لکھنے والی انگلی لکھتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

داستانوں میں ہوا کرتا تھا کہ بادشاہ سلامت جہاں پناہ کے من میں ایک خیال سر اٹھاتا، جس کے گرد سوال بنا جاتا اور جواب ڈھونڈنے کے لئے سلطنت کے طول وعرض میں منادی کرا دی جاتی۔ خطیر انعام وکرام کا وعدہ ہوتا سو بہت سے متوالے سر پہ کفن باندھ کے میدان عمل میں اتر آتے۔

ہمیں جہاں گیری و جہاں بانی کا نہ تو دعویٰ ہے،  نہ خوش فہمی اور نہ ہی غیب سے مضامین وارد ہوتے ہیں، سو سوال و جواب کی پچی کاری کیا ہی ترتیب دیں گے؟

لیکن سوال گردش میں ہے اور بار بار ہمارے  در دل پہ دستک دیتا ہے۔دوست احباب جاننا چاہتے ہیں،

” کیا گزرے برسوں میں قلم سے ہماری آشنائی تھی؟  اگر تھی تو کہاں تھے اب تک ہم؟ “

اب صحراؤں اور جنگلوں کی خاک تو چھاننے سے ہم رہے، البتہ جواب ڈھونڈنے میں  ماضی کے اوراق کھنگالنے میں ہمیں کوئی مضائقہ نہیں۔

ہمارا سن ہو گا  کوئی سات آٹھ برس جب ہم نے پہلی دفعہ حروف سے کھیلنے کی ہمت کی۔ ہمارے بڑے بھائی کبوتر پالنے کے بہت شوقین تھے سو آنگن میں کھیلتے کبوتر ایک ننھی بچی کے دل کو چھیڑ گئے تھے۔

 نظم کا پہلا شعر کچھ یوں تھا،

“طاہر نے کبوتر پالا

گورا چٹا، بھولا بھالا”

اب تک یاد ہے کہ ابا بہت دن تک وہ نظم ہم سے بار بار سنتے، خوش ہونے  کے ساتھ ساتھ حیران بھی ہوتے رہے۔ یہ قلم اور قلم سے پانے والی تحسین کی شروعات تھی۔

ستر کی دہائی  کے آخر اور اسی کی دہائی کی ابتدا میں نیشنل سنٹر طلباء وطالبات کے لئے بہت سے مقابلوں کا انعقاد کیا کرتا تھا۔ مقابلہ مضمون نویسی میں کچھ عنوان دیے جاتے اور وہیں بیٹھ کے ایک ڈیڑھ گھنٹے میں مضمون لکھنے کا ہدف دیا جاتا۔ ان مضمون نویسی کے مقابلوں میں ہمارے سکول کی نمائندگی کے ہم لازم امیدوار قرار دے جا چکے تھے کہ انعام کی جیت سکول کا نام روشن کرتی تھی۔ سو کئی برس ان مقابلوں میں شریک ہوئے۔ موضوع پا کے لکھا اور جانے کیا کچھ لکھا۔ یہ قلم سے آشنائی کا دوسرا قدم تھا۔

اسی زمانے میں فن تقریر سے دل چسپی ہوئی جس میں ہماری آپا نے بنیادی کردار ادا کیا۔ کچھ عرصہ تو سکرپٹ رائٹر وہی رہیں لیکن جونہی انہوں نے مضمون نویسی میں ہمارے انعام جمع ہوتے دیکھے، فوراً ہاتھ کھینچ کے نادر شاہی حکم جاری کیا کہ اپنی تقریریں خود لکھا کرو۔ لیجئیے اب ہم سٹیج پہ بولے گئے اپنے الفاظ کے ذمہ دار بھی خود ٹھہرے۔ سکول کی بزم ادب کے سیکرٹری ہوئے تو وہاں بھی سر سے دست شفقت اٹھا لیا گیا کہ کچھ نہ کچھ لکھ لے گی۔ سو ہوا یوں کہ اس کچھ نہ کچھ میں نثر کے ساتھ کچھ تک بندی بھی شامل ہوگئی۔ پرانی ڈائریوں کے اوراق اب بھی گواہی دیتے ہیں۔

ایف ایس سی کرنے کالج پہنچے، اور سائنس کا طالب علم ہونا بھی ہمارے جنون کو کم نہ کر سکا۔ لٹریری سوسائٹی کے صدر بن کے بھاری ذمہ داری قبول کی۔  کچھ بین الکلیاتی مشاعروں میں مارے شوق کے شرکت بھی کر لی۔ اب یہ فیصلہ کرنے والوں کی محبت تھی کہ کسی نہ کسی انعام سے بھی نواز دیا جاتا۔ کالج کے سالانہ میگزین سبقت نے بھی اپنے دامن میں جگہ دے کے ہماری آتش شوق کو اور ہوا دے دی۔

میڈیکل کالج پہنچے تو یونینز پہ ضیا الحق کی طرف سے پابندی تھی۔ علم و ہنر کی دلدادہ پرنسپل ڈاکٹر نبیہہ حسن نے مختلف کمییٹیاں بنا ڈالیں اور اہل طالبات ہر کلاس سے منتخب ہوئیں۔ ہم حسب معمول ڈیبیٹنگ اور میگزین کمیٹی کے ممبر بنے۔ سال پنجم میں اردو حصے کے ایڈیٹر بنا دیے گئے، سو لکھا بھی اور دوسروں کی تحریروں کو سنوارا بھی۔

انہی برسوں میں روزنامہ جنگ کے صحافی واصف ناگی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ہمیں  طالب علموں کے اس گروپ میں شامل کر لیا جو اہم شخصیات سے انٹرویو کیا کرتا تھا۔ ہم نے پوچھے جانے والے سوالات ہمیشہ خود ہی لکھے۔ آخری فیچر ہم نے روزنامہ پاکستان کے لئے 1991 میں لکھا، معلوم نہیں چھپا کہ نہیں کہ اس کے بعد ہم اور شہر دلدار لاہور اجنبی ٹھہرے۔ زندگی کا ایک سنہرا باب ختم ہوا۔

ڈاکٹر بن کے گھر پہنچے اور اب نئی منزلیں ہماری منتظر تھیں۔ چلیے جی ڈھولک کی تھاپ پہ پیا گھر رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے قلم بھی وہیں کہیں کسی طاق پہ بھول گئے۔

ماہ و سال کی گردش میں اڑھائی دہائیاں بیت گئیں۔ بہت کچھ ذہن کے نہاں خانوں سے ابھرتا تھا، اور وہیں کہیں گم ہو جاتا تھا۔  سوچتے بہت تھے لیکن قلم تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ یہ ضرور تھا کہ تہنیتی پیغام یا دعوت کے بلاوے کو پڑھ کے دوست احباب بہت سراہتے،  مثلاً

 “پیارے دوستو!

جنوری کی آمد آمد ہے، فضا میں سرما کی خنکی بھی ہے اور رنگا رنگ پھولوں کی بھینی بھینی مہک بھی، نئے سال کے استقبال کی مسرت میں نئی امنگیں اور نئے خواب تو ہیں ہی۔ تو آئیے مل بیٹھتے ہیں نئے اور پرانے دوستوں کے ساتھ، نئی دوستیوں کو celebrate  اور پرانی دوستیوں کو دو آتشہ کرنے ۔۔۔یاد رکھیے گا، یکم جنوری کی شام “

خود سے آشنا ہوتے ہوئے، زندگی سے آشنا ہوتے ہوئے  اور کہیں ہونے اور نہ ہونے کے بیچ، زندگی کے سرد و گرم جھیلتے، انیس  جنوری 2019 کی رات زندگی میں آ گئی جب سب بند ٹوٹ گئے۔ رات تاریک تھی، ہوا سرد تھی،  تنہائی اوراداسی گھر کی دیواروں سے لپٹی بین کرتی تھی۔ ایک بیٹی جلے پاؤں کی بلی بنی، موسم کی شدت سے بے نیاز، بے خواب نم آنکھوں سے گھر میں محو خواب تھکے ماندے اجنبیوں  کے درمیان کسی مانوس ہستی کو کھوجتی تھی۔ آنسو باتیں کرتے کہتے تھے

 “آج کسی اور کی بھی رات تاریک، تنہا، سرد اور اداس ہے”

یونہی اپنے آپ سے سرگوشیاں کرتے، کسی احساس کے تحت اپنے فون پہ نوٹس کھول لئے اور انگلیاں اردو کی بورڈ پہ دوڑنے لگیں۔ صبح کی اذان ہوئی تو آنکھوں کا سمندر اور دل کا درد رقم ہو چکا تھا۔اس ایک ہی رات میں دو مضمون خون جگر سے لکھے گئے،

 “امی، پیاری امی” اور “میں نے اپنی ماں کو قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھا”۔ یہ ایک پرانی آشنائی سے دوبارہ رشتہ استوار کرنے کا آغاز تھا۔

کسی نے دم رخصت سرگوشی کی تھی، آزاد کر دو وہ سب ان کہے الفاظ جو تمہارے اندر مدت سے قید ہیں اور رہائی کے لئے منتظر آنکھوں سے التجا کرتے ہیں۔ اپنی انگلیاں فگار کرو اپنی کہ قلم گم گشتہ سے رشتہ پرانا ہے۔ ان راستوں پہ پھر سے لوٹ جاؤ جہاں لڑکپن میں قدم رکھے تھے۔ وہ رستے تمہیں کھوجتے ہیں۔

قلم گم گشتہ کا پھر سے رواں ہو جانا ہماری ماں کا چلتے چلتے، ہمارے لئے الوداعی تحفہ تھا۔ اس تحفے کو حرز جان بنا لیا کہ خیام نے کہا تھا، لکھنے والی انگلی لکھتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *