کاکڑ صاحب کے جواب میں: وہ کالم جو اورنگ زیب عالمگیر لکھ نہ سکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل محترم عدنان خان کاکڑ صاحب نے ایک کالم ”فقیر حکمران اورنگ زیب کیسے گزارا کرتا تھا“ تحریر فرمایا۔ اس میں انہوں نے مزاح کا سہارا لے کر مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر اور ہمارے وزیر ِ اعظم عمران خان صاحب میں مماثلت بیان کی۔ خدا کسی کو خوبصورت تحریر عطا کرے تو اس قسم کی مماثلت پیدا کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ بارہا یو ٹیوب پر انور مقصود صاحب کو وہ خطوط پڑھتے ہوئے سنا ہے جو انہیں مختلف شعراء حضرات عالم بالا سے بھجواتے رہتے ہیں۔ کچھ روز تو اس ناچیز نے انتظار کیا کہ شاید شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر ایک احتجاجی کالم ’ہم سب‘ میں اشاعت کے لئے بھجوائیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی صدمے سے باہر نہیں آئے، اس لئے مجبوراً اس ناچیز کو ہی کچھ لکھنا پڑ رہا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ ہم تاریخی شخصیات کے متعلق رائے قائم کرتے ہوئے افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ جو کہ ہندوستان میں بھاری اکثریت میں ہے اورنگ زیب کو تاریخ کا ظالم ترین بادشاہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ جس نے اپنی نصف صدی کی حکومت کے دوران مندر گرانے اور زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے اورکوئی کام نہیں کیا۔ ایک اور طبقہ ہے جس کے نزدیک اورنگ زیب ایک ”حضرت“ کا مقام رکھتا ہے۔ اور اسی رو میں غلو پر غلو کا سلسلہ جاری ہے۔

کاکڑ صاحب نے ان روایات کا ذکر فرمایا ہے جن کے مطابق اورنگ زیب ٹو پیاں بُن کر اپنے خاندان کا خرچہ چلاتا تھا۔ کیا آپ گمان کر سکتے ہیں کہ ایک بادشاہ جس کی حکومت بنگال سے کابل تک ہے، درزیوں کی طرح بیٹھ کر ٹوپیاں بنا رہا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جنگ ہو رہی ہے۔ فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں۔ مغل فوج دیوانوں کی طرح اپنے بادشاہ کو ڈھونڈ رہی ہے۔ ایک غلام آکر انہیں کہتا ہے کہ صبر کرو، ابھی عالم پناہ کی ٹوپی ختم نہیں ہوئی۔

آج ٹوپی نہ بکی تو کل کھائیں گے کیا؟ اس سے فارغ ہو کر ابھی لشکر کی قیادت کرتے ہیں۔ لیکن کیا کوئی ایسا غیر جانبدار مصنف ہے جس نے اُس دور کے حالات خود دیکھے اور لکھے ہوں؟ جی ہاں ایسا مصنف ہے۔ اور وہ فرانس کا ڈاکٹر اور سیاح برنیئر ہے۔ اس نے بارہ سال اورنگ زیب اور اس کے بھائیوں کی خانہ جنگی اور اورنگ زیب کے دور کا قریب سے مطالعہ کیا۔ اسے دربار تک بھی رسائی تھی۔ اس کے سفر نامے سے چند دلچسپ باتیں پیش خدمت ہیں۔

برنیئر نے ایسی کوئی بات نہیں لکھی کہ اورنگ زیب ٹوپیاں بیچ کر گزارا کیا کرتا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ بادشاہ بننے سے پہلے بھی اورنگ زیب بڑی سخاوت سے امراء کو تحائف دیتا تھا لیکن سوچ سمجھ کر اُسے دیتا تھا جس کی وفا داری پر اعتماد کیا جا سکے۔ اس کا بڑا بھائی شاہ شجاع بھی با اثر لوگوں کو قیمتی تحائف دیتا تھا لیکن اس کی سخاوت اس کے مزاج کی تبدیلی کے ساتھ تیزی سے کم اور زیادہ ہوتی رہتی اور اس وجہ سے اس کے ساتھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے تھے۔

اپنے باپ کے دربار میں اورنگ زیب اپنے آپ کو زیادہ نمایاں نہیں ہونے دیتا تھا۔ سب سے بڑا شہزادہ داراشکوہ اپنے شاہانہ انداز اور نشست و برخاست کی وجہ سے خود بخود نمایاں ہو جاتا تھا۔ لیکن بہت مرتبہ داراشکوہ دربار کے نمایاں افراد سے بھی بد تمیزی اور گالیوں پر اتر آتا۔ ایک مرتبہ تو اس نے ایک امیر خلیل اللہ کو جوتوں سے بھی مارا۔ یہ پہلی غلطی تھی۔ دوسری غلطی یہ تھی کہ جب داراشکوہ اور اورنگ زیب کے لشکروں کا فیصلہ کن آمنا سامنا ہوا تو داراشکوہ نے خلیل اللہ خان کو فوج کے ایک بازو کا سالار بھی مقرر کر دیا۔ داراشکوہ جلد ہی فتح کے قریب پہنچ گیا۔ خلیل اللہ نے جوتوں کو یاد کرتے ہوئے ایسی چال چلی کہ دیکھتے دیکھتے داراشکوہ مفتوح اور اورنگ زیب فاتح بن گیا۔ ہمارا مشورہ ہے وزیر اعظم صاحب اس واقعہ کو لکھ کر اپنے دفتر میں لٹکا لیں۔

برنیئر کے مطابق اورنگ زیب کے بڑے بھائیوں نے بھی بادشاہ بننے کے لئے مذہب کا سہارا لیا تھا۔ داراشکوہ ہندو پنڈتوں کو اپنے ساتھ رکھتا اور ان کو وظائف سے بھی نوازتا اور وہ ایک پادری کے بھی بہت زیادہ زیر اثر رہا۔ لیکن لوگ کہتے تھے کہ یہ پنڈتوں کی بات اس لئے سنتا ہے تاکہ با اثر ہندو راجے اس کے ساتھ رہیں اور پادری کی ہاں میں ہاں اس لئے ملاتا ہے کیونکہ شاہی توپ خانہ مسیحی افراد کے ہاتھ میں تھا۔ اور شاہ شجاع شیعہ مسلک سے وابستہ ہو گیا تھا اور برنیئر لکھتا ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر با اثر امراء شیعہ مسلک کے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس چال سے داراشکوہ اور شاہ شجاع زیادہ فائدہ نہیں اُٹھا سکے۔ اورنگ زیب نے خانہ جنگی کے دوران اس بات کو ان کے خلاف بھی استعمال کیا۔ سبق یہ ہے کہ مذہبی جذبات کا سہارا لے کر وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن دیر پا حمایت حاصل نہیں ہوتی۔

سارا ہندوستان کم از کم دو صدیوں سے گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ کہہ رہا ہے کہ اورنگ زیب نے ان کی مذہبی آزادی سلب کر لی۔ ان کے ہزاروں مندر گرا دیے۔ اس بات کے حق میں کئی تاریخی کتابوں کے حوالے بھی دیے جاتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ برنیئر نے اس قسم کی کوئی بات نہیں لکھی۔ بلکہ اُس نے بالکل الٹ بات لکھی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اورنگ زیب سمیت کوئی مغل بادشاہ یہ ہمت نہیں کر سکتا تھا کہ ہندوؤں کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت کرے۔

ایک تو ملک کی بھاری اکثریت ہندو تھی۔ دوسرے اُن کی سلطنت کا بہت بڑا حصہ ویسے ہی ہندو راجوں کے ماتحت تھا۔ وہاں بادشاہ گورنر تک مقرر نہیں کرتا تھا۔ اور بادشاہ کو ان راجوں کی مدد کی ضرورت رہتی تھی۔ اورنگ زیب چاہتا تھا کہ ہندوستان سے ستی کی رسم ختم کردے۔ لیکن وہ بھی اس کی ممانعت نہیں کر سکا تھا۔ اس نے یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا کہ کوئی عورت اپنی مرضی کے بغیر اور مقامی حکمران کو اطلاع دیے بغیر ستی نہیں ہو گی۔ اور ہدایت یہ تھی کہ جب کوئی عورت ستی ہونے لگے تو اسے یہ کہا جائے کہ اگر وہ ستی ہونے سے انکار کر دے تو اسے اور اس کے بچوں کو وظیفہ دیا جائے گا لیکن اگر وہ ستی ہو جائے گی تو اس کے بچوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس طرح کئی عورتوں کو اس رواج کی آگ میں جلنے سے بچایا گیا۔

برنیئر اورنگ زیب کے شدید مذہبی خیالات کا تو بار بار ذکر کرتا ہے لیکن اس کے مطابق اس دور میں بھی ہندو اہم اور اعتماد کے عہدوں پر فائز تھے۔ اور ہندوستان کا ایک بڑا حصہ سو سے زائد ہندو راجوں کے تحت تھا جو بادشاہ کو کوئی ٹیکس بھی نہیں ادا کرتے تھے اور ان کی اپنی طاقتورفوجیں تھیں۔ اور اُن میں سے تین اتنے طاقتور تھے کہ اگر ایک ساتھ اپنی فوجیں میدان میں اتارتے تو بادشاہ کے لئے مقابلہ مشکل ہو سکتا تھا۔ اُس کے مطابق اورنگ زیب بہت مدبر اور ذہین بادشاہ تھا۔

ہم بھارت کے بہت سے ڈراموں اور فلموں میں اورنگ زیب کے دور کی جو منظر کشی دیکھتے ہیں، وہ ان حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔ سمجھ نہیں آتی کہ برنیئر کو کیا مجبوری تھی کہ وہ یورپ جا کر اورنگ زیب کے حق میں غلط بیانی کرتا؟ اسی طرح سکھ مذہب کے محترم گوروؤں اور اورنگ زیب کے تصادم کے بارے میں بھی بہت کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں حقائق پھر کبھی پیش کروں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *