پشتون تحفظ موومنٹ کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت ریاستی فیصلے کرنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے مضطرب نظر آرہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ان کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ایسا کیوں کر ہورہا ہے؟ کیونکہ گرفتاریوں سمیت کئی سخت حربے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس حوالے بطورِ قبائلی کچھ باتیں عرض کردوں کہ فرق کہاں ہیں اور اور دونوں اطراف میں وہ کون سی غلط فہمیاں ہیں جن کو دور کرکے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

ملک میں اداروں کا سیاسی تحریکوں کو کچلنے کا ایک اچھا خاصا تجربہ رہا ہے جس کی حالیہ مثال ”ووٹ کو عزت دو“ کی دی جا سکتی ہے مگر دوسری طرف کچھ چیزیں ایسی ہیں جو سیاسی جماعتوں اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے بنیادی فرق کو بہت حد تک واضح کر دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کا مسئلہ اقتدار کی سیاست یا جمہوریت کی سیاست ہوتی ہے جس کے لیے وہ جدوجہد سیاسی انداز میں کبھی آگے بڑھ کر تو کبھی پیچھے ہٹ کر کرتے ہیں اور پھر جب زیادہ بوجھ پڑتا ہے تو وہ برداشت نہیں کر پاتے۔ ان کی کاروباری اور ذاتی مفادات کے نقصان کی مجبوریاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ان کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور ورکر بھی سیاسی ہوتا ہے وہ بھی حالات کے نزاکت کو سمجھ جاتا ہے لیکن پشتون تحفظ موومنٹ کا بیک گراؤنڈ اس کے بالکل برعکس ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ ان لوگوں پر مشتمل ایک تحریک بن کر سامنے آئی ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف ہونے والی جنگ میں بہت کچھ دیکھا ہے اور سہا ہے لہذا یہ لوگ اپنے مقصد کے لیے بالکل کلیئر ہیں کہ ہم نے امن حاصل کرنا ہے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا حساب پوچھنا ہے۔ دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ کی سربراہی کرنے والے مشران عام سفید پوش ہیں، نہ تو ان کی فیکٹریاں ہیں نہ ان پاس باہر کے ممالک میں خفیہ اکاؤنٹس ہیں بلکہ تحریک کے سربراہ منظور پاشتین کے پاس ایک کار تھی جو دوستوں نے پیسے اکٹھے کرکے خرید کر دی تھی وہ بھی گزشتہ تین چار مہینوں سے بنوں پولیس کے پاس ہے جو پی ٹی ایم بنوں کے ایک کارکن حنیف پاشتین کی گرفتاری کے وقت بنوں پولیس نے قبضے میں لے لی تھی۔ تب سے منظور پاشتین کو موومنٹ کے لیے بھی کافی مشکلات کا سامنا رہا۔

دوسری طرف علی وزیر بھی مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ وانہ میں ان کی خاندانی مارکیٹ کو بلڈوز کردیا گیا تھا اور ان کے اڈے کو بھی، جس سے ان کے گھر کا چولہا جلتا رہا تھا، کچھ عرصہ قبل حکومت کی طرف سے بند کر دیا گیا تھا۔ محسن داوڑ بھی اسی سفید پوشی کے مقام پر فائز ہے۔ اب لوگ کیا سوچتے ہیں اور حکومت کی کیا سوچ ہے اسی میں بنیادی فرق سامنے آجاتا ہے۔ تحریک کے سامنے آنے کے بعد ہی لوگوں کو موقع ملا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں دنیا کو بتائیں بالخصوص پاکستانی بھائیوں کو بتائیں کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا، اور کس نے کیا۔

پہلی فیز میں ان لوگوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پاکستانیوں بالخصوص پنجاب چونکہ ایک بڑا اور طاقتور صوبہ ہے، وہاں سے ان کو پذیرائی حاصل نہیں ہوئی، الٹا سخت الزامات کا سامنا رہا لیکن یہ لوگ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اب اگر دوبارہ پیچھے ہٹتے ہیں تو پہلے سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پشتون تحفظ موومنٹ میں دنیا بھر میں رہنے والے پشتون شامل ہوتے رہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کی بنیاد قبائلی علاقہ جات ہیں اور قبائلی لوگ عام سیاسی کارکن کی طرح نہیں سوچتے۔ چاہے آپ جتنا ماریں لیکن جو بات ان کے نزدیک حقیقت ہوگی وہ کہتے رہیں گے۔

اس سارے عرصے میں کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ ان لوگوں نے سیاسی حکومتوں کے خلاف کوئی احتجاج کیا ہو؟ کبھی کسی وزیر کو ٹارگٹ بنایا ہو؟ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جن کے پاس مسئلے کا حل ہے ان سے ہی حل بھی ڈھونڈنا ہے اور اس لیے مایوس ہو کر بعض اوقات نامناسب نعرے بھی لگتے ہیں اور نتیجے میں سختیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ریاستی سطح پر ان کے زخموں پر مرہم رکھے جائیں گے مگر ہوا الٹ، ٹھیک ہے چیک پوائنٹس پر کافی بہتری، درجنوں مسنگ پرسنز واپس آئے، لیکن دوسری طرف ملک دشمنی، را اور سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کے فتوے سامنے آنے لگے۔ جن مسائل کے حل کی بات کی وہ انتہائی کم ہے لیکن جو ایک خاص نقطہ قبائلزم کے حوالے سے کہنا ہے وہ یہ کہ اگر آپ گزشتہ سالوں ہوئے بدترین مظالم پر ویسے ہی مٹی ڈالنا چاہتے ہیں تو یہ اس ملک کا نقصان ہو گا اگر ان لوگوں کو کسی مجبوری کے تحت چپ بھی کرایا جاتا ہے تو اگلی بار جب اٹھنے کا موقع ملے گا وہ خطرناک ہوگا اس کو کنٹرول کرنے کے لئے مشکلات کا سامنا رہے گا۔

میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ ریاست کو پی ٹی ایم نے اس علاقے میں بنیادی اور پائیدار امن لانے کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے لیکن اس کے لیے اسے اپنی انا کے خول سے باہر آنا ہوگا۔ اب آتے ہیں لوگوں کی طرف، کہ اگر آپ ان لوگوں کے تحفظات دور کر دیتے ہیں سابقہ زیادتیوں کا ازالہ کر دیتے ہیں اور برملا اپنی کوتاہیوں کا اظہار کردیتے ہیں تو پی ٹی ایم خود بخود ختم ہو جائے گی، لیکن بدقسمتی سے سارے اقدامات اس کے الٹ ہورہے ہیں لوگوں کو اشتعال مل رہا ہے کہ وہ مزید سختی کے ساتھ سامنے آئے اور ایسا ہی ہورہا ہے۔

یہ لوگ سائنسی خطوط پر سوچ رہے ہوں گے کہ منظور پاشتین کی گرفتاری کے بعد کیسا ری ایکشن سامنے آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ غلط سوچتے ہیں آپ نے ان لوگوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جو حکومت یا اداروں کے ساتھ چل رہے ہیں یا چلنا چاہتے ہیں۔ آپ اگر معاملات حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے براہ راست خود سامنے آنا ہوگا، نہ صرف آنا ہوگا بلکہ وہی صاف صاف باتیں جس کو پشتو میں ”سپینے سپینے خبرے“ کہتے ہیں، سننی بھی ہوں گی اور کرنی بھی ہوں گی۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو یہ آپ کا اس ملک پر احسان عظیم ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “پشتون تحفظ موومنٹ کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟

  • 29/01/2020 at 5:22 pm
    Permalink

    یقیناً درست لکھا ہے۔ ریاست کی طرف سے ان پہلوؤں کو یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے جن کی بنیاد پر پشتون تحفظ موؤمنٹ کی پوری عمارت کھڑی ہے یعنی پشتونوں کو درپیش مسائل۔ اب اگر یہ مسائل حل کردیتے ہیں تو پشتون تحفظ موؤمنٹ کے پاس لوگوں کو احتجاج اور نعرہ بازی پر قائل کرنے کا کوجواز ہی نہ رہے گا۔
    لیکن الٹ ہورہا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے لیئے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کا سامان مہیا کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply