جب عثمان بزدار کو انہی کے دفتر سے باہر بٹھا دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

26 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس لمحے یقیناً بدمزہ ہوئے ہوں گے جب وزیراعظم عمران خان نے ان کے 2 ماتحت سرکاری افسران کے سامنے انہیں کمرے سے باہر چلے جانے کو کہا۔

باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 26 جنوری کو لاہور آکر وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس میں صوبائی چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو بھی بلا لیا۔ کمرے میں صرف 4 افراد موجود تھے، وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر۔ وزیراعظم نے وہاں موجود دونوں اعلیٰ افسران سے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ان کے تحفظات کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے جب ان کا جواب سننا چاہا ”جی، آپ کیا کہتے ہیں؟ “ تو دونوں اعلیٰ افسران نے کچھ کہنے میں تامل سے کام لیا اور خاموش رہے۔

اس پر وزیراعظم عمران خان نے ان کی ہچکچاہٹ دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو کمرے سے باہر چلے جانے کو کہا، جو اپنے ہی آفس روم سے باہر جا کر دوبارہ اندر بلاوے کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے دونوں اعلیٰ بیورو کریٹس سے تنہائی میں پوچھا ”چلیں، اب کسی جھجک کے بغیر آرام سے مجھے بتائیں“

صوبائی چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے ”کپتان“ سے کہا کہ چیف منسٹر صاحب عجیب و غریب فرمائشیں کرتے رہتے ہیں کہ اس تحصیل دار کو ٹرانسفر کردو، اس پٹواری کو وہاں لگا دو، فلاں جگہ نالیاں پکی کرنی ہیں، فنڈ ریلیز کروادو، سر، ڈویلپمنٹ فنڈز اپنی روٹین میں ایک پروسیجر کے بعد جاری ہوتے ہیں ”اسی طرح آئی جی پولیس نے بھی وزیراعظم کو اپنے“ باس ”کی ڈیمانڈز بتاتے ہوئے کہا“ سر، وہ کبھی کہتے ہیں فلاں افسر کو فلاں جگہ پوسٹ کردیں، فلاں تھانے میں فلاں ایس ایچ او لگا دیں ”

ذرائع کے مطابق دونوں اعلیٰ افسران نے وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب بارے یہ بھی کہا کہ وہ ہر آدھے گھنٹے، گھنٹہ بعد فون کرکے بلانے لگ جاتے ہیں کہ آجائیں، اور کہا ”سر، اب اس طرح تو کام نہیں ہوتا“ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پوری تفصیل سے ان کی باتیں سنیں اور جواب میں ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے تاکید کی ”آپ نے بالکل کوئی دباؤ نہیں لینا اور کسی بھی قسم کے پریشر کے بغیر کام کرتے رہیں، اور ان سے کہا۔

”! Gentlemen، I am with you“

اس دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنے آفس کے باہر بیٹھے انتظار کرتے رہے۔ ۔ ۔

شریف فیملی میں اختلافات بڑھ گئے ہیں اور نواز شریف شہبازشریف کیمپس کے درمیان رسہ کشی شدید ہو گئی ہے، اطلاعات ہیں کہ لندن میں نواز شریف نے اپنی رہائش اور شہبازشریف نے مشاورتی بیٹھک کی جگہ تبدیل کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ”جلا وطنی“ میں بھی سابق حکمران خاندان کی جاسوسی اور ”نگرانی“ کی جارہی ہے جس پر شریف فیملی مزید چوکنی ہو گئی ہے، لہٰذا اب نواز شریف بھی برمنگھم جا کر پارٹی ہائی کمان کی اس اھم مشاورتی میٹنگ میں شریک ہوں گے۔ ۔ ۔

اطلاعات ہیں کہ لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ”ایون فیلڈ“ اپارٹمنٹس میں قیام پذیر سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کے بڑے صاحبزادے حسین نواز چند روز قبل اپنے ہاں لے گئے جبکہ کُچھ حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کے چھوٹے صاحب زادے حسن نواز کا جھکاؤ اپنے چچا شہباز شریف کے مؤقف کی طرف ہوگیا ہے جس پر ان کے ”ہارڈ لائنر“ بڑے صاحبزادے حسین نواز  نے والد کو نقل مکانی پر آمادہ کیا، اس لئے کہ حسین نواز اور مریم نواز پُوری طرح باپ کے ساتھ ہیں

جبکہ بعض حلقوں کے نزدیک ممکن ہے ایسا قدم ”محتاط“ رہنے کے طور پر اٹھایا گیا۔

دوسری طرف انہی دنوں میں شہباز شریف نے نہائت اھم مشاورت کے لئے پاکستان سے طلب کیے گئے چند مرکزی رہنماؤں کا اجلاس لندن کی بجانے برمنگھم میں رکھا ہے جہاں پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے حسن نواز کی ملکیت چند جائیدادیں پہلے سے موجود بتائی جاتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ لندن میں نواز شریف کی ابتدائی رہائش گاہ اور جہاں جہاں شریف خاندان کے لوگ سیاسی مشاورت کے لئے اب تک بیٹھک لگاتے رہے ہیں، ان تمام مقامات کی بگنگ کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ”نوُن لیگ“ کی لندن میں ”نُون لیگ“ کے بیک وقت 2 قائدین الگ الگ کام کررہے ہیں کیونکہ نواز شریف اور شہبازشریف، دونوں بھائیوں میں اختلاف رائے تو موجود ہے۔

دریں اثناء ”کپتان“ نے 26 جنوری کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بیٹھ کر اگرچہ وزیراعلیٰ عثمان بُزدار کے کندھے پر رکھ کر بندوق کا رُخ پشاور کی طرف کرکے فائر کھولا اور خیبر پختون خواہ کے صوبائی پریشر گروپ کو کچل کے رکھ دیا مگر دراصل وزیراعظم کا ہدف پشاور کے ساتھ ساتھ لاہور بھی تھا، جہاں ”کپتان“ نے درحقیقت اپنے اس اقدام سے پنجاب کو ایک ”سخت“ پیغام دے کر خوف پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ ۔

ذرائع کا کہنا ہے دراصل وزیراعظم کو پنجاب میں نئے وزیر اعلیٰ کے لئے مقتدر حلقوں کی اپرُوول کا چیلنج درپیش ہے، یعنی ابھی ایک ایسے ”امیدوار“ کی تلاش ہے جو تمام فریقین، بالخصُوص مقتدر حلقوں کے لئے قابل قبول ہو۔ وزیراعظم نے اپنی اس مشکل کا عندیہ پنجاب کی اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپنے اظہار خیال کے آغاز میں بھی یہ کہتے ہوئے دیا ”جسے نیا چیف منسٹر بناؤں گا، وہ 20 دن بھی نہیں چلے گا“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *