شیخ رشید کے غبارے سے ہوا نکل گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ رشید پر بھی مشکل وقت آ گیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد کے ریڈار پر وہ ایسے آئے ہیں کہ اب آسانی سے جان چھوٹتی نظر نہیں آ رہی۔ ساری زندگی دوستوں کی ڈگڈی بجاتے گزر گئی۔ اب اُن سے ریلوے کی حالت زار پر سوال ہوئے ہیں تو شیخ رشید احمد آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اُن کے بارے میں پہلے دن یہ دلچسپ جملہ کہا کہ وہ کہاں ہیں۔ جو آئے روز حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں۔ وہ ریلوے کی طرف توجہ نہیں دے سکتے تو اس کی جان چھوڑ دیں۔ پھر جب شیخ صاحب کو اگلے روز طلب کیا گیا تو چیف جسٹس نے اُنہیں اس بات پر آڑے ہاتھوں لیا کہ ریل گاڑی کے حادثے میں 78 افراد زندہ جل گئے۔ گارڈز اور ڈرائیور پر ذمہ داری ڈال کر آپ خاموش ہو گئے۔ کسی بڑے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا؟

 اس پر شیخ صاحب فوراً بولے کہ بڑوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ یہاں چیف جسٹس نے یہ کہہ کر انہیں لاجواب کر دیا کہ محکمہ ریلوے کے بڑے تو آپ ہیں۔ آپ کو ذمہ داری قبول کر کے فوری مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔ کسی وزیر کے لئے سب سے بڑی ہزیمت یہ ہوتی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس اُسے یہ کہیں کہ اگر اسی کا محکمہ ایسے ہی چلنا ہے تو پھر ہم اسے بند کر دیتے ہیں۔

پچھلے ڈیڑھ برس سے شیخ رشید احمد ریلوے کی ترقی کے بڑے بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے۔ اب ایک ہی سماعت میں اُن کے دعوؤں کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دُنیا میں بلٹ ٹرینیں چل رہی ہیں اور یہاں وہی دو سو سال پہلے کا ریلوے نظام جاری ہے۔ جس میں سفر کرنے والے ہر مسافر کی جان خطرے میں رہتی ہے۔ سہولتیں ندارد ہیں اور سفر ایک مصیبت بن چکا ہے۔ ریلوے سٹیشنوں سے لے کر گاڑیوں تک کے حالات دِگر گوں ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اربوں روپے کا خسارہ اس پر مستزاد ہے۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ شیخ رشید احمد کو ریلوے کا وزیر بنا کر بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے۔

ایک قومی ادارے کو ایسے شخص کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ جس کی اُس میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ تجربہ۔۔۔ جو شخص سارا دن میڈیا پر آنے کے لئے بے تاب رہے۔ اُسے اپنے محکمے کی طرف توجہ دینے کی فرصت کہاں ہوتی ہے؟ جو زبانی جمع خرچ سے اپنا کام چلاتا ہو۔ اُس کی ہنڈیا تو اِسی طرح بیچ چوراہے کے پھوٹنی ہے۔ جیسے سپریم کورٹ میں شیخ رشید احمد کی پھوٹی۔ شیخ صاحب بڑے ذہین آدمی ہیں۔ انہیں پتہ ہے روزانہ ایک بیان وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف میں دے کر وہ محفوظ و مامون ہو جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ ایک چنگاری چیف جسٹس گلزار احمد کی شکل میں بھی موجود ہے۔ جو سارا کچا چٹھا کھول سکتی ہے۔

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ نے ریلوے کی حالت ِ زار بارے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے۔ وہ وزیراعظم عمران خان کے لئے ہے۔ کیونکہ ملک کے چیف ایگزیکٹو وہ ہیں۔ اُن کا یہ کہنا بھی ایک طرح سے حکومت پر تنقید ہی ہے کہ اتنے سنگین حادثے کے باوجود کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ نہ ہی احتساب کیا گیا؟  کم از کم ریلوے کے وزیر سے تو استعفا لیا جانا چاہیے تھا۔ وہ اگر خود مستعفی ہونے کی اخلاقی جرأت نہیں کر سکے تو وزیراعظم عمران خان کو یہ کام کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ وہ مسلم لیگ(ن) کے زمانے میں کسی ریلوے حادثے پر سعد رفیق سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے تھے۔

شیخ رشید نے چیف جسٹس کے سامنے یہ عذر پیش کیا کہ جو آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ وہ ان کے دور کی نہیں۔ کیا وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ان کے دور میں ریلوے خوشحال ہو گیا ہے۔ اس میں کرپشن کم ہو گئی ہے۔ اس کی کارکردگی مثالی ہو چکی ہے۔ اس میں مسافروں کو اعلیٰ معیار کی سہولتیں پیش کی جا رہی ہیں؟ جب اس دور کی رپورٹ آئے گی تو شاید پچھلے ریکارڈ ٹوٹ جائیں۔ شیخ رشید احمد شور شرابہ ڈال کر کابینہ کے اندر بھی اپنے محکمے کی کارکردگی کو چھپا جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ان کے حوالے سے مصلحتوں کا شکار ہیں وہ ان کی طرف سے تعریفوں کے چند بول سن کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ انہیں شیخ رشید احمد سے بھی باز پرس کرنی چاہیے کہ انہوں نے ریلوے کی بہتری کے لئے کیا کِیا ہے۔

 اگر سپریم کورٹ میں ریلوے کو بند کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے ہیں کہ ملک میں اس سے زیادہ کوئی کرپٹ ادارہ نہیں تو یہ بات وزیراعظم عمران خان کے لئے ہے۔ شیخ رشید کے لئے نہیں۔ کیونکہ ملک سے کرپشن ختم کرنے کے دعوے عمران خان نے کیے ہیں۔ شیخ رشید احمد نے نہیں۔

شیخ رشید احمد کے دور میں ریلوے کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ خاص طور پر حادثات اور نظام الاوقات کے حوالے سے اسے پاکستان ریلوے کا بدترین دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس روز سپریم کورٹ میں ریلوے کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔ اسی روز دو حادثات کی وجہ سے قومی ریلوے ٹریک بند پڑا تھا اور گاڑیوں کی آمد و رفت خیبر سے کراچی تک رکی ہوئی تھی۔ شیخ صاحب نے ریلوے میں حقیقی ترقی کا سامان کرنے کی بجائے دو نمبر طریقہ ایجاد کیا۔ انہوں نے گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کا ڈرامہ رچایا۔ ہر دو چار ہفتے بعد وزیراعظم عمران خان سے نئی ٹرین کا افتتاح کرا کے یہ تاثر دیا کہ جیسے ریلوے میں انقلاب آ گیا ہے۔ حالانکہ اس طریقے سے انہوں نے محکمے کا ”ٹائی ٹینک“ غرق کر دیا۔

مختلف گاڑیوں سے ان کی بوگیاں کاٹ کر نئی خود ساختہ ٹرینیں بنائی گئیں۔ ایک ٹرین لاہور پہنچتی تو اس کی بوگیوں سے دوسری ٹرین چلتی۔ اگر پچھلی ٹرین ہی نہ وقت پر نہ آئے تو اگلی ٹرین کیسے چل سکتی ہے؟ یوں پورے ملک میں گاڑیاں دس دس گھنٹے لیٹ پہنچ رہی ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے دور میں اگرچہ ریلوے کے حالات اچھے نہیں تھے۔ تاہم ایک خوبی جس کی وجہ سے لوگ ریلوے کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ گاڑیوں کا وقت پر پہنچنا اور چلنا تھا۔

اب مسافروں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ کوئی ٹرین کبھی وقت پر نہیں پہنچتی۔ جب اسی شعبدے بازی سے ریلوے کے نظام الاوقات کا بیڑہ غرق ہو گیا تو اب ان ٹرینوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ محکمے دو نمبر کاموں سے نہیں چلتے۔ اُن کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ توجہ اور وقت دینا پڑتا ہے۔ شیخ رشید احمد کو سیاست سے ہی فرصت نہیں۔ وہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں۔ سوائے ریلوے کی طرف توجہ دینے کے۔  اُن سے نواز شریف کے خلاف جتنا چاہو بلوا لو۔ شہباز شریف پر طنز کے جتنے چاہیں تیر چلا دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کو جتنی بار بلو رانی کہنا ہے۔ کہیں گے۔ رات کو کسی نہ کسی اینکر کے ساتھ بیٹھ کر سیاست بھی جھاڑیں گے اور شیخی بھی بگھاریں گے۔ مگر مجال ہے کہ اپنی اصل ذمہ داری کی طرف توجہ دیں۔

سپریم کورٹ نے ریلوے کے حالات بہتر بنانے اور کراچی میں سرکلر ریلوے چلانے کے لئے پندرہ دن کا وقت دیا ہے۔ موصوف جب عدالت سے باہر آئے توکہا کہ چیف جسٹس کہیں تو مَیں استعفا دے دوں گا۔ چیف جسٹس کہہ دیں تو وہ اپنے عہدے پر رہ ہی کیسے سکیں گے؟ اصل بات تو یہ ہے کہ وہ خود ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیں۔ مگر کہاں۔ دوسروں پر تنقید کرنا آسان اور خود پر تنقیدی نگاہ ڈالنا مشکل ہے۔ شیخ رشید ان پندرہ دِنوں میں کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ ٹی وی سکرین پر نظر آئیں۔ ساتھ ہی عدالت کے حق میں اُن کے بیانات میں بھی تیزی آ سکتی ہے۔ جبکہ عمران خان کی تعریف کرنا تو وہ اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ کیا ان رویوں سے وہ اپنے محکمے کی بُری کارکردگی چھپا لیں گے۔

کیا جسٹس گلزار احمد اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی عقابی نگاہوں سے معاملات کو اُوجھل رکھ سکیں گے میرے نزدیک شیخ رشید اب مشکل میں ہیں۔ معاملہ سیاسی نہیں۔ عدالتی ہے۔ زبانی دعووؤں کا نہیں۔ عملی ریکارڈ کا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ چیف جسٹس ریلوے کے معاملے کو کسی کنارے لگائے بغیر اُسے بھول جائیں۔  اُن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ جب کوئی معاملہ اُن کے نوٹس میں آ جاتا ہے تو اُسے درمیان میں نہیں چھوڑتے۔ کراچی کے کتنے ہی معاملات وہ حل کر آئے ہیں اور سرکلر ریلوے کو بھی ہر صورت میں مکمل کرا کر چھوڑیں گے۔ شیخ رشید احمد عمران خان کی طرف سے تو بے فکر ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کے ریڈار کی زد میں آ کر انہیں کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ یہاں شاید اُن کے لطیفے۔ شگوفے اور جملے بازیاں مشکل آسان نہ کر سکیں۔

بشکریہ: ڈیلی پاکستان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نسیم شاہد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply