امن کا خواب: دلہن کا آنچل، گندم کے کھیت اور بچوں کی ہنسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین و حضرات!

آپ نے بین الاقوامی امن کانفرنس میں مجھے اپنے خیالات و نظریات کے اظہار کی دعوت دے کر میری عزت افزائی کی ہے جس کے لیے میں آپ سب کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ آج کے خصوصی اجلاس میں وہ سب ادیب ’شاعر اور دانشور بھی موجود ہیں اور وہ تمام سماجی اور سیاسی کارکن بھی جو امن کے خواب دیکھتے ہیں۔ میں اپنی معروضات پیش کرنے سے پیشتر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نہ تو کسی ملک کا صدر ہوں نہ وزیرِ اعظم‘ نہ کسی ریاست کا بادشاہ ہوں نہ ہی شہزادہ اور نہ ہی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کا نمائندہ۔

میں ایک انسان دوست ماہرِ نفسیات ہوں اور ایک ایسی تنظیم کا حصہ ہوں جس کے ممبر کرہِ ارض پر امن کے خواب دیکھتے ہیں۔ میں سماجی سائنسدانوں اور امن کے کارکنوں کی ایک ایسی تحریک کا حصہ ہوں جو اس دور میں مذہبی شدت پسندی اور سیاسی دہشت پسندی کو سمجھنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا میں جنگ اور دہشت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے اور ہر ملک اور معاشرے کے بچے ’مرد اور عورتیں امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔ امن کے خواب اور آدرش کی طرف ہم سب کو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر مل کر چلنا ہوگا۔ سرخ فام انڈین بلیک ایلک نے ایک دفعہ فرمایا تھا

’دنیا کا کوئی عظیم کام کوئی اکیلا شخص نہیں کر سکتا۔ ‘

میں جس تنظیم اور تحریک کا ممبر ہوں وہ ساری دنیا میں امن کے کلینک بنا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرہِ ارض پر بسنے والے سب انسان ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ اس کشتی کے دو حصے ہیں۔ اوپر والے حصے میں صاحبِ ثروت خواص کی اقلیت ہے اور نیچے والے حصے میں غریب ’مظلوم اور مجبور عوام کی اکثریت۔ ابھی تک اصحابِ بست و کشاد کو یہ آگہی حاصل نہیں ہوئی کہ اگر غریب عوام کی اکثریت ڈوبے گی تو اصحابِ بست و کشاد کی اقلیت بھی اس کے ساتھ ڈوب جائے گی۔ پوری انسانیت کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ امن کے کلینک کیسے بننے شروع ہوئے اور کیسے ان میں ساری دنیا میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں آج کی تقریر میں آپ سب کو اس تحریک کی تفاصیل بتانا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی اس تحریک میں شامل ہوں اور ہمارے ساتھ امن کے خواب دیکھ سکیں۔

اس تحریک کا آغاز 11 ستمبر 2001 کے نیوہارک کے حادثے کے بعد ہوا۔ اس ہفتے میری کتاب۔ اسلام سے سیکولر ہیومنزم تک FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM۔ منظرِ عام پر آئی اور مجھے کینیڈا کے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک مہمان کے طور پر بلایا گیا۔

میرے اس انٹرویو کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور بہت سے آزاد خیال اور انسان دوست مسلمانوں نے مجھے اپنے گھروں میں ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی۔ اس طرح میرے گرد انسان دوست مردوں اور عورتوں کا حلقہ بنتا گیا۔

ٹیلی ویژن کے انٹرویو کے بعد کینیڈا کے مختلف شہروں میں میرے کئی انٹرویو ریڈیو پر نشر ہوئے۔ ایک انٹرویو کے بعد ایک صاحب نے سوال پوچھا ’ڈاکٹر سہیل! آپ ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ آپ کی ان خود کش بمباروں کی نفسیات کے بارے میں کیا رائے ہے جنہوں نے TWIN TOWERSپر اپنے جہازوں سے حملہ کیا۔ میں نے اس CALLERسے کہا کہ آپ کا سوال بہت دلچسپ اور معنی خیز ہے لیکن میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ آپ کے سوال کے بعد میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ‘

چنانچہ اس انٹرویو کے بعد میں نے اگلے چند ماہ مختلف خود کش بمباروں اور ان کے خاندان کے لوگوں کے انٹرویو سننے اور ان کی سوانح عمریاں پڑھنی شروع کیں۔

جن دنوں میں یہ نفسیاتی تحقیق کر رہا تھا مجھے ٹورانٹو کے چیف پولیس افسر مسٹر بل پیٹرسن کا فون آیا۔ بل پیٹرسن سے میرا تعارف میرے کینیڈین پبلشر بل بیل فونٹین نے کروایا تھا جب میں نے سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال مغل اور سیریل کلرز کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی۔ بل پیٹرسن ’جو اب ANTI۔ TERRORISM TEAMمیں شامل تھے‘ کی خواہش تھی کہ میں ایک نوجوان کا انٹرویو لے کر انہیں اپنی پیشہ ورانہ رائے دوں۔ اس نوجوان کا نام مجاہد خان تھا۔

اگلے ہفتے میں اور میری پاکستانی سائیکولجسٹ دوست زہرا ٹورانٹو کی ایک میکسیمم سیکورٹی کی جیل میں مجاہد خان کا انٹرویو لینے گئے۔ میرا خیال تھا کہ مجاہد خان کسی جیل کی کوٹھڑی میں ڈرا سہما بیٹھا ہوگا لیکن ایسا نہیں تھا۔ مجاہد خان ایک دراز قد پٹھان تھا جو ہمیں مسکراتا ہوا ملا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہا تھا کہ وہ کسی بم سے چند ہزار یہودی اور ہندو مار ڈالے گا لیکن کسی نے اس کی ای میل پولیس کو بھیج دی اور وہ دھر لیا گیا۔ جب میں نے مجاہد خان کے خاندان کے بارے میں پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کا باپ غازی خان القاعدہ کے ہمدردوں میں شامل تھا اور اس کا خیال تھا کہ اوسامہ بن لادن اور الزواہیری اس دور کے مسلمانوں کے حقیقی رہنما ہیں۔

میں نے جب مجاہد خان سے پوچھا کہ اس کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ افغانستان میں طالبان نے بدھا کا بت توڑ ڈالا تھا تو اس نے کہا کہ ان طالبان نے اسلام کے پیغمبر کی سنت پر عمل کیا تھا کیونکہ اس پیغمبر نے بھی کعبے کے سب بت توڑ ڈالے تھے۔

جب میں نے مجاہد خان کو بتایا کہ اس کے خیالات و نظریات اس کے لیے سیاسی اور قانونی مسائل پیدا کر رہے ہیں تو وہ کہنے لگا۔ ’میرا ضمیر صاف ہے۔ میں بے گناہ ہوں۔ میں کسی کو نہ قتل کرنا چاہتا ہوں نہ نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک مذاق تھا، بھونڈا مذاق۔ اس کے علاوہ پولیس افسر میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں مجھے اس کی کوئی فکر نہیں۔ ‘

جب میں اور زہرا واپس گھر جا رہے تھے تو زہرا نے کہا کہ میں مجاہد خان کی صاف گوئی اور بے نیازی سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔

میں نے پولیس کو بتایا کہ مجاہد خان کسی ذہنی بیماری سکزوفرینیا یا بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار نہیں ہے۔ اس کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو اوسامہ بن لادن سے بہت متاثر ہے۔

ٹورانٹو کی پولیس نے میرا بہت شکریہ ادا کیا۔

اس واقعے کے چند ہفتوں کے بعد مجھے آٹوا کے پولیس افسر کا فون آیا اور مجھے ایک قیدی کو انٹرویو کرنے اور اپنی پیشہ ورانہ مشورے کی دعوت دی۔ اس قیدی کے انٹرویو کے لیے میں اپنی یہودی سوشل ورکر ہلڈی کو اپنے ساتھ لے کر گیا۔ قید میں ہماری ملاقات ایک اسرائیلی جرنلسٹ ڈورین سے ہوئی۔ وہ جرنلسٹ اس کانفرنس میں شرکت کرنے آئی تھی جس میں اسرائیلی اور فلسطینی نمائندوں کے امن کے بارے میں مذاکرات ہونے تھے۔ اس کانفرنس کا اہتمام کینیڈین حکومت نے کیا تھا۔ کینیڈین پولیس نے اس جرنلسٹ کو اس لیے گرفتار کیا کیونکہ اس کے بیگ سے پانچ فلسطینی لیڈروں کے نام نکلے جنہیں وہ قتل کرنا چاہتی تھی۔ ہم نے ڈورین کا انٹرویو لیا تو اس نے ہمیں اسرائیلی لیڈر میناچن بیگن کی گوریلا جنگ کے بارے میں سوانح عمریREVOLTکی کاپی دکھائی جس سے وہ بہت متاثر تھی۔

آٹوا کی پولیس کی مدد کے بعد مجھے امریکہ کے واشنگٹن شہر کی پولیس کی دعوت آئی۔ انہوں نے ایک کیوبا کے کمیونسٹ لیڈر ہیوگو کو گرفتار کیا ہوا تھا۔ میں اس کا انٹرویو کرنے اپنی کینیڈین نرس این کے ساتھ گیا جسے سپینش زبان آتی تھی کیونکہ وہ چند سال گواٹے مالا رہ کر آئی تھی۔ ہیوگو نے ہمیں بتایا کہ وہ کمینسٹ لیڈر چے گوارا کا پیروکار تھا اور ساری دنیا سے استعماریت کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا۔ اس کی نگاہ میں امریکی حکومت ساری دنیا کی سب سے زیادہ خطرناک تشدد پسند اور دہشت پسند حکومت تھی۔

ان ملاقاتوں کے بعد میں نے ٹورانٹو کے پولیس افسر بل پیٹرسن سے مشورہ کیا اور ہم نے ٹورانٹو میں پہلا امن کلینک PEACE CLINICبنایا جس میں میں ماہرِ نفسیات تھا زہرا سائیکولوجسٹ تھی ہلڈی سوشل ورکر اور این نرس تھی۔ ہم نے ان لوگوں سے ملنا شروع کیا جو دہشت گردی اور شدت پسندی کی تحریک سے وابستہ تھے۔ اس امن کے کلینک میں ہم نے مختلف پروگرام ترتیب دیے۔ میں یہاں صرف دو پروگراموں کا ذکر کروں گا تا کہ آپ کو ایسے امن کلینکوں کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔

پہلے پروگرام کا نام ہے۔ اپنے دشمن سے ملو۔ اس پروگرام میں ہم دہشت پسندوں اور شدت پسندوں کو ان لوگوں سے ملواتے ہیں جن کے خلاف ان کے دل میں غصہ اور نفرت ہے۔ یہ ملاقاتیں ان کے دل میں دشمن کے بارے میں قدرے نرمی پیدا کرتی ہیں اور وہ انہیں دشمن کی بجائے انسان سمجھے لگتے ہیں۔

دوسرے پروگرام کا نام۔ انقلابی لیڈروں سے ملو۔ اس پروگرام میں ہم ان شدت پسندوں اور دہشت پسندوں کو جو سوانح عمریاں پڑھنے کو دیتے ہیں ان میں یاسر عرفات ’یٹزک ربین‘ نیلسن منڈیلا ’موہنداس گاندھی اور مارٹ لوتھر کنگ جونیر کی سوانح عمریاں شامل ہیں۔ سوانح عمریاں پڑھنے بعد جب ان مردوں اور عورتوں سے مکالمہ ہوتا ہے تو ان کے نظریات بدلتے ہیں۔ ان میں امن کا شعور پیدا ہوتا ہے۔

ٹورانٹو کے پولیس افسر بل پیٹرسن نے ہماری ٹورانٹو کے امن کلینک کی کامیابی دیکھی تو اس نے ہمیں شمالی امریکہ کو بہت سے شہروں کے پولیس افسروں سے ملوایا اور انہوں نے اپنے شہروں میں ماہرینِ نفسیات ’نرسوں اور سوشل ورکروں سے مشورے کے بعد اپنے اپنے شہر میں امن کلینک بنائے۔ ان کلینکس میں وہ سب مرد اور عورتیں بلائے گئے جن پر دہشت پسندی اور شدت پسندی کے الزامات تھے۔ ان لوگوں میں ہندوستان میں خالصتان کی حمایت کرنے والے سکھ بھی شامل ہیں اور سری لنکا کے تامل ٹائگر کے جیالے بھی۔

شمالی امریکہ میں امن کلینک کی کامیابی کے بعد یہ کلینک یورپ ’مشرقِ وسطیٰ اور ہندوستان میں کامیاب ہوئے۔ جب اقوامَ متحدہ کو ہمارے کلینکس کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے ہماری مدد کے لیے اپنے ماہرینِ نفسیات بھیجے۔ اب یہ کیلنک ساری دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بن گئے ہیں۔

ہم نے امن کلینک میں جو تجربہ اور مشاہدہ کیا ہے اور ہزاروں مریجوں پر جو سائنسی تحقیق کی ہے اس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ

1۔ مسلم شدت پسندوں اور دہشت پرستوں کا تعلق وہابی اور سلفی فرقوں سے ہے

2۔ مسلم شدت پسند اور دہشت پسند سید قطب اور ابن تیمیہ کے نطریات سے متاثر ہیں۔

3۔ مسلم شدت پسند اور دہشت پسند ایسے مذہبی رہماؤں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو CULT LEADERSہیں۔ ایسے لیڈر نہ صرف سادہ لوح نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ ان کا استحصال بھی کرتے ہیں۔

4۔ ساری دنیا کے دہشت پسندوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں ان سے کہیں زیادہ دہشت پسند عیسائی یہودی ہندو کمیونسٹ اور بدھسٹ تحریکوں کے ممبر ہیں۔

5۔ جنہیں حکومتیں دہشت پسند اور ٹیررسٹ TERRORISTکہتی ہیں وہ اپنے آپ کو انقلابی اور فریڈم فائٹرFREEDOM FIGHTERS سمجھتے ہیں۔ ان میں سے نجانے کتنے مارکس اور ماؤ ’لینن اور چے گراوا کے پرستار ہیں اور وہ اس دنیا میں امن اور انصاف کے لیے ARMED STRUGGLEکو ناگزیر سمجھتے ہیں۔

6۔ گوریلا جنگجوؤں میں کچھ تامل ٹائیگر بھی شامل ہیں جو کمیونزم یا مذہب کے بجائے نیشنلزم کے نظریے سے متاثر ہیں۔

ہم اپنے کلینک میں

1۔ ان لوگوں کو چند ماہ رکھتے ہیں اور ان سے تفصیلی انٹرویو لیتے ہیں۔

2۔ ہم ان گروپ تھیریپی میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

3۔ ہم ان کی ان کے “دشمنوں” سے ملاقاتیں کرواتے ہیں۔

4۔ ہم انہیں مختلف مذہبی اقتصادی اور ملکی نظریات پر تبادلہِ خیال کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

4۔ ہم امن پسند مذہبی اور سیاسی رینماؤں کو مکالمے کی دعوت دیتے ہیں۔

5۔ ہم مختلف سیاسی اور مذہبی تحریکوں کے انجام پر تبادلہِ خیال کرتے ہیں۔

6۔ ہم ایسی ورکشاپوں کا انتظام کرتے ہیں جن میں امن پسند دانشوروں کو دعوت دی جاتی ہے تا کہ وہ امن کا شعور بڑھائیں۔

7۔ ہم ان کیلنکس میں ان تمام نرسوں ’ڈاکٹروں‘ سوشل ورکروں اور ماہرینِ نفسیات کی ٹریننگ کرتے ہیں جو دنیا میں امن کے خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

اس تقریر کے اختتام پر میں آپ کو ایک خط پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں جو ایک نوجوان مریض نے مجھے بھیجا اس خط سے آپ کو ہمارے کام کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوجائے گا۔

محترمی ڈاکٹر سہیل!

تین سال پیشتر جب میری پہلی دفعہ آپ سے ملاقات ہوئی تو میں نے شدت پسندی اور دہشت پسندی کو گلے لگایا ہوا تھا۔ میں اپنے نظریے کی صداقت کے لیے خون بہانے اور دوسروں کی جان لینے کو صحیح سمجھتا تھا بلکہ اس پر فخر کرتا تھا۔ آپ کے کلینک نے مجھے ایک امن پسند انسان بنایا ہے۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ میرے خاندان کے ساتھ جو ظلم اور جبر ہوا تھا اس کی وجہ سے میرا دل غصے ’نفرت اور تلخی سے بھر گیا تھا۔ میرے دل میں بدلہ لینے کا جذبہ تھا۔

میں نے جہادی لیڈروں کو اپنا ہیرو بنا لیا تھا۔ مجھے آپ کے کلینک کے پروگراموں نے احساس دلایا ہے کہ جیسے میرے دشمنوں کو میرے خاندان کے معصوم لوگوں کا خون بہانے کا کوئی حق نہیں تھا اسی طرح مجھے بھی معصوم مردوں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب میں ہندوؤں اور یہودیوں کو اپنا دشمن سمجھتا تھا اور ان کا خون بہانے کو ثواب سمجھتا تھا لیکن اب مجھے احساس ہوا ہے کہ ہم سب ایک ہی خاندان کے ممبر ہیں اور وہ خاندان انسانوں کا خاندان ہے۔ مجھے احساس ہوا ہے کہ ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل!

آپ کے امن کلینک میں میں نے کئی ہندو اور یہودی ’عیسائی اور سکھ دوست بنائے ہیں۔ میں آپ کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے بہت سے اور مردوں اور عورتوں کی طرح میری بھی ایک امن پسند انسان بننے میں مدد کی۔ آپ کا امن کلینک دکھی انسانیت کے لیے خضرِ راہ ہے۔

آپ کا مریض

محمد جلال

خواتین و حضرات!

امن کے کلینک امن کا خواب ہیں اور ہمیں آپ سب لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے تا کہ ہم اس امن کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کر سکیں۔

میرے خیالات اور نظریات ’خواب اور آدرشوں کو اتنی سنجیدگی اور غور سے سننے اور مجھے اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 306 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *