تعلیمی اور سیاسی صورتحال

کسی بھی معاشرہ کی نشو و نما میں علم و تعلیم کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ تعلیم وہ زیور ہے جو نہ صرف انسان کا کردار سنوارتی ہے بلکہ ترقی و خوشحالی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ نہ صرف عوام کے لئے بنیادی تعلیمی سہولیات مہیا کرے بلکہ اساتذہ کے لئے بھی قابل عزت روزگار کا بندوبست کرے۔

عمران خان باتوں کی حد تک تو تعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیتے ہیں مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ کالم میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کے مسائل کے حوالے سے لکھا تھا۔ اس پر بہت سے طلبہ اور بیروزگار پی ایچ ڈی ڈاکٹرز نے درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ خیبر پختونخوا میں تو گھوسٹ سکول ہیں ہی مگر عمران خان کے آبائی علاقہ میانوالی میں صورتحال اس سے بھی ابتر ہے۔

Read more

شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقات اب کیا رخ اختیار کر رہی ہیں؟

سوشل میڈیا پر اعلی تعلیم یافتہ افراد کی جانب سے اپنی بیروزگاری پر حکومتی توجہ حاصل کرنے کے لئے مہم چلائی جا رہی مگر کسی جانب سے ان کی دادرسی نہیں ہو رہی۔ حکومت ریٹائرڈ افراد کو دوبارہ نوکریاں دے رہی ہے بلکہ کچھ حاضر سروس افسران کو دو دو نوکریاں بھی دی جا رہی ہیں مگر اس وقت پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد بیروزگار ہے جن کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً دو ہزار سے زائد فارغ التحصیل پی ایچ ڈی طلبہ و طالبات بیروزگاری کی عفریت کا شکار ہیں جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک میں ساٹھ ہزار پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔

Read more

مسلم لیگ ن اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کے لیے مذاکرات پر تیار

آج کے کالم کا موضوع سخن تو اٹھارہویں ترمیم اور نواز شریف کی نا اہلی کا آپس میں تعلق ہے مگر کورونا کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا تذکرہ کیے بغیر کچھ تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے جن چھ نکات پر عملدرآمد کا کہا تھا ان میں سرفہرست نکتہ یہ تھا ”لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے یہ یقینی ہونا چاہیے کہ کورونا کیسز کی تعداد کم ہو رہی ہے اور وائرس کی منتقلی قابو میں ہے“ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں مریضوں کی یومیہ تعداد دو ہزار سے بڑھ چکی مگر حکومت نے لاک ڈاؤن کھولنے کا حیران کن فیصلہ کیا۔

Read more

مقتدر قوتیں آخر کیا چاہتی ہیں؟

ادارے کسی بھی ملک کی پہچان اور استحکام کے ضامن ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک کوئی سیاسی ادارہ مضبوط نہیں ہو سکا یا مضبوط ہونے نہیں دیا گیا۔ اگر پاکستان آئینی ادارے خودمختار ہوتے تو آج ملک میں عدم استحکام نہ ہوتا۔ انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کو وزیراعظم کی آنکھ اور کان…

Read more

مقتدر قوتوں کا سیاسی کھیل اور شہباز شریف کا اعتراف

شہبازشریف کے اعتراف پر بات کرنے سے پہلے شیخ رشید کے ایک عامیانہ بیان کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ کورونا وائرس کی وبا ایک عالمی آفت ہے مگر ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اسے عمران خان کے لئے اللہ کی طرف سے غیبی امداد قرار دے رہے ہیں۔ کورونا جیسے سنگین مرض سے…

Read more

کیا شوگر انکوائری کمیشن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھے گا؟

شوگر انکوائری کمیشن پر بات کرنے سے پہلے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت دو طرح کی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کی وبا ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے اور دوسری جانب ایک مربوط حکمت عملی کا فقدان ہے جس…

Read more

گندم اور چینی اسکینڈل کے پس پردہ حقائق اور اثرات

گزشتہ چند مہینوں سے میڈیا پر آٹا اور چینی سکینڈل کی بازگشت جاری ہے۔ گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ یہ رپورٹ اسی طرح آئی ہے جیسے دھرنے کے دنوں میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آئی تھی۔ آج محترم حامد میر صاحب نے بھی تصدیق کی کہ یہ رپورٹ حکومت نے جاری نہیں کی بلکہ اسے محمد مالک صاحب اپنے ٹی وی شو میں بریک کر چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اکابرین مصر ہیں کہ یہ رپورٹ حکومت نے ہی جاری کی ہے۔ حتی کہ وزیراعظم صاحب تو خودستائشی کا ٹویٹ کر کے اس ”تاریخی“ کارنامہ پر داد بھی سمیٹ چکے ہیں۔

Read more

اپوزیشن اور مقتدر حلقے کپتان کی مدت پوری کروانا چاہتے ہیں

میرے باخبر دوست کا کہنا ہے کہ کرپشن سکینڈلز کے باوجود حکومت کہیں نہیں جا رہی مگر کپتان کو بتا دیا گیا ہے کہ اب ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہو سکتا ہے عمران خان کو کچھ ساتھی قربان کرنے پڑیں لیکن اب ان کا مؤقف تبدیل ہوتا نظر آئے گا۔ اب انھیں معاشی ترقی میں سڑکوں کی اہمیت کا احساس بھی ہو گیا ہے اور کورونا لاک ڈاؤن بھی اچھا لگنے لگ گیا ہے۔

Read more

کپتان کا استعفیٰ۔ افواہوں کے درمیان چھپی حقیقت

پاکستان میں جب بھی کوئی انہونا واقعہ ہوتا ہے تو افواہ ساز فیکٹریوں سے نت نئی افواہیں باہر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بسا اوقات افواہیں اس قدر تیزی سے پھیلائی جاتی ہیں کہ نہ صرف حقائق جاننا ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ پتھر پر کندہ حقیقت بھی فریب لگنے لگتی ہے۔ کورونا وائرس کے سدباب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات نے جہاں اس حکومت کی مایوس کن کارکردگی نے کا پول کھول دیا وہیں پر شہبازشریف کی اچانک واپسی نے نت نئی افواہوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ افواہیں ہمیشہ جھوٹ نہیں ہوتیں اور نہ ہی افواہیں ہمیشہ بے سبب ہوتی ہیں۔ یہ تمہید باندھنے کا مقصد ایک حقیقت ہے جسے میں نے افواہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔

Read more

کورونا وائرس کی وبا اور سیاسی صورتحال

شیخ سعدی کا قول ہے

ہرچہ دانا کند۔ کند نادان۔ بعد از خرابی بسیار۔ (ترجمہ۔ نادان بھی وہی کرتا ہیے جو دانا کرتا ہیے۔ مگر بہت ساری خرابیوں کے بعد )

کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کی بحث اختتام کو پہنچی اور پورے ملک میں فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ دیر آئد درست آئد تو ہے ہی مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کر کے اتفاق رائے سے خود اعلان کرتے تو ان کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی ہوتی اور وہ عوام کی نظروں میں اعتماد بھی نہ کھوتے۔

Read more