ڈاکٹر عاصم کا حور بنانے والا جادوئی ٹیکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ہمیشہ حیران ہوتے تھے کہ ڈاکٹر عاصم میں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ دنیا ان کی دیوانی ہے۔ آصف زرداری سب کو چھوڑتے ہیں کہ اپنا معاملہ خود دیکھو مگر ڈاکٹر عاصم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نیب بھی نون لیگ میں تو دوسری تیسری صف کی لیڈر شپ کو پکڑ رہی ہے مگر پیپلز پارٹی میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے سوا کسی کو پکڑا ہے تو وہ ڈاکٹر عاصم ہیں۔ کبھی پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے چار کھرب کی کرپشن کر رکھی ہے کبھی پتہ چلتا اہے کہ پانچ سال اندر رکھ کر بھی ان پر کرپشن ثابت نہیں کی جا سکتی۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ آصف زرداری اور نیب دونوں ان کے دیوانے ہیں۔

ہم حیران ہوتے تھے کہ ڈاکٹر عاصم کے نام میں ایسے کیا گن ہیں کہ سب ان سے یوں الفت رکھتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں۔ پھر کل وزیراعظم عمران خان نے بھی جب کراچی میں ”کامیاب نوجوان“ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کی تعریفیں کیں تو اصل بات کھلی۔ پتہ چلا کہ ڈاکٹر عاصم کے پاس ایسا ٹیکا موجود ہے جو لگانے کے بعد ایک عام سی ارضی نرس بھی جنت کی حور دکھائی دینے لگتی ہے۔ گمان ہے کہ کپتان کی یہ تقریر سنتے ہی شوکت خانم ہسپتال پر خواتین نے دھاوا بول دیا ہو گا کہ انہیں بھی وہ ٹیکا فراہم کیا جائے جو لگتے ہی ایک عام سی خاتون بھی حور بن جاتی ہے۔

تقریر کے دوران وزیراعظم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے ڈاکٹر عاصم کی طرف کیمرے کی توجہ بھی مبذول کروائی۔ وہ ان تصاویر سے مختلف دکھائی دے رہے تھے جو نیب جاری کرتی رہی ہے۔ غالباً وہ خود کو بھی ٹیکا لگاتے رہے ہیں اس لئے دن بدن جوان ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی شکل بدل گئی ہے۔

بہرحال اصل معاملہ یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم کے پاس خواتین کو حور بنا دینے والا ٹیکا موجود ہے۔ یہ کتنی بڑی ایجاد ہے؟ یہ تقریباً اتنی ہی بڑی ایجاد ہے جتنی آغا وقار کے پانی سے موٹر چلانے والی ایجاد تھی۔ آغا وقار کی ایجاد کے بعد ہمارا انحصار عربوں کے تیل پر ختم ہو جاتا۔ بجلی مفت ہو جاتی۔ لاہور کی نہر اور کراچی کے سمندر پر گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوتیں جو پانی کے مفت ڈبے بھر بھر کر اپنی گاڑی کے فیول ٹینک میں انڈیل رہی ہوتیں۔ مگر امریکہ نے سازش کر کے آغا وقار کو ٹی وی سے غائب کر دیا۔

اب ڈاکٹر عاصم کے حور بنانے والے ٹیکے کا سوچیں۔ اس وقت خواتین حور بننے کے لئے کاسمیٹکس یا کیمرہ فلٹرز کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ کاسمیٹک انڈسٹری کا 2017 میں حجم سوا پانچ کھرب ڈالر تھا اور 2023 تک یہ آٹھ کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ اتنا پیسہ خرچ کر کے بھی خواتین محض چند گھنٹے کے لئے ہی حسین بن سکتی ہیں اور اس دوران منہ دھونے سے کتراتی ہیں۔ یا پھر پلاسٹک سرجری کروانی پڑتی ہے جو نہ صرف بہت مہنگی ہوتی ہے بلکہ بگڑ جائے تو سرجری کروانے والی حور کی بجائے لنگور بھی بن سکتی ہے۔

اب ایسے میں اگر ڈاکٹر عاصم ایک ٹیکا لگا کر ہی کسی خاتون کو حور اور مرد کو غلمان بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو یہ کھربوں ڈالر ملیں گے اور دنیا بھر کی کاسمیٹک انڈسٹری موجودہ کاروبار ترک کر کے پاکستان کو رائلٹی دینے پر مجبور ہو جائے گی۔

ولایت میں اس سے پہلے کچھ دوسری ادویات اور مشروبات کے ذریعے خواتین کے حور بننے کا قصہ ہم نے پڑھ رکھا ہے۔ روایت ہے کہ ایک شخص ایک پب میں بیٹھا پی رہا تھا۔ ہر پیگ کے بعد وہ جیب سے بٹوا نکال کر اسے کھولتا، کچھ دیکھتا، بٹوا بند کر کے جیب میں رکھتا اور ایک مزید پیگ کا آرڈر دے دیتا۔ بارٹینڈر کا تجسس سے برا حال ہو گیا۔ آخر اس نے پوچھ ہی لیا کہ وہ شخص بٹوے میں کیا دیکھتا ہے۔

”میں یہ دیکھتا ہوں کہ پینا ختم کر کے گھر جانے کا وقت ہو گیا ہے یا نہیں۔ “ شرابی نے جواب دیا۔
”بٹوے سے یہ کیسے پتہ چل سکتا ہے؟ اس میں کیا ہے؟ “ بارٹینڈر نے حیرت سے پوچھا۔
”اس میں میری بیوی کی تصویر ہے۔ جب وہ حور بن جائے تو مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ گھر جانے کا وقت ہو گیا ہے“۔ اس شخص نے پورا جام حلق میں انڈیلتے ہوئے جواب دیا۔
وہ شخص بھی اگر ڈاکٹر عاصم کا ٹیکا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اتنا وقت اور پیسہ برباد نہ کرتا۔ ایک ٹیکے میں ہی بیڑہ پار ہو جاتا اور وہ فضا میں پرواز کرتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1235 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *