دوہرا معیار : معاشرتی نظام کے زوال کا ایک بڑا سبب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک غیر مسلم چودہ سالہ لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ حاملہ ہوگئی۔ ایک چودہ سالہ لڑکی نے جب پریگننسی کی خبر اپنے بوائے فرینڈ کو سنائی تو وہ اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ مگر پھر بیٹے کے پیدا ہونے کے بعد اس لڑکی کو ایک نیا بوئے فرینڈ مل گیا۔ اور سترہ سال کی عمر میں وہ دوبارہ ماں بن گئی۔ آج کل وہ لڑکی اپنے بوئے فرینڈ اور دو بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہی ہے۔

یہ سب غیر مسلموں کے لئے عام بات ہے کہ زنا کے بعد اولاد پیدا ہو اور پھر اس کے بعد یا تو وہ دونوں لڑکا لڑکی شادی کرلیں یا علیحدہ ہو جایئں یا پھر بغیر شادی کے ساتھ رہتے رہیں۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور مجھے بھی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ لوگ اپنی زندگیوں میں کیا کرتے ہیں۔ مگر اس ویڈیو پر مسلمانوں کے کمنٹس پڑھے تو اندازہ ہوا کہ ہمیں ذہنی پسماندگی میں دھکیل کر غیر مسلم خود اس انداز سے زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ہم سوچ بچار سے عاری لوگ بس ہر حال میں انہی کو اچھا سمجھتے ہیں اور اپنے مذہب و روایات کو برا سمجھتے ہیں۔

کچھ مسلمانوں نے لکھا تھا:

What a brave girl۔ Allah bless you

What a strong girl you are۔ best of luck

اس کے بر عکس ایک ویڈیو میں خانہ جنگی سے گھرے ایک مسلم ملک میں ایک عورت کا انٹرویو دیکھا جس میں وہ اپنی مجبوریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتا رہی تھی کہ ان کو اپنی تیرا سالہ بیٹی کی شادی کرنی پڑی کیونکہ ملکی حالات بھی خراب تھے اور مالی حالات بھی۔ اس ویڈیو پر بیشتر مسلمانوں نے یہ لکھا تھا کہ بجائے اس کی شادی کرنے کے اسے پڑھانا چاہیے تھا اور یہ اس بچی پر ظلم ہے۔ اتنی سی عمر میں اس کی شادی کردی آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

غم و غصہ اس بات پر ہے کہ ہم اپنے دین کے احکامات میں دس نقص نکالتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے بچوں کی شادی جلدی کردے، وجہ چاہے جو بھی ہو، ہمارے معاشرے میں ہر کوئی اس کو بری نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کو جاہل اور دقیانوسی سمجھتے ہیں۔ جس طرح آپ ایک غیر مسلم لڑکی کو اس کے ”گناہ“ میں حوصلہ دے رہے ہیں اور یہ فعل ان کے مذہب میں بھی بری نظر سے ہی دیکھا جاتا ہے مگر ہم اپنے آپ کو ”لبرل اور براڈ مائنڈڈ“ ثابت کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

جب کہ دوسری طرف ایک جائز اور حلال فعل میں نقص نکال رہے ہیں تو سراسر ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں بلکہ بہت سارا نقصان کر چکے ہیں مگر پھر بھی اپنی روش ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ چھوٹی عمر میں شادی کو ہمارے معاشرے میں اتنے معیوب انداز میں دیکھا جانے لگا ہے کہ خدا نخواستہ یہ کوئی بہت سنگین جرم ہے۔ بچی کو قربانی کے جانور کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ بس اب اس بچی کی زندگی ختم ہوگئی ہے۔ میں نہیں کہتی کہ آپ بالغ ہوتے ہی بچی کو ایک بوجھ سمجھ کر سر سے اتار پھینکیں لیکن بغیر کسی وجہ کے تاخیر کرنا بھی مناسب نہیں۔

یہ سب ہماری خودساختہ روایات ہیں کہ شادی کے بعد لڑکی گرہستی سنبھالے اور پورے پورے کنبے کی خدمات کرے۔ جبکہ دین اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے۔ ایسے جوائنٹ فیملی سسٹم کا ہمارے دین میں کوئی خاکہ نہیں ہے جو ہمارے گھروں کا حصہ ہے۔ اسلام نے جتنا مرد و عورت کی تعلیم پر زور دیا ہے شاید ہی کسی مذہب نے دیا ہو۔ آُپﷺکا ارشاد ہے

”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے“

یہاں مرد و عورت دونوں کا ذکر ہے حتی ٰ کے لڑکا اور لڑکی کا بھی ذکر نہیں ہے۔ اس حدیث سے واضح طور پر یہ ثابت ہے کے علم کے حصول کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فر یضہ ہے جس کے لئے ہم اللہ کے سامنے جوابدہ بھی ہیں۔ اور تعلیم کا تعلق شادی سے کسی بھی طرح سے نہیں ہے نا ہی کہیں پر یہ ہے کہ شادی کے بعد عورت سسرال والوں کے مطابق زندگی بسر کرے۔ لیکن ہم اپنے دین اور روایات سے دور ہو کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

اسلام تو وہ مذہب ہے جو ہمیں ایک بہترین لائحہ عمل دیتا ہے۔ مگر ہم نے غیروں کی تقلید میں خود اپنے لئے مشکلات کا سامان کرلیا ہے۔ ہمارے دہرے معیار کا یہ حال ہے کہ ہم زنا کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اگر ہماری اولاد گرل/بوائے فرینڈ بناتی ہے تو ہم ”لبرل ازم“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے عشق کی داستانیں سنتے ہیں لیکن کہیں اگر وہی اولاد کسی بیوہ یا طلاق یافتہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کرے تو ہمیں اپنا خاندانی وقار خطرے میں نظر آتا ہے۔

اگر کوئی لڑکا ایسا کرنا چاہے تو پڑھے لکھے باشعور لوگ بھی اس قدر واویلا کرتے ہیں کہ جیسے بیٹا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ لڑکی کو منحوس، چلاک اور کریکٹر لیس کے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ لڑکی کو ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی حقیر سا کیڑا ہو۔ اور اگر کوئی لڑکی کسی شادی شدہ مرد سے شادی کی خواہش مند ہو اور اس کی پہلی بیوی بھی موجود ہو تو اس کی زندگی یا تو طعنے اور زیادتی سہتے ہوئے گزرتی ہے یا پھر وہ اس روش پر قائم ہوتی ہے۔ اکثر جگہوں پر اگر لڑکا طلاق یافتہ ہو یا بیوی وفات پا چکی ہو تب بھی والدین اپنی اولاد کی حوصلہ شکنی ہی کرتے ہیں۔

ہمارا یہ رویہ صرف ہمارے گھروں اور خاندان تک محدود نہیں ہے بلکہ روز مرہ زندگی میں بھی ہم ایسی ہی دوہری شخصیات کا شکار ہیں۔ دوسروں کے لئے جو کام یا جو بات غلط اور نا جائز ہے آپ کے خود کے لئے وہی بات جائز اور درست ہوتی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہم اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور دوسرے ممالک کے قوانین اور لوگوں کے قاعدے کی تعریف کرتے ہیں۔ اپنے ملک اور اس کے لوگوں کو برا کہتے نہیں تھکتے۔ غیر ممالک کے تعلیمی نظام کو سراہتے ہیں مگر خود اپنے ملک میں نہ اساتذہ کا احترام کرتے ہیں اور نا ہی اپنے طلبہ و طلبات کو تدریسی جگہوں کا احترام سکھاتے ہیں۔ پھر بھی اپنا ہی ملک خراب ہے، حکومت اور باقی عوام خراب ہے، بس ہم صحیح اور بہت اچھے ہیں۔

مہنگی گاڑیوں میں بیٹھ کر یا تو سڑک پر پیدل چلتے ہوئے یا اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے باہر کوڑا اچھالتے ہیں اور پھر بڑھتی آلودگی کو دیکھ کر حکومت کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ملک کے نظام کو کوستے ہیں مگر اپنے اندر چھپے غلط اور گندے انسان کو نہیں پہچانتے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بہت پریشان ہیں مگر نمود و نمائش اور روزانہ کی کرپشن سے باز نہیں آتے۔ بس سب سے آسان کام یہ ہے کہ دوسروں پر ملبہ گراتے رہیں۔ معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے گداگر اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھیک مانگتے دیکھ کر ہمارا پارا تو بڑھ جاتا ہے مگر انصاف کے ساتھ ہم زکوۃ اور صدقات نہیں نکالتے۔

میں یہ نہیں کہتی کہ ہم سب لوگ برے ہیں یا ہم سب احساس سے عاری لوگ ہیں لیکن بات اتنی سی ہے کہ ہم نے اپنے لئے معاشرتی پیمانے غلط استوار کرلئے ہیں۔ اپنی اچھی اور معیاری روایات کو چھوڑ کر خود ہی ذہنی اور جسمانی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اسلام اعتدال پسندی کا مذہب ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک معتدل نظام عطا کیا ہے۔ ہمارے معاشرتی نظام کو غیروں نے لے لے کر خوب ترقی کر لی اور ہم خوشی سے اپنا اثاثہ لٹا کر ان کی تعریف میں رطب السان رہتے ہیں۔ دوسروں کو سراہنا اچھا طرزِعمل ہے مگر اپنی دولت بخوشی کسی کو سونپ کر خود مفلسی اور پستی میں رہنا کہاں کی عقلمندی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *