بند کرو یہ کرکٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ کا تین روز تماشا ختم ہوا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ مہمان بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان خیر و عافیت سے مکمل ہوگیا اور لاہوریئے تین روز جس عذاب میں مبتلا رہے اس سے بھی نجات مل گئی۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے اس وقت بند ہوگئے جب 3 مارچ 2009 ء میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور کے چوک لبرٹی میں قذافی سٹیڈیم آئے ہوئے دہشت گردوں نے بڑا حملہ کردیاتھا۔

اس سانحہ کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ تو کیا ہر کھیل کی بین الاقوامی ٹیموں کی آمد بند ہوگئی اور غیرملکی کھلاڑی پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کرتے رہے۔ طویل عرصہ بعد ن لیگ کی حکومت میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان آنے پر راضی ہوئی اور رفتہ رفتہ کرکٹ کا بین الاقوامی دروازہ کھلنا شرو ع ہوا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں پی ایس ایل نے بھی اہم کردار ادا کیا جس میں غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئے اور دنیا کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا۔

ن لیگ کی حکومت میں جب زمبابوے کرکٹ ٹیم پہلی بار پاکستان آرہی تھی تو اس وقت مجبوری تھی۔ دنیا کو بھی بتانا تھا کہ پاکستان میں امن وامان بہت بہتر ہے جس کے لئے ٹیم اور شائقین کی سکیورٹی کے انتہائی اعلیٰ سطح کے انتظامات کیے گئے تھے۔ بلاشبہ اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے بہترین سکیورٹی انتظامات کرائے اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرکے زمبابوے کرکٹ ٹیم کا دورہ کامیاب کرایا کیونکہ دنیا کی نظریں زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پر تھیں۔

زمبابوے کے بعد ویسٹ انڈیز، کینیا کی کرکٹ ٹیمیں اور ورلڈ الیون پاکستان آئیں۔ حال ہی میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کھیل کر گئی اور اب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے تین ٹی 20 میچز کی سیریز کھیلی ہے۔ ٹیموں اور میچز کی سیکورٹی کے نام پر لاہور کے باسیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے وہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ قذافی سٹیڈیم کے اردگرد تجارتی مراکز اور رہائش گاہ ہیں۔ میچز کے دوران پورے علاقے کو ہائی سکیورٹی زون قرار دے کر تمام راستے بند کردیئے جاتے ہیں جس سے پورا شہر متاثر ہوتا ہے۔ سارے شہر میں ٹریفک کا دباؤ ناقابل برداشت حد تک بڑھ جاتا ہے، لوگ دو سے تین گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے دورے کے موقع پر جتنے برے انتظامات کیے گئے تھے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ میچز کے لئے 10 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ہر جگہ اہلکار ٹڈی دل کی طرح پھیلے ہوئے تھے مگر مجال ہے کوئی اپنا فرض ادا کررہا ہو۔ ٹریفک وارڈن ہو یا پولیس اہلکار اکثر ٹولیوں میں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔ ان کی بلا سے ٹریفک رکی ہوئی ہے یا چل رہی ہے، گاڑی میں کوئی مریض ہے یا کسی نے آفس، سکول، کالج پہنچنا ہے، ان کواس سے کوئی غرض نہیں تھی، بس ایک ہی بات تھی کہ وہ ڈیوٹی پر کھڑے ہیں۔

پاک بنگلہ دیش ٹی 20 سیریز کے پہلے میچ کی سیکورٹی کا حال سُن لیں، 25 جنوری کو 11 بجے جوہر ٹاؤن گھر سے نکلا، نہر کا راستہ لیا، مجھے اپنے آفس پہنچنا تھا جو کہ فیروز پور روڈ پر ہے۔ نہر پر چڑھا تو ٹریفک سست رفتاری سے چل رہی تھی۔ نہر سے فیروزپور روڈ بند کردی گئی تھی، وارڈن نے آگے سے یوٹرن لیکرواپس آنے کاکہا، ظہور الٰہی انڈرپاس پر پھر ایک وارڈن سے رہنمائی چاہی تو بتایا گیا کہ آپ فیروز پور روڈ پر نہیں جاسکتے، ایف سی کالج میں کار پارک کریں اور شٹل میں بیٹھ جائیں، میں ایف سی کالج کی سروس روڈ پر آگیا، عجیب منظر تھا شٹل سروس والی کوسٹرزڈبل لائنز میں کھڑی کرکے راستہ ہی بند کیا ہوا تھا، وہاں سے پوچھا کہ پارکنگ کہاں کرنا ہے تو بتایا گیا کہ کوسٹر جب ہٹیں گیں تو آپ کالج میں پارک کرسکتے ہیں۔

20 منٹ کی خواری کے بعد ایک وارڈن سے پھر پوچھا تو اس نے کہا واپس مین پر آئیں وہاں گیٹ کے سامنے سے ڈیوائیڈر توڑ کر راستہ بنایا گیا ہے وہاں سے داخل ہو کر کار پارک کریں اور شٹل میں بیٹھ جائیں، مین پر آیا تو وہاں بھی شٹل کھڑی تھیں اور نہر پر بدترین ٹریفک بند تھی، نیچے اترا درجن سے زائد اہلکار اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مجال ہے کوئی بھی راستہ کھلانے کے لئے کوئی کوشش کررہا ہوں، خوش گپیاں لگ رہی تھیں، میں نے چنداہلکاروں سے کہاں کہ ہمیں کس جرم کی سزا دے رہے ہیں، پارکنگ کا راستہ تو کھلا دیں تو جواب ملا جب کوسٹر ہٹیں گیں تو راستہ بن جائیں گا، میں نے کہا کوسٹر کون ہٹائے گا؟ کچھ غصے کا اظہار کیا تو ایک انسپکٹر صاحب آگئے اور راستہ کھلایا۔

ایک گھنٹے کی خواری کے بعد اندر داخل ہوا، کار پارک کی 4 مقامات پر چیکنگ ہوئی اور پھر باہر پیدل سروس روڈ پر آگئے تاکہ شٹل پر بیٹھ جاؤں، وہاں پھر چیکنگ، خیر اس پر کوئی اعتراض نہیں، یہ ان کا فرض تھا، شٹل سروس میں 45 سے 50 منٹ تک انتظار کرتا رہاکہ کب راستہ کھلے اور شٹل سٹیڈیم کے لئے روانہ ہوا، میں نے اوپر اہلکار ٹڈی دل کی طرح پھیلے اس لئے لکھا ہے کہ سروس روڈ پر ایک طرف شٹل سروس کوسٹرز کی طویل لائن لگی تھی، اصولی طور پر قذافی سٹیڈیم جانے کے لئے شٹل کا راستہ کلیئر ہونا چاہیے تھا مگر کسی وارڈن نے ادھر سے آنے والی ٹریفک نہ روکی اور کاروں کی طویل لائن لگ گئی، اب ہم نہ آگے جاسکتے تھے نہ ہی پیچھے۔

اس دوران بچپن کا دوست ڈی ایس پی رانا زاہد وہاں سے گزرا، شیشہ کھول کر اسے آواز دی کہ خدا کے لئے ان ٹڈی دلوں سے راستہ تو کھلوادو جس پر رانا زاہد کی کوشش سے 20 منٹ بعد راستہ کھلا اور ہم قذافی سٹیڈیم کے لئے 50 منٹ بعد روانہ ہوئے اس دوران جو عوام کا حال تھا وہ قابل رحم تھا، ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، میری کوسٹر میں تو بچے رونے لگے کہ ہم کہاں پھنس گئے ہیں۔ 11 بجے گھر سے نکلا تھا اور ڈیڑھ بجے قذافی سٹیڈیم میں داخل ہوا۔

یہ ہماری پہلی کوسٹر تھی جو ایف سی کالج سے قذافی سٹیڈیم پہنچی تھی، آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پیچھے کتنے لوگ خوار ہوئے ہوں گے، قذافی سٹیڈیم داخل ہوا تو دیکھا کہ آدھا سٹیڈیم خالی پڑا تھا، یہ دیکھ کر دلی افسوس ہوا کہ زندہ دلان لاہور میں انٹرنیشنل ٹی 20 میچ ہورہا ہو اور سٹیڈیم آدھا خالی؟ وجہ اس کی خواری تھی جو عوام بھگت کر سٹیڈیم تک پہنچے تھے اکثر لوگ تو واپس گھروں کو لوٹ گئے تھے، میری فیس بک پر خالی سٹیڈیم کی ویڈیو موجود ہے جو دیکھ سکتے ہیں۔

میچ ختم ہوا تو ریڈ زون سے گزر کر واپس جارہا تھا تو احساس ہوا کہ عوام تو ہوتے ہیں ذلیل و رسوا ہونے کے لئے ہیں، کرکٹ کا میلہ توحقیقت میں اشرافیہ کے لئے سجایا جاتا ہے، اشرافیہ کی گاڑیاں مین گیٹ پر کھڑی ہوتیں، پولیس اہلکار پروٹوکول کے ساتھ ان گاڑیوں کے لئے راستے صاف کرارہے تھے، نیلی، لال بتیاں ان گاڑیوں پر سجی تھیں جو کہ عوام کے لئے ایک پیغام تھا کہ عوام تم کیڑے مکوڑے ہوں، یہ ملک تو ہمارے لئے ہیں جو بھی ان نیلی، لال بتیوں کے سامنے آئے گا وہ کچلا جائے گا، عوام کو سٹیڈیم سے 5 کلومیٹر دور اتار کر پیدل چل کر اور کچھ فاصلہ کوسٹرطے کرکے میچ دیکھنا پڑا جبکہ اشرافیہ کے لئے گیٹ تک بلا روک ٹوک رسائی ہے، ان کا بس چلے تو اشرافیہ کو سٹیڈیم کے اندر ان کی سیٹ تک گاڑی پر اتار کر آئیں۔ تب میرے دل میں یہ بات آئی کہ کرکٹ میلہ اگر اشرافیہ کے لئے ہی سجانا ہے اور عوام کو ذلیل خوا ر کیوں کررہے ہو، بند کرو یہ کرکٹ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *