جب سلمان خان اور شاہ رخ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تو پریتی زنٹا اکیلے ہی انڈرورلڈ کے سامنے کھڑی ہو گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

31 جنوری 1975 کو شملہ میں پیدا ہونے والی پریتی زنٹا کو لوگ بے باک، خوبصورت، چلبلی وغیرہ کہتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ان کی ہمت اور بہادری کی یہ کہانی جانتے ہیں۔

کچھ برس پہلے تک بمبئی کی فلمی دنیا پر انڈرورلڈ کا دبدبہ ہوا کرتا تھا۔ انڈرورلڈ کے لئے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کا یہ سب سے محفوظ ذریعہ تھا۔

پریتی زنٹا کو فلمی دنیا میں قدم رکھے مشکل سے چار سال ہی ہوئے تھے۔ 2001 میں ایک فلم ریلیز ہونے والی تھی، چوری-چوری، چپکے- چپکے۔ لیکن عباس مستان کی اس فلم پر ریلیز ہونے سے پہلے ہی پابندی لگ گئی۔

پولیس کو خبر ملی تھی کہ اس فلم میں انڈرورلڈ ڈان چھوٹا شکیل کا پیسا لگا ہے۔ اصل میں انڈرورلڈ کا پیسا لگا تھا، لیکن کاغذ پر فلم میں ممبئی کے مشہور کاروباری شخص بھرت شاہ نے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ پولیس نے بھرت شاہ کو گرفتار کر لیا اور فلم کے سارے پرنٹ سیل کر دئے۔ یہ مقدمہ اس وقت کافی خبروں میں رہا۔

گرفتاری کے بعد اب پولیس کو ضرورت تھی گواہوں کی۔ شاہ رخ اس سے پہلے پولیس میں شکایت کر چکے تھے کہ انہیں انڈرورلڈ سے فون پر دھمکیاں مل رہی ہیں۔ لیکن جب پولیس نے شاہ رخ خان سے عدالت میں گواہی دینے کے لئے کہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔

فلم چوری چوری چپکے چپکے میں سلمان خان، رانی مکھرجی جیسے بڑے اسٹار تھے، لیکن کوئی بھی عدالت میں گواہی دینے کے لئے آگے نہیں آیا۔

آگے آئی تو 26 سال کی ایک خوبصورت، شوخ، چلبلی اور بہادر لڑکی، جس کا نام پریتی زنٹا تھا۔ اس گواہی نے پورے بالی ووڈ کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ سب اس کی ہمت پر حیرت زدہ تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *