عمران خان کہاں ہو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بار موسی علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ یا اللہ جتنا میں آپ سے قریب ہوں آپ سے بات کر سکتا ہوں, کیا اتنا کوئی اور قریب ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا! آنے والی محمدؐ کی امت کا وہ مہینہ جس میں وہ سوکھے ہونٹوں, پیاسی زبان اور بھوکے پیٹ کے ساتھ ہوں گے میں ان کے بہت قریب ہوں گا۔ محمد کی یہ امت یعنی غریب عوام آج کے بدلے پاکستان میں ریاست مدینہ کے نعرے تلے لگاتار اسی طرح کے حالات میں جی رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ اللہ کے مقرر کردہ نمائندے سے بہت دور ہیں۔ ریاست مدینہ کے حکمران نے ان کی خبر تک لینی چھوڑ دی ہے۔

جمہوریت اور آمریت میں سب سے بڑا فرق عوامی رابطے کا ہے۔ ایک آمر کا کوئی حلقہ نہیں ہوتا۔ وہ بندوق کی طاقت اور غیر منتخب نمائندوں کی فوج کے ذریعے حکمرانی کرتا ہے جبکہ جمہوریت عوام سے مسلسل رابطے کا دوسرا نام ہے جہاں کسی بھی پاڑی کی حکمرانی عوام کی مرہون منت ہوتی ہے۔ عوام سے رابطہ جمہوری طرز حکمرانی کا ایک بنیادی اور اہم ستون ہے۔

انگریزی کی کہاوت ہے کہ اگر آپ جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ مطلب نہیں کہ آپ ناکام ہو رہے ہیں۔ تاہم جمہوری طرز حکومت میں اگر آپ عوامی رابطے سے کٹ گئے تو چاہے آپ جدوجہد کر رہے ہیں مگر آپ ناکام ہورہے ہیں اور یہی اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عام آدمی اس عمران خان کو ڈھونڈ رہا ہے جو بارش میں بھیگتا اسلام آباد میں داخل ہوا اور 126 دن لگاتار عوام سے روز باتیں کرتا رہا۔ آج وہ عمران خان کہیں نظر نہیں آ رہا۔ چیرمین تحریک انصاف ایک پڑھے لکھے اور امیر پاکستانی کے وزیراعظم ہی بن کر رہ گہے ہیں جہاں بیوروکریسی کے تحت ہونے والے رسمی تقریبات میں شرکت اور خطاب پر ہی انحصار ہے۔ درحقیقت یہ ان پڑھ اور غریب لوگوں کا پاکستان ہے۔ عمران خان پچھلے

ڈیڑھ سال میں اگر اللہ کے گھر پانچ دفعہ گئے ہیں تو کم ازکم غریب عوام کے پاس اتنی دفعہ تو جانا بنتا ہے۔ کیا اس غریب عوام نے فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا اس لئے انکے الفاظ اور زبان ہی پر عام آدمی کو پانچ سال گزارا کرنا ہے۔

میری عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کے ڈرائنگ روم اور بنی گالہ کے لان سے باہر نکلیں اور ذرا گلی کوچے کا حال پتہ کریں۔ دیکھیں عوام کس مشکل میں ہیں۔ انکی زبوںحالی کا فی الحال تدارک نہیں کر سکتے تو کم از کم تھپکی اور حوصلہ تو دے سکتے ہیں۔ گلیوں, سڑکوں, بازاروں اور چوراہوں پر حکمرانی نظر آتی ہے اور نہ ہی حکمران دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن دفتروں, بازاروں اور ہوٹلوں میں جاری بحث میں مسلسل شرمندگی اٹھاتے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں لہذا آپ بھی اس شرمندگی میں اپنا کچھ حصہ ڈالیں۔ چھپ جانے سے مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حکمرانی بہتر ہوجائے گی۔ آپ نے تو اپنی کابینہ کو ہی اعتماد میں لینا چھوڑ دیا ہے ایسے حالات میں عام آدمی کا گلہ کون سنے گا۔ جب غریب آدمی کی کوہی شنوائی نہیں ہو گی تو وہ میڈیا پر ہی چیخ و پکار کرے گا۔ خدارا اس حقیقت کو سمجھیں۔

