گندم اور چینی اسکینڈل کے پس پردہ حقائق اور اثرات

گزشتہ چند مہینوں سے میڈیا پر آٹا اور چینی سکینڈل کی بازگشت جاری ہے۔ گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ یہ رپورٹ اسی طرح آئی ہے جیسے دھرنے کے دنوں میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آئی تھی۔ آج محترم حامد میر صاحب نے بھی تصدیق کی کہ یہ رپورٹ حکومت نے جاری نہیں کی بلکہ اسے محمد مالک صاحب اپنے ٹی وی شو میں بریک کر چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اکابرین مصر ہیں کہ یہ رپورٹ حکومت نے ہی جاری کی ہے۔ حتی کہ وزیراعظم صاحب تو خودستائشی کا ٹویٹ کر کے اس ”تاریخی“ کارنامہ پر داد بھی سمیٹ چکے ہیں۔

Read more

اپوزیشن اور مقتدر حلقے کپتان کی مدت پوری کروانا چاہتے ہیں

میرے باخبر دوست کا کہنا ہے کہ کرپشن سکینڈلز کے باوجود حکومت کہیں نہیں جا رہی مگر کپتان کو بتا دیا گیا ہے کہ اب ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہو سکتا ہے عمران خان کو کچھ ساتھی قربان کرنے پڑیں لیکن اب ان کا مؤقف تبدیل ہوتا نظر آئے گا۔ اب انھیں معاشی ترقی میں سڑکوں کی اہمیت کا احساس بھی ہو گیا ہے اور کورونا لاک ڈاؤن بھی اچھا لگنے لگ گیا ہے۔

Read more

کپتان کا استعفیٰ۔ افواہوں کے درمیان چھپی حقیقت

پاکستان میں جب بھی کوئی انہونا واقعہ ہوتا ہے تو افواہ ساز فیکٹریوں سے نت نئی افواہیں باہر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بسا اوقات افواہیں اس قدر تیزی سے پھیلائی جاتی ہیں کہ نہ صرف حقائق جاننا ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ پتھر پر کندہ حقیقت بھی فریب لگنے لگتی ہے۔ کورونا وائرس کے سدباب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات نے جہاں اس حکومت کی مایوس کن کارکردگی نے کا پول کھول دیا وہیں پر شہبازشریف کی اچانک واپسی نے نت نئی افواہوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ افواہیں ہمیشہ جھوٹ نہیں ہوتیں اور نہ ہی افواہیں ہمیشہ بے سبب ہوتی ہیں۔ یہ تمہید باندھنے کا مقصد ایک حقیقت ہے جسے میں نے افواہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔

Read more

کورونا وائرس کی وبا اور سیاسی صورتحال

شیخ سعدی کا قول ہے

ہرچہ دانا کند۔ کند نادان۔ بعد از خرابی بسیار۔ (ترجمہ۔ نادان بھی وہی کرتا ہیے جو دانا کرتا ہیے۔ مگر بہت ساری خرابیوں کے بعد )

کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کی بحث اختتام کو پہنچی اور پورے ملک میں فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ دیر آئد درست آئد تو ہے ہی مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کر کے اتفاق رائے سے خود اعلان کرتے تو ان کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی ہوتی اور وہ عوام کی نظروں میں اعتماد بھی نہ کھوتے۔

Read more

کیا عمران خان پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں؟

خوش بختی  اقتدار دلوا سکتی  ہے مگر امورِ سلطنت چلانے کیلئے فقط صلاحیت ہی درکار ہوتی ہے۔ جولائی 2018 میں پاکستان کی مضبوط ترین حکومت وجود میں آئی اور عمران خان ایسے وزیراعظم کے طور پر منتخب ہوئے جسے طاقتور اداروں کی بھرپور حمایت حاصل تھی. پہلی بار سب ایک ہی صفحے پر نظر آئے.…

Read more

کیا عمران خان کی حکومت کے لئے خزاں آ رہی ہے؟

ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومت کی تبدیلی اور اپوزیشن کی حکمت عملی کے سوال پر شاہد خاقان عباسی نے معنی خیز انداز میں کہا کہ ’یہاں پر جو دکھائی دیتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہو رہا ہوتا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا۔ ‘

مارچ کے شروع ہوتے ہی بہار کی آمد آمد ہوتی ہے۔ رنگ برنگے پھول ہر طرف خوشیاں بکھیر رہے ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر سے ہی ہمیں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اس بار سیاست میں خزاں جلدی آئے گی۔

Read more

خواتین مارچ کا دن ہمارے لئے خود احتسابی کا موقع ہے

جوں جوں خواتین مارچ کی تاریخ قریب آ رہی ہے تب سے ہی اس کے حامی اور مخالفین افراد کے تندوتیز بیانات میں شدت آ چکی ہے۔ حتکہ مارچ رکوانے کے لئے کچھ لوگ اسلام آباد ہائیکورٹ بھی پہنچ گئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ…

Read more

فروغ نسیم کی صورت میں شریف الدین پیرزادہ آج بھی موجود ہے

بیرسٹر شریف الدین پیرزادہ کا شمار ملک کے ذہین ترین وکلا میں ہوتا تھا۔ برطانوی درسگاہ سے فارغ تحصیل پیرزادہ صاحب کی وجہ شہرت ڈکٹیٹرز کی حمایت بنی۔ اعلی مناصب پر فائز رہنے والے شریف الدین پیرزادہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکیرٹری کے فرائض بھی سرانجام دیے مگر اس کے باوجود وہ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہر فوجی آمر کی بیساکھی رہے۔ وہ 1973 کے آئین کو پاؤں تلے روندنے والے ڈکٹیٹرز کو آئینی تحفظ دلانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

Read more

فوج عمران خان سے کیوں خوش ہے؟

چوہدری شجاعت حسین انتہائی زیرک سیاستدان ہیں۔ چوہدری صاحب موقع محل کی مناسبت سے الفاظ کا چناؤ ایسے کرتے ہیں کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔

سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری صاحب نے کہا کہ ان کی تو کوشش ہے کہ حکومت چلے مگر عمران خان کے ارد گرد لوگ حکومت کو چلنے نہیں دے رہے۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ملک چل رہا ہے اور معاشی صورتحال خراب ہو رہی ہے، میں نے پہلے بھی کہا تھا، اب پھر کہہ رہا ہوں کہ دو چار مہینوں کے بعد کوئی بھی وزیر اعظم بننے کو تیار نہیں ہوگا۔ ہر کوئی کہے گا میں نے وزیر اعظم نہیں بننا۔ ‘

Read more

کیا حکومت بڑھتی مشکلات پر قابو پا سکے گی؟

آج کل صبح اٹھتے ہی افراتفری والی خبریں ملتی ہیں۔ کبھی سٹاک مارکیٹ گرنے کی خبر تو کبھی حکومت جانے کی پیشین گوئیاں۔ قومی اسمبلی کے حالات دیکھیں تو حکومت کی جانب سے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی البتہ روز لڑائی جھگڑوں یا دھینگا مشتی کی خبریں ضرور سامنے آتی ہیں۔ حکومت کا انداز…

Read more