رکشے سے نیکی بانٹتا بھائی جان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ سارا دن اپنا رکشہ دوڑاتا رہتا ہے لیکن صرف اپنے پیٹ کی خاطر نہیں بلکہ اس میں آدھا حصہ انسانیت کے لئے بھی ہے۔

یہ کہانی پشاور کے نواح میں ایک گاؤں پیر بالا سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس سالہ نوجوان عرب شاہ کی ہے۔ جب اس کی عمر دس سال تھی تو اس کے والد دُنیا سے چلے گئے۔

غربت اور یتیمی ایک ساتھ آئیں تو کم عمری کو بھی ذمہ داریاں بڑھاپے میں ڈھال دیتی ہیں سو عرب شاہ کے دونوں بڑے بھائیوں نے چھوٹی موٹی مزدوری کے ذریعے کم عمری ہی میں اپنے گھر کو سہارا دینا شروع کیا۔

صبح صبح دونوں بھائی مزدوری کے لئے نکلتے اور عرب شاہ مقامی سکول کا رُخ کرتا، مہ و سال گزرے تو اس نے میٹرک کے بعد ایف اے بھی کرلیا۔

اب اس کا خیال تھا کہ اپنے لئے چھوٹا موٹا کام تلاش کرے تاکہ بھائیوں کا بوجھ اور گھر کی غربت کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکے۔

کچھ دنوں بعد اس نے اپنے ایک دوست سے پانچ ہزار ماہانہ کرائے پر چنگ چی رکشہ لیا اور اپنی مزدوری شروع کی۔

وہ صبح صبح مزدوری کے لئے نکلتا تو دیکھتا کہ چھوٹی چھوٹی بچیاں شدید ٹھنڈ میں پیدل سکول جاتی ہیں جو کافی دور ہے ایک دن اس نے تمام بچیوں کو رکشے میں بٹھایا اور سکول کے گیٹ پر اُتار کر مزدوری کرنے چلا گیا دوسرے تیسرے دن بھی ایسا کیا اور پھر اس کا جذبہ اور معمول ایک ساتھ بڑھتے چلے گئے اب وہ روزانہ صبح ایک مخصوص مقام پر رکشہ کھڑا کرتا اور بچیاں بھاگتی ہوئی رکشے کی طرف آتیں اس کی ہمدردی اور بچوں کی محبت بڑھتے رہے اور وہ ان کا بھائی جان بنتا گیا (گاؤں کے پڑھنے والے تمام بچے اسے بھائی جان کہتے ہیں ) کچھ عرصہ بعد اسے محسوس ہوا کہ چھٹی کے بعد بچے بہت تھکے ہوتے ہیں اور فاصلہ بھی زیادہ ہے سو وہ دوپہر کے وقت مزدوری ترک کرکے سکول کے گیٹ پر پہنچ کر بچوں کو گھر چھوڑنے بھی لگا۔

بچوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی جس سے اس کے پھیرے بھی بڑھ گئے، خاندان کے بعض افراد نے ڈانٹا اور بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ معمولی ہی سہی لیکن کرایہ لیتے رہو کہ کم از کم تیل یا سی این جی کا خرچہ تو نکل آئے گا لیکن اس نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا کہ میں اپنی نیکی کو لالچ کی ہوا بھی نہیں لگنے دوں گا۔

عرب شاہ اس وقت اپنے رکشے پر سو کے قریب بچوں کو بغیر کسی معاوضے کے مختلف سکولوں میں پہنچا آتا ہے اور دوپہر چھٹی کے وقت انہیں گھر بھی چھوڑ آتا ہے۔

اس کے علاوہ پندرہ لڑکیوں کو عصر کے وقت ایک مدرسے تک مفت پک اینڈ ڈراپ دے دیتا ہے۔

میں نے اس سے کام کا معمول پوچھا تو ایک روانی لیکن سادگی سے بتانے لگا کہ صبح سات بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک میں تمام بچوں کو سکولوں میں پہنچا کر مزدوری کرنے نکل پڑتا ہوں اور پھر ایک بجے سے ڈھائی بجے تک اُنہیں گھروں تک پہنچا کر کھانا کھا لیتا ہوں اور نماز پڑھ لیتا ہوں اور پھر تین بجے ڈیڑھ درجن لڑکیوں کو مدرسے پہنچا کر دو گھنٹے اپنے لئے مزدوری کر لیتا ہوں پھر عصر کے وقت اُنہیں مدرسے سے لے کر ان کے گھروں میں چھوڑ آتا ہوں۔

میں نے دل ہی دل میں کہا ایسی رُلا دینے والی غربت اور ایسا عظیم انسانی جذبہ!

خُدایا یہ لڑکا انسان ہے یا فرشتہ۔

سکولوں اور مدرسے تک یومیہ پک اینڈ ڈراپ کا کُل خرچہ آپ برداشت کرتے ہو؟

یہی کوئی سات سو روپے تک وہ جی آج کل سی این جی مہنگی ہو گئی نا۔

کیا یہ سارے بچے غریب گھرانوں سے ہیں؟

نہیں ان میں کچھ کے والدین کی مالی حالت اچھی ہے اور اُنھوں نے مجھے پیسوں کی آفر بھی کی لیکن میں نے انکار کیا۔

کیوں؟

اس لئے کہ پھر ان کے والدین اپنے بچوں کے لئے فوقیت بھی مانگیں گے اور غریب بچے احساس کمتری کا شکار بھی ہوں گے اور میں تو ایسا نہیں کرسکتا نا کیونکہ میں تو سب کا بھائی جان ہوں۔

ایک مقدس اور معصوم مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی اور بات بدل دی لیکن مجھے اسے مزید کریدنا تھا اس لئے اگلا سوال کر ڈالا۔

کیا آپ کے خرچے پورے ہو جاتے ہیں؟

جی بالکل سکولوں اور مدرسے کے بچوں کا خرچہ بھی نکل آتا ہے اور مالک کا ماھانہ کرایہ بھی۔

میں نے فورًا اس کی بات کاٹتے ہوئے حیرت کے ساتھ پوچھا۔

مالک؟

جی دراصل یہ رکشہ کسی اور کا ہے اور میں اس کو پانچ ہزار ماھانہ کرایہ دیتا ہوں۔

یہ سُن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک لکھاری کی بجائے ایک مجرم بن کر اس کے سامنے کھڑا ہوں لیکن ڈھیٹ بن کر سوال بھی کر ڈالا کہ کیاحکومت نے کبھی پوچھا؟

ھاں جی! ایک بار صوبائی مشیر تعلیم نے بلایا تھا اور ایوارڈ بھی دیا۔

میں نے اپنے آپ سے کہا۔ صدقے جاؤں تبدیلی بازوں کے۔

کیا کوئی نوکری ملی تو کر لو گے؟

نہیں جی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں ان بچوں کو نہیں چھوڑ سکتا۔

بس یہ بچے پڑھ لکھ جائیں یہی سب کچھ ہے۔

اتنے میں ایک وین ہمارے سامنے آن کھڑی ہوئی جس سے چندے کی اپیل اور جنت کی خوشخبری کے اعلانات ہونے لگے اور بہت سے لوگ اپنی جیبوں کو ٹٹولتے ہوئے جنت خریدنے سوزوکی وین کی جانب بھاگے۔

میں نے مڑ کر دیکھا تو عرب شاہ کا ٹوٹا پھوٹا رکشہ ایک دیوار کے ساتھ کھڑا تھا وہی رکشہ جو خیر پھیلاتا اور روشنی بانٹتا رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *