تبدیلی مارچ میں ہی کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیووس میں عالمی فورم پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے روایتی باتوں سے ہٹ کر دو اہم باتیں کیں۔ ایک تو ہر بیرون ملک دورے کی طرح اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا ذکر کرنا نہ بھولے اور دوسرا سیاسی جماعتوں کی کرپشن کا ذکر۔ وزیراعظم اپنے پہلے بیرونی دورے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر بات کرتے آ رہے ہیں، کبھی مجاہدین کو تربیت دینے کا الزام تسلیم کیا تو کبھی القاعدہ کو مدد فراہم کرنا تسلیم کیا۔ کوئی دوسرا وزیراعظم ایسی بات کرتا تو اب تک نجانے کتنی بار غداری کا فتویٰ لگ چکا ہوتا۔ عمران خان ماضی میں بھی قابل اعتراض بیانات دیتے رہے ہیں مگر وزرات عظمیٰ کی سیٹ پر بیٹھے ایسے اعتراف کرنا اپنی مثال آپ ہیں۔

فیصل واوڈا کا اپوزیشن کا فوجی بوٹ دکھانا بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ بظاہر اپوزیشن کو دکھایا گیا وہ بوٹ صرف انہی کے لئے تھا جن کی مداخلت کا اعتراف عمران خان بیرون ملک ہر دورے پر کرتے ہیں۔ گمان ہے کہ وزیراعظم کی رضامندی سے ہوا یہ عمل حکومتی تبدیلی کی مبینہ خبروں پر ایک ردعمل تھا۔ وزیراعظم نے اس بار یہ انکشاف بھی کیا کہ سیاستدانوں کی کرپشن کا ریکارڈ ملٹری انٹیلیجنس کے پاس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’ملٹری انٹیلیجنس‘ کا دائرہ کار سیاست یا سیاستدانوں سے متعلق نہیں ہے لیکن نجانے کیوں وزیراعظم نے اس ادارے کا نام لے کر اسے سیاست میں ملوث کرنا ضروری سمجھا۔

عمران خان اپوزیشن پر کرپشن الزامات تو بھرپور انداز میں لگاتے ہیں لیکن فوجی ڈکٹیٹروں کے ادوار میں ہوئی کرپشن پر آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ عمران خان کے بقول ملٹری اگر واقعی انٹلیجنس کے پاس کرپشن کی تمام رپورٹس تھیں تو اٹھارہ ماہ بعد کسی ایک بھی شخص پر کوئی الزام ثابت کیوں نہیں ہو سکا۔ تمام اسیران نیب بھی بغیر سزا کے کیوں رہا ہو رہے ہیں۔ آخر کہاں گئیں وہ رپورٹیں جن کی بنیاد پر حکومتی وزیر گرفتاری کا اعلان گرفتاری سے پہلے کر دیا کرتے تھے۔

سوئٹزر لینڈ کی ٹھنڈی ہواؤں میں وزیراعظم نے ارشاد فرمایا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جتنی حمایت میری حکومت کو ملی ہے ماضی کی حکومتوں کو کبھی نہیں ملی۔ دیار غیر میں عالمی میڈیا کے سامنے اس اعتراف سے عمران خان نے یہ تاثر مزید مضبوط کر دیا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ سیاست میں بہت زیادہ ملوث ہے۔ یہ حقائق پہلے سے پریشان حال عوام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ عوام میں یہ تاثر بہت مضبوط ہو چکا ہے کہ اب کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ بار بار کی مداخلت نے نہ صرف اس نظام کو کمزور کیا ہے بلکہ مداخلت کے شوقینوں کے چہرے بھی بے نقاب کر دیے ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو پہلے تو حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے من گھڑت، بے بنیاد کہہ کر ناقابل قبول قرار دیا لیکن بعد میں ٹرانسپیرنسی پاکستان کی جانب سے جاری وضاحت بنیاد پر اسی رپورٹ کو اپنے حق میں قرار دے دیا۔ اعداد و شمار کو اگر وقتی طور پر ایک طرف بھی رکھیں تو مؤقف میں بار بار کی تبدیلی ہی حکومتی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ حالات اس وقت یہ ہیں کہ عوام کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین بھی بڑھتی کرپشن کا راگ الاپ رہے ہیں، اس رپورٹ نے گویا اپوزیشن کے لئے سونے پر سہاگہ والا کام کیا اور حکومت پر عوامی اعتماد کو خوب زک پہنچائی۔

عمران خان گزشتہ حکومتوں کی کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی موجودہ حکومت میں بھی آئے روز کرپشن سکینڈلز نے ان کی اپنی ساکھ بری طرح متاثر کی ہے۔ دوسری طرف عمران خان فوجی ادوار کی کرپشن پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مشرف دور میں ریلوے گالف کلب کی زمین، سٹاک ایکسچینج بحران، گندم درآمد برآمد سمیت کھربوں روپے کی کرپشن کے لاتعداد سکینڈل سامنے آئے لیکن عمران خان نے صرف گزشتہ 10 سال کی تحقیقات کے لئے ہی کمیشن بنایا۔ ابھی حال ہی میں پی آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر آئے ایئرمارشل ارشد ملک نے 70 کروڑ کا ٹھیکہ اپنے دوست کی نوزائیدہ کمپنی کو دے دیا لیکن ریاست مدینہ کے دعویدار نے کوئی ٹھوس ایکشن لینا تو درکنار ابھی تک کسی تحقیقات کا بھی حکم نہیں دیا۔

مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی حکومت کے کرپشن بیانیہ کو ایک اور دھچکہ لگا جب شہبازشریف نے برطانوی اخبار ڈیلی میل پر ہرجانہ مقدمہ دائر کر دیا۔ اگر برطانوی صحافی اپنا مؤقف ثابت کرنے میں ناکام رہے تو نہ صرف مسلم لیگ ن کی اخلاقی فتح ہو گی بلکہ بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا کی سیاست کا اختتام بھی ہو گا۔

حکومت کے مستقبل کے حوالے سے ایک بات تو واضح ہے کہ مارچ سے پہلے حکومت کی تبدیلی کی کوششیں تیز نہیں ہوں گی۔ پاکستان کی سب سے مختصر اسمبلی محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہے جو صرف اٹھارہ ماہ چلی تھی۔ گمان ہے کہ کچھ حلقے خود پر یہ دھبہ نہیں لگوانا چاہتے کہ یہ حکومت اس حکومت سے بھی مختصر رہی۔ فروری میں یہ حکومت بینظیر حکومت سے بڑی ہو جائے گی اور فروری میں ہی شہبازشریف بھی وطن واپس آ رہے ہیں۔ قیاس آرائیاں یہ بھی ہیں کہ اختتام فروری تک سیاسی درجہ حرارت بڑھتا محسوس ہو سکتا ہے۔ اداروں کے حمایت یافتہ ہونے کے دعویدار عمران خان ڈیڑھ سال میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھانے پر کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکیں گے۔

احسن اقبال کے ’پینوگ‘ کو دیے گئے انٹرویو اور بہت ساری قیاس آرائیوں کو ذہن میں رکھیں تو امکان نظر آتا ہے کہ پہلے ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے نیا وزیراعظم آئے گا اور پھرمطلوبہ قانون سازی کے بعد سب جماعتیں نئے الیکشن کی طرف جائیں گی۔ شاید اگلی سردیوں کے قریب نئے الیکشن ہو جائیں گے۔

عمران خان کی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو گا کہ مقتدر حلقے جب چاہیں تو چیئرمین سینیٹ کو اقلیت کے باوجود تبدیل نہیں ہونے دیتے اور جب ناراض ہوں تو اکثریت کو بھی اقلیت میں بدل دیتے ہیں۔ اداروں کے لئے یہ بہترین وقت ہے کہ آپس میں ڈائیلاگ کریں اور اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کو ترجیح دیں۔ عوام میں بڑھتی بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے یاد رکھیں کہ گہری خاموشی ہمیشہ آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *