اُونچی سوچ سے اُونچے نتائج کی خوش فہمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عوام کے مسائل اور مشکلات کو نظر انداز کرکے اصحاب اقتدار واختیار اپنے وسائل بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں تو پھر ملک و قوم کی تنزلی کوئی نہیں روک سکتا ’بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے قائدین کی رخصتی کے بعد ہمیں ہرحکمران ایسا ملا جو ملک و عوام سے زیادہ اپنے لئے سوچتا اور فیصلے کرتا رہا ہے۔ عوام نے بار بار آزمائے ہوؤں کوبڑی مشکل سے رد کرتے ہوئے تحریک انصاف کا انتخاب کیا تھا کہ گزشتہ روایت بدلی جائے گی، اپنی ذاتیات کی بجائے عوام کی بات ہوگی، مگرڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی گھبرانا نہیں کے دلاسے دیے جارہے ہیں۔

عوام دن بدن بڑھتی مہنگائی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں، جبکہ ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہیں بڑھانے کے سینٹ میں بل پیش کررہے ہیں۔ وزیراعظم بھی تنخواہ میں گزارہ نہ ہونے کارونا روتے ہیں، مگر اس مہنگائی سے عوام کو بچانے کی بات کوئی نہیں کررہا ہے۔ اپوزیشن کے مردہ گھوڑے میں زندگی کے آثار ہی نظر نہیں آتے، پارلیمنٹ میں کوئی تحریک چلائی نہ ہی ایوان سے باہر کوئی احتجاج کیا گیا، پیپلز پارٹی کو سندھ میں اپنی مرضی کا آئی جی نہ ملنے کا مسئلہ ہے تو ایم کیو ایم اپنے دفاتر کھلوانے کے ساتھ مزید وزارتوں کی خوہشمند ہے، جبکہ (ن) لیگ کو اپنے قائدین کو بچانے کے ساتھ مریم نواز کو بیرون ملک بھیجنے کی فکر کھائے جارہی ہے۔

ارکان سینٹ نے اپنا دکھڑا تو ایوان میں پیش کردیا، مگر عوام کے نمائندوں نے عوام کا کوئی ذکر نہیں کیاکہ مختلف محکموں میں ہزاروں خالی پوسٹیں پرُ کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں تنخواہیں بڑھانے کی بات سمجھ سے بالا ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ بڑھتی مہنگائی کو روکنے کے انتظامات کیے جائیں، تاکہ عوام کو رلیف ملے، لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے، ارکان پارلیمنٹ جب چاہیں وزارتوں کے حصول کے لیے ناراض ہو جائیں ا ور جب چاہیں ایک بل کثرت رائے سے پاس کرکے اپنی تنخواہ میں اضافہ کرلیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں سیاستدانوں کا ایک جم غفیر ہے جس کا سب سے بڑا دائرہ اسمبلیاں ہیں، وہ یہاں حزب اختلاف اور حزب اقتدارکے علاوہ آزاد صورت میں عوام کی آواز بلند کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں، مگر درحقیقت عوام کے مسائل کا پرچار کرتے ہوئے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، حزب اختلاف اور حزب اقتدار میں تقسیم عوام کے نام نہاد نمائندوں پر جب کبھی ذاتی مراعات کا سوال اٹھتا ہے توتمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو جاتے ہیں۔

عوام کے سیاسی نمائندوں نے جمہوریت اور عوام کی خدمت کی آڑ میں ملک کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، آج بھی عوام کو وعدؤں، دلاسوں کے لالی پاپ سے بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جماعت اسلامی نے بظاہر ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں مجوزہ اضافے کی مخالفت کی ہے، مگرعوام سمجھنے سے قاصر ہیں کہ معزز اراکین پارلیمنٹ کو یہ احساس نہیں ہے کہ پاکستانی عوام اس وقت کس عذاب سے گزر رہے ہیں، مہنگائی اور بے روز گاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

اس پر جب وہ اپنے نمایندوں کی عیاشیوں کی خبریں سنتے ہیں تو ان کا خون کھول اٹھتا ہے، وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے نمایندے کس قدر بے حس ہیں، جنھیں اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ تو مطلوب ہے کہ ان کی گزر بسر مشکل سے ہوتی ہے، لیکن انہیں معلوم نہیں کہ حکومت کی جانب سے مزدور کی مقررکردہ اُجرت صرف پندرہ ہزار روپے ماہانہ ہے، بے حیائی، بے شرمی اور ڈھٹائی کی حد ہے کہ جب بھی ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو اسمبلیوں میں موجود ہمارے نمایندے شیر و شکر ہو جاتے ہیں اور یک زبان ہو کر تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کی فوری منظوری دینے کی جستجو کرتے ہیں۔

چند ماہ پہلے ایسا ہی قانون پنجاب میں بھی بنایا گیا جس پر وزیر اعظم نے برہمی کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد میں جب معاملہ دب گیا تو معمولی ردو بدل کے ساتھ خاموشی سے تنخواہوں میں اضافہ کی منظوری دی گئی تھی۔ حالیہ سینیٹ میں ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ کے لیے پیش کی جانے والی تحریک بھی کثرت رائے سے مسترد ہو گئی ہے، لیکن کچھ عرصہ بعد حسب روایت خاموشی سے منظور ہو جائے گی۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں ملکی وسائل کو بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے اور وہ لوگ اس کے ذمے دار ہیں جن کو حقیقت میں اس کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن بہتی گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھونا چاہتا ہے اور دھو رہے ہیں۔ کروڑوں خرچ کر اسمبلیوں میں پہنچنے والے منتخب ارکان کو عوام کے پیسے پر کسی تنخواہ کا حق نہیں ہونا چاہیے، ہمارے نمائندے اتنے امیر کبیر ہیں کہ انھیں عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے گئے پیسے سے تنخواہ وصول نہیں کرنی چاہیے، لیکن جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ان کا تنخواہ میں گزرا نہیں ہوتا تو دوسری طرف ان کے ممبران بھی انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، جبکہ سب کی کار کردگی ناقص ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کی کار کردگی کو دیکھتے ہوئے ان کے بھتے میں اضافہ تو کیا، بلکہ ان پر جرمانہ عائد ہونا چاہیے، کیونکہ انہو ں نے قومی خزانے کے کروڑوں روپے ضایع کیے اور کام ٹکے کا نہیں کیاہے۔ بہرکیف یہاں عرصہ دراز سے یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا، مگر آخرکب تک غیر ذمہ دارانہ رویہ روا رکھا جائے گا، اگرعوامی نمائندوں میں غیر ذمے داری، خود غرضی اور لالچ کا یہی عالم رہا تو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرنے والی بات ہو جائے گی۔

یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ عوام مہنگائی، بے روز گاری، بھوک کے باوجو سیاسی قیادت پر اعتماد کرکے ووٹ دیتے ہیں، اپنے قائدین کے لئے جان قربان کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں، مگر سیاسی قائدین جب اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو حقیقی پاکستان کی علامت عام شہری کے مسائل کا تدارک پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس وقت عوام خالی جیب کے ساتھ مہنگی بجلی ’گیس اور آٹے، چینی کے بحرانوں کا سامنا کرر ہے ہیں، جبکہ عوامی نمائندوں کے لاکھوں روپے لینے کے باوجود اکاؤنٹ ہی نہیں بھر رہے ہیں۔

اس طرز عمل کے باوجود سادہ لوح عوام سب کچھ جانتے بوجھتے اپنی پسندیدہ سیاسی قیادت کے لئے مرنے مارنے پر تیار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ارکان پارلیمان خوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں چند لاکھ اضافے کی ضرورت نہیں، لیکن پھر بھی چند لاکھ کی تنخواہ نہیں چھوڑیں گے۔ سینٹ میں ارکان پارلیمان کے تنخواہوں کی تحریک کثرت رائے سے ابھی مسترد ہوئی، کچھ عرصے بعد خاموشی سے کثرت رائے سے ہی منطور ہو جائے گی۔ قوم کو شاید ایسے ہی کردار اور اونچی سوچ رکھنے والوں کی ضرورت ہے، اس لیے اعلیٰ مقصد کے لیے چند کروڑ، بلکہ چند ارب روپوں کا اضافہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، کیونکہ ایسے اُونچی سوچ رکھنے والوں سے ہی عوام نے اونچے نتائج کی خوش فہمیاں پال رکھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *