پراپرٹی ٹائیکون، ماہر معیشت اور وزیراعظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن قبل ایک پاکستانی نژادامریکن جو متعدد یونیورسٹیوں میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ایک ماھر میعشت بھی مانے جاتے ہیں انہوں نے ایک کالم نیویارک ٹائمز کے لیے لکھا۔ یہ صاحب اکثر و بیشتر مختلف اخبارات و جرائد کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جی بالکل ان صاحب کا ہی تذکرہ ہو رہا جنہیں تحریک انصاف کی حکومت نے اوائل اقتدار میں معاشیات کا مشیر بنانے کی کوشش کی تھی لیکن پھر مذہبی حلقوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے جہاں اور بے شمار وعدے اور دعوی ا قتدار میں آنے کے لیے کیے معیشت کی بحالی بی ایک ایسا ہی وعدہ تھا۔ پی ٹی آ ئی نے صرف 90 دنوں میں ہی ملک کی کایہ پلٹنے کا دعوی کیا۔ ایک وزیر موصوف نے تو عندیہ دیا کہ عمران کے آتے ہی دودھ شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ ہن اس وافر مقدار میں برسے گا کے اپنے تو خیر سے فیضیاب ہوں گے ساتھ ہی ساتھ عالمی استعماری ادارے کو بھی منہ کی کھانا پڑے گی۔ جذبات کی رو میں بہتے ہوے وزیر یہ بھی سکھا گئے کے تمام قرض خواہوں کو قرض کی ادائیگی کیسے کرنی ہے۔

بلند و بانگ دعووٰں کی قلعی خیر سے ابتداء میں ہی کھلنا شروع ہوگئی تھی لیکن اس وقت تو یہ بت بالکل ہی پاش پاش ہوگیا جب عمران حکومت کے اہم ترین ستون اور اگر خود عمران خان کے الفاظ مستعار لیے جاٰئیں تو ”اوپننگ بیٹسمین“ اسد عمر کی بے دخلی عمل میں آئی۔ نظریاتی رکن کی اس بے رحمانہ بے دخلی کے ساتھ ہی حکومت اسی عطار کے لونڈے کے پاس لوٹ گئی جس سے چند سال پہلے زرداری حکومت نے اکتساب فیض کیا تھا۔ اس سے قطع نظر کے موجودہ وزیراعظم زرداری حکومت کو آئی ایم ایف کے پے رول پے ہونے کے طعنے صبح شام دیتے۔

مشکل ہی کے کوئی ان کے آئی ایم ایف کے متعلق خیالات سے اختلاف کرتا ہو لیکن جیسے ہی اقتدار کا ہما ان کے سر پے بیٹھا تو تیورہی بدل گئے۔ انہیں یہ احساس جلد ہو گیا کہ اپوزیشن میں ہو کر باتیں کرنا بہت آسان لیکن کاروبار حکومت ایک صریحا مختلف تجربہ ہے۔ اس نگر میں تمام اصول بالائے طاق رکھنے پڑتے ہیں بظاہر طاقتور ہوتے ہوئے بھی طاقت کا منبع کہیں اور ہوتا ہے۔ اس طاقت کے منبع کی چوکھٹ پے سجدہ ریز ہونا پڑتا ہے اگر گردن واقعی اونچی کرنی ہے تو سر کو سولی پے چڑھنے کے لیے بھی تیارکرنا پڑتا ہے۔

سولی چڑھنا بھی ہوتا ہے اور گردن بھی کٹوانا پڑتی ہے نہیں تو جیل کی کوٹھڑی تو معمولی بات ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو فرط جذبات میں گردن اونچی تو کر لیتے ہیں لیکن اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس کے مداوے کے لیے جت جاتے ہیں۔ اس مداوے (مداوا کہا جائے یا کفارا) کو بسا اوقات ڈیل یا ڈھیل کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

خیر ہمارا مقصد ماہر معیشت جن کا ذکر ابتداء میں کیا گیا تھا ان کے مضمون کے کے چند پہلوؤں پے روشنی ڈالنا ہے سو اسی کی طرف رخ کرتے ہیں۔

سب سے پہلے ذکر آتاہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا۔ بڑے پراپرٹی ٹا ئیکونز سے لے کر چھوٹے انویسٹرز تک تمام کاروباری حظرات کا پاکستان میں محبوب مشغلہ کمرشل جا ئیداد خریدنا اور اس سے کرایہ کی مد میں آمدن ہے۔ ہا ؤسنگ سو سائیٹیز ایک اور پہلو ہے۔ ان صورتوں میں سرمایہ محصور ہو کے رہ جاتا ہے۔ سرمایے کی سرکولیشن نہیں ہوتی اور سرمایے کی نچلی سطح اور نچلے طبقات تک نہ آنے سے ان طبقات کو کاروبارزندگی چلانے میں از حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت بھی کمرشل پراپرٹی پے ٹیکس نہیں لگاتی یا اگر لگاتی بھی ہے تو وہ بہت کم ہوتا ہے۔ اس طرح سیف انویسٹمنٹ اور زیادہ منافع کے لالچ میں انویسٹرز پراپرٹی یا رئیل اسٹیٹ میں انویسٹ کرتے ہیں۔

ہاؤسنگ سو سائیٹیز اور س طرح کے دوسرے پراجیکٹس ایسے علاقوں میں تعمیر کیے جاتے ہیں جہاں پے اغلب ہے کے یا تو کھیت ہونا تھا نہیں تو فیکٹری۔ فیکٹری کی صورت میں لوگوں کو روزگار ملتا اور حکومت کو ٹیکس۔ دونوں سود مند صورتیں۔ اس کا تیسرا پہلو یہ کہ عین ممکن تھا فیکٹری کی مصنوعات بیرون ملک ایکسپورٹ کی جاتی تب بھی ریونیو کی مد میں حکومت کو آمدن آنا تھی جو یقیننا عوام کا فائدہ ہے۔

جب فیکٹری کی جگہ پہ ہاؤسنگ سوسائٹی یا کچھ اور تعمیرات ہوں گی تو روزمرہ استعمال کی چیزیں جو کہ امید ہے کہ فیکٹری میں تیار ہونا تھی بیرون ملک سے امپورٹ کرنی پڑ جائے۔ نتیجتاً ملک کا نقصان۔

چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کے لیے پانی کا ہونا لازم۔ لیکن دوسری طرف ہمارے ملک میں پانی کی شدید کمی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کمی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جدت اور تحقیق کا فقدان۔ زراعت کے صدیوں پرانے متروک اور فرسودہ طریقے آج بھی رائج ہیں۔ دوسری المناک حقیقت یہ کہ ہمارا کسان بھی ان فصلوں کو کاشت کر رہا جن کو تیار ہونے کے لیے پانی کی ضرورت دوسری اجناس کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن وہ بے چارہ مجبور ہے۔ مثلا اگر وہ گنے کی جگہ کپاس کاشت کرے گا تو وہ کون خریدے گا؟ اور اگر خریدار ہو گا بھی تو شاید وہ اس کے کھیت کے قریب نہ ہو۔

ہمارے ملک میں تحقیق کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ، ہر شعبہ تنزلی کا شکار۔ مین پاور ہمارے ملک سے مغرب کو یا ان ممالک میں جا رہی جہاں بہتر مواقع موجود۔ سوچیں اگر تھوڑی سی تحقحیق کر کے یہ جان لیا جائے کے ہمارے ملک کی معیشت کو کن فصلوں کی کاشت سے کتنا فا ئدہ ہو رہا ہے اور اگر ان کی جگہ ان فصلوں کی کاشت ہو جن کی کاشت بالکل نہیں ہو رہی یا کم ہو رہی معیشت کو کتنا فائدہ یا نقصان ہو گا۔ جیس عام طور پے خیال کیا جاتا ہے بہت سی جگہوں پے جہاں پہلے کپاس کی کاشت ہو رہی تھی اب گنے کی ہو رہی اور ہمیں اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے جو یاد رہے پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے کپاس امپورٹ کرنا پڑ رہی ہے۔ اور دوسری طرف چینی کی صنعت کے بارے میں کم ہی بات کی جائے تو اچھا ہے۔ ”چینی مافیا“ نام ہی کافی ہے۔

تیسرا مسئلہ سبسڈیز کا ہے۔ حکومت ان سیکٹرز کو ہی سب سبسڈی دے رہی ہے جنہیں آج سے 20 سال پہلے دے رہی ہے تھی۔ سبسڈیز کا مقصد ایکسپورٹ میں اضافہ ہوتا لیکن ظلم یہ ہو رہا ہے کے کوئی اضافہ نہیں ہو رہا اور ایک کے بعد ایک حکومت آنکھیں بند کیے سبسڈیز دیے جا رہی ہے۔ آٹو موبائل سیکٹر اور پاور سیکٹر اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ پاور سیکٹر میں تو ادائیگی بھی ڈالرز میں کی جاتی ہے۔ جو انرجی ایکسپورٹ ہوئی وہ تو آپ اور ہمارے سامنے ہی ہے۔

ذرا سوچیے! کیا ان تمام سیکٹرز کے نمائندے حکومت میں شامل نہیں؟ کیا وہ ان تمام خرابیوں اور بیماریوں سے آگاہ نہیں؟ اگر آگاہ ہیں تو حکومت کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتی؟ ان سوالات کے جوابات بظاہر بہت سادہ اور آسان ہیں لیکن حقیقتاً انتہائی تلخ اور پچیدہ ہیں۔

ایک بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون کی انگلینڈ میں جائیداد قرقی کی گئی اور انہیں کئی سو ملین روپے بطور جرمانہ حکومت کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن ہوا کیا وہ آپ اور ہم سب کے بخوبی علم میں ہے۔ ستم بالائے ستم یے کہ وزرا موصوف فرماتے کے پرائم منسٹر نے اس بارے بات کرنے سے ہی منع کیا ہے۔ تم ہی بتلاؤ کے ہم بتلائیں کیا۔

ادھر گنے والی پارٹیاں بھی حکومت کا حصہ ہیں۔ شوگر مافیا، چینی مافیا اور طرح طرح کی مافیا حکومت کا حصہ ہیں۔ رو دھو کے چپ ہو کے بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ کوئی امید نظر نہیں آتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بلال اسحاق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *