ٹیکنالوجی سے جڑی نسل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستم ظریفی کی حد دیکھیےکہ میں نے یہ خبر انسٹاگرام پر ہی پڑھی کہ آج ہر نوعمر لڑکا یا لڑکی دن کے اوسطً چھ گھنٹے کسی نہ کسی ڈیوائس پر صرف کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کسی کو پہلے ہی اس بات سے آگاہی ہے کہ نوعمر لوگ بہت وقت ان جدید ٹیکنالوجیز کی نذر کر رہے ہیں تاہم جب ہم اس بارے سوچنا شروع کرتے ہیں تو جھٹکا سا لگتا ہے۔ چھ گھنٹے کافی زیادہ وقت ہے۔ فوراً میں نے اپنے فون کا سکرین ٹائم دیکھا، یہ اوسطاً تین گھنٹے روزانہ بنا۔ مجھے تو امید تھی کہ میرے فون کی سکرین مجھے بھی چھ گھنٹے ہی دکھائے گی تاہم ایسا نہیں ہوا، اور یوں بھی میرا شمار اب نوعمروں میں کہاں ہوتا ہے۔

اس نقطے سے میں نے اپنی اُس تفتیش کا آغاز کیا جو تین دن جاری رہی اوراس کا محورسارے لاہورمیں پھیلی مڈل کلاس تھی۔ میری تلاش کا پہلا سرا مختلف سکولوں کے مابین ہونے والا ایک پروگرام تھا۔ میں نے اس دو روزہ پروگرام میں 19 اجنبیوں سے مکالمہ کرنے کی ہمت کی۔ شاید یہ میری زندگی کے 19 بے ڈھب ترین مکالمے تھے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ میں کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب رہا۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کا روزانہ کا اوسط سکرین ٹائم کتنا ہے اور اس سے اگلی اور اہم بات یہ کہ حقیقتاً یہ وقت کتنا بنتا تھا۔

حیران کن طور پر ان میں سے اکثر کو علم تھا کہ وہ کتنا وقت اپنے سمارٹ فون پر صرف کرتے تھے۔ معیاری جواب یہی تھا کہ پانچ سے چھ گھنٹے۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جو میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔

ایل جی ایس 55-مین کی ماہا کا سکرین ٹائم صرف ایک گھنٹہ تھا۔ مجھے جو چیز مخمصے کا شکار کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ اس کے فون پر سی ڈبلیو کے ’دی فلیش‘ کا وال پیپر لگا تھا۔ بات کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ آج کل تو کوئی ’دی فلیش‘ نہیں دیکھتا تاہم تھوڑی سی پرکھ پڑچول سے مجھے علم ہوا کہ اس سیریز کے چھ سیزن آ چکے تھے اور ہر سیزن میں بائیس اقساط تھیں، ہر قسط اوسطاً پچاس منٹ کی تھی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ کون ایک دن میں فلیش کی صرف ایک قسط دیکھتا ہو گا؟ میں مخمصے کا شکار ہوگیا لیکن بعد ازاں اس کے دوستوں نے وضاحت کی کہ وہ ’لیپ ٹاپ‘ والی شخصیت تھی۔

کم سکرین ٹائم کا یہ رحجان جاری نظر آتا تھا کہ میں نے لوگوں سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا وہ کوئی سیزن دیکھ رہے ہیں ۔ مجھے علم نہیں کیسے لیکن میرے سوالات میں یہ چیز بھی شامل ہوتی جا رہی تھی کہ آن لائن رہنے والے لوگ ’کس‘ چیز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے میری تحقیق نامکمل ہی رہی کیونکہ ہر شخص کی اپنی اپنی دلچسپیاں تھیں۔ بہت سے افراد یو ٹیوب پر موجود ڈراموں اور ٹویٹر کے مختلف ٹرینڈز سے دل بہلاتے دکھائی دیے۔ پھر کچھ ایسے ملے جن کے خیال میں عالمی سیاست پر نظر رکھنا انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ فٹ بال لڑکوں کو بہت پسند تھا اور ہر ایک نے کسی نہ کسی درجے پر کسی سرگرمی میں پناہ لے رکھی تھی۔

نیٹ فلکس بظاہر ایک غیر جانبدار خطہ لگتا تھا۔ ہر کسی کو اپنے دیکھے گئے مختلف شوز کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل تھیں اور کچھ ایسے شوز کی معلومات بھی ان کے پاس موجود تھیں جنہیں انہوں نے ابھی دیکھا نہیں تھا۔ بظاہر یوں لگتا تھا کہ’ گیمز آف تھرونز‘اپنے آخری مایوس کن سیزن سے پہلے مقبولیت کے نقطہ عروج پر تھا۔ اگرچہ میں مجموعی طور پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تاہم یہ بات یقینی لگتی تھی کہ کچھ خاص سکولوں میں کسی خاص وقت میں کچھ ڈرامے مقبول رہے تھے۔

میری تحقیق کااختتام ایچی سن کالج میں ہوا۔ یہاں زیادہ سے زیادہ سکرین ٹائم چار گھنٹے تھا۔ یہ میرے اپنے تین گھنٹے کے سکرین ٹائم سے کچھ مطابقت رکھتا تھا۔ مقبول عام تصور سے الٹ ایچی سن کے طالبعلم ابھی بھی انسان ہیں اور ان کی دلچسپیاں بھی اس سے لگا کھا رہی ہیں۔

میری تحقیق مکمل ہو چکی تھی اور میں کچھ خاص نتائج تک پہنچا۔ جو چیز میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن تھی وہ یہ تھی اگرچہ دلچسپیوں کے محور کم و بیش ایک سے تھے تاہم مختلف گریڈ لیولز پر ان کی سرچ ہسٹری بالکل مختلف تھی۔ اگرچہ او لیول کے پہلی اور دوسرے سالوں کے طلبا میں کوئی بحران برپا نہیں تھا تاہم او لیول کے تیسرے سال اور کچھ اے لیول کے پہلے سال کے طالبعلموں، بشمول میرے، میں ہیجان برپا تھا۔ سرچ ہسٹری ’خان اکیڈمی‘ ٹیوٹوریلز سے جب کہ ہارڈ ڈسکیں پاسٹ پیپرز سے بھری ہوئی تھیں۔ کچھ سرچ ہسٹری ایسی بھی تھیں جن میں مختلف یونیورسٹیوں کو کھوجا گیا تھا۔

میری کھوج نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا کہ اگرچہ میڈیا کی بتائی اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان اپنے وقت کا بڑا حصہ آن لائن گزارتے ہیں ۔تاہم یہ کہنا مغالطہ ہو گا کہ وہ سارا وقت ضائع ہی کرتے ہیں۔ انفارمیشن کے انقلاب پر مبنی یہ جدید دنیا برابر یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم آن لائن ہوں۔ چاہے کسی کرکٹ میچ کا سکور جاننے کے لیے یا کریمیا جنگ کے  بارے میں کھوج کرنے کے لیے، اس سب کے لیے لا محدود آن لائن وسائل دستیاب ہیں۔ جو بھی ہم جاننا چاہیں اس انفارمیشن تک ہم پہنچ سکتے ہیں۔

ہم وہ نسل ہیں جوانفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں پیدا ہوئی ہے۔ وقت دیکھنے کے لیے بھی اپنے سمارٹ فون کو کھولنا ہماری فطرت ثانیہ ہے۔ ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم ماضی کی ٹیکنالوجیز ہی سے جڑے رہیں کہ ہ وقت کا پہیہ تو رواں دواں ہے۔ ہر برس ’فیفا‘ کا ایک نیا ٹائٹل ریلیز ہوتا ہے اور پرانا متروک ہو جاتا ہے اور ہمیں اس بدلتے وقت کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے۔ ”ہر پل ہر ساعت بدلتے ہوئے اس وقت کے ساتھ ہم صرف نباہ ہی کر سکتے ہیں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد سرور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *