پرانی پنجابی فلمیں، ساحر لدھیانوی اور نئے ڈرامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بار ہفتہ وار چھٹی پر مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ملنا تھا۔ دو اور دوستوں سے ملاقات طے تھی مگر سب کی مصروفیات میں ایسی تبدیلی آئی کہ میرے پاس اپنے نرسری فارم پر جانے کے سوا کوئی کام نہ رہا۔ گھر آیا اور کئی برسوں بعد ایک نشست میں دو فلمیں دیکھیں۔ دونوں فلمیں پنجابی ہیں مگر ایک پاکستان اور دوسری بھارت میں نمائش کی گئی۔ چھومنتر 1958 ء کو ریلیز ہوئی تھی اور اس میں نورجہاں، اسلم پرویز، ظریف جیسے اداکار تھے۔

نامور گلوکارہ زبیدہ خانم نے صرف اس فلم میں کام کیا۔ بعدازاں وہ گلوکاری تک محدود ہو گئیں۔ بھنگڑا میں سندر جیسا لاجواب اداکار اور حسین ترین پنجابی ہیروئنز میں سے ایک نشی تھے۔ دونوں فلموں کے گانوں سے میں چار برس کی عمر سے شناسا ہوں۔ زبان اور لہجہ ایک جیسا ہونے کی وجہ سے کہیں پتہ نہیں چلتا کہ بھنگڑا بھارت کی بنی فلم ہے۔ محمد رفیع اور لتا کے پنجابی گانے سن کر سرشار ہو گیا۔ گانے تو چھومنتر کے بھی کم نہیں۔

دونوں فلموں کی کہانی بظاہر مختلف ہے مگر موضوع غریب اور دولت مند کے مابین سماجی تعلق ہے۔ دونوں کے اختتام پر دولت کی سماجی حیثیت کو محبت جیسے پاکیزہ اور آفاقی جذبے کے سامنے شکست کھاتے دیکھنا ایک پرلطف کیفیت تھی۔ بہت اوائل عمری سے شعر کہنا شروع کیا۔ حسب ہمت اساتذہ اور جدید شعرا کو پڑھا۔ غالب کی نکتہ آفرینی اپنی جگہ مجھے نظیر اکبر آبادی زیادہ بھائے کہ انہوں نے غریب اور غربت کو اس وقت موضوع بنایا جب اکثر اردو شعرا یا تو نواب تھے یا نوابوں اور بادشاہوں کے وظیفہ خوار۔

میرے ایک ناراض قاری نے لکھ بھیجا کہ استاد ابراہیم ذوق جب دربار سے گھر لوٹتے تو کتنی ہی دیر کلیاں کرتے رہتے کہ اس منہ سے بادشاہ کی جھوٹی تعریف کرتے تھے اور اپنے عمل سے شرمندہ تھے۔ کیفی اعظمی، علی سردار جعفری اور جانثار اختر اپنی جگہ لیکن جو مقام ساحر لدھیانوی کو ملا وہ بے مثال ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی فلم اینڈ ٹی وی کی ایک کلاس سے میں نے پوچھا ساحر کو جانتے ہو؟ سب میرا منہ دیکھنے لگے۔ میں نے افسوس اور مایوسی کا اظہار کرنے سے بہتر جانا کہ ان کو ساحر لدھیانوی کا تعارف ان کے کام کے حوالے سے کراؤں۔

پوچھا! وہ گانا سنا ہے، کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے۔ سب نے پرجوش انداز میں ہاں کہا۔ میں نے کچھ اور گیت اور نظمیں پیش کیں! ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی۔ اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں، نیلے گگن کے تلے دھرتی کا پیار پلے، میں پل دو پل کا شاعر ہوں، وہ صبح کبھی تو آئے گی، چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہیں جام ہے، یہ برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جا، میں نے پی شراب تم نے کیا پیا، آدمی کا خون لاگا چنری میں داغ چھپاؤں کیسے، بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے۔

ہمارے شعبہ صحافت میں کیسے کیسے مشہور اور بڑے لوگ آئے، پہلے بڑے لوگ ایڈیٹر بنتے تھے، پھر کالم نگاروں کو بڑا سمجھا جانے لگا آج کل ٹی وی اینکر اور تجزیہ کاروں کا گروہ ہے جو خود کو بڑا سمجھتا ہے۔ سارے نہیں کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جن کے لئے اصول، نظریہ اور انسانیت ہر ترغیب سے بڑی ترغیب ہیں۔ اطہر ندیم صاحب، حسین نقی اور پھر اپنے ارشاد احمد عارف صاحب۔ یہ سب سماج کو امیر اور غریب کے لئے مساوی دیکھنے کے آرزو مند رہے ہیں۔ دولت مند ہونے کے باوجود بھٹو اور فیض نے اپنے طبقے سے بغاوت کی اور محروم طبقات سے محبت کا رشتہ استوار کیا۔ دونوں کی مقبولیت کے پس پردہ ان کا وہ کردار ہے جو انہوں نے پسماندہ، افلاس زدہ اور محرومیوں کے شکار طبقات کو شعوری و مادی طور پر مڈل اور اپر کلاس کے ساتھ کھڑا کرنے کے لئے ادا کیا۔

نثری ہو یا شعری ادب، تھیٹر ہو یا فلم اگر یہ اپنے عہد اور اپنی روایات کے آئینہ دار اور انسانیت کی سربلندی کے علمبردار نہیں تو سمجھیں سماج کا تخلیقی ذہن اور رویہ خود کو ضائع کر رہا ہے۔ دولت کے پیمانوں سے سماجی حیثیت کا تعین کرنے والے معاشرے میں نچلے طبقات کی شعوری و تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ ہم جس عہد سے گزر رہے ہیں اس میں کوئی ادیب، شاعر، فلمساز، اداکار، گلوکار اور مصور صاحب ہنر تو ہو سکتا ہے صاحب کمال نہیں۔

اگر کوئی کمال کے درجے کا تخلیق کار ہے تو میڈیا تک اس کی رسائی نہیں۔ میڈیا کا حصہ ہوں لیکن اپنے اوپر تنقید کی نظر بھی رکھتا ہوں۔ خود احتسابی کے ساتھ خود اصلاحی کا قائل ہوں۔ بارش نہ ہو تو کسان چارہ کرتا ہے۔ نہرسے کھیت سیراب کرے۔ ٹیوب ویل لگا لے، کنواں کھود لے، کسان جسے شہر کے لوگ ہمیشہ کم تولتے ہیں وہ اپنے کھیت کو ہر حال میں سرسبز رکھنے کے لئے خون پسینہ ایک کر دیتا ہے۔ وہ لوگ جو ادب، فنون لطیفہ، فلم سے وابستہ ہیں ان کی کھیتیاں مدت ہوئیں قحط سالی کے ہاتھوں برباد ہو گئیں۔

میں نے آخری پنجابی فلم چوڑیاں دیکھی تھی، پھر کچھ حصے ”ووہٹی لے کے جانی اے“ کے دیکھے۔ دونوں میں ہماری دیہی ثقافت جوان اور دلکش ہے۔ حال ہی میں ایک ڈرامہ نشر ہوا۔ لوگ کسی وجہ سے سہی رومانوی موضوعات کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ لیکن سماج میں رومان سب سے مہنگی جنس بن جائے تو سمجھیں دیسی گھی اور سچے جذبے اب اچھی پیکنگ میں فروخت ہوں گے۔ تخلیق کار ابھی تک سماج کی توجہ سے محروم ہے اوسط درجے کے ہنر مندوں نے سماج کو یرغمال بنا لیا ہے۔ بالائی طبقات نے شہرت، دولت اور عزت کی تمام تختیاں اپنے محلوں کے دروازوں پر آویزاں کر لی ہیں، معلوم نہیں ہمیں اپنے استحصال کی خبر کب ہو۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *