”اسرائیل۔ فلسطین تنازع کی مختصر تاریخ“ ایک جائزہ

حال ہی میں شائع ہونے والی ایلان پَاپے کی کتاب ”اسرائیل فلسطین تنازُع کی مختصر تاریخ“ ”A VERY SHORT HISTORY OF THE ISRAEL PALESTINE CONFLICT“ BY: ILAN PAPPE اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازُع کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاپے نے صیہونیت کے ارتقا، اس خطے پر بین الاقوامی پالیسیوں کے اثرات، فلسطینی مزاحمت، اور اسرائیل کے اندرونی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موجودہ صورتحال کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اس قضیے کے تاریخی

Read more

خالد فتح محمد کے افسانوں کی کتاب ”وقت کی قید میں“ کا ایک جائزہ

ایک مختصر کتابچہ میرے سامنے ہے۔ یہ افسانوں کی کتاب ہے جسے تحریر کیا ہے جناب خالد فتح محمد نے۔ چھوٹی کتاب کا ایک فائدہ ہے کہ اسے ایک دو نشستوں میں ختم کر دو یا پھر کتاب بہت بڑی ہونا چاہیے جو ایک لمبے عرصے تک ختم نہ ہو۔ میرے سامنے موجود کتاب کا نام ہے ”وقت کی قید میں“ ۔ خالد فتح محمد ایک بڑا لیکن کسی حد تک غیر معروف نام ہے۔ یہ کیسا درد ہے کہ

Read more

1948 ء میں لکھی گئی متنازع امریکی کہانی: ”دی لاٹری“

مصنفہ: شِرلی جیکسن 27 جون کی صبح، پورے موسم گرما کی دن کی تازہ حدت کے ساتھ، شفاف اور دھوپ زدہ تھی؛ پھول بہت زیادہ کھل رہے تھے اور گھاس بہت زیادہ سبز تھی۔ دس بجے کے قریب، گاؤں کے لوگ، ڈاک خانے اور بینک کے درمیان، چوراہے میں جمع ہونا شروع ہو گئے ؛ کچھ قصبوں میں اتنے زیادہ لوگ تھے کہ اسے مکمل ہونے میں دو دن لگے، جس کا آغاز 27 جون کو ہوا تھا، لیکن اس

Read more

2022 کی نوبل انعام یافتہ مصنفہ اینی ارنو کی کتاب ”گمشدہ“ کا ایک جائزہ

اینی ارنو ادب کا نوبل انعام جیتنے والی پہلی فرانسیسی مصنفہ ہیں۔ اینی ارنو کو 2022 ء کے نوبل پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اینی کی زیادہ تر تحریریں سوانحی نوعیت کی ہیں لہذا کچھ ناقدین کے مطابق یہ ان کے ذاتی مشاہدے کی طاقت ہے کہ قارئین انھیں غلط طور پر خود اپنی زندگی کا مورخ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق اینی ارنو نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ سوانحی تحریروں کی بجائے افسانے کی

Read more

نوبل انعام یافتہ فرانسیسی مصنفہ : اینی ارنو کے محبت زدہ جریدے ”گمشدہ“ کا مطالعہ

”میں اپنی محبت کی کہانیاں لکھتی ہوں اور میں اپنی کتابوں میں رہتی ہوں“ مصنفہ اینی ارنو نے پیرس میں مامور ایک شادی شدہ روسی سفارت کار کے ساتھ، ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ، ایک تباہ کن اور نا امید جذبے کے ساتھ گزارا۔ اپنی محبت کی کہانی کو دنیا کے سپرد کرنے سے قاصر اسے ایک راز میں رکھا اور مصنفہ نے اسے اپنی محبت کی ڈائری میں قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا، بہت باقاعدگی سے، اس

Read more

یہودی مصنف کی کتاب ”فلسطینی تجربہ گاہ” کا ایک جائزہ

حال میں ہی شائع ہونے والی مذکورہ کتاب جامع طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ در اصل کس طرح اسرائیل کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو جاسوسی، جنگی اور نگرانی کے ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے لیے آزمائشی میدان، تجربہ گاہ یا لیبارٹری کے طور پر استعمال کرتا ہے اور پھر ان ہتھیاروں کو مکمل طور پر ٹیسٹ کرنے کے بعد دنیا بھر میں موجود حکومتوں ؛آمروں اور جمہوریتوں کو کس طرح مہنگے داموں برآمد کرتا ہے۔ کتاب

Read more

بین الاقوامی ادب کے حوالے سے ایم خالد فیاض کی کتاب کا طائرانہ جائزہ

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس سال میں تنقید کے نام پر بین الاقوامی ادب سے ایسا بہت کچھ ترجمہ یا تلخیص کی صورت سامنے آیا ہے جو یقیناً لائق ستائش تو تھا مگر جس طور یہ ظہور پذیر ہو رہا تھا وہ ادبی سرگرمی کا حامل نہیں بن پا رہا تھا کہ تب تخلیقی عمل کو ایک طرح سے دیس نکالا دیا جا چکا تھا۔ نتیجۃ اس دورانیے میں تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ایم فل حتی

Read more

لفظ تالہ اور چند گزارشات

سوال یہ ہے کہ: ایک آرٹیکل جس میں لفظ تالے کا ذکر ہوا ہے آج کل ٹاک اف دا ٹاؤن ہے اگر یہ آرٹیکل سکول، کالج یا یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں تک پہنچ جائے تو اس کے ان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کیا ہر لڑکا ہر لڑکی کو دیکھ کر تالہ تالہ نہیں کہے گا؟ کیا ہر لڑکا اب ہر لڑکی سے پوچھنے کی جسارت نہیں کرے گا کہ کیا اس کی V کو تالہ تو نہیں

Read more

فوج میں تقسیم کا خطرہ

  اصل مسئلہ حکومت کرنے میں نہیں ہے سموتھ ٹرانسفر اف پاور میں ہے۔ ایک وقت تھا کہ بادشاہتیں تھیں، حکومت نسل در نسل آگے منتقل ہوتی جاتی تھی، اسی تسلسل میں ایک ایسا وقت آ جاتا تھا کہ نکمی اور نا اہل اولادیں حکومت سنبھال نہیں پاتی تھیں۔ تخت کے وارث کے جھگڑے جنگ و جدل تک پہنچ جاتے تھے جو سالہا سال جاری رہتے۔ رسول اللہ ﷺنے آ کر بدوی کلچر کو ختم کر دیا لیکن خلافت راشدہ

Read more

پرنس ہیری کی سوانح عمری ”اسپیئر“ کا ایک جائزہ

  ’‘ بادشاہت افسانے پر انحصار کرتی ہے۔ یہ ایک تعمیر شدہ حقیقت ہے، جس میں بڑے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس تصور میں گٹھ بندھن پیدا کریں کہ ایک انسان، دوسرے انسان سے بڑھ کر ہے۔ اس عورت یا مرد میں ایسی کوئی خاص چیز ہے جو برطانوی پن کے ناقابل بیان جوہر تک پہنچتی ہے۔ کبھی، یہ افسانہ سیاسی اور عسکری طاقت پر قائم تھا جس کو براہ راست خدا کی حمایت حاصل تھی، اسے

Read more

ناہید سلطان مرزا کے ناول ’‘ تقسیم سے تقسیم تک ”کا احوال

  یہ ایک ایسا ناول ہے جس میں ترک ناول نگار اورحان پاموک کے کچھ ذائقے ہیں۔ ہر باب میں ایک نیا کردار آتا ہے اور اپنے متعلق بتانا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ ناول کا آغاز فوری اپنی گرفت میں لینے والا نہیں ہے۔ بظاہر ایک فنیٹیکل سا ماحول ہے لیکن جوں جوں قاری آگے بڑھتا ہے کہانی اسے اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیتی ہے۔ کراچی کے ساحل پر عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب ایک

Read more

غافر شہزاد کے ناول ’‘ مکلی میں مرگ ”کا ایک جائزہ

  ’‘ مکلی میں مرگ ”غافر شہزاد کا چھٹا ناول ہے۔ مکلی سندھ کے علاقے ٹھٹھہ کے قریب ایک قدیم قبرستان ہے جہاں گزری صدیوں کے بادشاہوں اور نوابوں کے مقابر ہیں جو اپنے اندر دفن شخصیات کی عظمت اور سطوت کے غماز ہیں۔ سندھ کی قدیم عمارتوں اور قبرستانوں میں فن تعمیر اپنی انتہا کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا ہے جسے دیکھنے کے لیے دنیا جہان سے لوگ یہاں سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ ماہر تعمیرات، تاریخ کے طالب

Read more

وسیم تارڑ کا سفر نامہ ’‘ قونیہ مجھے بلا رہا تھا ”

  ’‘ اس دنیا میں انسان کی حیثیت ایک ذرے سے بھی کم ہے کہ اس ذرے نے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ جب کہ انسان نے جلد مٹ جانا ہے ”نوجوان وسیم تارڑ کے سفر نامے کے آغاز میں ہی اس فقرے نے مجھے چونکایا۔ یہ 2019 ء کی بات ہے کہ نوجوان وسیم تارڑ کو ترک وزارت خارجہ کی طرف سے ترکی آنے کی دعوت ملی مگر بربنائے تقدیر وہ ترکی جانے والے اس سرکاری وفد میں شامل نہ

Read more

پاکستان بکھر رہا ہے

  ’‘ ان کے چہروں پر بھوک ہوتی ہے، بداعتمادی ہوتی ہے، جیسے وہ خلا میں لٹکے ہوئے ہوں، وہ جو سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں، وہ دن بدن کمزور ہو رہے ہیں، عفریت جو انہوں نے پیدا کیا تھا کہ وہ دوسروں کو کھا جائے، اب ان کی طرف بڑھ رہا ہے ”۔ جن بوتل سے باہر آ چکا ہے اور وہ عدلیہ اور افواج پاکستان کو کھلم کھلا للکار رہا ہے۔ سر عام یہ کہا جا

Read more

اورحان پاموک کا ناول: سرخ میرا نام

  ’‘ سرخ میرا نام ”ترکی کے معروف ناول نگار اورحان پاموک کا تیسرا ناول ہے جو 1998 ء میں اولاً ترکش زبان میں شائع ہوا بعد ازاں یہ انگلش اور پھر اردو میں ترجمہ ہوا۔ اسی ناول کی بنیاد پر اورحان پاموک کو نوبل انعام ملا۔ یہ ناول ایک طرف تو سولہویں صدی کے استنبول میں مذہبی شدت پسندی کی کہانی ہے اور دوسری طرف سولہویں صدی کی سلطنت عثمانیہ میں مختصر تصویروں کے مصوروں یعنی مینی ایچر مصوروں

Read more

سیمیں کرن کے ناول ”اِک معدوم کہانی” کا اجمالی جائزہ

  سیمیں کرن نے جب اپنا ناول ”اک معدوم کہانی“ لکھنا شروع کیا، ابھی اس کے خط و خال طے ہو رہے تھے کہ کرونا شروع ہو گیا۔ اس طرح ناول کا آغاز بہت حد تک حقیقی حالات سے شروع ہوا کہ کرونا اس ناول کا حصہ ہے۔ تاریخ ؛اخباری، درسی اور ادبی کبھی ایک جیسی نہیں رہی۔ حکمرانوں نے ہمیشہ درسی تاریخ اپنی ضرورت کے تحت لکھوائی اور اپنی مدح میں لکھوائی۔ اخباری تاریخ حقائق کی حد تک تاریخ

Read more

ہٹلر،تیل کا بحران، بین الاقوامی جنگیں اور موجودہ منظرنامہ

  ایڈولف ہٹلر 20 اپریل 1889 ء کو آسٹریا کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کی تعلیم نہایت کم تھی۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے کالج آف فائن آرٹس میں محض اس لیے داخلہ نہ مل سکا کہ وہ ان کے مطلوبہ معیار پر نہیں اترتا تھا۔ 1913 ء میں ہٹلر جرمنی چلا آیا جہاں پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی طرف سے ایک عام سپاہی کی حیثیت سے لڑا اور فوج میں اس لیے ترقی حاصل نہ

Read more

اورحان پاموک کے ناول ’‘سنو”کا ایک جائزہ

  اورحان پاموک کو پاکستان میں پذیرائی ’‘ میرا نام سرخ ”کے حوالے سے ملی۔ پاموک کا مجوزہ ناول 2002 ء میں شائع ہوا۔ یہ پاموک کا چھٹا ناول ہے۔ ترکی زبان میں برف کو ’‘ Kar“ کہا جاتا ہے اور یہی اس ناول کا ٹرکش عنوان ہے۔ ناول کے بنیادی کردار کے نام کا مخفف بھی قاؔ (Ka) ہے اور اس ناول کو ترکی کے شمال مشرق میں واقع شہر قارص (Kars) جو آرمینیا کی سرحد پر واقع ہے

Read more

ترکی کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار اورحان پاموک کے ناول ’‘ خانہ معصومیت ”کا ایک جائزہ

  نوبل انعام یافتہ ترک ناول نگار اورہان پاموک ؔ کا زیر نظر ناول ’‘ خانہ معصومیت ”ان کے 2008 ء میں شائع شدہ ناول The Museum of Innocence کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ناول اورحان نے نوبل انعام جیتنے کے بعد لکھا۔ محبت کی یہ داستان ’‘ خانہ معصومیت“ داستانوی، حسین اور فسوں خیز شہر استنبول کے پس منظر میں بیان کی گئی ہے۔ اس ناول کی کہانی 1975 ء اور 1984 ءکے پرانے استنبول میں ترتیب دی گئی

Read more

سیلیکٹرز اور مہنگائی کا نا نظر آنے والا عفریت

  سیلیکٹرز نے کمال مہارت سے ملک کو کھوکھلا کر کے سلیکٹڈ۔ اے کو فارغ کر دیا اور اپنے تمام تر گناہوں کا بوجھ نئے آنے والے سلیکٹڈ۔ بی کے سر پر رکھ دیا۔ اب سلیکٹڈ۔ بی مسلسل حالات کی خرابی کا ذمہ دار سلیکٹڈ۔ اے کو گردان رہا ہے۔ اصل ذمہ داران ہمیشہ کی طرح پردے کے پیچھے چھپے مزے سے موجیں اڑا رہے ہیں۔ پہلے تو ہم ناسمجھی میں سیلیکٹرز کو آوازیں دیتے تھے کہ آؤ اور ہمیں

Read more

ڈاکٹر محمد کامران شہزاد کی مرتب کردہ کتاب ’‘ مشرف عالم ذوقی کا فکشن ”:ایک جائزہ

مشرف عالم ذوقی کا فکشن ”ڈاکٹر محمد کامران شہزاد کی مشرف عالم ذوقی کے فن اور ان کے لکھے ناولوں پر لکھے 22 آرٹیکلز کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے یہ کتاب 19 اپریل 2021 ء کو مشرف عالم ذوقی کی ناگہانی وفات کے نتیجے میں پیدا ہو جانے والے جذباتی خلا کو پر کرنے اور ان سے اظہار محبت کے لیے مرتب کی۔

Read more

ایلک راس کی کتاب "مستقبل کی صنعتیں” کا ایک جائزہ

  ایلک راس ؔ (Alec Ross ) امریکہ میں سیکرٹری آف سٹیٹ ہیلری کلنٹن کا سینئر ایڈوائزر برائے جدت طرازی کام کر رہا تھا، مدت ملازمت کے اس دور میں اس نے مختلف انواع کے اکتالیس ممالک کا سفر کیا اور دنیا کے ہر ہر کونے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کا جائزہ لیا۔ ایلکس نے افریقہ کے ان حصوں میں جہاں کوئی بنک نہ تھے وہاں بینکاری کے لوازمات کو پروان چڑھتے

Read more

فرید الدین عطار کی مثنوی ’‘ منطق الطیر ”کے بارے میں

ایران کے شہر نیشاپور پر چنگیز خان کے حملے کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ جلد ہی کسی نے، اس شخص کو پہچان کر، اس شخص کو گرفتار کرنے والے منگول سپاہیوں کو اس شخص کی رہائی کے بدلے بطور تاوان ایک ہزار چاندی کے سکوں کی پیشکش کی۔ اس شخص نے بڑی بے اعتنائی سے سپاہیوں کو متنبہ کیا کہ اس کو اس قیمت پر نہ بیچا جائے، کیونکہ وہ اس قیمت سے کہیں زیادہ گراں ہے۔

Read more

رحیم گل کا ناول: جنت کی تلاش

اسّی کی دہائی میں جب رحیم گل کا ناول ‘ ‘ جنت کی تلاش” منصہ شہود میں آیا تو میں نے اسے دو دفعہ خریدا اور دونوں دفعہ یہ ناول چوری ہو گیا اور یہ ناول اس قابل تھا کہ اسے چوری کر لیا جائے۔میں جب جب بھی ناول کھولتا اس میں کسی انگریز لگتے والے شخص کی تصویر ہوتی تو یقین ہی نہ آتا کہ یہ رحیم گل ہو سکتا ہے اس کی وجہ اس کا انتساب تھا ۔

Read more

سراہا کا شاہی گیت۔ گوتم بدھ کے افکار کی تفسیر

ہر بڑی فکر اور ہر بڑی تحریک وقت کے ساتھ پھلتی پھولتی ہے اور تقسیم در تقسیم کی منزل سے گزرتی ہیں یعنی دعوی (Thesis) ، رد دعوی (Antithesis) اور امتزاج (Synthesis) کا ایک ایسا چکر ہے جہاں سے تحریکوں اور افکار کو وقت کے ساتھ ایک طرف تو توانائی ملتی رہتی ہے جس سے یہ تحریکیں پھیلتی اور توانا ہوتی رہتی ہیں، اسی طرح دوسری طرف یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوتی رہتی ہیں اور اس کے نئے

Read more

ذوقی اور تبسم: موت اور محبت کا بندھن

ذوقی 1986 میں کان میں قلم دبائے دہلی آئے اور گزارے کے لیے کانگریس پارٹی کی نوجوانوں کی تنظیم کے ترجمان ہندی ماہنامہ ’سیوا دل‘ سے وابستہ ہو گئے۔ میں فروری 87 میں ملازمت میں آیا اور ”آج کل“ کا سب ایڈیٹر مقرر ہوا۔ ذوقی آج کل کے دفتر آتے رہتے تھے۔ ایڈیٹر راج نرائن راز صاحب انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ میں آیا تو وہ میرے قریب آ گئے۔ تعلقات بڑھے، دوستی ہوئی اور بہت کم وقت میں گہری ہو گئی۔ ادب اور سیاست کی باتوں کے علاوہ ایک بات اور ٹکڑوں ٹکڑوں میں آتی رہتی تھی اور وہ تھی ان کا نامراد عشق جس کی تڑپ ان کے اندر ابھی زندہ و توانا تھی۔

غالباً جون کی ایک گرم شام منڈی ہاؤس کے ایک بس اسٹاپ پر انہوں نے اپنے عشق کی داستان تفصیل سے اور کسی طلسمی کہانی کی طرح سنائی۔ کسک یہ تھی کہ کاش کوئی کچھ کر سکتا۔ وہ ان کی عزیزہ تھی اور کلکتہ کے نواح میں رہتی تھی۔ دھیرے دھیرے کھلا کہ ان کا مدعا یہ ہے کہ میں کلکتہ جا کر اس لڑکی سے کچھ پوچھ کر آؤں۔ میں اپنے دو دوستوں کو ساتھ لے کر اس کے یہاں پہنچا۔ لڑکی کے والد ماجد نے ہماری تواضع تو کی لیکن محترمہ سے ملاقات کا شرف نہیں حاصل ہو سکا۔ مایوسی سی مایوسی۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا ناول: ’‘شہر خالی، کوچہ خالی”

شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی افغان شاعر اور موسیقار امیر جان صبوری کا کلام جسے تاجک گلوکارہ نگارہ خالوا نے گایا ہے اور جو یک دم پاکستان میں مقبول بھی ہوا اور وبا کے دنوں میں حسب حال بھی تھا کو جناب مستنصر حسین تارڑ نے اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے اور آغاز میں ہی اس نظم کو اردو ترجمے کے ساتھ شامل کیا ہے اور ناول کا

Read more

تاریخ کی غلام گردشوں میں پاور پالیٹیکس اور اختیار کی جنگ

آئیے تاریخ کی غلام گردشوں میں گھومتے ہیں۔ ملک آزاد ہوا تو ہمیں بیوروکریسی بھی انگریزوں کی دی ہوئی ملی۔ ریاستی ڈھانچہ بھی انہی کا بنایا ہوا تھا۔ بیوروکریسی، سول اور ملٹری، دونوں ملکہ برطانیہ کی وفادار تھیں۔ پاکستان بننے کے فوری بعد اس بیوروکریسی نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے جب کہ پاکستان کے سیاست دان ابھی کمزور تھے۔ پاکستان بننے کے چند ہی سالوں میں اسی بیوروکریسی نے سیاست دانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر کلی طور پر قبضہ کر لیا۔

ایک صاحب ہوا کرتے تھے ملک غلام محمد۔ آپ انڈیا کی وزارت خزانہ میں فانینشل اڈیٹر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ 1947 ء میں آپ انڈین ریلوے سروسز میں آ گئے۔ جو بیوروکریسی پاکستان کے حصے میں آئی اس کا حصہ آپ بھی تھے۔ 15 اگست 1947 ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جو کابینہ بنائی اس میں آپ کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپ دیا گیا۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے آپ 17 اکتوبر 1951 ء کو پاکستان کے گورنر جنرل بن گئے۔

Read more

فوزیہ رفیق کے پنجابی ناولٹ ”کیڑو“ کا ایک جائزہ

پاکستان میں کتنی مذہبی گھٹن ہے، کتنی تنگ نظری ہے اور کتنی منافرت ہے اس کا اظہار فوزیہ رفیق نے اپنے پنجابی ناولٹ ’‘ کیڑو ”میں کیا ہے۔ فوزیہ رفیق کینیڈا میں رہتی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا پنجابی ناول سکینہ بھی سنجیدہ حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ فوزیہ رفیق ایکٹیوسٹ ہیں انگریزی زبان میں ارٹیکل لکھتی ہیں جو کینیڈا میں شائع ہوتے ہیں۔ اس ناول کا عنوان کیڑو یعنی کیڑے یا حشرات الارض ہے جو ایک

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول: مرگ انبوہ

مرگ انبوہ کیا ہے؟ ’‘ ملک کاغذ پر بنا کمرہ نہیں ہوتا اگر تمہارے گھر ایک کمرے میں آگ لگی ہو تو کیا تم دوسرے کمرے میں سو سکتے ہو؟ اگر تمہارے گھر کے ایک کمرے میں لاشیں سڑ رہی ہوں تو کیا تم دوسرے کمرے میں عبادت کر سکتے ہو؟ ” مرگ انبوہ کا شمار دنیا کے ان چند سیاسی ناولوں میں ہوتا ہے جنہیں پڑھ کر قاری پر ایک خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہاں بلیو وہیلؔ نام

Read more

وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے

کتاب ”وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے“ ( 2018 ء) ڈاکٹر جوناتھن ڈی کوئیک کے خیالات۔ ”اگر آپ یا آپ سے محبت کرنے والے لاکھوں افراد میں سے کوئی ایک مہلک بیماری سے ہلاک ہو سکتا ہے تو کیا ہوگا؟ آپ کو نمبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ میں نے بھی دیے ہیں، میں آپ کی آنکھوں کو قریب سے دیکھتا ہوں، تو آپ بھی میری آنکھوں میں دیکھیں، نمبر

Read more

بحیرہ چین کے جزائر پر امریکہ اور چین میں کشیدگی

سب سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر بحیرہ جنوبی چین اور وہاں موجود جزائر کا قضیہ کیا ہے کیونکہ یہی وہ خطہ ہے جو آج کل ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور چین کے درمیان وجہ نزاع بنا ہوا ہے جو کسی بھی وقت ہمیں ایک بڑی عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہ جنگ سیاسی غلبہ حاصل کرنے، دنیا کی معاشی ترقی میں سے بڑا کیک حاصل کرنے اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی جنگ ہے۔ یہاں تک بحیرہ جنوبی چین کا تعلق ہے تو اس سمندر کا شمار دنیا کی چند مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں ہوتا ہے۔

یہ چین، تائیوان، فلپائن، برونائی ملائشیا اور ویت نام سے وابستہ، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے متعدد علاقائی تنازعات کا شکار علاقہ ہے۔ یہ قضیہ دہائیوں سے حل طلب ہے لیکن اب ایشیا میں چین۔ امریکہ تعلقات کی گرم مہری کے حوالے سے فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ اس تنازعے کے بارے میں چین، ویت نام، فلپائن، تائیوان، ملائشیا اور برونائی تاریخ اور جغرافیہ کے مختلف حوالوں پر مبنی، مختلف جڑے ہوئے ادوار میں جزوی یا کلی طور پر، مختلف سمندری حدود پر اپنے اپنے حق کا دعوی رکھتے ہیں۔ بحیرہ جنوبی چین کے ساتھ بارڈر رکھنے والے مختلف ممالک کی جغرافیائی ترتیب کچھ یوں ہے : عوامی جمہوریہ چین، تائیوان، فلپائن، مالدیپ، برونائی، انڈونیشیا، سنگا پور اور ویت نام۔

Read more

کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

بیجنگ میں اتفاق رائے بڑھ رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو، دنیا کو چین کے خلاف مزید معاندانہ بنانے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے تا کہ چین کے لئے موافق بین الاقوامی ماحول، ایک ایسا ماحول جوکبھی پچھلے پانیوں کی بند کیمونسٹ معاشی طاقت تھا کی ایک ابھرتے ہوئے گلوبل معاشی پاور ہاؤس کے طور پر تائید کر رہا ہے، کو مجروح کیا جا سکے۔ عالمی سطح پر صحت کا یہ بحران اب تک دو لاکھ سے

Read more

بگ برادر دیکھ رہا ہے

فائیو جی، یعنی ففتھ جنریشن موبائل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، مستقبل کے جنگی منظر نامے کو تبدیل کرنے جا رہی ہے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی کے آ جانے سے مستقبل کی جنگیں اور سائبر سیکیورٹی کا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا اور یہی اصل لڑائی ہے۔ یہ کورونا کی نہیں، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور چین کے درمیان، نا صرف ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی جنگ ہے بلکہ یہ معاشی اور سیاسی غلبے کی بھی جنگ ہے۔ وہ ممالک جو پہلے

Read more

بِگ ڈیٹا، بِگ بَرادر اور فِری وِل کا خاتمہ: یووال حریری کے خیالات

یووال حریری کا کہنا ہے کہ ہزاروں سالوں سے انسانوں کا عقیدہ رہا ہے کہ حاکمیت خداؤں کی طرف سے تفویض ہوتی ہے، پھر، جدید دور کے دوران، انسانیت پسندی نے بتدریج یہ اخیتار دیوتاؤں سے انسانوں کو منتقل کردیا۔ اب، ایک تازہ تبدیلی یہ ہو رہی ہے کہ جس طرح کبھی خدائی اختیار کو مذہبی اساطیر نے اور انسانی اختیار کو ہیومنسٹ نظریات نے قانونی حیثیت دی تھی اسی طرح اب ہائی ٹیک گرو اور سلیکان ویلی کے پیامبر ایک نیا یونیورسل بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جو الگورتھم اور بگ ڈیٹا کے اختیار کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔ اس افسانوی یا ناول عقیدے کو ”ڈیٹا ازم“ کہا جاسکتا ہے۔

Read more

قاتل جراثیم کے خلاف تاریخ کی مہلک ترین جنگ

ڈاکٹر مائیکل ٹی۔ اوسٹر ہولم کی کتاب ”مہلک ترین دشمن: قاتل جراثیم کے خلاف ہماری جنگ“ اور جَون ایم بیری کی کتاب ”عظیم انفلوئنزا: تاریخ کے مہلک ترین بین الاقوامی وبائی مرض کی کہانی“ کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مال آف امریکہ پر جراثیمی حملہ ہو سکتا ہے اور کیا متعدی امرض یک دم پوری دنیا میں وبا کی صورت پھیل سکتی ہیں؟ تو اس کا جواب ہے، جی

Read more

ادب، کورونا وائرس اور سازشی تھیوری

سوال یہ ہے کہ کیا ڈین کونٹزؔ کے ناول ”اندھیرے میں آنکھیں“ میں کورونا وائرس کا ذکر ہے؟ تو جواب ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اُس نے ایک فکشنل بائیولوجیکل ہتھیار کا ذکر کیا ہے جس کا نام ”Whuhan۔ 400“ ہے لیکن یہ نام بھی اس کے ابتدائی ایڈیشن میں نہیں ہے وہاں اس کا نام روس کے حوالے سے ”Gorki۔ 400“ ہے۔ اس ناول کا پہلا ایڈیشن 1981ء میں آیا تھا۔ اس وقت یہ ناول Leigh Nicholas فرضی

Read more

پوکے مان کی دنیا۔ مشرف عالم ذوقی کے ناول کا ایک جائزہ

آگے پوکے مان کا چہر ہ ہے اور پیچھے پوری کنزیومر ورلڈ ہے، اپنے چہرے سے اس ماسک کو اتارو اور چیخو کہ یہ ایک ایسی گلوبل ورلڈ ہے، جو بچوں کے اخلاق کو تباہ کر رہی ہے۔ ایسا ہی ایک کریکٹر۔ بارہ سال کا بچہ۔ جو پوکے مان بننا چاہتا تھا۔ ریپسٹ بن گیا۔ اس نے اپنی ہی ہم عمر لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ یہ ہے اس ناول کا موضوع، یہ ایک جج کی کہانی ہے جو یہ

Read more

سلمان رشدی کے نئے ناول ”کی شوٹ“ کا کچھ تذکرہ

سلمان رشدی کا نیا ناول (Quichotte (kee SHOT ابھی مارکیٹ میں آیا ہے جس کی کچھ ہی دن پہلے امریکہ میں رونمائی ہوئی ہے۔ یہ سلمان رشدی کا چودھواں ناول ہے۔ زیر نظر ناول سلمان رشدی نے میگوئیل دے سروانتس ؔکے کلاسیکی ناول Don Quixote سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔ Don Quixote کواردو میں ڈان کیخوتے وغیرہ ترجمہ کیا گیا وجہ سامنے تھی کہ یہ نام سپینش زبان کا ہے اور اردو دَاں طبقہ سپینش زبان سے واقف نہیں۔

Read more

مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ناول ”خلیج“ از خالد فتح محمد

” تمام بڑی کتابیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں اس لئے کہ یہ کتابیں جو کچھ حقیقت میں پیش آیا ہوتا ہے ان سے کہیں زیادہ سچی ہوتی ہیں اور جب ایسی ہی کوئی کتاب آپ پڑھ لیتے ہیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ پر ہی بیتا ہے۔ “ یہ کہنا ہے ہیمنگ وے ؔ کا۔ ایسے مواقع بھی آ جاتے ہیں کہ جب لکھاری جنگ میں شامل ہو جائیں یا پھر جنگجو

Read more

مصنفہ اِیس تیمل کوران ؔ کی کتاب ”ایک ملک کو کیسے گنوایا جاتا ہے : جمہوریت سے امریت تک کے سات اقدام“ پر ایک تبصرہ

ترکی کی مایہ ناز پاکستان میں اورحان پاموک ؔ کا ناول My Name is Red ترجمہ ہوا تو وہ یہاں کا بیسٹ سیلر بن گیا اس کے بعد ایلف شفق ؔکا ناول Forty Rules of Love ترجمہ ہوا تو وہ بھی ہاٹ کیک بن گیا۔ اب اورحان پاموک اور ایلف شفق پاکستان میں معروف نام ہیں۔ پاکستان میں ابھی اِیس ٹیمل کورانؔ (Ece Temelkuran) کا نام غیر معروف ہے لیکن انگریزی دان طبقہ میں یہ نام جانا پہچانا بنتا جا

Read more

اگنازیو سلونے : فونطامارا (ناول)۔

فسطائیت کے خلاف اگر ہم فکشن کی طرف آئیں تو فونطامارا ؔکو ایک اہم ناول پاتے ہیں کہ جس کا ذکر بہت ضروری ہے۔ لبرل ازم، مارکسزم اور انارکزم کی تحریکیں کسی نہ کسی طور پہلی جنگ عظیم کے وقت موجود تھیں لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی میں ان تحاریک کے بالکل خلاف ایک نئی تحریک فاشزم کا آغازہوا۔ فاشزم ایک ایسا استبدادی طرز حکومت ہے جس میں حکومت کے پاس بے پناہ طاقت ہوتی ہے جب کہ عوام کے پاس سیاسی آزادیاں نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہیں۔

Read more

گرامچی: پرزن نوٹ بکس سے منتخبات

بیسویں صدی کا ایک اہم پولٹیکل فلاسفر انٹونیو گرامچی ہے جس کی طرف ہمارے ہاں زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ گرامچی کو ”پوسٹ لیننسٹ مارکس ازم“ کا سب سے اہم لکھاری اور نظریہ ساز مانا جاتا ہے۔ گرامچی 1891 ء میں اٹلی میں پیدا ہوا۔ بچپن میں بیماری کے باعث اس کا قد چھوٹا رہ گیا اور وہ کسی حد تک کبڑا ہوا گیا۔ 1911 ء میں اس کا ٹیورن یونیورسٹی میں سکالرشپ پر داخلہ ہو گیا۔ 1913 ء میں

Read more

بے ے ے غیریت۔ ۔ ۔

”ہم فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن سیلیکٹیڈ وزیر اعظم کے ساتھ نہیں“ مشاہد اللہ ”بے ے ے غیریت وزیر اعظم“ بلاول بھٹو ہم کشمیر آزاد کروانے چلے ہیں اسی لئے ضروری ہے کہ ملک میں خانہ جنگی ہو! اب عملاً دو پاکستان ہیں ایک ”فرشتوں“ کا پاکستان اور دوسرا ”چوروں“ کا پاکستان اور میں بھی ”چور“ ہوں کہ بدقسمتی سے میں بھی اسی چوروں کے پاکستان کا حصہ ہوں۔ ملک کو ”فرشتے“ 1971 ء کی طرف دن

Read more

چندہ مہم ۔۔۔حب الوطنی جگانے کا ایک ذریعہ

اقوام کے پاس کبھی بھی اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ جن سے بڑے پراجیکٹ بنائیں جا سکیں یہ ڈیم بنانے کی ساری تجاویز بشمول چندہ سمیت ایسے ہی ہے کہ ہم سب مل کر ہارٹ سرجری کے طریقے دریافت کرنا شروع کردیں۔ دنیا جہان میں سرمایہ دار موجود ہوتے ہیں جو کسی بھی منافع بخش پراجیکٹ پر سرمایہ لگانے کے لئے تیار ہوتے ہیں ان کی راہنمائی دنیا جہان کے فنائینشل ادارے کرتے ہیں۔ سرمایہ ہمیشہ وہیں کا رخ کرتا

Read more

پرائم منسٹر ہاؤس اور محبوس وزیر اعظم

کیا وزیر اعظم کو وزیر اعظم ہاؤس سے دور رکھنا اس کو اس کے فرائض سے دور رکھنا ہے؟ کیا وزیر اعظم کو وزیر اعظم ہاؤس سے دور رکھ کر اس کے اختیارات کو کنٹرول کرنا ہے؟ کیا وزیر اعظم اس کے فرائض سے دور رکھنے کی کوشش ہے؟ سیدھی سی مثال ہے اگر آپ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور ہوسٹل میں مقیم ہو جاتے ہیں تو کیا یہ صائب کام ہے؟ کیا آپ اپنے گھر سے دور رہ

Read more

پہلی پاکستانی ٹیم نے درہ لپ گر پیر پار کر لیا

تین خواتین ایک بچہ اور پانچ مردوں پر مشتمل پہلی پاکستانی ٹیم نے میٹر پانچ ہزار ایک سو نوے میٹر ہے بلند درہ لپ گر پیر ؔ کامیابی سے پار کر لیا سنتالیس سالہ ڈاکٹرفرحانہ مسرور، کے ہمراہ سمرین زہرہ،مسزپارس علی انکا چودہ سالہ بیٹازین علی خاوندعلی عمران اور دیگر چار ارکان نے پاکستان میں پہلی مرتبہ کوہ پامیر میں واقع 52000 میٹر بلند درہ لپ گر پیر ؔ کامیابی سے پار کر لیا ہے۔ انہیں اسے پیدل پار کرنے

Read more

ڈیمز بنانے کا بہانہ‌

”ڈیمز بنانا عدالت کا کام نہیں“ یہ کہنا ہے جسٹس عمر عطا بندیال کا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ریاست اور انتظامیہ کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔ تو کیا یہ کھلا کھلا اعتراف نہیں ہے کہ یہ لوگ کھلم کھلا حکومتی اور ریاستی امور میں مداخلت کر رہے تھے؟ اس سے پہلے جسٹس صاحب جو فیصلے کر رہے تھے کیا ان کی نوعیت سیاسی نہیں تھی؟ اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا چیف جسٹس کو سیاسی

Read more

آخر چیف صاحب کو تیرہ لاکھ تنخواہ کیوں نہیں دیتے؟

پنجاب میں مختلف اداروں کے چیف ایگزیکٹو ”تیرہ، تیرہ“ لاکھ روپے تنخواہوں کی صورت لے کر اگر اچھا پرفارم نہیں کر سکے تو سوال تو یہ ہے کہ کیا معمول کی تنخواہیں لینے والے ان کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کیسے بہتر پر فارم کریں گے؟ کیا وہ لاکھوں کمانے کے چکر میں کرپشن کرنے کے حیلے بہانے ڈھونڈھنا شروع نہیں کر دیں گے جب کہ ان کے بجٹ اربوں روپے کے ہوں؟ چیف صاحب آپ کرپشن کا دروازہ کھول رہیں

Read more

نیا منظر نامہ، نواز شریف کی جان کو خطرہ

ملک میں تازہ الیکشن کے نتیجے میں بننے والی حکومت ایک کمزور حکومت ہو گی ملک دن بدن عدم استحکام کی طرف جائے گا ملک کا معاشی سٹرکچر تباہ ہو چکا ۔حکومت کو فوری طور پر بیل آؤٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ امریکہ نے ہمیشہ ملکوں کو قابو کرنے کے لئے ملکوں کو سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے جس سے ہمیشہ ملکوں میں معاشی عدم استحکام پیدا ہوا۔ ملک قرضوں کی

Read more

کئیر ٹیکر حکومت

ابھی چند دن بعد کئیر ٹیکر حکومت مقرر ہو گی وہ بھی ساری کی ساری نامزد لوگوں پر مشتمل ہو گی اور یہ حکومت کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہو گی کہ منتخب حکومت پارلیمنٹ کو جواب دہ ہوتی ہے جب کہ کئیر ٹیکر حکومت بنائی ہی پارلیمنٹ کے ختم ہونے پر جاتی ہے۔ 2008ء میں کھرب ہا روپے کا اثاثہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اور وہ بھی کماؤ پوت اربوں روپے کما کر دینے والا ادارہ جسے ستر

Read more