سانحہ تیزگام اور شیخ رشید کی غلط بیانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یکم اکتوبر 2019 کو پیش آنے والا تیزگام آتشزدگی حادثے کی انکوائری رپورٹ نے سیاست کے معروف کھلاڑی شیخ رشید کے بیان کی نفی کر دی۔ حادثے سے لے کر اب تک وزیر ریلوے کی جانب سے یہی کہا گیا کہ حادثے سلنڈر پھٹنے سے پیش آیا، جو کہ تبلیغی جماعت کے شرکاء اپنے ہمراہ لائے تھے، مگر فیڈرل گورنمنٹ انسپیکٹر آف ریلویز دوست علی لغاری کی جانب سے مرتب کردا انکوائری رہورٹ میں تیزگام حادثے کے حوالے سے بڑا انکشاف سامنے آ گیا۔ رپورٹ کے مطابق 31 اکتوبر کو لیاقت پور کے مقام پر ہونے والا حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے سے نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق ٹرین میں آگ کچن پورشن میں الیکٹریکل کیٹل کی ناقص وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔

12 نمبر بوگی میں الیکٹرک سپلائی بوگی نمبر 11 سے غیر قانونی طریقے سے لی گئی تھی۔ تار میں ناقص جوڑ اور ہیٹ اپ ہونے کی وجہ سے شارٹ سرکٹ ہوا۔ شارٹ سرکٹ ہونے سے دروازے کے پاس پڑے مسافروں کے سامان میں آگ لگی، انکوائری رپورٹ کے ہی مطابق وائرنگ متاثر ہونے سے پوری بوگی میں شدید دھواں بڑھ گیا۔ اور آگ نے بوگی نمبر 12 کی تمام وائرنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جبکہ بوگی میں مسافروں کے سامان کے ساتھ گیس سلنڈر بھی موجود تھا۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ٹرین میں آگ بجھانے والی آلات کی کمی کے باعث موقع پر قابو نہیں پایا جا سکا، حادثے میں ڈپٹی ڈی ایس، کمرشل افسر، ایس ایچ او، ڈائننگ کار کے ٹھیکیدار، ویٹرز، ہیڈ کانسٹیبل، کانسٹیبل، ریزرویشن اسٹاف ذمہ دار قرار دیے گئے ہیں۔ ذمہ داروں میں ڈائننگ کار کے مینیجر محمد آصف، ویٹر عبدالستار، افتخار احمد، ہیڈ کانسٹیبل علی جان، محمد نسیم، کانسٹیبل محمد ارشد، جہانگیر حسین، ریزرویشن اسٹاف عامر حسین، ڈپٹی ڈی ایس کراچی جمشید عالم، ڈویژنل کمرشل افسر جنید اسلم، ریزرویشن کلرک محمد ندیم، کلیم انسپیکٹر قمر شاہ، ایس ایچ او حیدر آباد طارق علی لغاری، ایس ایچ او خانپور امداد علی شامل ہیں، انکوائری رپورٹ میں نامزد ذمہ داروں کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔

جبکہ ڈپٹی ڈی ایس کراچی جمشید عالم کو آج نوکری سے برخاست کیا گیا۔ یوں ایک بار پھر ریلوے حادثے میں چھوٹے اسٹاف اور ماتحت افسران کو معطل کر کے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کے گئی۔ اب یہ کوشش کامیاب ہو گی یا ناکام یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر اگر ریلوے کارکردگی کی بات کریں تو مصنوعی ترقی ظاہر کرنے کے لیے حکومتی مشینری سرگرم عمل ہے، کیونکہ وزیر موصوف کی توجہ ریلوے سے ہٹ کر سیاسی شعبہ بازی اور اپوزیشن مخالفت ہی ہے۔ ریلوے حکام کی رپورٹس اور اعداد و شمار شیخ رشید کے بیان کی نفی کرتے ہیں۔

ایک سال میں 70 حادثات کی بات بھی غلط ثابت ہوئی جب وزارت ریلوے کی جانب سے چیف ایگزیکٹو افسر کے نام لکھا گیا مراسلہ منظر عام پر آیا۔ مراسلے میں لکھا گیا تھا کہ جنوری 2019 سے نومبر 2019 تک گیارہ ماہ میں ریلوے میں مجموعی طور پر کل 225 حادثات ہوئے، جن میں سے بڑا حادثہ تیزگام آتشزدگی کا تھا جس میں 75 افراد جاں بحق جبکہ چالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

انکوائری رپورٹ بھی آ گئی مگر جان سے جانے والوں اور معذور ہونے والے کو ریلیف دینے کے لیے تاحال کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے۔ اب وزیر ریلوے شیخ رشید سے یہ سوال ہے کہ آیا کہ حادثے پر حاثے ہونے پر بھی صرف انکوائریوں پر ہی اکتفا کیا جائے گا یا پھر کوئی اپنی غفلت اور نا اہلی کی سزا بھی پائے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کہ حادثے کے فوراً بعد جن مرنے والوں کو ہی حادثے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا تھا، ان کے لواحقین کے زخم کیسے ٹھیک ہوں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعید احمد سعید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *