اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کا سپر اوور

اسلامی ممالک کے باہمی تعاون کے لئے قائم کی گئی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کا اسلام آباد میں منعقد ہونے والا 48 واں اجلاس اختتام پذیر ہو گیا۔ او آئی سی 1.2 ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے، اس تنظیم کے اعلامیے پڑھیں تو گمان ہوتا ہے کہ سارے جہاں کر درد مسلم امہ کے جگر میں ہے لیکن دنیا میں کہیں بھی مسلمان کسی سانحہ کا شکار ہو جائیں

Read more

بھلے آسمان ٹوٹ پڑے

پانامہ کیس کے دوران جوڈیشل ایکٹو ازم اپنی انتہاؤں کو چھو رہا تھا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ججز نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں لیکن پانامہ کیس کے دوران اگر عالی مرتبہ ججز کے بلند آہنگ بیانات ٹی وی سکرینوں پر رونق افروز نہ ہوتے تو ماحول پر افسردگی چھائی رہتی۔ انہی ایام میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کبھی ہسپتالوں میں برتن کھڑکاتے دکھائے دیتے اور کبھی ڈیم فنڈ کے نام پر ڈرامے کرتے دکھائی

Read more

آرمی چیف جج کو کیوں ہینڈل کروانا چاہتے تھے؟

”تم سے ہائیکورٹ کا ایک جج نہیں ہینڈل ہو رہا“ سپریم کورٹ کے پانچ ججز کے سامنے بولے جانے والا یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ان چند الفاظ نے ہماری چوہتر سالہ غلامی کی تاریخ بیان کر دی ہے۔ یہ کلمات اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے شوکاز نوٹس کے جواب میں عدالت عظمیٰ کے پانچ ججز کے روبرو پڑھے گئے بیان میں دہرائے۔ سپریم کورٹ میں بیان کردہ حقائق کے مطابق

Read more

انتخابی اصلاحات، دھاندلی اور تیسری آنکھ

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے علاقہ ویلز میں دنیا کا پہلا تین آنکھوں والا بچھڑا دیکھا گیا ہے۔ بچھڑے کے ماتھے پر درمیان میں ایک تیسری آنکھ موجود ہے۔ بچھڑا چار ماہ کا ہو چکا ہے اور صحت مند ہے۔ تیسری آنکھ اس کے ماتھے پر موجود ہے مگر بند ہونے کے سبب اس تیسری آنکھ کا کسی بھی قسم کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اگر وہ آنکھ دیکھنے کے عمل میں شامل ہوتی تو یقینی طور پر

Read more

رنگ روڈ سکینڈل، جاوید چودھری اور ملک ریاض

’بھونچال‘ کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو موجودہ شب و روز اس کی عمدہ عکاسی کر رہے ہیں۔ ’ایک صفحے‘ پر پھولے نہ سمانے والی حکومت صرف دو واقعات سے ہی لرزنے لگ گئی ہے۔ جہانگیر ترین اور رنگ روڈ سکینڈل نے موجودہ حکومت کی نہ صرف چولیں ہلا دی ہیں بلکہ ریشہ طاری کر دیا ہے۔ رہی سہی کثر چودھری نثار کے 24 مئی کو حلف اٹھانے کی خبر نے پوری کر دی ہے۔ بہرکیف آج ہمارا موضوع سخن رنگ روڈ منصوبہ اور معروف کالم نگار جاوید چودھری صاحب کا ایک کالم ’رنگ روڈ۔ دوسرا پاناما اسکینڈل‘ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ کی ابتدائی منظوری مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں سنہ 2016 میں دی گئی تھی۔ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر نگرانی بننے والے اس منصوبے کے لئے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر قرضے کی پیشکش بھی کی گئی تھی مگر جولائی 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد اس منصوبہ پر مزید پیش رفت روک گئی۔ کچھ عرصہ پہلے اچانک اس منصوبہ کی فائل کو کچھ افراد کی نگاہ الفت کے سبب جھاڑ پونچھ کر اسے نئے انداز میں پیش کیا گیا۔

Read more

شہباز شریف اور ڈیل کہانی

شہباز شریف کی رہائی کے ساتھ ہی مفاہمت اور ڈیل کی کہانیاں پھر زبان زد عام ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب جیل میں ہوں یا باہر ہمیشہ تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ حالیہ رہائی کے بعد گزشتہ چند دنوں میں برطانوی ہائی کمیشن اور چینی سفیر سے ہونے والی ملاقاتوں نے افواہ ساز فیکٹری کو ایک بار پھر ڈیل کی افواہیں پھیلانے کا موقع فراہم کر دیا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شہباز شریف کا جیل جانا بھی ڈیل کہلاتا ہے اور جیل سے باہر آنا بھی طاقتور حلقوں کی آشیرباد کا پھل قرار دیا جاتا ہے۔

Read more

اپنا گھر کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟

گزشتہ چند سالوں سے ”ہمیں اپنا گھر صاف کرنا چاہیے“ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہ بات عمومی طور پر غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ اپنا گھر ٹھیک کرنے کی بات سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں بھی کی گئی اور یہی بات موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کی ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے ماضی کو دفن کر کے

Read more

عمران خان کیوں گھبرا رہے ہیں؟

اسمبلیاں توڑنے کی بات کی جائے تو گزشتہ سال کے آغاز میں بھی ایسی ہی افواہیں سنائی دی تھیں اور پھر گزشتہ مارچ میں عمران خان کے استعفیٰ دینے کی بات بھی سامنے آئی جس کا ذکر میں نے اپنے کالم ”کپتان کا استعفیٰ۔ افواہوں کے درمیان چھپی حقیقت“ میں تفصیل سے کیا تھا۔ ایک باخبر دوست کے مطابق واقعہ کچھ یوں تھا کہ عمران خان لاک ڈاؤن کے حامی نہیں تھے اور جب ایک بڑے انتظامی افسر نے انھیں بتایا کہ لاک ڈاؤن کی سمری بھجوانے کا پیغام پنڈی سے آیا ہے تو وزیراعظم نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سب معاملات ’انہوں‘ نے ہی چلانے ہیں تو پھر میں استعفیٰ دے دیتا ہوں ”۔ اس بار بھی یہ افواہیں تیس اینکرز کے ساتھ ’سات گھنٹے والی طویل ملاقات‘ کے بعد منظرعام پر آئی ہیں جس میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ اگر کوئی ڈیلیور نہیں کرتا اور اپنے وزن سے گرتا ہے تو اسے ہم پر نہ ڈالیں۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔

Read more

الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات

کراچی ضمنی انتخاب پی ڈی ایم کی حلیف جماعتوں کے درمیان خلیج بڑھانے کا سبب بن گیا۔ فیصل واوڈا کے استعفیٰ سے خالی ہونے والی نشست پر بظاہر مقابلہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے مابین لگ رہا تھا مگر انتخابی نتائج کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی باہمی چپقلش میں ڈھل گیا۔ ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی یہ نشست جیت گئی مگر مسلم لیگ نون کی دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن کے حکم

Read more

فروغ نسیم دور حاضر کے ’شریف الدین پیرزادہ پلس‘ ہیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اپنے انجام کو پہنچ چکا۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے بیان پر یقین کیا جائے تو اس کالعدم ریفرنس اور جسٹس فائز کے خلاف مبینہ سازش کے روح رواں وزیرقانون فروغ نسیم ہی ہیں۔ میمن صاحب کے مطابق وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کی انکوائری کریں، ان پر مقدمہ بنائیں اور اس مقدمہ کو وہ خود لڑیں گے کیونکہ وہ آج تک کوئی کیس نہیں ہارے۔ خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ وہ نہ صرف وہ کیس ہار چکے ہیں بلکہ ایک متنازعہ کردار کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ ضمیر کی خلش کا کوئی پیمانہ ہوتا تو فروغ نسیم اب تک مستعفی ہو چکے ہوتے مگر ڈکٹیٹرز کے اشارہ ابرو پر کورنش بجا لانے کے دلدادہ بیرسٹر صاحب ابھی تک ڈھٹائی سے اس عہدے پر براجمان ہیں۔

Read more

آپ کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟

کورونا کی حالیہ لہر میں صورتحال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس کے آغاز میں جب پاکستان میں کورونا وائرس نامی موذی وبا نے سراسیمگی پھیلائی تو لاک ڈاؤن کو ہی بہتر حل جانا گیا۔ وبا کے آغاز میں احتیاط برتنے کی وجہ سے متاثرین کی تعداد کم رہی۔ لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کے لئے گھروں میں ہی مصروفیات ڈھونڈی گئیں۔ انہی ایام میں کالم نگاری میں میرے استاد محترم عمار مسعود بھائی نے ’بیگم کا ناشتہ‘ بنانے میں عافیت ڈھونڈی۔ کسی نے ”بار بی کیو“ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھائے اور کسی نے برگر، پیزا اور کیک میں خوشنودی کے پہلو ڈھونڈے۔

پہلی لہر میں حالات کنٹرول میں رہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اپنے علاقائی، طبی اور جینیاتی اسباب کی وجہ سے اس وبا سے محفوظ رہا تھا لیکن اس بار صورتحال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ کورونا وائرس کی مختلف اقسام بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اب ویکسین بھی دستیاب ہے مگر مختلف شہروں میں مریضوں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ اس ابتلا کے آغاز سے ہی حکومتی رویہ یہی غمازی کر رہا ہے کہ ’ساڈے تے نا رہنا، بس احتیاط کرنا‘

Read more

آپ اپنی سوچ کیوں نہیں بدلتے؟

نومنتخب امیر سعد حسین رضوی نے گزشتہ معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے پر حکومت کو 20 اپریل سے احتجاج اور دھرنے کی کال دی ہوئی تھی۔ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر حکومت نے سعد رضوی کو گرفتار کر کے صورتحال پر تقریباً قابو پا لیا تھا مگر آج ہونے والے تصادم میں معصوم روزہ داروں کی شہادت نے حکومت کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

Read more

ہائبرڈ سسٹم سے اداروں کی ساکھ خراب ہوتی ہے

نومبر 2016 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مسند کمان سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک اصطلاح تواتر سے سنائی دینے لگی جسے ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کا نام دیا گیا۔ پہلے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کا نام تبدیل کر کے اس کی جگہ آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا اور پھر کچھ ہی دنوں بعد اس نئے ڈاکٹرائن کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ اس ڈاکٹرائن کی غیر سرکاری تشریح کے مطابق اسے

Read more

پی ڈی ایم کے اگلے اہداف اور کپتان کی حکمت عملی

سینیٹ الیکشن کا ہنگام اختتام پذیر ہوا مگر بیانات کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ انتخابات میں دارالحکومت کی نشست پر برسراقتدار جماعت کو شکست دینے والے پہلے امیدوار بن گئے۔ بلاشبہ یہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ درحقیقت یہ کامیابی ایک ایسی حکومت کے خلاف ہے جس کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ہے۔ حکومتی اکابرین خود بھی مقتدر قوتوں کے ساتھ ایک صفحے کی گردان کرتے نظر آتے ہیں۔

Read more

امریکی انتخابات اور پاکستان

اعصاب شکن امریکی انتخابات اختتام کو پہنچے اور جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہار تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ عدالتی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ جو بائیڈن کو پاکستان میں دوست شخصیت کے طور پر گردانا جاتا ہے اور 2008 میں انہیں پاکستان کے دوسرے بڑے سویلین اعزاز ’ہلال پاکستان‘ سے بھی نوازا نوازا جا چکا ہے۔ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے دور حکومت میں پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر نئے صدر کے خیالات کو جانچتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ دور میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کے لئے قدرے بہتر ہو گا۔

Read more

سازشیں کیوں نہیں تھم رہیں؟

تین نومبر 2007 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف آئین معطل کر کے ایمرجنسی پلس کے نام پر ایک بار پھر مارشل لا لگایا تھا لیکن یہ دن اس لحاظ سے منفرد بھی ہے کہ ساٹھ سے زائد ججز نے آئین شکنی کو قبول کرنے کی بجائے گھروں میں قید ہونا قبول کر لیا۔ پرویز مشرف پاکستان کے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہیں آئین شکنی کے جرم میں خصوصی عدالت نے غدار قرار دیا اور انھیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس دور میں وکلا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں نے نے ببانگ دہل آمریت کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ خصوصی عدالت کے فیصلے نے آزاد جمہوریت کے داعیوں کے لئے مزید تقویت کا باعث ہے۔

Read more

حکمرانوں کا پھکڑپن اور جمہوریت کا مستقبل

کچھ مہینے پہلے کورونا وائرس کی آفت نے اقوام عالم میں سراسیمگی پھیلا دی تھی۔ رحمت خداوندی سے پاکستان اس آفت سے قدرے محفوظ رہا اور دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت ہم ابتر صورتحال کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خراب معیشت کو بہتر کرنے پر توجہ دے سکتی تھی مگر حکومتی اکابرین نے شاید تہیہ کیا ہوا ہے کہ عوام کو رلانا ہے۔ کورونا وائرس سے تو قوم بچ گئی مگر حکمرانوں کے ”بونگونا“ وائرس سے بچنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ وزرا کے بیانات ہوں یا وزیراعظم کا خطاب، گمان یوں ہوتا ہے کہ متانت و وقار انھیں چھو کر بھی نہیں گزرا۔

Read more

اگر آئین سے عہد وفا کرتے تو۔۔۔

اپوزیشن جماعتوں کی کانفرنس کا ہنگام ابھی تھما نہیں تھا کہ میڈیا پر پارلیمانی رہنماؤں اور آرمی چیف کی ملاقات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ ذرائع کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات میں عسکری قیادت نے کہا ہے کہ فوج کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے۔ آرمی چیف نے واضح کہا کہ سیاست میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں۔ جو بھی منتخب حکومت ہوگی اس

Read more

اپوزیشن کی کانفرنس اور کپتان کا مستقبل

اپوزیشن جماعتوں کی ایک اور مشاورتی کانفرنس ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ کانفرنس کی سب سے اہم پیش رفت میاں محمد نواز شریف کا لندن سے ویڈیو لنک پر خطاب ہے۔ اس خطاب سے پہلے نواز شریف نے سوشل میڈیا پر ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا جس نے چند گھنٹوں میں ہی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ آج کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر پر سبھی کی نظریں جمی تھیں کہ دو سال کی خاموشی کے بعد وہ کیا کہیں گے۔ اس تقریر کا ان کے حامی اور مخالفین دونوں کو شدت سے انتظار تھا۔ دوپہر میں ہونے والی جارحانہ تقریر نے کانفرنس میں سماں باندھ دیا۔ دو سال کی خاموشی کے بعد بولے تو ایسا لگا گویا ان کے سینے میں چھپا کوئی آتش فشاں پھٹ پڑا ہو۔

تاریخ پاکستان کا احاطہ کرتی یہ تقریر پوری کانفرنس پر بھاری نظر آئی۔ نواز شریف نے عوام کے حق حکمرانی کی بات کی اور ووٹ کو عزت دلانے کے عزم کو بھی دہرایا، جمہوریت کو یرغمال بنانے والوں کا ذکر کیا اور ان کے ماورائے آئین اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ یک طرفہ احتساب کا تذکرہ کیا اور انصاف کے دہرے معیار کو بھی زیر بحث لائے۔ ڈان لیکس اور مسلم لیگ نون کی بلوچستان حکومت ختم کرنے والے کرداروں پر بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ جولائی الیکشن میں کی جانے والی بدترین دھاندلی کو بھی موضوع سخن بنایا اور حکمرانوں کے ظلم و استبداد کے آلہ کی حیثیت اختیار کر جانے والے نیب کے دہرے احتساب کا بھی خصوصی ذکر کیا جو حکومتی کیسز پر آنکھیں بند رکھتا ہے اور اپوزیشن کو بے بنیاد مقدمات میں طلب کیا جاتا ہے۔ میڈیا پر پابندی، تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ اور علیمہ خان کی خفیہ جائیدادوں سمیت الغرض ماضی کے تمام تلخ حقائق کو کھلے الفاظ میں دہرایا۔

Read more

رِنگ ماسٹر کے ہتھکنڈے اور سادھارن عوام

سرکس دیکھنے کا اتفاق تقریباً سبھی کو ہوا ہو گا۔ سرکس میں ہر عمر کے افراد کے لئے تفریح طبع کا سامان ہوتا ہے۔ تنی ہوئی رسی پر چلنے والے بازیگر بھی ہوتے ہیں اور ماحول پر چھائی ہوئی سنجیدگی دور کرنے کے لئے کے لئے جوکر بھی ہوتے ہیں۔ بازیگر جان ہتھیلی پر رکھ کر خطرناک کرتب دکھاتے ہیں جبکہ مسخروں کا روپ دھارے کامیڈین کا کام ماحول کو کشت زعفران بنانا ہوتا ہے۔ سرکس کا سب سے مبہوت کر دینے والا کردار رنگ ماسٹر ہوتا ہے۔

رنگ ماسٹر کا حلیہ بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ مخصوص وردی میں ملبوس رنگ ماسٹر نے ایک ہاتھ میں چابک اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی تھامی ہوتی ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کمر پر ہولسٹر میں ایک پستول بھی لٹکا ہوتا ہے۔ اپنے مخصوص حلیہ میں ملبوس رنگ ماسٹر کا سب سے بڑا کارنامہ خونخوار درندوں کو اپنے سحر میں محو رکھ کر اپنے اشاروں پر چلانا ہوتا ہے۔ سرکس کا یہ آئٹم اس پورے شو کی جان ہوتا ہے جب سب سامعین مبہوت ہو کر خونخوار درندوں کو اپنے ٹرینر کے اشاروں پر عمل کرتا دیکھتے ہیں جن کے پاس جانے کا سوچ کر بھی جھرجھری آتی ہے۔

Read more

حوا کی بیٹیوں کو تذلیل سے بچائیں

تاریک رات میں ہونے والا جنسی درندگی کا سانحہ موٹروے ظلم و بربریت کے ایسے انمٹ نقوش اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے جنہیں بھلانے کے لئے ایک عرصہ درکار ہے۔ معصوم بچوں کے رگ و پے میں سرایت کر جانے والے خوف کے سائے جانے کیسے ختم ہوں گے۔ جانے کیسے وہ بھول پائیں گے ظلم کی اس تاریک رات کو جس نے ان کے دل و دماغ کے ساتھ ان کی روح کو بھی چھلنی کر دیا ہے۔ جانے کب ان کے ذہنوں پر چھائے خوف و دہشت کے اثرات قصہ پارینہ بنیں گے اور جانے کب ان کے خوفزدہ چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ بکھرے گی۔

اس واقعہ میں جہاں ایک طرف انسان کے بھیس میں چھپے درندوں نے بربریت کے پہاڑ توڑے وہیں پر پولیس کے سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر بربریت کا شکار ہونے والی خاتون کو ہی لاپروا کہہ کر اس بے گناہ خاتون کے زخموں پر بارہ مسالے ڈالنے کا کام کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انچارج لاہور پولیس تگ و دو کر کے جنسی درندوں کو گرفتار کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچاتے مگر انہوں نے ظلم کا شکار ہونے والی خاتون پر ہی ایسے اعتراضات کرنے شروع کر دیے جو کہنے کا استحقاق صرف اہل خانہ کو تھا۔

Read more

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

جنگ اخبار کا شمار پاکستان کے صف اول کے اخبارات میں ہوتا ہے۔ حقائق پر مبنی خبروں اور تجزیوں کے سبب جنگ گروپ کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ حق گوئی کی وجہ سے مختلف ادوار میں مصائب جھیلے۔ پرویز مشرف کے مارشل لائی دور میں بھی جیو زیر عتاب رہا مگر اپنی روش ترک نہیں کی۔ جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن پر غداری کے فتویٰ بھی لگے مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی پاداش میں آج بھی پابند سلاسل ہیں۔ گزشتہ دنوں کے جنگ اخبار میں کالم نگار مظہر برلاس کے کالم میں سینئر صحافی احمد نورانی کے بارے میں کچھ ایسے الفاظ پرنٹ ہو گئے جن سے صرف جنگ اخبار کی ایڈیٹوریل پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی۔

Read more

ریاست سویلینز کی ماں کب بنے گی؟

تین حروف کا مجموعہ لفظ ’ماں‘ ذہن میں آتے ہی ایسا فرحت بخش احساس پیدا ہوتا ہے جیسے تمام تکالیف سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ جیسے تپتی دھوپ کے بعد اچانک گھنے سیاہ بادل دیکھ کر ہوتا ہے لیکن اگر ماں کے ساتھ لفظ ’سوتیلی‘ لگ جائے تو خوف، دکھ اور اضطراب کی لہر جھرجھری طاری کر دیتی ہے۔ یہ کرب وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے سوتیلی ماں کے جسمانی و ذہنی اذیتیں جھیلی ہوں۔ ریاست بھی ماں کے جیسی ہی ہوتی ہے جس کا کام رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر سب شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ماحول میسر کرنا ہوتا ہے جس میں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی، یکساں عدل و انصاف اور مساوات دکھائی دے مگر جب ریاست شہریوں میں تفریق کرنا شروع کر دے تو ایسا طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے انحطاط کا سبب بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ تہتر سالوں میں طبقاتی فرق بہت بڑھ چکا ہے اور ریاستی اکابرین کی جانب سے اسے زائل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نظر نہیں آتی۔

Read more

مسخری باز حکمران

اس دور حکومت میں ایک تبدیلی یہ ضرور آئی ہے کہ کچھ سال پہلے لوگ قربانی سے پہلے حکومت کی قربانی کی باتیں کرتے تھے لیکن اب قربانی کے بعد حکومت قربان ہونے کی نوید سنا رہے ہیں. قربانی ہو گی یا نہیں اس پر بعد میں بات کریں گے لیکن اس سے پہلے اس حکومت کے کچھ اقدامات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے جو تفنن طبع کا باعث بن رہے ہیں. گزشتہ ادوار میں حکومتیں عوام کو اپنی

Read more

سازشیں روکنی ہیں تو مکالمہ بہت ضروری ہے

جولائی میں ہونے والے واقعات پاکستان کی تاریخ میں دور رس اثرات رکھتے ہیں۔ مینار پاکستان کی تعمیر بھی جولائی ہی میں مکمل ہوئی تھی۔ مینار پاکستان کو یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھٹو کی حکومت کے خلاف ڈائریکٹ مارشل لا بھی جولائی میں لگا اور پاکستان میں پردے میں لپٹی آمریت بھی دو سال پہلے جولائی میں ہی مسلط ہوئی۔ عدلیہ بحالی تحریک میں آزاد عدلیہ کا نقطۂ آغاز بننے والا صدارتی ریفرنس بھی جولائی میں

Read more

شغلیہ حکومت کا مستقبل اور مقتدرہ کا کردار

ایک محاورہ ہے اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ جس طرح اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اسی طرح اس حکومت کا بھی کوئی کام سیدھا نظر نہیں آتا۔ زبانی تقریر کے شوقین وزیر اعظم ہوں یا وزراء ’پہلے تولو پھر بولو‘ کی بجائے ’پہلے بولو پھر مضمرات بھگتو‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ حالیہ ایام میں دیکھیں تو کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے ہر روز بدلتے بیانات تفنن طبع

Read more

’پپو‘ وزیراعظم نہ بنتا تو۔۔۔

سالوں پہلے ٹی وی پر ایک کمرشل آتا تھا جس میں ایک ’پپو‘ متعارف ہوا تھا۔ اشتہار میں دکھایا گیا کہ ”پپو پاس ہو گیا“ سن کر سارے گاؤں میں خوشیوں کی آبشاریں دوڑ گئیں۔ ہر جانب چاکلیٹس اور مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں۔ گویا پپو اگر کوئی پوزیشن لے لیتا تو پپو کے والدین خوشی و مسرت سے پھولے نہ سماتے، ان کی دمکتے چہروں پر خوشی دیدنی ہوتی، شامیانے لگائے جاتے اور شادیانے بجائے جاتے، سارے گاؤں میں چراغاں ہوتے، دیگوں کے منہ کھول دیے جاتے، حلوائیوں کی چاندی ہو جاتی، گلی گلی مٹھائیاں تقسیم ہوتیں اور الغرض ہر ممکن طریقے سے خوشی کا اظہار کیا جاتا۔ پپو بھلے جتنا بھی نالائق ہو یا بدخواہ اسے ’نالائق اعظم‘ کہہ کر پکاریں مگر والدین سینہ چوڑا کر کے فخر سے بتاتے ہیں کہ پپو بہت ذہین اور لائق فائق ہے۔

والدین کی آنکھوں کا تارا ’پپو‘ جب ان دیکھی قوتوں کا راج دلارا بن جائے تو پھر وزیراعظم کا عہدہ دیدہ و دل راہ فراش کی مانند قدموں میں نچھاور ہو جاتا ہے۔ پھر نہ قابلیت و لیاقت دیکھی جاتی ہے اور نہ ہی کسی خامی کی کوئی اہمیت رہتی ہے۔ بڑی سے بڑی رکاوٹ چشم زدن میں دور ہو جاتی ہے، پپو کو وزیراعظم بنانے کے لئے ترقی کرتا ملک مسائلستان دکھنے لگ جاتا ہے۔ تیزی سے بڑھتی شرح ترقی بھی خواہشات کے سومنات کے آگے دیوار نہیں بن پاتی، اچانک ہر طرف کرپشن ہی کرپشن دکھنے لگ جاتی ہے، حاکم وقت چور اور ڈاکو لگنے لگ جاتے ہیں، دھرنوں اور سازشوں سے بھی کام نہ چلے تو غداری سرٹیفکیٹ اور مذہب کارڈ بھی ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ منصف اور محافظ سب ایک صفحے پر آ جاتے ہیں۔

Read more

صدارتی ریفرنس مسترد، آگے کیا ہو گا؟

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کا جسٹس فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس مسترد کرنے کا فیصلہ اس حبس زدہ گھمس کے ماحول میں نسیم باد بہاری کی مانند ہے۔ اس یرغمالی عہد بے ننگ و نام میں جہاں ہر طرف ایک ڈاکٹرائن نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں وہاں ایسے فیصلے کا آ جانا ہی کسی کرشمہ سے کم نہیں۔ یہ ریفرنس کسی بے ضابطگی کی بنیاد پر تھا ہی نہیں بلکہ یہ ریفرنس صرف آئین کی پاسداری کرنے کی سزا کے طور پر تھا۔ یہ ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس کے اس فیصلے کا نتیجہ تھا جن میں وہ بے نقاب ہوئے تھے جن کا نام لکھنا ممنوع ہے۔ اسی وجہ سے اس فیصلہ کو کچھ حلقے انقلاب کہہ رہے ہیں اور دوسری جانب لوگ شکوک و شبہات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

Read more

شہباز شریف کی گرفتاری کیوں ضروری ہے؟

کورونا کے پھیلاؤ کے باوجود نا اہلیت کے شہنشاہ کی جانب سے شہباز شریف کی گرفتاری کا بھونڈا اقدام فی الوقت عدالت کی وجہ سے کارگر نہ ہو سکا مگر اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ فیصلہ صرف سلیکٹڈ کہلائے جانے والے وزیراعظم کا ہی ہے یا اس کے پیچھے وہ بھی ہیں جن کا نام لکھنے سے تحریر میں کانٹ چھانٹ ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں اگر یہ کہا جائے کہ مقتدر قوتوں

Read more

تعلیمی اور سیاسی صورتحال

کسی بھی معاشرہ کی نشو و نما میں علم و تعلیم کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ تعلیم وہ زیور ہے جو نہ صرف انسان کا کردار سنوارتی ہے بلکہ ترقی و خوشحالی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ نہ صرف عوام کے لئے بنیادی تعلیمی سہولیات مہیا کرے بلکہ اساتذہ کے لئے بھی قابل عزت روزگار کا بندوبست کرے۔

عمران خان باتوں کی حد تک تو تعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیتے ہیں مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ کالم میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کے مسائل کے حوالے سے لکھا تھا۔ اس پر بہت سے طلبہ اور بیروزگار پی ایچ ڈی ڈاکٹرز نے درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ خیبر پختونخوا میں تو گھوسٹ سکول ہیں ہی مگر عمران خان کے آبائی علاقہ میانوالی میں صورتحال اس سے بھی ابتر ہے۔

Read more

شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقات اب کیا رخ اختیار کر رہی ہیں؟

سوشل میڈیا پر اعلی تعلیم یافتہ افراد کی جانب سے اپنی بیروزگاری پر حکومتی توجہ حاصل کرنے کے لئے مہم چلائی جا رہی مگر کسی جانب سے ان کی دادرسی نہیں ہو رہی۔ حکومت ریٹائرڈ افراد کو دوبارہ نوکریاں دے رہی ہے بلکہ کچھ حاضر سروس افسران کو دو دو نوکریاں بھی دی جا رہی ہیں مگر اس وقت پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد بیروزگار ہے جن کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً دو ہزار سے زائد فارغ التحصیل پی ایچ ڈی طلبہ و طالبات بیروزگاری کی عفریت کا شکار ہیں جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک میں ساٹھ ہزار پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔

Read more

مسلم لیگ ن اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کے لیے مذاکرات پر تیار

آج کے کالم کا موضوع سخن تو اٹھارہویں ترمیم اور نواز شریف کی نا اہلی کا آپس میں تعلق ہے مگر کورونا کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا تذکرہ کیے بغیر کچھ تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے جن چھ نکات پر عملدرآمد کا کہا تھا ان میں سرفہرست نکتہ یہ تھا ”لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے یہ یقینی ہونا چاہیے کہ کورونا کیسز کی تعداد کم ہو رہی ہے اور وائرس کی منتقلی قابو میں ہے“ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں مریضوں کی یومیہ تعداد دو ہزار سے بڑھ چکی مگر حکومت نے لاک ڈاؤن کھولنے کا حیران کن فیصلہ کیا۔

Read more

مقتدر قوتیں آخر کیا چاہتی ہیں؟

ادارے کسی بھی ملک کی پہچان اور استحکام کے ضامن ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک کوئی سیاسی ادارہ مضبوط نہیں ہو سکا یا مضبوط ہونے نہیں دیا گیا۔ اگر پاکستان آئینی ادارے خودمختار ہوتے تو آج ملک میں عدم استحکام نہ ہوتا۔ انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کو وزیراعظم کی آنکھ اور کان کہا جاتا ہے۔ نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں ملک کی سب سے بڑی سویلین خفیہ ایجنسی آئی بی کی استعداد کار بڑھانے کے

Read more

مقتدر قوتوں کا سیاسی کھیل اور شہباز شریف کا اعتراف

شہبازشریف کے اعتراف پر بات کرنے سے پہلے شیخ رشید کے ایک عامیانہ بیان کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ کورونا وائرس کی وبا ایک عالمی آفت ہے مگر ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اسے عمران خان کے لئے اللہ کی طرف سے غیبی امداد قرار دے رہے ہیں۔ کورونا جیسے سنگین مرض سے ترقی یافتہ ممالک بھی پریشان مگر دریوزہ گری کے شوقین حکمران اس قدر مردہ دل ہو چکے ہیں کہ ابتلا کے اس دور میں بھی

Read more

کیا شوگر انکوائری کمیشن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھے گا؟

شوگر انکوائری کمیشن پر بات کرنے سے پہلے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت دو طرح کی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کی وبا ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے اور دوسری جانب ایک مربوط حکمت عملی کا فقدان ہے جس سے نہ صرف کورونا وائرس بڑھ رہا ہے بلکہ دوسرے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے حوالے سے

Read more

گندم اور چینی اسکینڈل کے پس پردہ حقائق اور اثرات

گزشتہ چند مہینوں سے میڈیا پر آٹا اور چینی سکینڈل کی بازگشت جاری ہے۔ گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ یہ رپورٹ اسی طرح آئی ہے جیسے دھرنے کے دنوں میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آئی تھی۔ آج محترم حامد میر صاحب نے بھی تصدیق کی کہ یہ رپورٹ حکومت نے جاری نہیں کی بلکہ اسے محمد مالک صاحب اپنے ٹی وی شو میں بریک کر چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اکابرین مصر ہیں کہ یہ رپورٹ حکومت نے ہی جاری کی ہے۔ حتی کہ وزیراعظم صاحب تو خودستائشی کا ٹویٹ کر کے اس ”تاریخی“ کارنامہ پر داد بھی سمیٹ چکے ہیں۔

Read more

اپوزیشن اور مقتدر حلقے کپتان کی مدت پوری کروانا چاہتے ہیں

میرے باخبر دوست کا کہنا ہے کہ کرپشن سکینڈلز کے باوجود حکومت کہیں نہیں جا رہی مگر کپتان کو بتا دیا گیا ہے کہ اب ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ ہو سکتا ہے عمران خان کو کچھ ساتھی قربان کرنے پڑیں لیکن اب ان کا مؤقف تبدیل ہوتا نظر آئے گا۔ اب انھیں معاشی ترقی میں سڑکوں کی اہمیت کا احساس بھی ہو گیا ہے اور کورونا لاک ڈاؤن بھی اچھا لگنے لگ گیا ہے۔

Read more

کپتان کا استعفیٰ۔ افواہوں کے درمیان چھپی حقیقت

پاکستان میں جب بھی کوئی انہونا واقعہ ہوتا ہے تو افواہ ساز فیکٹریوں سے نت نئی افواہیں باہر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بسا اوقات افواہیں اس قدر تیزی سے پھیلائی جاتی ہیں کہ نہ صرف حقائق جاننا ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ پتھر پر کندہ حقیقت بھی فریب لگنے لگتی ہے۔ کورونا وائرس کے سدباب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات نے جہاں اس حکومت کی مایوس کن کارکردگی نے کا پول کھول دیا وہیں پر شہبازشریف کی اچانک واپسی نے نت نئی افواہوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ افواہیں ہمیشہ جھوٹ نہیں ہوتیں اور نہ ہی افواہیں ہمیشہ بے سبب ہوتی ہیں۔ یہ تمہید باندھنے کا مقصد ایک حقیقت ہے جسے میں نے افواہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔

Read more

کورونا وائرس کی وبا اور سیاسی صورتحال

شیخ سعدی کا قول ہے

ہرچہ دانا کند۔ کند نادان۔ بعد از خرابی بسیار۔ (ترجمہ۔ نادان بھی وہی کرتا ہیے جو دانا کرتا ہیے۔ مگر بہت ساری خرابیوں کے بعد )

کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کی بحث اختتام کو پہنچی اور پورے ملک میں فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ دیر آئد درست آئد تو ہے ہی مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کر کے اتفاق رائے سے خود اعلان کرتے تو ان کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی ہوتی اور وہ عوام کی نظروں میں اعتماد بھی نہ کھوتے۔

Read more

کیا عمران خان پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں؟

خوش بختی  اقتدار دلوا سکتی  ہے مگر امورِ سلطنت چلانے کیلئے فقط صلاحیت ہی درکار ہوتی ہے۔ جولائی 2018 میں پاکستان کی مضبوط ترین حکومت وجود میں آئی اور عمران خان ایسے وزیراعظم کے طور پر منتخب ہوئے جسے طاقتور اداروں کی بھرپور حمایت حاصل تھی. پہلی بار سب ایک ہی صفحے پر نظر آئے. عمران خان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ فوج نہ صرف حکومت کے پیچھے ہے بلکہ تحریک انصاف کے منشور کے بھی ساتھ

Read more

کیا عمران خان کی حکومت کے لئے خزاں آ رہی ہے؟

ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومت کی تبدیلی اور اپوزیشن کی حکمت عملی کے سوال پر شاہد خاقان عباسی نے معنی خیز انداز میں کہا کہ ’یہاں پر جو دکھائی دیتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہو رہا ہوتا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا۔ ‘

مارچ کے شروع ہوتے ہی بہار کی آمد آمد ہوتی ہے۔ رنگ برنگے پھول ہر طرف خوشیاں بکھیر رہے ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر سے ہی ہمیں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اس بار سیاست میں خزاں جلدی آئے گی۔

Read more

خواتین مارچ کا دن ہمارے لئے خود احتسابی کا موقع ہے

جوں جوں خواتین مارچ کی تاریخ قریب آ رہی ہے تب سے ہی اس کے حامی اور مخالفین افراد کے تندوتیز بیانات میں شدت آ چکی ہے۔ حتکہ مارچ رکوانے کے لئے کچھ لوگ اسلام آباد ہائیکورٹ بھی پہنچ گئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں، آپ اپنے طور پر ان کے سلوگنز کی تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ بتائیں کہ ہم کتنی

Read more

فروغ نسیم کی صورت میں شریف الدین پیرزادہ آج بھی موجود ہے

بیرسٹر شریف الدین پیرزادہ کا شمار ملک کے ذہین ترین وکلا میں ہوتا تھا۔ برطانوی درسگاہ سے فارغ تحصیل پیرزادہ صاحب کی وجہ شہرت ڈکٹیٹرز کی حمایت بنی۔ اعلی مناصب پر فائز رہنے والے شریف الدین پیرزادہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکیرٹری کے فرائض بھی سرانجام دیے مگر اس کے باوجود وہ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہر فوجی آمر کی بیساکھی رہے۔ وہ 1973 کے آئین کو پاؤں تلے روندنے والے ڈکٹیٹرز کو آئینی تحفظ دلانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

Read more

فوج عمران خان سے کیوں خوش ہے؟

چوہدری شجاعت حسین انتہائی زیرک سیاستدان ہیں۔ چوہدری صاحب موقع محل کی مناسبت سے الفاظ کا چناؤ ایسے کرتے ہیں کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔

سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری صاحب نے کہا کہ ان کی تو کوشش ہے کہ حکومت چلے مگر عمران خان کے ارد گرد لوگ حکومت کو چلنے نہیں دے رہے۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ملک چل رہا ہے اور معاشی صورتحال خراب ہو رہی ہے، میں نے پہلے بھی کہا تھا، اب پھر کہہ رہا ہوں کہ دو چار مہینوں کے بعد کوئی بھی وزیر اعظم بننے کو تیار نہیں ہوگا۔ ہر کوئی کہے گا میں نے وزیر اعظم نہیں بننا۔ ‘

Read more

کیا حکومت بڑھتی مشکلات پر قابو پا سکے گی؟

آج کل صبح اٹھتے ہی افراتفری والی خبریں ملتی ہیں۔ کبھی سٹاک مارکیٹ گرنے کی خبر تو کبھی حکومت جانے کی پیشین گوئیاں۔ قومی اسمبلی کے حالات دیکھیں تو حکومت کی جانب سے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی البتہ روز لڑائی جھگڑوں یا دھینگا مشتی کی خبریں ضرور سامنے آتی ہیں۔ حکومت کا انداز حکمرانی ایسا ہے کہ کسی بھی مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ مسئلہ حل کرنے کی بجائے اس بحران کو بڑھانے

Read more

سیاسی شطرنج پر ’پاور بروکرز‘ کا کھیل

عمر چیمہ صاحب کی سٹوری ’مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کے لئے پاور بروکرز کے ساتھ مذاکرات‘ میں ایک جملہ مسکراہٹ بکھیر گیا کہ ”پاور بروکرز کی جانب سے تمام تر مذاکرات کے باوجود شریف اور چوہدری برادران کو چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں“ یہ جملہ پڑھ کر کچھ عرصۂ پہلے کے واقعات ذہن میں تازہ ہو گئے۔ گزشتہ اکتوبر میں مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا اسلام آباد پہنچا ہی تھا کہ احسن اقبال کا

Read more

تبدیلی مارچ میں ہی کیوں؟

احسن اقبال کے ’پینوگ‘ کو دیے گئے انٹرویو اور بہت ساری قیاس آرائیوں کو ذہن میں رکھیں تو امکان نظر آتا ہے کہ پہلے ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے نیا وزیراعظم آئے گا اور پھرمطلوبہ قانون سازی کے بعد سب جماعتیں نئے الیکشن کی طرف جائیں گی۔ شاید اگلی سردیوں کے قریب نئے الیکشن ہو جائیں گے۔

Read more

کیا نواز شریف ابھی الیکشن نہیں چاہتے؟

ارادہ تھا کہ اس بار پاکستان میں بار بار کی فوجی مداخلت پر لکھا جائے۔ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی ملک سے آزادی حاصل کی ہے۔ دونوں ممالک کے فوجی افسران نے ایک ہی جگہ سے تربیت حاصل کی لیکن پاکستان میں آغاز ہی سے مداخلت شروع ہو گئی تھی اور بھارت میں آج تک کبھی کسی فوجی سربراہ کو مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں ہوئی۔ قائداعظم جلدی رحلت فرما گئے تھے تو بھارتی رہنما گاندھی کا بھی

Read more

بدلتی ہواؤں کا رخ اور سیاسی جماعتوں کا طرز عمل

کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست نظریہ پر ہوتی ہے۔ اگر نظریہ نہ ہو تو پھر آپ کی حیثیت صرف ہوس اقتدار کے ایسے پجاری کی سی ہوتی ہے جو کسی بھی طرف لڑھک سکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ سیاست ناممکنات کا کھیل ہے لیکن کہیں نہ کہیں آپ کو اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق ہی فیصلہ کرنا پڑتا ہے تاکہ عوام میں آپ

Read more

مسلم لیگ ن کا ایکسٹینشن ووٹ اور قبل از وقت الیکشن

آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں مسلم لیگ ن کی جانب سے ٹی وی سکرینوں پر غیر مشروط حمایت کا بیان آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہو گئی۔ اس حمایت کو سویلین بالادستی کے حامی افراد نہ صرف ایک مایوس کن قدم قرار دے رہے ہیں بلکہ ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ سے انحراف کے الزامات بھی لگائے جانے لگے۔ بہت سے افراد پارٹی قیادت کے اس فیصلہ کی حمایت میں بھی تھے۔ سوشل میڈیا پر حامی

Read more

ویڈیو نہیں فوٹیج

قرانی آیات سے بات کا آغاز کرنے والے وزیر محترم کی پریس کانفرنس سنتے ہوئے ”ویڈیو اور فوٹیج“ میں فرق کا جملہ کانوں میں پڑا اور میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا کہ یہ وہی وزیر صاحب ہیں جو کچھ مہینوں پہلے تک رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کو جنگی ماحول جیسا بتا رہے تھے، ان کے کاروبار کو منشیات کی آمدنی کا ذریعہ بتاتے ہوئے ہمیں ایک منظم نیٹ ورک کے پکڑے جانے کی نوید سنا رہے تھے اور

Read more