ریاست مدینہ کے نعرے کو عملی جامہ پہنائیں۔ آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر پچھلے دس سالہ جمہوری دور اور آپکی طرز جمہوریت میں فرق کا جو وعدہ کیا تھا جسے بنیاد بنا کر عوام نے آپ کو ووٹ دیے وہ فرق کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ بیوروکریسی, وزراء کی فوج اور ترجمانوں کے جھرمٹ نے آپ کو عوام سے دور کردیا ہے۔ جہاں فاصلے بڑھ جائیں وہاں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان دوریوں کو اور مت بڑھائیں۔ ریڑھی والے سے لے کر ایک پڑھے لکھے پاکستانی نے آپ سے جو امیدیں باندھی تھی وہ سرعام چوراہے میں دم توڑ رہی ہیں۔ جدوجہد کے اس مشکل وقت میں امیدیں قائم رہنا انتہائی ضروری ہے۔ غریب سے وابستگی اس سے رابطے میں ہے جو کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔

آپ نے تو نظام کی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا مگر زمینی حقائق میں تو صرف چہرے ہی بدل رہے ہیں اور یہ سلسلہ بھی تھم نہیں رہا ہے۔ آپ نے تو صحت, تعلیم اور دوسرے شعبوں کو بیوروکرسی کے چنگل سے آزاد کرانا تھا؟ ابھی تک تو اس ملک کا بیوروکریٹ ہی سب سے اچھا ڈاکٹر, بہترین تعلیم دان اور زبردست انجینئر ہے؟ زمینی حالات بتاتے ہیں کہ ڈیڑھ سال میں چار چار چہرے بدلے جا چکے ہیں۔ یہ کونسی تبدیلی ہے؟ کیسی تدبیر ہے جس سے آپ نظام کو ٹھیک کر رہے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے ڈیڑھ سال میں بیوروکریسی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ عمران خان صاحب جنکو آپ نے ہلانا تھا وہی آپکو چلا رہے ہیں۔ غریب اور پڑھے لکھے پاکستانی نے تو مصحلت آمیز اور سمجھوتہ کرنے والے عمران خان کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ یہاں تو اخلاقیات سے لیکر شماریات تک سب کچھ مصلحت آمیزی کا شکار ہو رہی ہے۔ کرپشن کے خلاف آپ کا نعرہ اپنی آخری سانس لے رہا ہے۔ معاہدے نہیں کر پا رہے ہیں تو سمجھوتے تو نہ کریں۔ مانا نبھا نہیں پا رہے ہیں پر گھٹنے تو نہ ٹیکیں۔ اپنی جیب سے کھوٹے سکے نکال کر باہر پھینک دیں۔ کھوٹے سکوں اور کرائے کے کھلاڑیوں سے بازی پلٹنا ممکن نہیں۔ اب تو ڈیڑھ سال میں ہونے والی انہونیاں کوئی اور ہی نوید سنا رہی ہیں۔ پارسائی اور تقدس کے نقلی بت توڑنے پڑیں گے تب طرزسیاست تبدیل ہوگا۔ مانا کہ جمہوریت کا مزاج بدلنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے پہلے اپنا مزاج بدلیں۔

عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ اپنی کابینہ کو حقیقی اعتماد میں لیں۔ حزب اختلاف اور بڑے اداروں کو ان کا جائز اور آئینی مقام دیں۔ اسمبلی سے باہر عوام سے رابطہ بحال کریں۔ سب سے بڑھ کر طرز حکمرانی کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر کریں۔ جادو ٹونا نہیں بلکہ تدبیر سے کام لیں۔ دعا کے ساتھ دوا پر بھی بھروسہ کریں۔ پس پردہ اور چھپ کر سازش ہوتی ہے نہ کہ سیاست اور حکمرانی۔ سامنے آئیں ورنہ سامنے سے ہٹ جائیں اور کسی اور کو جمہوری طرز حکمرانی کا موقع دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بریگیڈیئر (ر) محمود صادق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *