تم بِن ساجن، یہ نگری سُنسان


\"shoes\"گھر واپس جب آؤ گے تم

کون تمہیں پہچانے گا

کون کہے گا، تم بِن ساجن

یہ نگری سُنسان

بِن دستک دروازہ گُم سُم، بِن آہٹ دہلیز

سُونے چاند کو تکتے تکتے راہیں پڑ گئی ماند

کون کہے گا، تم بِن ساجن

یہ نگری سُنسان

کون کہے گا تم بِن ساجن کیسے کٹے دن رات

ساون کے سو رنگ گُھلے اور ڈُوب گئی برسات

کون کہے گا، تم بِن ساجن

یہ نگری سُنسان

پَل جیسے پتّھر بن جائیں، گھڑیاں جیسے ناگ

دن نکلے تو شام نہ آئے، آئے تو کُہرام

کون کہے گا، تم بِن ساجن\"quetta-van-2\"

یہ نگری سُنسان

گھر واپس جب آؤ گے تم

کیا دیکھو، کیا پاؤ گے

یار نگار، وہ سنگی ساتھی

مَدھ بھریاں تھیں، اکھیاں جن کی، باتیں پُھلجڑیاں

بُجھ گئے سارے لوگ وہ پیارے، رہ گئی کچھ لڑیاں

تم بن ساجن یہ نگری سُنسان

دُھول ببُول بگُولے دیکھو

ایک گریزاں موج کی خاطر

صحرا صحرا پِھرتے ہیں\"quetta-van-1\"

تم بھی پِھرو درویش صفت اب

رقصاں رقصاں، حیراں حیراں

لوٹ کے اب کیا آؤ گے، اور کیا پاؤ گے

کون کہے گا، تم بِن ساجن

یہ نگری سُنسان

کلام : الطاف گوہر  انتخاب: حسنین جمال

 

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain