کے ثمر کا بڑا حصہ بالا طبقات کے کنٹرول میں ہے مگر خوابوں کو سجانے کا حق نچلے طبقے کو میراثی طور پر ان کے حصے میں دی گئی ہے۔
اگر اس باغستان کی منتظم اعلیٰ کی بات کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عوام کو خوابوں کی ٹوکریاں سجائے ہمہ وقت لوگوں میں مقبول ہوتا رہا ہے اور آج ان کی حکومت کے ڈیڑھ، دو سال گزر گئے مگر تاحال خوابوں کا دسترخوان صدا بچھا ہوا ہے۔ خوابوں کو عملی شکل دینے کی جہاں بات اجایے تو پھر فلسفیانہ انداز میں طویل باشن دینے کا ایک ہی مقصد زاہر ہوتا کہ یہ کام ’ناممکن‘ ہے۔ یا پھر ایک نئی فلسفیانہ نظریے کے ساتھ عوام میں نمودار ہوں گے۔
منتظم اعلیٰ کے نزدیک اس کا حریف ٹولہ اس باغ کی اصل زوال پذیری کی وجہ ہیں جس نے باغ کے تمام وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی ہے اور اب وہ انہی کی لوٹی ہوئی دولت سے باغ کی رعنائیوں کو بحال کرے گا۔ باغستان کے رکھوالوں کا کردار بہت اہم ہے جن کا اثر اس سماج کے ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ رکھوالے ہی باغ کے حفاظت کے حقیقی ضامن ہے اس لیے اس مقدس
محکمے پر سوال اٹھانا وفاداری پر شک کرنے کے برابر ہوگا۔ یہاں بسنے والے مکین انہی کی بدولت گہری خوابوں کی نیند سو جاتے ہیں۔
دوسری طرف نوجوانوں کا ایک گروہ ہاتھوں میں ڈگریاں لیے ایک کروڑ نوکریوں کی راہ تک رہے ہیں اور ان کے آنکھوں میں باعث روزگار ہونے اور روشن مستقبل کے حسین خواب واضح طور پر نظر آرہے ہے۔ یہاں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا ہر فرد اس امید میں زندگی گزار رہا ہے کہ وہ دن آئے گا جب اس سبز باغ میں حقیقی تبدیلی آئے گی اور ان اعلیٰ ادنی طبقات میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ اس سماج میں یہی ادنیٰ طبقہ ہے جو اس سماج کے وسائل اور ذخائر سے محروم یے۔
ان کے پاس قوت محنت بیچنے کے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں جبکہ اس کے برعکس اعلیٰ طبقہ جو ابادی کے لحاظ سے تو بہت چھوٹا ہے مگر زراع پیداوار پر براہ راست کنٹرول انہی کا ہی ہے۔ حکومت میں بھی نمایندگی اعلیٰ طبقے کی ہی قائم ہے، مگر جمہوریت کا جھوٹا ڈھونگ رچانے کا مقصد عوام کو صرف اقتدار میں شراکت کا محض احساس دلانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ طبقاتی تقسیم نے اس معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان ایک خلا کو جنم دیا ہے جس کی وجہ سے طبقات کے باہم کشمکش کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔
طبقاتی نظام میں جہاں ایک طبقہ امیر سے امیر تر ہیں تو دوسری طرف نچلا طبقہ اس سماج میں اپنا وقار کھو چکا ہے۔ سماج میں اس کی ضروریات اور حاجات پوری نہ ہونے کی وجہ سے اسے معاشرے سے بیگانگی محسوس ہوتی ہے۔ اعلیٰ طبقے کے پاس وسائل دستیاب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک اکثریتی طبقہ ان وسائل سے محروم ہے۔ آج سماج میں اگر جاگیر دار اور سرمایہ دار منافع کے اس کاروبار میں خود کو مستحکم سمجھتے ہیں تو اس کے پیچھے محنت صرف اور صرف محنت کش طبقے کی ہے۔ اور یہ سماج محنت کش طبقے کی محنت سے قائم ہے مگر المیہ یہ ہے کہ محنت کش خود اپنے تیار کردہ اشیاء کو اپنے استعمال میں لانے کا حق نہیں رکھتا۔
درج بالا جس خوابوں سے سجے باغ کی بات ہورہی تھی اسی باغ میں طبقات میں تقسیم معاشرے کا گہرا عنصر پایا جاتا ہے اور اس طبقاتی نظام نے ایک اکثریتی طبقے کو اسی کے اپنے باغ میں ہی محکوم بنا کے رکھا ہوا ہے اور ان محکوموں کو بہتر سے بہتر مستقبل کے خواب سجائے حکمران ان کو دلاسا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سماج مزدور کی محنت سے زندہ ہے اور مزدور طبقہ اس سماج کا اہم جز ہے اس لیے اس سماج میں حکمرانی کا حق بھی صرف اور صرف محنت کش طبقے کو حاصل ہونی چاہیے۔ محنت کش طبقے کی حکمرانی کے حصول کے لیے حقیقی انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے جوکہ مزدور طبقہ خود لا سکتا ہے وگرنہ استحصالی طبقہ محنت کشوں کو سبز باغ دکھا کر اور کھوکھلی تبدیلیاں متعارف کرا کر محنت کشوں کا استحصال کرتا رہے گا


