جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے!


‫نبی کریم صلعم نے 13 سال مکّہ میں دین کی دعوت دی۔ اس دوران وہ لوگ جو ایمان لائے مگر لڑنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، ان پر کفار نے جی بھر کے ظلم کِیا۔ ایک حضرتِ بلال حبشیؓ کی مثال ہی ان جسمانی مظالم کی منظر کشی کے لئے کافی ہے جو ان نو مسلموں نے ایمان کے نتیجے میں برداشت کیے۔

مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا یہ تھی کہ انہیں تین سال تک شعبِ ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کر دیا گیا۔ تصور کریں کہ تین لمبے سال آپ کو کھلے آسمان کے نیچے قید کر رکھا ہو۔ جو معاہدہ لکھ کر کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس میں لکھا تھا کہ کوئی شخص مسلمانوں کے پاس نہیں جائے گا، ان کی لڑکی یہاں بیاہ کہ نہیں آئے گی اور ہماری ادھر نہیں جائے گی، ہر طرح کی تجارت اور خرید و فروخت مکمل ترک ہوگی۔ حرمت کے مہینوں کے سوا مسلمان مکہ نہیں آ سکیں گے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو کوئی شخص چھوئے گا بھی نہیں۔ اتنی غیر انسانی شرائط کو قبول کر کے مسلمان اپنے ایمان کو بچانے اس گھاٹی میں پتے کھاتے رہے۔ حرمت کے مہینوں میں مکہ جاتے تو قربانی کی کھالیں لا کر سکھا رکھتے۔ کسمپرسی کی حالت میں جانوروں کی کھال تک کھاتے رہے۔ غذائی قلت کا یہ عالم تھا بھوک کہ مارے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑتے۔ یہاں تک کہ یہ مشکل دور ختم ہوا اور مسلمان اس گھاٹی سے واپس آ سکے۔

اور پھر جب 13 سال بعد مکہ والوں پر دعوت کی حجت تمام ہو گئی تو مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہوا۔ مدینہ جا کر آپ صلعم نے وہاں بھی دعوتِ توحید دی اور اپنے اصحاب کے ساتھ مل کر اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ مکی دور کے کڑے وقت نے مسلمانوں کو اب ایک منظم ریاست کے قیام اور نظم و ضبط چلانے کے قابل بنا دیا تھا۔

کبھی سوچا ہے کہ اس مکی دور میں جب مسلمانوں کو آروں سے کاٹا جا رہا تھا تو قِتال کا حکم کیوں نہیں ہوا؟ جب شعبِ ابی طالب میں سب اکٹھے محصور تھے تو کیوں یہ لوگ کسی رات کو مکہ پر حملہ آور نہ ہو گئے؟ کیوں حضرت بلال کو یہ نہ کہہ دیا گیا کہ رات کو سوتے میں اپنے اس مالک کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دو جو تمہیں گھوڑے کے پیچھے باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹتا ہے؟

کیا یہ آسان نہیں تھا ان سب مصائب سے جو اتنے سال مسلمانوں پر کفار کی طرف سے ٹوٹے؟

اللہ تعالٰی سورة النسأ آیت 77 میں فرماتا ہے ؛
”ان سے کہا گیا کہ روکے رکھو اپنے ہاتھوں کو اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکٰوۃ“

کیوں روکا گیا انہیں ردعمل دینے سے؟
اورنماز اور زکٰوۃ کی طرف توجہ کیوں دلائی گئی؟

حضرت عبدالراحمٰن بن عوف چند اصحاب کے ساتھ ایک دن نبی کریم صلعم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے نبی کفر کی حالت میں تو ہم اس سے زیادہ عزت والے تھے اور اب اسلام کی حالت میں ہم ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ ہم ان کے خلاف لڑتے کیوں نہیں؟

تو نبی صلعم نے فرمایا کہ ابھی اللہ کا حکم نہیں آیا۔
اور حکم کیوں نہیں ہوا؟
اس لیے کہ اللہ کو مسلمانوں کی کردار سازی منظور تھی۔

قرآن کا دو تہائی حصہ مکّی دور میں نازل ہوا۔ اور اس سارے نزول میں قرآن تین مضامین پر تفصیل دیتا ہے : توحید۔ رسالت۔ آخرت۔

اللہ تعالٰی نے پہلے مسلمانوں کو ایمان اور کردار میں مضبوط کِیا، ان کی ایک منظم ریاست قائم کروائی اور اس کے بعد کہا کہ اب کرو قِتال۔ اب تم اس قابل ہو کہ کفار کے سامنے لڑتے ہوئے تمہیں موت سے ڈر نہیں لگے گا۔ اب تم بیچ میدان میں تیروں اور نیزوں کے خوف سے نماز قضا نہیں کرو گے۔ یہ ایمان کی قوت ہی تھی کہ بدر میں مسلمان اپنے سے تین گنا فوج کو دیکھ کر بھی نہیں لڑکھڑائے!

ہم جنگ کی بات کرتے ہوئے یہ تیرہ سال کیوں بھول جاتے ہیں؟ جن میں اللہ نے مسلمانوں کو چپ چاپ سب برداشت کرنے کو کہا۔ ان کی تربیت اور بنیادی عقائد کو مضبوط کرنے پہ زور دیا۔ اگر مسلمانوں کو جوابی کارروائی کی اجازت مل جاتی تو کفار کا ظلم جسٹیفائی ہو جاتا۔ ، وہ کہتے دیکھا یہ مسلمان تو بھائی کو بھائی اور باپ کو بیٹے سے جدا کر کے لڑواتے ہیں۔ وہ تو چاہتے تھے کہ مسلمان ان سے لڑیں، بدلہ لیں۔ اور وہ اِنہیں کچل دیں۔ مٹھی بھر مسلمان ان کے مقابلے میں کیا کر سکتے تھے؟ جب تک کہ مسلمانوں کی ایمانی، جسمانی، معاشرتی ٹریننگ نہ ہوئی اور ایک ریاست قائم نہ ہوئی تب تک مسلمانوں کو لڑنے کا حکم نہیں ہوا۔

اسلام کا ایک نہایت اہم نکتہ سمجھ لیں کہ سب سے پہلے اپنی اسلامی ریاست میں اسلام کا قانون نافذ کر کہ اسے مضبوط کِیا جاتا ہے اور اس کے بعد کفار کی زمین سے استحصال شدہ مسلمانوں کو بچانے کے لئے جنگ کی جاتی ہے۔ ‬

جولوگ جنگ کے لئے سورۃ النسأ کی یہ آیت بیان کرتے ہیں :
”اور کیا ہے تمہیں کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے ان لوگوں کے لئے جو کمزور ہیں؟ مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے۔ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال کہ اس کے رہنے والے ظالم ہیں“ (آیت 75 )

انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ حکم ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد نازل ہوئی۔ جب اس وقت تک نازل شدہ دینی احکام کے مطابق قانون نافذ ہو چکا تو حکم ہوا کی ان باقی ماندہ بے بس مسلمانوں کے لئے قتال کِیا جائے جو مکہ میں رہ گئے ہیں۔ کفار مسلمانوں کی طرف کا ہر غصہ وقتاً فوقتاً ان بے کسوں پر نکالتے تھے۔

‫اسلام کا قانون نافذ ہونے کی سب سے آسان تعریف یہ ہے کہ ریاست میں اسلامی معاشی نظام اور انصاف قائم ہو۔ ‬ جہاں کسی یتیم اور بیوہ کے مال پہ ڈالہ نہ ڈالا جاتا ہو، جہاں سود پہ کاروبار نہ ہوتے ہوں، جہاں قانون سب کے لئے برابر ہو۔ جہاں رہنے والے ”ایمان“ میں ثبیت ہوں!

‫میں آج سمجھی کہ ہم پہ کشمیر اور برما کی جنگ کیوں فرض نہیں، کیونکہ افسوس کہ ساتھ ہم میں آج وہ سب برائیاں موجود ہیں جو بعثتِ رسول کے وقت عربوں میں موجود تھیں۔ ہمیں تو ابھی ایمانی، جسمانی، معاشی، معاشرتی ہر سطح پر تربیت کی ضرورت ہے۔ اور ہمارے ملک میں تو اسلامی قانون نافذ ہی نہیں ہے۔ ہم پر تو اندرونی معاملات سدھارنے کی ذمہ داری ہے۔ یہاں جو یتیم ہوتا ہے اس کا مال ہڑپ کر لیا جاتا ہے۔ جو بیوہ ہو جائے اسے ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ تو ان یتیموں اور بیوائیوں کے حقوق دلانے کے بجائے ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم قتال کریں؟

وہ سرمایہ جو ریاست کی مکینوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے خرچ ہونا چاہیے اسے ہم جنگ میں لگا کر اپنی سب سے بنیادی ذمہ داری سی آنکھیں بند کر لیں؟

ہم پہ در حقیقت جو جنگ فرض ہے وہ شیطان سے ہے۔ ہمارے نفسوں کی جنگ۔ ہمارے لئے تو یہ حکم ہے کہ ”روکے رکھو اپنے ہاتھوں کو اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکٰوۃ“

ابھی ہم اس حکم کے لئے تیار نہیں کہ:

”اور کیا ہے تمہیں کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے کمزوروں کے لئے۔ “
اللہ ہمیں قرآن کا درست پیغام سمجھنے کی توفیق دے۔
آمین

Facebook Comments HS