نسوانی کردار اتنے داغدار کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹی وی ہمارے گھر کا ایک لازمی جز ہے۔ اور ٹی وی ڈرامے کو معاشرے کی اقدار و روایات کا عکاس کہا جا سکتا ہے۔ آج کل جبکہ ہر گھر میں ٹی وی موجود ہے، تو اس پر دیکھے جانے والے پروگرامز اور ڈرامے یقینا ہماری سوچ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جو کہانیاں ہم چھوٹی سکرین پر دیکھتے ہیں، وہ منفی اور مثبت دونوں طرح کا اثر رکھتی اور ہمارے خیالات کو ایک مخصوص طرز میں ڈھالتی ہیں۔ لیکن کیا ہر کہانی واقعی ہمارے معاشرے کی وہی تصویر دکھاتی ہے جیسا یہ حقیقت میں ہے؟

معاشرے کا متوسط طبقہ اور اِس طبقے کے مرد و زن کو ڈرامے میں جس طرح پیش کیا جا تا ہے، کیا آپ اُس تصویر کے خدوخال سے اتفاق کرتے ہیں؟ حالیہ ختم ہونے والے ڈرامے (نام لیے بغیر آپ سمجھ گئے ہوں گے ) میں مہوش (عائزہ خان) کا کردار کیا درمیانے طبقے کی لڑکی کی نمائندگی کرتا ہے؟ میرے مطابق تو کافی حد تک نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متوسط طبقے کی عورت کے پاس ”عزت و آبرو“ سے بڑھ کر کوئی متاع نہیں۔ آج کے اس مادہ پرستانہ طرزِ زندگی اور پیسے کی تمام تر چکاچوند کے باوجود بھی اس طبقے کی عورت شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد کا تصور کرتے ہوئے گھبراتی ہے۔

متوسط طبقے کے ماحول اور خاص طور پر بیٹیوں بہنوں کی تربیت یہ نہیں سکھاتی کہ خاندان کا شیرازہ بکھیر کر، شوہر اور بچوں تک کو چھوڑ کر عورت کسی غیر کو اپنا مطمع نظر بنا لے۔ اپنی اور خاندان کی آبرو تک کو داؤ پر لگا دے اور گھر چھوڑتے وقت ممتا بھی اسے نہ روک پائے۔ متوسط طبقے کی عورت اس قدر بیباک نہیں ہے کہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر اتنا بڑا اور خوفناک قدم اٹھانے کا سوچ بھی لے۔

ایسے کردار یقینا ہمارے معاشرے میں موجود ہیں لیکن ان کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں۔ اس کے برعکس، ڈرامے میں عورت کے کردار کے صرف دو ہی پہلو دکھائے جاتے ہیں : منفی اور مظلوم۔ اگر آپ ڈرامے کا مقابلہ حقیقی زندگی سے کریں تو ستر اور تیس کا فرق ہو گا۔ یعنی ڈراموں میں جو دکھایا جاتا ہے، حقیقت میں معاملات ستر فیصد اس کے برعکس ہوتے ہیں۔

مرد و عورت کی محبت، شادی کی خواہش، رومانس، ازدواجی زندگی، میاں بیوی یا دو محبت کرنے والوں کے درمیان کسی تیسرے فرد کا آ جانا وغیرہ ایسے معاملات ہیں جنہیں ڈراما اور فلم میں نہایت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ڈراما اور کسی بھی طرز کی کہانی کا بنیادی عنصر conflict ہوتا ہے، سو وفا اور بیوفائی نہایت آسان موضوعات ہیں جہاں وافر مقدار میں اور شدید ترین conflict پایا جاتا ہے۔ اس طرح ڈراما کی کہانی لکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

اور چونکہ ہمارے ہاں شوہر پرستی، وفا شعاری، گھرداری، اور خدمت گزاری کی خصوصیات (بدقسمتی سے یک طرفہ طور پر) عورت کے کردار کا لازمی حصہ قرار دے دی گئی ہیں، لہٰذا جو عورت یا لڑکی اِن خصائص سے مبرا ہو گی، اسے اور اس کے انجام کو ”نشانِ عبرت“ بنا کر رائٹر، پروڈیوسر، اور ڈائریکٹر خوب داد سمیٹ سکتے ہیں۔

آج کل ایک آن ایئر ڈراما ”محبوب آپ کے قدموں میں“ اِسی موضوع پر ہے جس میں ہیروئن اپنے محبوب کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف کالے جادو کا سہارا لیتی ہے بلکہ بڑی سے بڑی قربانی دینے پر بھی آمادہ ہو جاتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ رشتوں اور ہونے والی اولاد تک کو خاطر میں نہیں لاتی۔

ڈرامے کو سبق آموز بنانے کے لئے خاص طور پر نسوانی کردار کے منفی پہلو نمایاں کیے جاتے ہیں تاکہ خواتین ناظرین اپنی حدود کو پہچانیں اور انہیں عبور کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس سبق آموزی اور عبرت انگیزی کے چکر میں ہمارے رائٹرز نے نسوانی کردار کو اس قدر داغدار بنا دیا ہے کہ اس کی اصل اور مثبت خصوصیات نگاہ سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ لیکن کیا گھریلو خو اتین کو سبق کسی مثبت طریقے سے نہیں دیا جا سکتا؟ مہوش (عائزہ خان) کا کردار ہمارے معاشرے کی دس فیصد سے بھی کم خواتین کی نمائندگی کرتا ہے۔

اتنی کم تعداد کی حامل خواتین کی عکاسی پر اگر ہمارا کوئی ڈراما Game of Thrones کے برابر کا مقام پا سکتا ہے تو کیا وفا یا کسی مثبت موضوع پر بننے والا ڈراما لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کرے گا؟ بیشک کرے گا اور اس کی بہترین مثال گذشتہ سال کا ڈراما ”چیخ“ ہے۔ لیکن ایسے ڈراموں کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں۔ کیا positivity کو اتنا پرکشش بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت ہمارے سکرپٹ رائٹرز کے پاس ہے کہ اُسے بھی وہی مقبولیت حاصل ہو جو بیوفائی کی کہانی پر مبنی ایک حالیہ ڈرامے کو ملی؟

ہے کوئی ایسا / ایسی رائٹر، پروڈیوسر، اور ڈائریکٹر جو داغدار کی بجائے ”بے داغ اور مثبت خصوصیات کی حامل“ عورت کا کردار پیش کرے؟ کیا ہمارے رائٹرز، پروڈیوسرز، اور ڈائریکٹر ز اس وقت جاری ٹرینڈ سے مختلف کچھ کر سکیں گے؟ اس سوال کا جواب ہمارے آئندہ ڈراموں سے ملے گا۔ اللہ کرے کہ ہمیں چھوٹی سکرین پر زیادہ سے زیادہ مثبت اور روشن نسوانی کردار اور کہانیاں دیکھنے کو ملیں۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “نسوانی کردار اتنے داغدار کیوں؟

  • 30/01/2020 at 11:17 am
    Permalink

    جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ ایک ڈرامہ ہے تو ضروری نہیں کہ یہ سو فیصد حقیقی زندگی کی عکاسی کرے. اس طرح کے ڈراموں میں دو ہی طرح کی باتیں ہوتی ہیں مثبت اور منفی کردار. اب وہ لکھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ مثبت اور منفی کردار کے لئے کسے منتخب کرتا ہے.
    اسلامی عائلی زندگی میں شوہر پرستی، وفاداری اور اس کی خدمت گزاری عورت کی ذمہ داری ہے. جبکہ بیوی سے وفاداری، اس کی ضروریات زندگی کو پورا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے. میں نے پچھلے کمنٹ میں بھی اسی بات کو واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ شوہر اور بیوی کے اپنے اپنے حقوق ہیں اور شوہر کا درجہ بیوی سے بہت زیادہ ہے. مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس پر ظلم کرے یا نا انصافی کرے. پڑوسی ملک سے چلنے والی می ٹو مہم نے غلط انداز میں ہمارے معاشرے کی خواتین کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے. میرا جسم میری مرضی اسی کا ایک شاخسانہ ہے جس نے ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں سرایت کی ہے. ورنہ جو حقوق اور فرائض اسلامی معاشرے نے بتائے ہیں اس کے بعد تو کسی مہم کی ضرورت ہی نہیں رہتی.
    آپ کی بات سے متفق ہوں کہ ہمارے معاشرے کے متوسط طبقے کی خواتین کو وفاداری، گھرداری جیسے اوصاف بچپن ہی سے سکھائے جاتے ہیں مگر آپ کو حیرت ہو گی کہ اسی متوسط طبقے کی خواتین ہی اخبارات کی زینت بنتی ہیں. کیونکہ ایلیٹ کلاس میں تو نوبت یہاں تک پہنچتی ہی نہیں ہے.
    ڈرامہ ہسٹری اٹھا کر دیکھ لیں نوے فیصد ڈراموں میں مرد ہی کو ظالم، جابر اور بے وفا دکھایا جاتا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد عورت پر ظلم کرتا آیا ہے اور اسی لئے ایک ٹیگ لگ چکا ہے. مگر اب حقیقت اور اعدادوشمار بہت حد تک بدل چکے ہیں.
    اس بات سے بھی متفق ہوں کہ لکھنے والوں کو مثبت انداز میں لکھنا چاہیے تاکہ معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *