سی سیکشن / بڑا آپریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سی سیکشن یعنی بڑے آپریشن سے بچے کی پیدائش کا رجحان پاکستان میں خوفناک حد تک ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ غیر ذمہ دار رویے اس کو کہیں سرمایہ کاری سے جوڑتے ہیں تو کہیں عورت کی کمزور صحت سے۔ جبکہ دونوں اطراف غلط ہیں۔ مغرب سے بڑا سرمایہ دار کون ہے؟ اور افریقہ میں بھوک کی قلت کے سبب خواتین کی صحت کو لاحق خطرات سے زیادہ بڑا جواز اور کس کے پاس موجود ہے؟

ولادت میں ہوتی پیچیدگیوں کی اہمیت سے مجھے قطعی انکار نہیں۔ ہاں مگر جواز بنانے کے لئے خودساختہ پیچیدگیاں گھڑنے کے اس بے لگام رجحان پر سوال اٹھانا اب انسانی فرض ضرور ٹھہرتا ہے۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم بحیثیت اس معاشرتی ہجوم کے خود ہی اپنی نسل اور اپنی صحت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اپنے ہاں انتہائی غیر ذمہ داری سے سبھی غیر انسانی رویوں کو زندگی کی حساس ترین سطحوں پر بے فکری سے پنپنے دیتے ہیں۔ اور پھر جب وہ تناور درخت کی صورت اختیار کر کے اپنا بد مزہ پھل ہمیں کھا نے پر مجبور کرتا ہے تو پھر چیخ اٹھتے ہیں۔ یعنی ایک شہری کی حیثیت سے نہ اپنی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو اٹھانے کا سبق دیتے یا موقعہ فراہم کرتے ہیں۔

سی سیکشن مغرب میں بچے کی ولادت کے مراحل میں آخری چوائس کے طور پر موجود ہے۔ یہاں ہر ممکن کوشش یہی کی جاتی ہے کہ بچہ نارمل فطری طریق پر جنم لے۔ کیونکہ ماں کی کوکھ میں پلتا بچہ اپنی ولادت کے وقت تک ایک مکمل وجود بن چکا ہوتا ہے۔ تمام تر جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ اس کا مدافعتی نظام بھی وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔ اور یہ فطری ولادت کا مرحلہ یعنی درد زہ جس میں ایک طرف ماں پوری طاقت سے بچے کو جنم دینے کی کوشش کر رہی رہی ہوتی ہے۔

تو وہیں بچہ بھی اپنی پوری ہمت سے باہر نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوتا ہے۔ یہ انسانی وجود کی تخلیق کا وہ فطری مرحلہ ہے جو درحقیت نومولود بچے میں موجود اس کے مدافعتی نظام کو جگا رہا ہوتا ہے اسے ایکٹیو کر رہا ہوتا ہے۔ ۔ یعنی اپنے طور سے پیدا ہوا بچہ ایک مکمل مدافعتی نظام کے ساتھ دنیا میں اتا ہے۔ جبکہ آپریشن سے پیدا ہوا بچہ اس کے برعکس اپنے مدافعتی نظام کو اس طرح خود سے استعمال میں لانے کے فطری مرحلے سے نہیں گزرا ہوتا۔ اس کا نظام غیر فطری طریق سے پیدا ہونے کے سبب فطری طور پر ایکٹیو نہیں ہوا ہوتا۔ جس کے سبب وہ نارمل طریق سے پیدا ہوئے بچے کی نسبت کمزور گردانا جاتا ہے۔ اور کمزور مدافعتی نظام کا سیدھا سا مطلب اس پر پھر کسی بھی بیماری و کمزوری کا جلد غلبہ ہے۔

جبکہ پاکستان میں آج سی سیکشن زچہ کو ڈاکٹرز کی جانب سے دی جاتی پہلی چوائس بن چکا ہے۔ پہلے نو دس ہفتوں میں ہی ڈاکٹرز کو نجانے کیسے یقین ہو جاتا ہے کہ بچہ نارمل نہیں ہو سکتا۔ اور زچہ بھی خوشی خوشی آپریشن کی آفر قبول کرنے کو درد زہ کی فطری تکلیف سے نجات کا ذریعہ گردانتی ہے۔ اور دونوں اطراف اپنے اپنے طور اپنی نسل کے مجرم ہیں۔ ایک طرف مسیحائی سے غداری اور دوسری طرف اپنی ہی انسانی نسل سے بد دیانتی۔ ۔ جہالت تب تک ہی جہالت رہتی ہے جب تک آپ کو کہیں سے بھی آگاہی کا کوئی در بھی وا نہ ملے۔

مگر آج یہاں تو میڈیکل سائنس چیخ چیخ کر بچے کی پیدائش کے مرحلے پر ہر ممکن فطری نظام کو فوقیت دینے پر آگاہ کر رہی ہے۔ سوائے اس آخری صورت پر جب دونوں میں سے کسی ایک کی بھی جان خطرے میں ہو۔ یعنی آپریشن یہاں مغرب میں سرمایہ کارانہ نظام کے ہوتے ہوئے بھی آخری صورت ہی ہے۔ اگر دوران زچگی کسی پیچیدگی کا خطرہ ہو تو مسلسل اس پر نظر رکھی جاتی ہے۔ مگر پیدائش کے فطری وقت سے پہلے کبھی بھی زچہ کو آپریشن کی کوئی چوائس نہیں دی جاتی۔

مگر افسوس کہ پاکستان میں آج کل انسانی زندگی کے اس حساس ترین بنیادی مرحلے پر بھی دونوں اطراف سے عجیب سفاک و بے حس رویے نظر آتے ہیں۔ زچہ اگر کسی ایسے گورمنٹ، پرائیویٹ فرم یا پھر کس ایسی تنظیم کے اہلکار کی اہلیہ ہے جس کو دوران زچگی مراعات حاصل ہیں۔ تو پھر تو بس اس سفاک جہالت کے وارے نیارے۔ آپریشن کسی فائیو سٹار پرائیویٹ کلینک میں قبل از وقت بک کروانا اپنا فخر اور خاندان کی بڑائی گردانتی ہے۔ اور ڈاکٹرز تو خیر سے ویسے ہی ایسی ذہنی مریض زچہ کی تاک میں رہتے ہیں۔

ہاں جب جب مسیحوں کی یہ ہوس بڑھتی جائے تو پھر گھن کے ساتھ گہیوں بھی پسنے لگتا ہے۔ اور پھر ایسے ہی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر یہ آپریشن کی چوائس ہر زچہ کو آٹھ سے دس ہفتے میں دے کر اس مچھلی کے اپنے کانٹے میں پھنسے کا انتظار کرتے ہیں۔ کہیں مچھلی کانٹے کو خود ڈھونڈ لیتی ہے تو کہیں کانٹا مچھلی کو پھنسا رہا ہے۔ الغرض یہ کانٹے مچھلی کا کھیل وہاں انتہائی دیدہ دلیری سے نومولود انسانی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ جو کہ سراسر ایک انسانی المیہ ہے اگر تم سوچو تو۔ انسانی نسلوں کی بے حرمتی ہے اگر تم سمجھو تو۔ انسانی جانوں سے بد دیانتی ہے اگر تم مانو تو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *