سب سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر بحیرہ جنوبی چین اور وہاں موجود جزائر کا قضیہ کیا ہے کیونکہ یہی وہ خطہ ہے جو آج کل ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور چین کے درمیان وجہ نزاع بنا ہوا ہے جو کسی بھی وقت ہمیں ایک بڑی عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہ جنگ سیاسی غلبہ حاصل کرنے، دنیا کی معاشی ترقی میں سے بڑا کیک حاصل کرنے اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی جنگ ہے۔ یہاں تک بحیرہ جنوبی چین کا تعلق ہے تو اس سمندر کا شمار دنیا کی چند مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں ہوتا ہے۔
یہ چین، تائیوان، فلپائن، برونائی ملائشیا اور ویت نام سے وابستہ، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے متعدد علاقائی تنازعات کا شکار علاقہ ہے۔ یہ قضیہ دہائیوں سے حل طلب ہے لیکن اب ایشیا میں چین۔ امریکہ تعلقات کی گرم مہری کے حوالے سے فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ اس تنازعے کے بارے میں چین، ویت نام، فلپائن، تائیوان، ملائشیا اور برونائی تاریخ اور جغرافیہ کے مختلف حوالوں پر مبنی، مختلف جڑے ہوئے ادوار میں جزوی یا کلی طور پر، مختلف سمندری حدود پر اپنے اپنے حق کا دعوی رکھتے ہیں۔ بحیرہ جنوبی چین کے ساتھ بارڈر رکھنے والے مختلف ممالک کی جغرافیائی ترتیب کچھ یوں ہے : عوامی جمہوریہ چین، تائیوان، فلپائن، مالدیپ، برونائی، انڈونیشیا، سنگا پور اور ویت نام۔
Read more