پوکے مان کی دنیا۔ مشرف عالم ذوقی کے ناول کا ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آگے پوکے مان کا چہر ہ ہے اور پیچھے پوری کنزیومر ورلڈ ہے، اپنے چہرے سے اس ماسک کو اتارو اور چیخو کہ یہ ایک ایسی گلوبل ورلڈ ہے، جو بچوں کے اخلاق کو تباہ کر رہی ہے۔ ایسا ہی ایک کریکٹر۔ بارہ سال کا بچہ۔ جو پوکے مان بننا چاہتا تھا۔ ریپسٹ بن گیا۔ اس نے اپنی ہی ہم عمر لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ یہ ہے اس ناول کا موضوع، یہ ایک جج کی کہانی ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ فیٹیسی اور حقیقت کی دنیا، جس میں آج کے بچے رہتے ہیں وہ کیا ہے؟

یہ ریپ کیوں ہوا؟ کیا بارہ سال کا بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ایک پورے مرد کی طرح ٹریٹ کرے؟ پوکے مان کیا ہے؟

جس گھر میں بچے ہیں وہ تو اس نام سے مانوس ہیں اور جن گھروں میں بچے نہیں ہیں انہیں پتا ہونا چاہیے کہ یہ دنیا اب پوکے مان کی دنیا ہے کہ پوکے مان کارٹونز ہیں، پوکے مان وڈیو گیمز ہیں، پوکے مان کارڈز ہیں، پوکے مان کتابیں ہیں، پوکے مان کھلونے ہیں اور پوکے مان میڈیا ہے۔ کیا ہے جو پوکے مان نہیں ہے!

پوکے مان تلخیص ہے دو الفاظ پاکٹ اور مانسٹرز کی۔ پاکٹ مانسٹرز کا مطلب ہے جن، عفریت، بلا، ایک طاقت ور اور عجیب الخلقت چیز جو ہماری جیب میں ہے۔ ایسے جن یا عفریت جنہوں نے بچوں کو ہر طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا رہے۔ یہ جن۔ کارٹونز، ویڈیو گیمز، کارڈز، کھلونے اور کتابوں کی صورت جاپان نے ایجاد کیے ہیں، پہلے کبھی مکی ماؤس، پنک پینتھر، ڈولن ڈکس، پوپائے دی سیلر وغیرہ کے ناموں کے کارٹون ہوا کرتے تھے، یہ ہالی ووڈ کی ایجاد تھے، اب کارٹونز مارکیٹ پر جاپان کی اجارہ داری ہے، دنیا کی دوسری بڑی کامیاب ترین ویڈیوگیم پوکی مان ہے، سب سے زیادہ بکنے والے کھلونے اور کارڈز پوکے مان ہیں۔

اب تک کوئی ایک ہزار کے قریب پوکی مان کردار وضع کیے جا چکے ہیں ہر کردار کا تعلق مختلف انواع سے ہے ہر کردار کی اپنی سائیکی اور اپنی طاقت ہے ؛ وہ کوئی جانور ہو سکتا ہے، کوئی پودا ہو سکتا ہے، کوئی دیو مالائی کردار ہو سکتا ہے، کوئی بے جان چیز ہو سکتی ہے۔ یہ رنگ ہیں نیلے، پیلے، سرخ اور سبز، یہ ایکس، وائی، زیڈ ہیں، یہ سیاہ اور سفید ہیں، یہ چاند اور سورج ہیں، یہ ہیرے، موتی اور پلاٹینم ہیں، یہ سونا چاندی اور کرسٹل ہیں اور اس کے علاوہ یہ اور بہت کچھ ہیں۔

پہلی پوکے مان کارٹون سیریز 1997 ء میں ٹوکیو ٹی وی سے نشر ہوئی جب کہ آخری پوکے مان سیریز کا آغاز نومبر 2019 ء میں ہوا اور یہ 23 ویں سیریز ہے جو ان ائیر ہے۔ یہ کارٹونز روزانہ ٹی وی پر نشر ہو رہے ہیں۔

مشرف عالم ذوقی کی دور اندیشی کو سلام پیش کیا جانا چاہیے کہ یہ ناول انہوں نے 2005 ء میں لکھا گو پاکستان میں اب 2020 ء میں شائع ہورہا ہے۔

بقول مشرف عالم ذوقیؔ 2004 ء جنوری کی ایک شب ان کے ایک دوست ان کے گھر انہیں ملنے آئے اور وہ آتے ہوئے ان کے بیٹے کے لئے ایک خوب صورت تحفہ بھی لائے اور یہ تحفہ تھا۔ پوکے مان کارڈز۔ انہوں نے، یہ تحفہ وصول کرتے ہوئے، اپنے بیٹے کی آنکھوں میں ایک عجیب و غریب چمک دیکھی تو یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک ناول ضرور لکھنا ہے اور اس کا نام ہو گا پوکے مان کی دنیا۔

اس ناول کی تیاری میں انہوں نے اپنے بیٹے عکاشہ کے ساتھ گھنٹوں گفتگو کی جس نے پوکے مان کے ایک ایک کردار کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ اس بحث میں ان کی اہلیہ محترمہ تبسم فاطمہ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اگرچہ عنوان بچوں کا ضرور ہے لیکن یہ ایک بالغ ناول ہے۔ یہ والدین، آج کے والدین کو سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ وہ بچوں کی پرورش کیسے کریں۔ وہ یہ جانیں کے بچے کیا چاہتے ہیں۔

بچے ہمیشہ سے ایک اہم سماجی مسئلہ رہا ہے لیکن آج کے انٹرنیٹ کے تیز ترین گلوبل دور میں جن اہم ترین مسائل پر غورکرنے کی ضرورت ہے وہ ہیں بچوں کے مسائل۔ بچوں کے ذہنوں میں فینٹسی اور حقیقت گڈ مڈ کر گئی ہے۔ دنیا کی سب سے اونچی عمارت کو ایک ہوائی جہاز اپنے طاقتور بم سے مسمار کرتا ہو اگزر جاتاہے، یہ فنٹسی ہے۔ ایک حیرت انگیز فینٹسی۔ ان بچوں کے سپائڈر مین، مانچو اور فینیٹم زیادہ طاقتورہیں۔ یہ لوگ ہیری پوٹر کے دور میں جی رہے ہیں۔

یہ ان کے عہد کی فینٹسی ہے۔ ان کے خوابوں کی فینٹسی، تیز بھالوں کی جگہ لڑائیوں اور جنگ کے انداز بدل گئے ہیں۔ کوئی ایک بھیانک ایٹم بم۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی تباہ کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک فینٹسی ہے اور اب اس فینیٹسی نے اپنی ترقی کی منزلوں سے بھیانک سے بھیانک ہتھیار کو بھی۔ ۔ ایک معمولی سا کھلونا بنا دیا ہے۔ یہ سب فینٹسی ہے۔ ان کے رئیل ہیروز کھو گئے ہیں اور ان کی جگہ اس سے کہیں بڑی فینٹسی نے ان کے ذہنوں میں جگہ بنا لی ہے۔ وہ ہے کارٹونز کی دنیا۔

اس ناول کا ایک بنیادی کردار سنیل کمار رائے ہے جو ایک جج ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ۔ یہ نام انہوں نے اپنے ایک دوست سے مستعار لیا ہے جب کہ ناول کے بنیادی تھیم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

سنیل کمار کے بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ بیٹا کمپیوٹر انجنیئرنگ کر رہا ہے اور بیٹی کالج میں ہے۔ سنیل کمار رائے بچوں کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ان کی دنیا کو سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ ایک طرف بچوں کی دنیا کو دیکھ رہا ہے تو دوسری طرف سیاسی معاملات کو جو اس کی اردگرد کی دنیا میں وقوع پزیر ہو رہے ہیں۔ جو فینٹیسی کو جنم دے رہے ہیں۔

سچ کیا ہے اور فینٹیسی کیا ہے؟
حقیقت اور فینٹیسی آپس میں کیوں گڈ مڈ ہو گئے ہیں؟

جج یہ جاننا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد کا رشتہ کیا ہے؟
کیا ایک بارہ سال کا بچہ اپنی کسی ہم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق بنا سکتا ہے؟

وہ کون سی دیوانگی یا نفسیاتی پاگل پن ہے کی حالت ہو سکتی ہے کہ جب ایک بچہ مکمل مرد میں تبدیل ہو جائے؟ جب کہ نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ بہت دھیان سے جانچنے اور پرکھنے کے بعد ہی کسی شخص کو نفسیاتی مریض ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ایسے رشتوں میں سب سے اہم چیز جذباتی ہونا ہے۔ جب کہ نفسیاتی مرض کا تعلق آپ کی سوچ سے ہے۔ بچوں کی دنیا تو آج بھی سپائیڈر مین کی دنیا ہے جو بچوں کا چہیتا ہے۔ ۔ بچے یا تو فینٹیسی پسند کرتے ہیں یا ایسی ریالیٹی جس میں اذیت ہو، جس میں بچوں کے لئے کوئی ایڈونچر ہو۔ ہیری پوٹر کا کردار جو اپنے طلسمی ہتھیار سے بدمعاشوں سے لڑتا ہے اور فاتح ٹھہرتا ہے۔ حلکؔ کاکردا رہے جو اپنے غصے پر قابو نہیں رکھتا، سب کچھ تباہ و برباد کرنے پا آمادہ ہو جاتا ہے اور برائی کو ختم کر دیتا ہے۔ اور اس طرح اور بہت سارے دوسرے کردار۔

کیا آج کے والدین یہ جانتے ہیں کہ بچوں کی پسند اور ناپسند کیا ہے؟ بچے سب سے زیادہ کیا پسند کیا کرتے ہیں اور کیوں؟

بچوں کو ایک آدمی کا جیتنا پسند ہے۔ اس فتح یا جیت کی بیچ کسی کی جان جاتی ہے تو بچے یہ جاننا نہیں چاہتے۔ کہ قانوں کیا کہتا ہے، انصاف کیا کہتا ہے۔ بچے اس بحث سے بلند ہو گئے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی خامی ہے ان کرداروں کی، ان کارٹونز کی۔ وہ ظالم کا انت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی اپنی دنیا ہے۔ جس کے اپنے ضابطے اور قوانین ہیں۔ یہ فینٹیسی ہے۔ حقیقی دنیا کے کیا ضابطے ہیں وہ جاننا نہیں چاہتے۔

ایک دن ایسا آنے والا ہے جب بچے فینٹیسی اور ریالیٹی کے بیچ میں پھنس جائیں گے جیسا کے کہ اس بارہ سال کے بچے کے ساتھ ہوا۔ وہ ریپیسٹ بن گیا۔

فرائیڈ کے نفسیاتی نقطہ نظر کے مطابق لڑکیوں میں، لڑکوں کے اعضاء کے بارے میں جاننے کا تجسس، لڑکوں کے مقابلے میں، کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اور ایسے ہی سونالی جیسی بارہ سال کی بچی روی جیسے بارہ سال کے بچے کے ساتھ۔ اس کھیل میں شریک ہونا چاہیے تو۔ وہ صرف اس کے جسم پر اچھلنا کودنا شروع کر دے۔ لڑکے کے خفیہ نازک حصے کو دبانا چاہیے۔ یا دونوں مل کر تنہائی میں، انٹرنیٹ سے، کسی بلیو کیسٹ یا سی ڈی سے یہ فلمیں دیکھنا شروع کر دیں۔ جب کہ یہی کام ان کے والدین بھی کر رہے ہوں؟ تو کیا ایسے بچوں میں غصہ، جنگلی پن اور سیکس کی سطح پر اتنی درندگی پیدا نہیں ہو سکتی کہ وہ کچھ بھی کر گزریں؟

لیکن اگر اس معاملے میں دونوں کو رضا مندی بھی شامل ہو تو کیا اسے ریپ کہا جا سکتا ہے یا اسے ریپ کہنا مناسب ہو گا؟
کیا آج کا میڈیا بچوں میں ایسے تجسس کو بڑھاوا نہیں دے رہا؟

کیا ہم یا آپ اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ بچوں کو پسند آنے والے کارٹون ہی دراصل ان کے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں۔ یہ کارٹونزان کی معصومیت ان سے چھین رہے ہیں۔ اب بچے مرڈر کر سکتے ہیں۔ ریپ بھی کر سکتے ہیں۔

اور اگر ایک عورت ایک بچے کو خود کہے کہ آؤ اور میرا بلاتکار کرو تو کیا ایک بچہ اس ٹریب سے باہر نکل سکتا ہے؟ اب بلاتکار، بلاتکار نہیں ہے۔ ایک کھیل ہے۔ بچوں کے بہت سارے کھیلوں میں شامل ایک کھیل۔ ایک ایساکھیل جس کا تعلق جسم سے ہے۔ بچے دوسرے کھیلوں کے مقابلے میں اب اس کھیل کو فوقیت دینے لگے ہیں کیونکہ اب یہ کھیل و ہ گھر کے کسی بھی گوشے میں کھیل سکتے ہیں۔ اور ا س کے لئے ان پہ کوئی پابندی بھی نہیں۔ پابندی اس لئے نہیں کہ ماں باپ کو اپنے بچوں کی فکر ہی نہیں۔ ان کی اپنی ایک دنیا ہے۔ بچے کہاں ہیں۔ کہاں جا رہے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں وہ جانتے ہی نہیں۔

بچے تو پوکے مانؔ بننا چاہتے ہیں۔ روی بھی ایک بڑا پوکے مان بننا چاہتا ہے۔ اس کے پاس کوئی دوہزار کے قریب پوکے مان کارڈز ہیں وہ ان کارڈز کو زمین پر پھیلا دیتا ہے اور پھر ان کارڈز کے درمیان بیٹھ کر وہ خود بھی اپنے آپ کو ایک پوکے مان خیال کرتا ہے۔ ایسے ہی ایک دن سونالی آئی۔ وہ کھیلنا چاہتی تھی۔ اور انہوں نے مل کرایک کھیل کھیلا۔

روی کو سمجھ نہیں آ رہی وہ پوچھ رہا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ تم لوگ کہتے ہو میں نے ریپ کیا ہے۔ ریپ۔ ریپ کیا ہوتا ہے۔ بابا کو ایک بار دیکھا تھا فلم دیکھتے ہوئے۔ میں کمرے میں اچانک جا گھسا تھا۔ پاپا اور ممی۔ پاپا نے ڈانٹ کر بھگا دیا تھا۔ شٹ اپ۔ اَب آپ بڑے ہوئے گئے ہو۔ کمرے میں ناک کر کے آنا چاہیے۔

بطور جج تعزیرات ہند دفعہ 302 کے تحت کس کو سزا ئے موت دی جانا چاہیے؟
بچے کو، نئی ٹیکنالوجی کو، ملٹی نیشنل کمپنیز کو، کنزیومر ورلڈ کو، گلوبلائزیشن کو، اس کے ماں باپ کو یا پھر ان سب کو؟ یہی سوال ”پوکے مان کی دنیا“ کا سوال ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *