استاد محترم! 25 لاکھ حوریں کچھ زیادہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں سمجھتا ہوں کہ کہ ریاست اللہ داد میں میرے کنوارے ہونے کے کئی اور اسباب کے ساتھ شاید ایک سبب صوم و صلواۃ کا پابند نہ ہونا بھی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر مفلس شہر اور عرف عام کا پالا ایک تبلیغی جماعت کی لڑکی سے پڑا۔ فیس بک پر محترمہ ایک نام سے تھیں اور ان کا اصل نام کچھ اور تھا۔ خیر ان معاملات نہانی کی اہلیت مجھے ان کے اصل نام اور واٹس اپ نمبر تک لے گئی یوں میں محترمہ کی محبت تک پانے میں کامیاب ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ میری باتوں سے مسحور اور میں ان کی زلفوں کا اسیر بن گیا۔

کافی دن باتیں چلیں اور یوں ایک دن ہماری پارسائی کا پول کھلنا تھا اور ہم نے پکڑے جانا تھا۔ بات یوں ہوئی کہ اس دن جمعہ تھا۔ محترمہ کا میسیج موصول ہوا کہ

جناب کہاں ہیں؟

میں نے کہا کہ پریس کلب!

کہا کہ آج جمعہ نہیں پڑھا؟

میرا جواب کیا آیا اور قیامت ہوگئی۔

میں نے جواب دیا کہ آج جمعہ ہے کیا؟

تو محترمہ جو کہ کافی عرصے سے مجھ نامحرم سے بات چیت کر رہی تھیں، انہیں اپنے اس فعل پر ملامت محسوس ہوئی اور کہنے لگیں کہ تم جمعہ نہیں پڑھتے؟

میں نے کہا حضور آخری عید کب پڑھی، یاد نہیں۔ جواب پڑھتے ہی مجھے فیس بک اور واٹس اپ سے بلاک کر دیا گیا۔ تین دن بعد ان بلاک ہوا اور میسجنگ شکوہ شکایات شروع ہوگئیں۔

بات چلتی رہی اور آخر یہ طے پایا کہ میں نماز شروع کروں گا اور فجر کی نماز حق مہر قرار پائے گی یہ شرط ہے اگر قبول ہے تو بات آگے چلے گی۔ مفلس شہر پر جن دنوں جھوٹے مقدمات تھے تب بھی بہت سویر نہیں اٹھ سکتا تھا۔ اور کئی شنوائیوں میں جھوٹے خرابی صحت کے سرٹیفیکیٹ عدالت میں جمع کروانے پڑے تھے۔ میں نے محترمہ سے عرض کیا کہ دیکھیں آپ کچھ رعایت کریں فجر کی نماز چھوڑ کر باقی پڑھوا لیں تو بھی بہتر ہوگا۔ آہستہ آہستہ شروع کر لوں گا۔ یہ بات سنتے ہی محترمہ آگ بگولا ہوگئیں اور یوں ہم گزرے برس بھی کنوارے رہے۔ خیر آگے کی امید اچھی ہے۔ یوں کافی وقت گزر گیا سجدوں کا خیال نہیں آیا لیکن ایک دہائی کے بعد وہ دن آ ہی گیا جب سجدہ ریز ہوا۔

ایک ہفتے سے کورٹ جوائن کی تو یہاں خیرپور میں ہی نہایت محترم دوست اور قانون کی فیلڈ میں لانے والے استاد محترم بھی چھٹی پر آئے ہوئے تھے تو سوچا کچھ گفت و شنید ہو جائے۔ استاد محترم کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا کیونکہ اگر یوں خفا ہوئے تو کبھی راضی نہیں ہوں گے۔ استاد محترم ایک نہایت عظیم انسان ہیں جن سے ایک اور رشتہ بھی ہے جسے درد کا رشتہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ استاد بھی دردوں کے مارے ہیں اور ہم بھی تو یوں بس بقول فیض

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی

تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے

اوراس وقت چائے کا بہت من کر رہا تھا سوچا مفلس شہر کو ایک کپ اچھی چائے اور قانون کی کوئی بات سننے کو ملے گی اور کیا چاہیے۔ خیر میں پہنچا تو مغرب کا وقت تھا صاحب نماز پر تھے جیسے لوٹے اور گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ کہا جناب کیا شیڈیول ہے؟ میں نے کہا بندہ پرور آج آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے۔ چائے کے کپ اور کچھ گفتگو کی طلب ہے۔

جناب نے نا آئیں دیکھا نا بائیں۔ بولا کہ قریب تبلیغی اجتماع ہے اور آپ کو آج میرے ساتھ وہاں چلنا ہے مجھے دعوت ہے اور اپنی باتیں رہنے دیتے ہیں کچھ خدا کی باتیں سنتے ہیں تو کیا خیال ہے۔ استاد محترم کا یہ حکم نامہ کسی جج کی طرح تھا اور ہم چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کر سکے کیونکہ جناب انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج بھی رہ چکے ہیں تو بندے کو تاب انکار نہیں تھی۔ گاڑی پر سوار ہوگئے اور سفر شروع ہو گیا۔ یہ کوئی ایک ہفتے قبل کی بات ہے اس دن سردی بھی بہت تھی اور بندہ اندر سے گرم جرسی پہنتا ہے اس دن صرف کوٹ پہنا تھا، اسی ھالت مین روانہ ہو گیا۔

قریب ہی تبلیغی جماعت کا بڑا اجتماع تھا اور ہم نے گیٹ کی طرف جانا تھا جہاں سے کچھ لوگ واپس ہو رہے تھے تو کچھ اندر جا رہے تھے خیر یہ ماجرا سمجھنے کے لئے مجھے وہاں تک پہنچنے کا انتظار تھا اور صبر کیا کہ کسی سے پوچھنے سے بہتر ہے خود ہی تجربہ کیا جائے۔ جب وہاں پہنچے تو ڈرائیور نے غالباً خواص ”کا لفظ منہ سے نکالا اور ایک پاس دکھائی جس سے ہم“ خواص ”والے پورشن میں داخل ہوگئے۔ اجتماع میں تین پورشن تھے ایک “خواص” دوسری “شوری” اور تیسری عام مخلوق۔ وہاں پہنچے تو مجھے سردی بھی لگ رہی تھی مچھر بھی کھا رہے تھے لیکن بیان جاری تھا۔ ہم ایک کونے میں بیٹھ گئے۔

کچھ دیر گزری تو مچھروں کے لیے اس ٹینٹ میں مچھر مار اور دھواں دار اسپرے کیا گیا۔ جس کے دھویں نے سامعین کے ہوش اڑا دیے۔ ہر طرف کھانستے خواص حواس باختہ تھے اور یوں مجھے شدت سے اپنی غلطی محسوس ہوئی لیکن کیا تھا کہ ان کی محبت میں سب سہنا تھا۔ خیر میں دھویں سے بچنے کے لئے کبھی ہاتھ تو کبھی بازو سے سانس روکتا رہا۔ میری حالت زار پر رحم کھا کر استاد محترم نے اپنی چادر کا ایک پلو مجھے پکڑایا اتنا کہ میں منہ ڈھانپ سکتا تھا جیسے میں نے اس وقت غنیمت جانا اور کچھ جان میں جان آئی۔ اور کچھ دیر بعد مچھروں کے ساتھ دھواں بھی ختم ہوگیا۔

میں شدید تکلیف میں تھا بیان جاری تھا اور ایک بندہ آیا پانی کی بوتلیں دینے کے لیے اور مالٹے رکھ کر چلا گیا۔ میں کبھی استاد محترم کو دیکھتا تو کبھی فروٹ کو۔ تھوڑا انتظار کیا لیکن استاد محترم کی طرف سے کوئی سگنل نہیں ملا۔ وہ بیان میں گم تھے۔ آخر میں نے فروٹ والی تھیلی اپنی طرف کھینچ کر میوہ جات پر ہاتھ صاف کیے۔ یوں میرا دکھ کچھ کم ہوا۔ بیان آگے چلتا رہا یوں مجھے وہاں بیٹھے دو گھنٹے ہوچکے تھے، جتنی بیان کے خاتمے کی دعائیں مانگ سکتا تھا، مانگ لیں لیکن میری دعا تھی کہ عرش تک نا جا سکی اور پتا چلا کہ نماز عشاء بیان کی وجہ سے ایک گھنٹہ دیر سے پڑھی جائے گی۔ اور میری فی الوقت رہائی کی سب امیدوں پر پانی پھر گیا۔

بیان جاری تھا اور علامہ صاحب نے اچانک حوروں کا ذکر چھیڑ کر محفل گرما دی۔ ہم بھی سائل تھے کہ محظوظ ہو رہے تھے۔ علامہ صاحب نے فرمایہ کہ ایک جنتی کو 25 لاکھ حوریں ملیں گی۔ یہ سنتے ہی میرے چودہ طبق روشن ہوگئے اور فورا میں نے موبائیل نکال کر حساب کیا تو پتا چلا کہ آخری حور کی خدمت کی باری 6,849.31 سال بعد آئے گی یوں مجھے کبھی علامہ تو کبھی اپنی اور محفل کی سبحان اللہ کی صداؤں کی گرم جوشی رلاتی رہی۔

یوں علامہ صاحب نے اعلان کیا کہ کچھ دیر بعد نماز شروع ہوگی۔ اڑھائی گھنٹے گزر چکے تھے۔ مجھے کچھ سانس ملی لیکن علامہ صاحب دیر کی بات کرتے کرتے آدھ گھنٹہ لے اڑے۔ یوں عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے وقفہ ہوا تو ساتھ ہی ایک کینٹین سجائی گئی تھی وہاں استاد محترم میں اور کچھ اور معززین بھی تھے مل کر ڈنر کیا۔ استاد محترم نے سنت پڑھی۔ فرض کے لئے صف بندی ہونے لگے تو میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ یوں استاد صاحب کی نظر مجھ پر پڑی تو کہاں کہ آؤ صف میں۔ میں جھٹ سے صف میں کھڑا ہوگیا اور نماز پڑھی۔

مجھے یاد نہیں کہ آخری عید نماز کب پڑھی تھی کیوں کہ عید میری زندگی کا واحد دن ہے جب میں بنا کسی ٹینشن کے نیند کرتا ہوں اور اسی نیند نے عید نماز کی سعادت بھی چھین رکھی ہے۔ البتہ نماز جنازہ تو پڑھ ہی لیتا ہوں۔

نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو باہر نکلے استاد محترم نے پوچھا کہ کیسا لگا نماز میں سکون تھا؟ میں نے جواب دیا ہاں نماز میں تو کافی سکون تھا لیکن پوری نماز میں ایک بات میرے ذہن میں گھومتی رہی کہ یہ 25 لاکھ حوریں کچھ زیادہ نہیں؟ یوں استاد محترم نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور فرمایا، بیٹا تیرا سدھرنا مشکل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *