کیا عمران خان، جنرل باجوہ کی توسیع سے انکار کرسکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ (ق) کے لیڈر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ شکایات کا پنڈارا کھولا ہے اور کہا ہے کہ حلیف جماعتوں کے ساتھ ’دوسری بیوی ‘ جیسا سلوک بند کیا جائےاور ان کی شکائتیں دور کی جائیں۔
اس دوران وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ق) کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ اور سندھ کے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور بلوچستان میں اتحادی جماعتوں کی شکایات دور کرنے کے لئے تین کمیٹیا ں قائم کی ہیں جن کے مشترکہ چئیر مین وزیر دفاع پرویز خٹک ہوں گے۔ حکمران جماعت کو البتہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج پنجاب میں درپیش ہے جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف محاذ مستحکم ہورہا ہے تو دوسری طرف عثمان بزدار سیاسی لحاظ سے عمران خان کی کمزوری بن چکے ہیں۔ عثمان بزدار کی کرسی ان کی لیاقت یا سیاسی چابک دستی کی وجہ سے محفوظ نہیں ہے بلکہ اب انہیں ہٹانے کا مقصد پنجاب کے علاوہ مرکز میں بھی تحریک انصاف کے اقتدار کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
تحریک انصاف کے سیاسی دشمن خاموش ہیں لیکن یہی خاموشی دراصل کسی درپردہ طوفان کا پتہ دیتی ہے۔ ان میں سب سے تشویشناک پہلو یہ گمان ہے کہ مقتدر حلقے اب عمران خان کی ضد اور گھمنڈ کے علاوہ حکومت کی ناقص کارکردگی سے تنگ آچکے ہیں۔ اور اس تجربے کو سمیٹنے کا کوئی بہانہ تلاش کیا جارہا ہے۔ پنجاب میں ابھرنے والی بے چینی اور حلیف جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف میں پیدا ہونے والی ناراضی ، یہ موقع فراہم کرسکتی ہے۔ اسی لئے پرویز الہیٰ کی ملک کے اہم ایڈیٹروں کے ساتھ ملاقات میں تحریک انصاف کے ساتھ تعاون پر مایوسی کا اظہار بہت اہمیت رکھتا ہے۔
پرویز الہیٰ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور پرویز مشرف کے دور میں پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے طور پر کامیاب سے معاملات کو چلانے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت اور عثمان بزدار کی سیادت کو برقرار رکھنے کے لئے مسلم لیگ (ق) یعنی گجرات کے چوہدریوں کی تائد و اعانت بہت ضروری ہے۔ یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں ہے کہ چوہدریوں کی بے چینی میں اسی وقت اضافہ ہوتا ہے جب انہیں اپنے حلقہ انتخاب کے علاوہ طاقت کے مراکز سے اشارہ موصول ہوتا ہے۔ تجربہ کار سیاست دان ہونے کے ناتے چوہدری پرویز الہیٰ اور چوہدری شجاعت حسین بر وقت بات کرتے ہیں اور غیر ضروری فساد پیدا کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ پرویز الہیٰ جب سیاسی اختلافات اور پارٹی سے کئے گئے وعدوں کی یاددہانی کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب ، تحریک انصاف کی قیادت یا عمران خان سے براہ راست بات کرنے کی بجائے میڈیا کے ذریعے مواصلت کرنا ضروری سمجھنے لگیں تو اسے پنجاب کے سیاسی اتحاد میں سنگین بحران کا اشارہ سمجھا جانا چاہئے۔
عمران خان فی الوقت یہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنی پارٹی میں ناراض عناصر کو دھمکی اور لالچ کے ذریعے خاموش کرواکے اور چوہدریوں کی شریف خاندان سے سیاسی دشمنی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے ، وہ مسائل کو دبانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ تاثر شاید وقتی ثابت ہو۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے پاس کون سے آپشن ہیں اور وہ اپنے پتے کتنی کامیابی سے کھیلتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) جو پنجاب اسمبلی میں دوسری بڑی پارٹی ہے چوہدریوں کو تعاون کے اشارے کروا چکی ہے۔ یعنی اگر پرویز الہیٰ عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی کوئی تحریک لانا چاہیں تو مسلم لیگ (ن) ان کی حمایت کرے گی۔ لیکن مسلم لیگ (ق) ایسا اقدام کرتے ہوئے یہ ضرور سوچے گی کہ اسے عثمان بزدار کی حکومت گرانے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
چوہدری پرویز الہیٰ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے طاقت ور امید وار رہے ہیں لیکن عمران خان نے ان کی یہ خواہش پوری نہیں کی۔ اب اگر وہ تحریک انصاف کے خلاف مسلم لیگ (ن) سے مدد لے کر عثمان بزدار کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو وزیر اعلیٰ بننے کے لئے بھی انہیں حمزہ شہباز کی حمایت پر تکیہ کرنا پڑے گا۔ مسلم لیگ (ن) اگر ایسی امداد کا وعدہ کر بھی لے تو بھی اس پر بھروسہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ نہ ہی شریف خاندان کے لئے پرویز الہیٰ جیسے مضبوط لیڈر کو وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول کرنا ممکن ہوگا۔ پارٹی کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی بحران طول پکڑے گا اور اس کے نتیجے میں نئے انتخابات وقت سے پہلے کروانے پڑیں گے۔ متعدد لیڈر اس سال کے دوران مڈ ٹرم انتخابات کی بات کرتے بھی رہے ہیں۔ ان حالات میں مسلم لیگ (ن) عثمان بزدار کی حکومت کو گرانے میں تو دلچسپی لے گی لیکن پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنوانے میں اسے سیاسی نقصان ہی دکھائی دے گا۔
چوہدری پرویز الہیٰ بھی شریف خاندان کے اس سیاسی مزاج یا مجبوری کو بخوبی سمجھتے ہیں لہذا چوہدریوں کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کے تعاون اور حمایت کے اشاروں کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ اندر کی خبر لانے والے رپورٹروں کا دعویٰ ہے کہ گجرات کے چوہدری شریف خاندان کے مقابلے میں عمران خان اور تحریک انصاف پر اعتبار کرتے ہیں۔ حالانکہ اس اعتبار کی نوعیت کا بھانڈا پرویز الہیٰ نے خود ہی اخبارات کے مدیروں سے بات چیت میں پھوڑ دیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے لئے آئیڈیل صورت حال یہ ہوگی کہ عمران خان پنجاب میں اپنی ساکھ بچانے کے لئے عثمان بزدار کی سرپرستی سے دست بردار ہوجائیں اور اس خلا میں تحریک انصاف کی گروہ بندی کا حصہ بننے کی بجائے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول کرلیں۔
اس اقدام سے عمران خان دو مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک تو پنجاب کے انتظامی معاملات بہتر ہوجائیں گے اور دوسرے صوبے میں مسلم لیگ (ن) کا اثر و رسوخ ختم کرنے کا کام آسان ہوجائے گا۔ لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اسے عمران خان کی سیاسی شکست سمجھا جائے گا اور اس وقت جو سیاسی دباؤ پنجاب میں بظاہر عثمان بزدار کے خلاف موجود ہے، اس کا فوکس تبدیل ہوکر مرکز میں عمران خان کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ اس کے نتیجہ میں پنجاب تحریک انصاف میں گروہ بندی شدید ہوجائے گی اور عمران خان سے ناراض عناصر کی تعداد میں اضافہ ہوگا جو آئیندہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔ یعنی عمران خان، پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنوا کر شریف خاندان پر سیاسی وار تو کرسکتے ہیں لیکن اس کے اثرات خود ان کی اپنی پارٹی کو بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔
اس کھینچا تانی میں بعض عناصر دور کی یہ کوڑی بھی لاتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ مسلم لیگ (ن) کے ناراض لیڈر چوہدری نثار علی خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنوا کر ایک طرح سے ’قومی اتحاد‘ کی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے ۔ اس اندازے کے مطابق شہباز شریف ، چوہدری نثار علی خان سے ذاتی دوستی کے علاوہ اسٹبلشمنٹ کو راضی کرنے کے لئے اس انتخاب پر راضی ہوجائیں گے۔ اس قیاس کے مطابق چوہدری نثار علی خان اسٹبلشمنٹ کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو یکساں طور سے قابل قبول ہوں گے۔ تاہم چوہدری نثار علی خان اور نواز شریف میں دوریوں کی روشنی میں یہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔
عمران خان کے لئے بھی چوہدری نثار علی خان کی بجائے پرویز الہیٰ یا اپنی ہی پارٹی کے کسی طاقت ور لیڈر کو عثمان بزدار کی جگہ قبول کرنا آسان آپشن ہوگا۔ عمران خان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کو لانچ کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب کی سیاست کے سارے انڈے ’ایک ہی ٹوکری ‘ میں رکھ دیے تھے۔ اسی لئے وہ کبھی عثمان بزدار کو عوامی لیڈر کہتے اور کبھی سیاست کا وسیم اکرم پلس قرار دیتے رہے۔ انہوں نے ہر مرحلہ پر عثمان بزدار کی حمایت کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے آپشن کو مسترد کیا۔ اس کا نقصان یہ ہؤا کہ اب وہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے بہر صورت عثمان بزدار کا ساتھ دینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بناتے ہوئے عمران خان کا خیال تھا کہ ایک کمزور وزیر اعلیٰ ان کے سامنے بے بس ہو گا اور وہ براہ راست صوبے کے معاملات دیکھتے رہیں گے۔ لیکن عملی تجربہ نے ثابت کیا ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبہ کو اسلام آباد میں بیٹھ کر چلانا آسان کام نہیں ہے۔ خاص طور جب عمران خان کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی کارکردگی بھی ناقص ہے اور انہیں حکومت کرنے کا کوئی عملی تجربہ بھی نہیں تھا۔ تاہم عمران خان شدید خود پسندی کا شکار ہونے کی وجہ سے ’ناممکن کو ممکن‘ بنانے کا دعویٰ ہی نہیں کرتے بلکہ وہ دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پنجاب میں سیاسی بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ عمران خان کا یہی گمان بنا ہے۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عمران خان پنجاب کے علاوہ تحریک انصاف کے اقتدار کے لئے ہر طرف سے ابھرنے والے خطرات کا سامنا کیسے کریں گے۔ کیا واقعی اسٹبلشمنٹ عمران خان اور تحریک انصاف سے اس حد تک عاجز آچکی ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر ان سے چھٹکارا چاہتی ہے۔ یہ اندازے زیادہ تر اس قیاس کی بنیاد پر قائم کئے جاتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ دو جمع دو چار کے طریقہ سے چلتی ہے اور جب عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا تو اس میں دیر نہیں لگے گی۔ شاید یہ اندازے اس حد تک درست نہ ہوں۔ سیاست میں عسکری حلقوں کی دلچسپی کے باوجود اس کا اثر و رسوخ سیاسی لیڈروں کی تائد و حمایت کا مرہون منت ہی ہوتا ہے۔ سیاسی تبدیلی کے لئے متبادل سیاسی مہرے تیار کئے بغیر کوئی اکھاڑ پچھاڑ ممکن نہیں ہوگی۔ پھر بھی یہ سوال موجود ہے کہ ایسی صورت پیدا ہونے پر عمران خان کیا کریں گے۔
یہ تو طے ہے کہ عمران خان خوشی سے وزارت عظمی سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے اسمبلیاں توڑنے کا امکان بھی ظاہر کیا جاتاہے۔ کہ اگر عمران خان کو اقتدار ڈوبتا نظر آیا تو وہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کروا لیں گے۔ ایسا قدم وہی لیڈر اٹھا سکتا ہے جسے نئے انتخاب میں پہلے سے بھی بہتر کامیابی کا امکان ہو۔ مسائل کے انبار، مہنگائی ، بے روزگاری اور سیاسی کشیدگی کے موجودہ ماحول میں تحریک انصاف کی دوبارہ کامیابی کا امکان نہیں ہے۔ اس لئے عمران خان یہ آپشن استعمال نہیں کریں گے۔
تاہم عمران خان کے ہاتھ میں اب بھی ایک پتہ ایسا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے وہ ایک طرف خود کو طاقت ور اور عیار سیاسی لیڈر تسلیم کروا سکتے ہیں تو دوسری طرف اپنے خلاف اٹھنے والے سیاسی طوفان کو وقتی طور پر روک سکتے ہیں۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد اب وزیر اعظم کو مئی کے آخر تک آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کرنا ہے۔ بظاہر یہ ترمیم جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس عہدے پر فائز رکھنے کے لئے ہی کی گئی ہے ۔ اسی لئے اپوزیشن پارٹیوں نے نہایت سعادت مندی سے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کو 6 ماہ کی توسیع دی تھی جو 29 مئی کو ختم ہوگی۔ اس سے پہلے یہ وزیر اعظم کا اختیار ہے کہ وہ اس توسیع کا حکم جاری کریں۔ کیا عمران خان پہلے سے کئے ہوئے اقرار کی بنیاد پر یہ حکم جاری کردیں گے یا وہ اس توسیع سے انکار کرکے کسی دوسرے جنرل کو آرمی چیف بنادیں گے؟
عمران خان نے اگر اسٹبلشمنٹ کے بدلے ہوئے تیور محسوس کرلئے تو وہ اس آپشن کو استعمال کرکے اپنے لئے سیاسی سپیس پیدا کرسکتے ہیں اور خود کو ایک ایسا خود مختار وزیر اعظم ثابت کرسکتے ہیں جو آرمی چیف کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ لیکن کیا عمران خان واقعی اتنے خود پسند، بہادر اور حوصلہ مند ہیں کہ وہ یہ اقدام کرسکیں۔ اس کا جواب آئندہ چند ماہ کے حالات میں ہی سامنے آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1547 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *