قاتل جراثیم کے خلاف تاریخ کی مہلک ترین جنگ

ڈاکٹر مائیکل ٹی۔ اوسٹر ہولم کی کتاب ”مہلک ترین دشمن: قاتل جراثیم کے خلاف ہماری جنگ“ اور جَون ایم بیری کی کتاب ”عظیم انفلوئنزا: تاریخ کے مہلک ترین بین الاقوامی وبائی مرض کی کہانی“ کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مال آف امریکہ پر جراثیمی…

Read more

ادب، کورونا وائرس اور سازشی تھیوری

سوال یہ ہے کہ کیا ڈین کونٹزؔ کے ناول ”اندھیرے میں آنکھیں“ میں کورونا وائرس کا ذکر ہے؟ تو جواب ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اُس نے ایک فکشنل بائیولوجیکل ہتھیار کا ذکر کیا ہے جس کا نام ”Whuhan۔ 400“ ہے لیکن یہ نام بھی اس کے ابتدائی ایڈیشن میں نہیں ہے وہاں اس…

Read more

پوکے مان کی دنیا۔ مشرف عالم ذوقی کے ناول کا ایک جائزہ

آگے پوکے مان کا چہر ہ ہے اور پیچھے پوری کنزیومر ورلڈ ہے، اپنے چہرے سے اس ماسک کو اتارو اور چیخو کہ یہ ایک ایسی گلوبل ورلڈ ہے، جو بچوں کے اخلاق کو تباہ کر رہی ہے۔ ایسا ہی ایک کریکٹر۔ بارہ سال کا بچہ۔ جو پوکے مان بننا چاہتا تھا۔ ریپسٹ بن گیا۔…

Read more

سلمان رشدی کے نئے ناول ”کی شوٹ“ کا کچھ تذکرہ

سلمان رشدی کا نیا ناول (Quichotte (kee SHOT ابھی مارکیٹ میں آیا ہے جس کی کچھ ہی دن پہلے امریکہ میں رونمائی ہوئی ہے۔ یہ سلمان رشدی کا چودھواں ناول ہے۔ زیر نظر ناول سلمان رشدی نے میگوئیل دے سروانتس ؔکے کلاسیکی ناول Don Quixote سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔ Don Quixote کواردو میں…

Read more

مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ناول ”خلیج“ از خالد فتح محمد

” تمام بڑی کتابیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں اس لئے کہ یہ کتابیں جو کچھ حقیقت میں پیش آیا ہوتا ہے ان سے کہیں زیادہ سچی ہوتی ہیں اور جب ایسی ہی کوئی کتاب آپ پڑھ لیتے ہیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ پر ہی بیتا ہے۔…

Read more

مصنفہ اِیس تیمل کوران ؔ کی کتاب ”ایک ملک کو کیسے گنوایا جاتا ہے : جمہوریت سے امریت تک کے سات اقدام“ پر ایک تبصرہ

ترکی کی مایہ ناز پاکستان میں اورحان پاموک ؔ کا ناول My Name is Red ترجمہ ہوا تو وہ یہاں کا بیسٹ سیلر بن گیا اس کے بعد ایلف شفق ؔکا ناول Forty Rules of Love ترجمہ ہوا تو وہ بھی ہاٹ کیک بن گیا۔ اب اورحان پاموک اور ایلف شفق پاکستان میں معروف نام…

Read more

اگنازیو سلونے : فونطامارا (ناول)۔

فسطائیت کے خلاف اگر ہم فکشن کی طرف آئیں تو فونطامارا ؔکو ایک اہم ناول پاتے ہیں کہ جس کا ذکر بہت ضروری ہے۔ لبرل ازم، مارکسزم اور انارکزم کی تحریکیں کسی نہ کسی طور پہلی جنگ عظیم کے وقت موجود تھیں لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی میں ان تحاریک کے بالکل خلاف ایک نئی تحریک فاشزم کا آغازہوا۔ فاشزم ایک ایسا استبدادی طرز حکومت ہے جس میں حکومت کے پاس بے پناہ طاقت ہوتی ہے جب کہ عوام کے پاس سیاسی آزادیاں نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہیں۔

Read more

گرامچی: پرزن نوٹ بکس سے منتخبات

بیسویں صدی کا ایک اہم پولٹیکل فلاسفر انٹونیو گرامچی ہے جس کی طرف ہمارے ہاں زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ گرامچی کو ”پوسٹ لیننسٹ مارکس ازم“ کا سب سے اہم لکھاری اور نظریہ ساز مانا جاتا ہے۔ گرامچی 1891 ء میں اٹلی میں پیدا ہوا۔ بچپن میں بیماری کے باعث اس کا قد چھوٹا رہ…

Read more

بے ے ے غیریت۔ ۔ ۔

”ہم فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن سیلیکٹیڈ وزیر اعظم کے ساتھ نہیں“ مشاہد اللہ ”بے ے ے غیریت وزیر اعظم“ بلاول بھٹو ہم کشمیر آزاد کروانے چلے ہیں اسی لئے ضروری ہے کہ ملک میں خانہ جنگی ہو! اب عملاً دو پاکستان ہیں ایک ”فرشتوں“ کا پاکستان اور دوسرا ”چوروں“ کا پاکستان…

Read more

چندہ مہم ۔۔۔حب الوطنی جگانے کا ایک ذریعہ

اقوام کے پاس کبھی بھی اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ جن سے بڑے پراجیکٹ بنائیں جا سکیں یہ ڈیم بنانے کی ساری تجاویز بشمول چندہ سمیت ایسے ہی ہے کہ ہم سب مل کر ہارٹ سرجری کے طریقے دریافت کرنا شروع کردیں۔ دنیا جہان میں سرمایہ دار موجود ہوتے ہیں جو کسی بھی منافع بخش…

Read more